کوفے سے بچ کے آنے والی مدینے میں لٹ گئی! - روبینہ شاہین

مائی جھلی بچوں کے شور کی آواز سن کر اپنی جھگی سے باہر آئی۔ جہاں بچے پورے زوروشور سے جشن آزادی منانے میں مصروف تھے۔مائی جھلی نے اپنے ہاتھوں کا چجھا بنا کر دیکھنے کی کوشش کی۔ شاید کچھ دکھائی دے جائے مگر وہاں تو بچوں کا شور تھا یا پھر دھند تھی۔ دھند اس کی آنکھوں میں تھی یا فضاؤں میں، مائی جھلی کو کچھ سجھائی نہ دیا تو واپس جھگی کی طرف چل دی۔

آوازیں بدستور جاری تھیں، پاکستان زندہ باد! پاکستان پائندہ باد! جب تک سورج چا ند رہے گا پاکستان کا نام رہے گا! مائی جھلی کی آنکھوں میں آنسو لڑی کی صورت بہہ رہے تھے یہ وہ لاوا تھا جو اس کی آنکھوں کی بینائی لے گیا۔ اپنوں کی یاد میں بہہ بہہ کر یا پھر اپنوں کی بے اعتنائی کا رونا رو رو کر اس کی آنکھوں میں موتیا اتر آیا تھا۔یادیں تلوار بن کر وار کرتیں ہیں اور ایسے میں جسم تو کیا روح بھی چھلنی ہو جاتی ہے۔

مائی جھلی کے بارے میں سب اتناجانتے تھے کہ اس کا سارا خاندان قیام پاکستان کے وقت شہید ہو گیا تھا۔مائی جھلی کی عمر اس وقت 14 سال تھی۔ اس کی شادی کی تیاریاں ہو رہی تھیں جب فسادات شروع ہوگئے۔جس دن ان کے گھر پر حملہ ہوا تب مائی جھلی کی میکے میں آخری رات تھی۔ اس کی ہاتھوں پر مہندی لگائی جا رہی تھی۔جب پیچھے سے حملہ ہوا، سب مارے گئے، صرف وہی کرموں جلی بچ گئی تھی، جس کے ہاتھوں کی مہندی میں اب خون کی رنگت بھی شامل ہو گئی تھی۔ کسی قافلے نے اس نیم بے ہوش کو بھی اٹھا لیا اور یوں وہ پاکستان آن پہنچی۔

لاہور کے سمن آباد والے ایریا میں اجتماعی قبریں کھودی گئیں جہاں اجتماعی تدفین کی گئیں۔مائی جھلی نے اسی علاقے کو اپنا مسکن بنایا۔ پاکستان بن گیا مگر اس کی زندگی ویسی ہی رہی بنجر اداس۔ لوگ بہت کہتے شادی کر لو، پر بنجر زمینوں پر بھلا کب پھول اگتے ہیں؟ وہ سیاہ رات اسے کب بھولتی تھی۔۔۔کوئی ہندو ہوتا کوئی سکھ ہوتا تو اسے صبربھی آ جاتا۔ مگر وہ تو اس پاک سرزمین کا باشندہ تھا اس کا پنا ہم مذہب ایک اللہ اور رسول ﷺ کو ماننے والا، وہ پاکستان کا تیرہواں یوم آزادی تھا۔جب وہ بڑے جوش و خروش سے پاکستان کے یوم آزادی کی تیاریوں میں مصروف تھی۔وہ ہر سال بڑے شوق سے جشن آزادی مناتی۔ اتنی قیمت ادا کی تھی وہ بھی لہو کی صورت میں۔۔۔ادائیگی تو بنتی تھی نا

!وہ ادائیگی اس کی خوشی تھی جو پاکستان کی صورت میں اسے ملی تھی۔وہ ادائیگی وہ مان تھا جو پاکستان کے لوگوں نے اسے دیا تھا۔جس محلے میں وہ رہتی تھی لوگ اس کی بہت قدر کرتے تھے۔محلے کے بچوں کو قرآن پڑھاتی، لڑکیوں کو سلائی کڑھائی سکھاتی، یہی اس کی زندگی تھی یہی مشن۔۔۔۔مگر ایک دکھ باقی تھا۔ 13 اگست کی رات ایک لٹیرے نے اس کی عزت کی دھجیاں اڑا دیں۔ وہ جو غیروں سے اپنا آپ بچا لائی تھی، اپنوں سے نا بچا سکی۔ کوفے سے بچ کے آنے والی مدینے میں لٹ گئی تھی۔

اس کا مان اس کا اعتبار سب اٹھ گیا۔ نہ جانے کون تھا کہاں سے آیا اور کہاں گیا؟ مائی جھلی جو باجی فرزانہ تھی، مر گئی۔ اس کے ساتھ اس کی چڑیا جو چہکتی رہتی تھیں وہ بھی اڑ گئی۔ وہ بلی جو اس کے پاؤں سے چپکی رہتی تھی، نا جانے کدھر گئی۔محلےوالے کچھ عرصہ تو مائی جھلی کی خاطر تواضع کرتے رہے پھر آہستہ آہستہ سب چپ ہوگئے۔ مائی جھلی کی چپ نہ ٹوٹنی تھی نہ توٹی۔ بچے اس کو مائی جھلی کب کہنا شروع ہوئے اسے کچھ خبر نہ تھی۔ بس اتنا ا حسان تھا کوئی نہ کوئی روٹی رکھ جاتا اور وہ کھا لیتی۔

اس کے بعد وہ کبھی جشن آزادی نہ منا پائی۔ اس کی روح کو اندھیروں میں دھکیلنے والا اسے کیسا دکھ دے گیا تھا جو ختم ہو کر نہ دیتا تھا۔ 13 اگست کی رات اس پر بہت بھاری گزرتی تھی۔ ڈپریشن نے اس کے اعصاب شل کر دیئے تھے۔ سانسوں کی ڈور باقی تھی۔ نہ جانے کب کٹ جائے؟ پاکستان اس کا اب بھی مان تھا بس اپنوں سے مان اٹھ گیا تھا۔

Comments

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین

روبینہ شاہین کا تعلق زندہ دلانِ لاہور سے ہے۔ اسلامک اسٹڈیز میں ایم فِل کیا ہے۔ فکشن کم اور نان-فکشن زیادہ لکھتی ہیں۔ پھول، کتابیں، سادہ مزاج اور سادہ لوگوں کو پسند کرتی ہیں اور علامہ اقبالؒ سے بہت متاثر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • السلام علیکم، برائے مہربانی عنوان کو تبدیل کر دیں، یہ غیر مناسب لگ رہا ہے، مدینہ شریف کے ساتھ لٹ جانے کی مناسبت درست نہیں۔شکریہ۔