ٹھرک اور ہماری نظریں - عارف خٹک

امریکہ کا ویزہ کینسل ہونے کے بعد گویا ہم اپنی اوقات پر آگئے، اور چاروناچار واپس اپنے پرانے معالج ڈاکٹر ہاشمانی کے واپس تشریف لے گئے۔

ہاشمانی صاحب نے ہم پر طنزیہ نگاہ ڈالی،گویا کہہ رہے ہوں، کہ لوٹ کے بُدھو آخر واپس آ ہی گئے۔ ہم سے نظر کا پوچھا، تو بتایا کہ جناب دھندلاہٹ ہے، کہ بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ کہنے لگا تیری نیت ہی ٹھیک نہیں ہے۔ آرٹیکلز پڑھتا رہتا ہوں۔ یہ کہتے ہی ایک پتلی سی لڑکی کو اشارہ کیا۔ لڑکی کیا تھی، سجل تھی پوری۔ اس نے نہایت ہی تیزی سے میری دونوں آنکھوں میں قطرے ڈالے، اور دو منٹ کے بعد آنکھیں کھولنے کا کہا۔ دو منٹ بعد مجھ سے پوچھا، کچھ نظر آرہا ہے؟ میں نے جواب نہیں میں دیا تو کہنے لگا، کہ اتنی بڑی لڑکی اپ کے سامنے ایستادہ ہے، آپ کو نظر نہیں آ رہی؟
میں نے جواب دیا کہ ایسی کتنی لڑکیاں میری فرینڈ لسٹ میں سالوں سے پڑی ہیں۔ مجھے تو وہ بھی نظر نہیں آرہیں۔ بلکہ میری دھندلاہٹ کچھ مزید بڑھ گئی ہے۔

ڈاکٹر ہاشمانی صاحب کا اسسٹنٹ میرا فالور ہے۔ اس نے ڈاکٹر صاحب کے کان میں کچھ کہا۔ ڈاکٹر صاحب نے مزید قطرے ڈلوائے اور پانچ منٹ تک آنکھیں بند کرنے کا حکم دیا۔
پانچ منٹ پورے ہونے کے بعد حکم ملا کہ آنکھوں کھول دو۔ آنکھیں کھول لیں تو گویا پورا کمرہ روشن تھا۔ ایک صحت مند لڑکی جس نے جینز پہنی ہوئی تھی۔ میرے سامنے کھڑی تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے پوچھا کہ ہاں بھئی کیا نظر آرہا ہے؟
جواب میں اس "کیا" کی بابت میرے منہ سے جو باتیں نکلیں۔ سُن کر لڑکی کمرے سے بھاگ کر چلی گئی۔
محسن نے یاہو کا نعرہ لگایا اور کہا سر ہم کامیاب ہوگئے ۔
ہاشمانی صاب ششدر ہمیں گھور رہے تھے کہ یار تیرا کوئی نفسیاتی مسئلہ تو نہیں ہے؟
لوگ آج کل سلم اینڈ اسمارٹ لڑکیاں پسند کرتے ہیں، اور ایک آپ ہو۔
کمال ہے یار۔
جواب دیا کہ 2001ء میں کہیں پڑھا تھا، کہ انگریز کہتے ہیں کہ مرد کو گوشت پسند ہوتا ہے، ورنہ ہڈیاں تو کتوں کی بھی پسندیدہ ہوتی ہیں۔ سو کبھی خود کو کتا بننے نہیں دیا۔
2017ء میں جب اپنی پسند ذرا کتوں والی ہونی لگی، تو مُرشد صفدر چیمہ نے بتایا، بلکہ اسلامی تاریخ سے ثابت کر کے بتایا کہ حدود اربعہ والی خواتین مؤمنین کی پسند ہوتی ہیں۔ سو مجبوراً ہم بھی اپنا شمار اہل ایمان میں کروانے پر تل گئے۔
استادی لالہ صحرائی تو کہتے ہیں، مردوں کا نظریہ بمقابلہ خواتین کے کچھ زیادہ ہی وسعت والا ہوتا ہے۔ ان کو بڑی باتیں پسند ہوتی ہیں۔ بڑے بڑے کام پسند ہوتے ہیں۔ بڑی بڑی مونچھوں کےساتھ خواتین بھی بڑی بڑی پسند ہوتی ہیں۔
ہاشمانی صاحب نے کہا کہ لالہ سے پوچھو کہ اگر یہ بات ہے، تو جو گھر میں ہماری اپنی بیویاں روس جتنا حدود اربعہ رکھتی ہیں وہ تو ہمیں پسند نہیں ہوتیں، کیوں۔ جواب دیا کہ سر میں پوچھوں گا۔ مگر لالہ کی اپنی بیگم خود پچیس سال کی بچی ہے۔ اس کا کام ہمیں اور عوام کو خراب کرنا ہے، اور کچھ نہیں۔ وہ ماحول گرم کر کے خود کو گھر ٹھنڈا کر لیتے ہیں۔

ٹیگز

Comments

عارف خٹک

عارف خٹک

ایک ایسا انسان جو خون سے آلودہ وجود سمیت ہنسنا چاہتا ہے اور رو پڑتا ہے

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.