مایوس کیوں کھڑا ہے؟۔ نوید اقبال

احمد جان اپنے سادہ مگر صاف ستھرے آفس میں بیٹھا کام میں مصروف تھا کہ اس کا موبائل بجنے لگا۔ نکال کر دیکھا تو اس کے جگری دوست علی کا فون تھا۔ احمد نے کال اٹینڈ کی۔ علیک سلیک کے بعد علی ہر بار کی طرح قسمت کی خرابی، حالات کی کمزوری، معاشرے کی سنگ دلی اور گھر والوں کی شکایات کا دفتر کھول کے بیٹھ گیا۔ احمد جان معمول کے مطابق اس کو تسلیاں دیتا اور حوصلہ بڑھاتا رہا۔ یہ ان دونوں کا ہر دوسرے تیسرے دن کا معمول تھا۔ فون بند ہوا تو احمد جان کسی گہری سوچ میں گم، ماضی میں اترتا چلا گیا۔

پڑھائی سے فارغ ہو کر ملازمت کی تلاش میں نکلا تو معلوم ہوا کہ یہ کام اتنا آسان نہیں بلکہ جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ لیکن احمد جان نے تو جیسے حوصلہ ہارنا سیکھا ہی نہ تھا۔ فرض نمازوں کے بعد دعا کرتا کہ اس نے سن رکھا تھا کہ ہر فرض نماز کے بعد دعا قبول ہوتی ہے۔ اسی طرح صلوة الحاجت پڑھ کر گڑگڑا کر دعا مانگتا۔ کسی سے سنا یا کہیں پڑھا کہ اکتالیس بار سورہ یسین شریف پڑھ کے جو دعا بھی مانگی جائے تو قبول ہوتی ہے تو یہ عمل بھی کر گزرا۔ اس کے علاوہ عملی طور پر بھاگ دوڑ میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑی اور بالآخر ایک بڑے ادارے میں ایک چھوٹی سی ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

تنخواہ تو اگرچہ تھوڑی سی تھی مگر وہ تو تھا ہی سدا کا صابر وشاکر۔ سوچا کہ محنت سے کام کروں گا تو کچھ عرصے بعد تنخواہ بھی بڑھ جائے گی۔ بس اسی خیال سے حامی بھر لی۔

اب زندگی ایک لگے بندھے معمول سے گزرنے لگی۔ صبح اٹھ کر ہمیشہ کے معمول کے مطابق نماز فجر، تلاوت، تھوڑی سی سیر اور ناشتہ کے بعد بھاگ دوڑ کر کے ملازمت پر پہنچتا۔ اگرچہ اس کے کام کی جگہ قریب تو نہ تھی لیکن وہ پیدل ہی آیا جایا کرتا تھا۔ اس سے ایک تو آنے جانے کے کرائے کی بچت ہو جاتی اور دوسرے وہ خود کو ذرا چاق و چوبند بھی محسوس کرتا تھا۔ سارے دن کی سخت محنت کے بعد شام کو تھکا ہارا واپس آتا اور رات کا کھانا کھانے کے بعد عشا پڑھتا اور پڑ کر سو جاتا۔

دوسال کے عرصے میں اس نے خوب محنت اور ایمانداری سے کام کیا۔ پورے وقت پر دفتر پہنچنا۔ نہ صرف اپنا کام خوش اسلوبی سے سرانجام دینا بلکہ ضرورت کے وقت ادارے کا اضافی کام بھی، بغیر کسی کے کہے اپنے سر لے لینا۔ اس عرصے میں ادارے کی طرف سے اس پر مزید ذمہ داریوں کا بوجھ تو ڈالا گیا مگر تنخواہ جوں کی توں رہی۔

کمر توڑ مہنگائی اور اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف تنخواہ، کافی سوچ بچار کے بعد اس نے اپنی برانچ کے ذمہ دار کو تنخواہ بڑھانے کی درخواست دینے کا فیصلہ کیا۔ بڑے اہتمام سے صاف ستھرے کاغذ پر، اپنی سابقہ خدمات اور کارکردگی کا حوالہ دیکر، بڑھتی مہنگائی کے پیش نظر تنخواہ میں اضافے کی مودبانہ درخواست، ذمہ دار کو پیش کی۔

