جمہوریت، انتخابات اور موازنہ – بلال شوکت آزاد

قوم جس کو الیکشن سمجھ کر امیدواروں کو ووٹ کاسٹ کرتی ہے دراصل وہ دو کرپٹ امیداواروں کے درمیان ووٹرز کا موازنہ ہوتا ہے۔ جیتا ہوا امیدوار ووٹر کاموازنہ جیت کر آتا ہے اس کا انتخاب بن کر نہیں۔ جس دن اس قوم کو موازنے اور انتخاب کا فرق معلوم ہوگا اس دن مغربی اقوام کے طرز کی جمہوریت یہاں بھی پنپ جائے گی۔ اور جس دن اصل مغربی جمہوریت یہاں پر ٹھہری تو اصل اسلام ، اصل خدمت، اصل نظام اور الغرض اصل خلافت بھی ٹھہر جائے گی۔

وہ کیسے؟

اور کیوں؟

جی وہ ایسے اور اس لیے کہ مغربی جمہوریت کی 90 فیصد اساس مسلمان سلف صالحین کی سوچ، عمل، حقائق اور اسلام پر منطبق و منتج ہے۔ آپ مغربی ممالک کے کسی بھی ملک کا آئین اٹھا کر پڑھ لیں۔ ان کے شہری و دیہی علاقوں کا دورہ کرلیں۔ ان کے ساتھ وقت گزار کر دیکھ لیں۔ آپ کو حیرت کے شدید دورے پڑیں گے کہ جو خوبیاں اور جو معاشرتی اقدار و اخلاقیات آپ کو ان میں نظر آرہی ہوں گی وہ آپ نے کہیں پڑھی، سنی یا کہی ہوں گی۔

کہاں ؟ کب؟ ارے ہاں! یہ خوبی یہ عادت یہ قانون یہ اخلاقیات تو نبی محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کی ہیں۔ ارے! یہ ادا تو ابو بکرؓ کی درج ہے تاریخ میں، اور ہاں یہ عمل تو عمرؓ کا ہے، یہ سخاوت و ایثار تو عثمانؓ کا پڑھا تھا۔ یہ فی البدیہہ علمی جواب اور معلومات کا ذخیرہ تو علیؓ سے منسوب ہے۔

غرض حضور علیہ الصلوٰـ والسلام سے لیکر قرون اولیٰ کے سلف صالحین کی اقدار تک مغربی جمہوریت میں جھلکے گی، بلامبالغہ۔ پھر ہم کس نظام اور جمہوریت کی مار کھارہے ہیں ؟ کس نظریے کا تاوان چکا رہے ہیں ؟ کس سمت کو جا رہے ہیں ؟ اگر خود مغربی ہمارے سلف صالحین کے نظام سے جڑ کر بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں تو ہمیں وہ سب کیوں فرسودہ اور بوسیدہ دکھائی دیتا ہے ؟ یا وہ ہمیں اس نظام کو اپنانے کیوں نہیں دیتے ؟ کیا واقعی ان کا نظام ہمارے سلف صالحین سے مستعار لیا ہوا ہے ؟ توپھر بھی وہ منتشر اور تباہ حال معاشرہ کیوں کہلائے جاتے ہیں ؟ کیونکہ وہ معاشرے کو دو حصوں ، دو قِسموں میں تقسیم کرکے رہ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   عورت کا تشخص مرد کےلیے مسئلہ کیوں؟ شہلا اسلام

دراصل مغرب کے معاشرے کی ایک ذاتیات ہے اور دوسری اجتماعیت۔ ذاتی حیثیت میں وہ انتہائی لِچر اور خود سر ہیں۔ مگر جب اجتماعیت میں ہوں تو ان کا وجود پس پردہ رہ جاتا ہے اور نظام کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔ وہ کامیاب اسی لیے ہیں کہ انہوں نے وہ اپنایا جس کو اپنانے کا حکم ہمیں ملا تھا۔ ان کی کامیابی ہماری ہوتی ، مگر وہ چالاک نکلے ، ان کے آباؤ اجداد بصیر نکلے۔

انہوں نے بے تحاشا فضول جنگیں اور مہم جوئیاں کرکے اندازہ لگالیا تھا کہ معاشرے کا ٹھہراؤ، پھیلاؤ اور بقا کا راز اسلامی الہامی قوانین اور اسلامی شخصیات کی اقدار پر مشتمل نظام میں ہے۔

مگر ایک مشکل تھی۔ کیا؟اسلام کی حقانیت کی تسلیمات۔ لیکن یہ کیا؟ اس کا حل مل گیا۔ کلمہ نہ پڑھو، قولاً تسلیم نہ کرو بس عملاً نظام اپنا لو۔ ایک دم نہیں بلکہ آہستہ آہستہ۔

پھر تاریخ میں یہ درج ہے کہ مغربی اقوام نے نہانے دھونے کے مسائل و اہمیت سے لیکر ہتھیاروں کی ایجاد اور حکومتی قوانین کے نافذ العمل کرنے تک صدیوں میں اسلامی نظام اور مسلمان سلف صالحین کی اقدار کو اپنی جمہوریت میں مدغم کیا۔ اب وہ چند ایک خود ساختہ قوانین اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے جمہوریت کہلائی جارہی ہے ورنہ دراصل تو وہ اسلام اور اسلامی قوانین ہی ہیں۔

پھر ہم کس جمہوریت کاغلغلہ مچا کر دکان چلا رہے ہیں ؟ دراصل ہمیں انہوں نے جمہوریت کے نام پر وہ طاغوتی و کفریہ نظام دان کردیا جو ان کے ہاں فرسودہ اور بوسیدہ تھا۔

دراصل یہ وہ نظام یا اس نظام کی باقیات ہیں جس نے ایک عرصہ مغرب پر تسلط قائم رکھا اور انہیں جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کیا بلکہ یوں کہہ لیں کہ ان کو درندے بنا کر رکھا جو آپس میں ہی چیر پھاڑ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔ اب وہ درندے ہم ہیں جنہیں انہی مہذب مغربی اقوام نے اب "تھرڈ ورلڈ" کا غیر انسانی و غیر اخلاقی نام دیا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   میں نے ایسا کیوں کیا؟ عمر ڈابا

وجہ؟ وجہ نا ہماری اسلام سے دوری اور نہ ہی ان کا کفر۔ بلکہ ہماری نظام سے دوری اور ان کا نظام سے قُرب۔ نظام کون سا؟ وہی جس کی اساس اسلام اور مسلمان سلف صالحین کی اقدار ہیں۔ پھر ہماری ناکامی تو ہماری خود کی کمائی ہوئی ہے۔ اس میں کسی کا کیا لینا دینا اور کسی کا کیا قصور؟ اس لیے انتخاب اور موازنہ کرکے بندے بدلنا چھوڑو، نظام بدلو نظام!

وہی نظام لاؤ، جس کی اساس اسلام اور مسلمان سلف صالحین کی اقدار ہوں۔ اگر اس سے تمہیں شریعت کا گمان اور لبرل بدہضمی کی شکایت ہوتی ہے تو یوں کہہ لو کہ مغربی جمہوریت لے کر آؤ مگر وہی جو اب ان میں ہے۔