میرے وطن کے بچو - سخاوت حسین

چودہ اگست کل گزرا ہے۔
لوگوں نے سبز ہلالی جھنڈوں سے گھروں کو سجایا۔
ایسے لگا جیسے آسمان کا چاند زمیں کے ہلالی چاند کو حسرت سے دیکھ رہا ہو۔

یہ ملک بہت زیادہ محنت سے بنا ہے میرے بچو۔
اتنے زیادہ شہیدوں کے لہو سے کہ جس کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔۔
یہ ملک اس لیے بنا تھا تاکہ
یہاں مسلمان محفوظ ہو،
اس کی عزت جان ومال اور آبرو محفوظ ہو،
وہ آزادی سے عبادات کر سکے،
وہ زندگی کی تمام نعمتوں کا آزادانہ استعمال کر سکے۔

یہ ملک تحفہ خداوندی ہے۔
یہاں پانچ دریا بہتے ہیں۔
یہاں کے جھرنے محبت کی علامت ہیں۔
یہاں دنیا کا دوسرا بڑا پہاڑ کے ٹو ہے۔
یہاں راکاپوشی اور نانگا پربت جیسے پہاڑ ہیں۔
یہاں کے گلیشئیرز ٹھنڈے پانی کے سمندر ہیں۔
یہ ملک معدنیات سے مالا مال ہے۔
یہاں کی دھرتی سونا اگلتی ہے۔

یہاں کے جوان دنیا کے ذہین ترین جوان۔
یہاں جوانوں کی کثیر تعداد بستی ہے۔
یہاں محبتیں تقسیم ہوتی ہیں۔
یہاں غریبوں کا اب بھی خیال رکھا جاتا ہے۔
یہاں ہمسائے اب بھی ایک دوسرے کے لیے تڑپتے ہیں۔

اس کا پنجاب، دریاؤں کا پنج آب۔
اس کا سندھ، آنکھوں کا چین، دلوں کی دھڑکن۔
جہاں موجود ہے پاکستان کی جیب۔
اس کا خیبرپختونخوا، پٹھان بھائیوں کی سادگی، جرات اور مہمان نوازی کی سب سے بڑی دھرتی۔
اس کا بلوچستان، معدنیات، خوبصورت پہاڑوں کا خوبصورت بیان۔
اس کا کشمیر، دلوں کو محبت سے دے چیر۔۔۔
اس کا گلگلت بلتستان، پاکستان کی خوبصورتی کا بہترین ترجمان۔

لیکن
یہ وطن، یعنی میں تم سے سوال کر رہا ہوں۔
میرے بچو، تمھارے لیے میں نے سب کچھ کیا۔
تمھیں چھت دی، تمھیں رہنے کو جگہ دی۔
امن دیا سکون دیا۔
ایک الگ ملک تک تمھیں ملا۔
محبتیں دیں، لیکن آج میری آنکھ، میرے کان، میرا پورا وجود تم زخمی کر بیٹھے ہو۔
غور سے دیکھو مجھے۔
میں لہو لہو ہو چکا ہوں۔

میرے بچو!
زمین کے ٹکرے کو حاصل کرنا آزادی نہیں ہوتا۔۔۔
آزادی کو حاصل کرنے سے زیادہ اسے حفاظت سے رکھنا اہم ہوتا ہے۔
آج میرا دہقان روتا ہے۔
میرا کسان غیر مطمئن ہو کر فصل بوتا ہے۔
میرا مزدور سڑکوں پر بغیر چھت کے سوتا ہے۔
کیوں کہ
میرے ملک پر کچھ گدھ چرھ دوڑے۔
انہوں نے مجھے لہولہان کر دیا۔
میرے غریبوں کو پریشان کردیا۔
کچھ پیسے والوں نے
تم سے ووٹ لے کر
تم کو غلام بنا لیا
اور پورے نظام کو تباہ کردیا۔

آج تم لوگ رشوت لینا فخر سمجھتے ہو۔
آج تم لوگ کرپشن کرنا فخر سمجھتے ہو۔
آج تم اخلاقی برائیوں کو سٹیٹس کو سمجھتے ہو۔
آج میرے آنگن میں رہنے والے باسیوں کو۔
نہ تو اچھی صحت کے لیے ہسپتال مل رہے ہیں۔
نہ اچھی تعلیم کے لیے سکول۔
نہ ہی تعلیم مفت ہو سکی۔
نہ ہی صحت کی سہولتیں ہر ایک تک پہنچ سکیں۔