ذمہ دار صاحب، اس طرح کی صورتحال کے پرانے شناور اور استحصالی نظام کے پروردہ، بڑے منجھے ہوئے کھلاڑی تھے۔ ادارے کی مالی پوزیشن کا رونا روتے رہے۔ احمد جان حیرانی سے ان کے عذر لنگ سنتا رہا۔ ابھی چند دن پہلے ہی ان صاحب نے نئی نویلی گاڑی ادارے سے قرض لیکر خریدی تھی اور پھر شہر کے مہنگے ہوٹل میں قریبی جاننے والوں کی اسی خوشی میں دعوت کی تھی۔

ذمہ دار کی غلط بیانی پر غصہ آیا یا پھر کچھ اور بات، احمد جان کو ضد سی ہوگئی۔ سر!دو سال ہو گئے اس ادارے میں، لیکن تنخواہ کا ایک دھیلا بھی نہیں بڑھا۔ اتنی مہنگائی میں گزارہ مشکل ہوتا جارہا ہے۔ آپ براہ کرم میری درخواست پر نظر ثانی فرمائیں۔ احمد جان نے پرزور انداز میں اپنی بات دہرائی۔ ٹھیک ہے کل جواب دوں گا، ذمہ دار نے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔

مسٹر احمد جان!سر تو میٹنگ میں ہیں۔ اس مہینے آپ نے جتنے دن کام کیا ہے، اس کا معاوضہ یہ ہے۔ کم تنخواہ میں ہمیں ایک تجربہ کار آدمی مل گیا ہے۔ احمد جان جیسے ہی گیٹ میں داخل ہوا توکلرک نے، "جو شاید اسی کے انتظار میں کھڑا تھا"حکم سنایا۔ احمد جان ہکا بکا کھڑا رہ گیا۔ اس نے کچھ بولنا چاہا مگر حلق میں کانٹے سے پڑ گئے۔ اس نے چپ چاپ لفافہ تھاما اور تھکے تھکے انداز میں واپسی کے لیے مڑ گیا۔

اب کیا ہو گا؟بڑی مشکل سے تو یہ ملازمت ملی تھی۔ گھر والوں پر کیاگزرے گی؟جب ان کو پتا چلے گا۔ کہاں جاؤں؟ کیا کروں؟اس کی تو گویا دنیا ہی اندھیر ہو گئی تھی۔ گم سم سا فٹ پاتھ پر چلا جا رہاتھا۔ چھٹی کا وقت کب کا گزر چکا تھا۔ کافی لیٹ گھر واپسی کی راہ لی۔ کھانا کھایا اور بستر پرپڑ کربے سدھ ہو گیا۔

اگلے دن دفتر نہ گیا تو گھر والوں پر عقدہ کھلا اور گویا سب کو سانپ سونگھ گیا۔ کچھ دن تو خاموشی رہی اور پھر آہستہ آہستہ چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔ "ٹک کر کوئی کام کرنا ہی نہیں آتا۔" چلتے چلتے تبصرہ سنا۔ "اور دو چار سال میں تنخواہ بڑھ جاتی ایسی بھی کیا آگ لگی تھی" ایک اور نشتر۔ صبح کام کی تلاش میں نکلتا اور سارا دن گزار کر جب گھر لوٹتا تو ایسے تبصرے، سیسہ بن کر کانوں میں اترتے اور نشتر بن کر اس کے دل کو کچوکے لگاتے۔

ہنس مکھ احمد جان مرجھا کر رہ گیا۔ اس کی ہمت تو نہ ٹوٹی مگر اپنوں کے زہریلے تبصروں نے گویا اس کی جان نکال کے رکھ دی۔ کبھی تو اسے غصہ آتا، سارے غرض کے رشتے ہیں، کوئی اپنا نہیں۔ ان کو تو بس مال چاہیے۔ ایک دن تھکا ہارا ذرا پہلے گھر واپس آیا تو اسے اپنے کانوں پر یقین نہ آیا۔ "میں نے اپنے اللہ جی سے روزوں کی منت مانی ہے کہ اللہ!میرے بھائی جان کو کوئی اچھا سا روزگار عطا کردے۔ "سب گھر والے بات چیت کر رہے تھے اور موضوع اس کا روزگار تھا۔ بس مزید سننے کا اس میں یارا نہ رہا اور ساری شکایتیں ایکدم دور ہو گئیں۔