میرے کارخانے بند ہوگئے۔
میری زمینیں بنجر ہونے لگیں۔
میرا کسان مقروض ہوگیا۔
میری بیٹیاں جہیز نہ ہونے کی وجہ سے گھروں میں قید ہوگئیں۔
میرے بیٹے اتنی اچھی ڈگریز لے کر بھی ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے مجرم بن بیٹھے۔
میرے بچے انصاف نہ ملنے کی وجہ سے خودسوزی کرنے لگے۔

میرے بچو!
میں جب بنا تھا تب کہا گیا تھا۔
یہاں انصاف ہر ایک کو ملے گا۔
لیکن آج غریب کے لیے انصاف کا معیار اور امیر کے لیے اور ہے۔
غریب کی عمر گزر جاتی ہے انصاف کے لیے، لیکن اسے انصاف نہیں ملتا۔
جب میں بنا تب کہا گیا
صحت، تعلیم اور تمام سہولیتیں برابری کی بنیاد پر تقسیم ہوں گی۔

مگر آج۔
پیسے والے نزلے کے علاج کے لیے بھی باہر ملک چلے جاتے ہیں۔
ان کے بچے اور بچوں کے بچے بھی باہر کے ملکوں میں اعلی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔
اور میرے غریب
آپریشن کا خرچہ اور تھوڑے سے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔
انہیں پڑھنے کے لیے سکول کی چھت تک نہیں ملتی۔
اعلی تعلیم کے مواقع نہیں ملتے۔

جانتے ہو!
جب میں بنا میرے ذمے کسی کا کوئی قرض نہیں تھا۔
لیکن آج میرا بچہ بچہ قرض میں ڈوب گیا ہے۔
مجھے اور میری وجود کو مزید قرض کے لیے گروی پر رکھا جارہا ہے۔
اور میرے بچو!
تم سو رہے ہو۔
کیا اسی آزادی کے لیے تمھارے اجداد نے جانیں دی تھیں۔
اگر وہ زندہ ہوتے تو وہ سو بار مر جاتے۔
میرے جسم کو دھماکوں، فرقہ واریت اور نفرت سے شدید زخمی کردیاگیا ہے۔
میرے پورے وجود سے درد کا خون نکل رہا ہے۔

میرے وطن کے بچو!
تم ایک دوسرے سے نفرت کیوں کر بیٹھے۔
تم نے تو مجھے اس لیے حاصل کیا تھا کہ ایک دوسرے سے محبت کر سکو۔
تمھارے اجداد نے نفرتیں دیکھی تھیں اسے ختم کرنے کے لیے ہی مجھے بنایا تھا۔
میرے بچو اب تو جاگ جاؤ۔
جاگ جاؤ۔
اور جب ووٹ دیتے ہو تو پوچھو۔
تمھیں صحت، تعلیم اور دیگر سہولیتں کیوں نہیں مل رہیں۔
جب رشوت لینے لگو تو سوچو میں زخمی ہورہاہوں۔
جب غریبوں کا حق کھانے لگو تو سوچو کیا اسی لیے تم نے مجھے حاصل کیا تھا۔
جب یہاں کی پولیس کو دیکھ کر عام آدمی ڈر سے رستہ بدلے اور مجرم خوش ہوجائیں تو سوچو کیا تمھارے اجداد انصاف کا ایسا نظام دیکھنا چاہتے تھے۔
جب انصاف کے لیےکوئی خود سوزی کر رہا ہو تو سوال کرو، کیا تم نے الگ ملک کے لیے اتنی قربانیاں اسی لیے دی تھیں۔
جب اقلیتوں کے ساتھ برا سلوک ہو تو سوال کرو کہ جھنڈے میں موجود سفید رنگ کا حق ادا ہو رہا ہے یا نہیں۔
جب دھماکوں، نفرتوں، بےشعوری اور فرقہ واریت کی وجہ سے مجھے زخمی کر چکو تو خود سے سوال کرو، یہی سب کرنا تھا تو آزادی کس مقصد کے لیے حاصل کی تھی۔

میرے بچو!
مجھے مزید لہولہان مت کرو۔
میں اس دن خوش ہوں گا۔
جب تم مجھے رشوت اور کرپشن فری بنا دو گے۔
جب تم مجھے ایسا بناؤگےکہ تمھیں کسی ملک کا ویزہ دیا جائے اور پوچھا جائے کہ میرے ساتھ رہو گے یا اس ملک میں جاؤ گے تو تم کہو میرے ساتھ۔
جب یہاں کا غریب بھوک سے نہیں مرے گا۔
جب اس ملک کا عام آدمی وی وی آئی پی ہوگا اور پیسے اور عہدے والا وی آئی پی سٹیٹس کی وجہ سے کسی غریب کو ایمبولینس میں مرنے کے لیے نہیں چھوڑ سکے گا۔
جب یہاں کا حاکم اور تمام ادارے عوام کو جوابدہ ہوں گے۔
جس دن یہاں کی اقلیت خود کو سب سے محفوظ سمجھے گی۔
جس دن صوبے لسانی، علاقائی اور دیگر تعصبات سے بالاتر ہوکر سوچیں گے۔
جس دن کسی کی جرات نہیں ہوگی کہ وہ کسی بےگناہ کو مار سکے۔
جس دن مسجدیں، عیدگاہیں اور عبادات کے مراکز سب سے محفوظ سمجھے جائیں گے۔
جس دن پولیس عوام کی محافظ ہوگی، اور عوام کی خدمت کو اپنا فرض سمجھے گی۔
جس دن سرکاری لوگوں کا عوام سے انداز گفتگو بدل جائے گا۔
جس دن ہر شخص اپنے آپ کو یہاں سب سے محفوظ سمجھے گا۔
جس دن ایک عام آدمی کا خون پوری قوم کا قتل سمجھا جائے گا۔
جس دن سرکاری سکول اور ہسپتال جدید ترین سہولیات سے آراستہ ہوں گے، اور تمام امیر اور غریب کے بچے وہاں تعلیم اور صحت کی سہولیات کو حاصل کرنا اپنے لیے فخر کا باعث سمجھیں گے۔
جب سرکاری ادارے سب سے بہترین اداروں میں شمار ہوں گے۔
جب کوئی بھی آفیسر، سیاستدان، پولیس، فوج ہو یا کوئی بھی ادارہ وہ تھوڑی سی بھی غلطی کرتے ہوئے عوام کے ردعمل سے ڈرے گا۔
جب یہاں تعلیم ہر ایک کی پہنچ میں ہوگی اور مفت ہوگی۔
جب یہاں ملازمتوں تک ہر ایک کی رسائی ہوگی۔
جب یہاں کے ہسپتال ہر ایک کی رسائی میں ہوں گے۔
جب صاف خوراک، صاف پانی اور صحت کی سہولیات ہر دروازے تک پہنچیں گی۔
جب تم بھیک لینے والوں سے نکل جاؤ گے۔
جب تم قرض سے نجات حاصل کر لوگے۔
جب تم تعلیم، ترقی، سائنس، ٹیکنالوجی میں دوسرے ملکوں سے بھی آگے نکل جاؤ گے۔
جب تم کسی بھی ملک میں جاؤ گے تو تمھارے کردار، افعال اور ہنر کی وجہ سے لوگ تم پر فخر کریں گے۔
جب ترقی یافتہ ملکوں سے میری ملاقات ہوگی تو مجھے فخر محسوس ہوگا اور ان کے سامنے احساس کم مائیگی نہیں ہوگا اور ان کی صف میں میری عزت دوچند ہوگی۔

میرے بچو ۔
کیا ستر سالوں میں تم نے یہ اہداف حاصل کر لیے ہیں۔
اگر نہیں
تو کب بدلو گے؟
کب نظام کو ٹھیک کرو گے؟
یا یونہی دن رات سسٹم کو گالیاں دے کر کونوں میں دبکے بیٹھے رہو گے۔
یوں ہی روز نسل در نسل سسٹم کی غلامی کرتے رہوگے اور شکووں کی پٹاری کھول کر بےشعوری کی زندگی گزارتے رہو گے۔

میرے بچو!
یہ تھی وہ حقیقی آزادی جس کے لیے تمھارے اجداد نے جانیں دی تھیں۔
اگر تم اسی حالت میں ہی خود کو دیکھو جیسے پہلے تھے تو لازمی سوچنا۔
یہ وہ سارے خواب تھے جس کے لیے تم نے مجھے حاصل کیا تھا۔
یہ تمھارے بڑوں کے خواب تھے۔
یہ ہے وہ آزادی جس کے لیے اب تم نے جدوجہد کرنی ہے۔
ووٹ کے ذریعے، سوال کرکے، اور اپنا حق مانگ کر۔
پاکستان کے جھنڈے کو گھر سے پہلے دل میں بساؤ۔
اس ملک کی محبت کو کرکٹ میچ سے پہلے اپنے وجود میں بساؤ۔
جشن آزادی مبارک ہو۔
پاکستان پائندہ باد

Comments

سخاوت حسین

سخاوت حسین

سخاوت حسین نے پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر کیا ہے، دل میں جہاں گردی کا شوق رکھتے ہیں، افسانہ، سماجی مسائل اور حالات حاضرہ پر لکھنا پسند ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com