ربّا!کہاں جاؤں، کس کا دروازہ کھٹکھٹکاؤں، کس کے سامنے رو دھو کر اپنا دل ہلکا کروں؟ تیری اتنی بڑی دنیا میں اس مسکین وعاجز کی بھی تو کوئی جگہ ہو گی، تیرے خزانوں میں کیا کمی، ساری دنیا کو ان کی خواہش کے مطابق بھی عطا کر دے تو بھی تیرے خزانوں میں ایک ذرہ برابر کمی نہیں آسکتی، میرے ربا!میرے حال پر رحم فرما۔ اکثر چلتے پھرتے یا انتہائی پریشانی میں اپنے رب کے سامنے رو کر اپنا جی ہلکا کر لیتا۔

ملازمت چھوٹے دو ماہ ہو گئے تھے مگر کہیں اب تک بات بن کر نہ دی۔ جہاں بھی جاتا کورا جواب۔ اب تو مایوسی اس کو گھیرنے لگی تھی۔ زبان تو ساتھ نہ دیتی مگر دل میں شکایات کے طوفان اٹھنے لگتے۔ مایوسی کے پھیلتے سکڑتے سائے مختلف شکلیں اختیار کر کے اس کو ڈرانے لگتے اور جب مایوسی کا گھپ اندھیرا اژدھا بن کر اسےنگلنے کو ہوتا تو دل کے کسی کونے کھدرے سے ایک مدھم سی روشنی پھوٹنے لگتی، امید، پھوار کی صورت برسنے لگتی اور ایک سرگوشی سی گونجنے لگتی:"رب ابراھیمؑ سے مایوس ہو جس نے آگ کو گلزار بنایا "، "رب اسماعیلؑ سے مایوس ہو جس نے چھری کو نہ چلنے دیا"، "رب یونسؑ سے مایوس ہو جس نے مچھلی کے پیٹ میں سے پکار سن کے، ان کے غم کو دور کیا"، "رب محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے مایوس ہو جس نے سو تلواروں میں ان کی حفاظت کی"، "ارے نادان کس سے مایوس ہوئے جاتے ہو۔ اس کے علاوہ کوئی ہے جو غموں کو دھو سکے۔ کوئی ہے جو مشکل کشائی کر سکے۔ کوئی ہے جو حاجت روائی کر سکے۔ کوئی بھی تو نہیں اور اسے ایک جھٹکا سا لگتا۔ میرے مولا! معاف کردے غلطی ہو گئی۔ وہ سسکنے لگتا۔

اور پھر ایک دن تو ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے۔ آنکھوں میں ساون بھادوں اتر آیا۔ بادل امنڈ امنڈ کر آئے اور ایسی دھواں دار بارش ہوئی کہ جل تھل ہو گیا۔ زبان پر تو بس، "اے میرے رب"جاری تھا۔ مگر دل نے تو فصاحت و بلاغت کے دریا بہا دیے اور جب طوفان بادوباراں گزر گیا تو شکوے شکایات کا سارا گردوغبار دھل دھلا کر صاف ہو گیا اور امید کی قوس قزح، اس کے دل کے افق پر اپنے رنگ بکھیرنے لگی۔

اس دن صبح ہی سے وقفے وقفے سے بارش جاری تھی۔ بیٹا! اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ جو قسمت میں ہے وہ مل کے رہے گا۔ اپنی صحت کا خیال رکھا کر۔ جان ہے تو جہان ہے۔ دیکھ تو، اپنا کیا حال بنا رکھا ہے۔ آنکھوں کے گرد کتنے ہلکے پڑ گئے ہیں۔ خالہ اس کو سمجھا رہی تھیں۔

ڈور بیل بجی تو چھوٹا بھائی دیکھنے کے لیے گیا اور پھر وہیں سے چیخنا شروع کردیا۔ بھیا کا کال لیٹر آیا ہے۔ تنخواہ بھی پہلے سے چار گنا زیادہ ہو گی کل ہی بلایا ہے۔ اماں تو وہیں سجدے میں گر گئیں اور اس کی آنکھوں سے تشکر کے آنسو بہنے لگے۔ کبھی کی سنی ہوئی نظم اس کے کانوں میں گونجنے لگی:

"مایوس کیوں کھڑا ہے

اللہ بہت بڑا ہے"

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */