زندگی کو غنیمت جانیے - سعید الرحمٰن

عید کے دن جہاں ہر گھر میں خوشی کا سماں ہوتا ہے، وہیں ایک گھر اور ایک محلہ ایسا بھی تھا جہاں سوگ تھا۔ کسی کا بھائی، کسی کا بیٹا ہمیشہ کے لیے بچھڑگیا تھا۔ ابھی اس کی عمر ہی کیا تھی؟ بمشکل زندگی کی بیس، بائیس بہاریں دیکھی ہوں گی۔ یہی وجہ ہے کہ گھر میں ہی نہیں بلکہ تمام جاننے والوں کے گھروں میں عید پر چولہا بھی نہیں جلا۔ ایصال ثواب کے لیے آنے والاہر فرد اشکبار تھا۔ یہ چھموگڑ کے رہنے والے زاہد عالم کا گھر تھا، جہاں رہنے والا نوجوان ظہیر عالم عید کے دن ہی بابوسر کے مقام پر گاڑی کھائی میں گرنے کے نتیجے میں اللہ کو پیارا ہوگیا۔ ظہیر اپنے ساتھیوں سمیت گلگت سے عید کے ہی دن بابوسر ٹاپ کے لیے روانہ ہوا تھا۔ اس کے ساتھ اس کے کچھ دوست بھی تھے جن میں ایک دوست بھی سفر آخرت میں ہمسفرٹھہرا۔ باقی جو دوست اس حادثے میں بچ گئے ان کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔

ذرا سوچئے گرمیوں کا موسم ہو، چھٹیوں کے دن ہوں، پھر عید کی خوشیاں بھی ہوں تو گھومنے پھرنے اور سیرکے لیے نکلے بغیر کیسے رہاجاسکتا ہے؟ مگر انسان اس بات سے لاعلم ہے کہ قدرت کب کیا کرجائے؟ اس نے جو کرنا ہے وہ اٹل ہے جو ہر حال میں ہوکر رہتاہے۔ گلگت بلتستان کی خوبصورتی کے گن نہ صرف پاکستان میں بلکہ دنیابھر میں گائے جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پچھلے کچھ سالوں میں سیاحوں نے یہاں کا رخ کرنا شروع کیا ہے۔ حادثات حادثات بھی پیش آتے رہتے ہیں مگر یہ دلکش و حسین وادیاں پھر سے ان سیاحوں کو بلکہ ہر سال پچھلے کے مقابلے میں دوگنا یا تین گنا زیادہ سیاحوں کو کھینچ لاتی ہے۔ اب تو دنیا کو بھی معلوم ہو چکا ہے گلگت بلتستان ایک پرامن اور محبت کرنے والے لوگوں کا مسکن ہے۔ اسی لیے لوگ اپنے گھر والوں کے ہمراہ بھی تشریف لاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاحوں کی آمد و رفت میں اضافے کے ساتھ حادثات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن جہاں حکومت ان حادثات کی ذمہ دار ہے مگرسیاح بھی ان میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ بہت ساری ذمہ داریاں سیاحوں پر بھی عائد ہوتی ہیں۔

عید الفطر سے اب تک ایک، ڈیڑھ درجن افراد بابوسر کے مقام پر لقمہ اجل بنے ہیں۔ ان حادثات کی اہم وجہ بابوسر کے موسم سے عدم واقفیت اور ڈرائیور کی علاقے کی سڑکوں کے بارے میں بنیادی معلومات کی کمی تھی۔ صرف بابوسر ہی نہیں دیامر، استور، ہنزہ، غذر، نلتر یا سکردو ہر ضلع اور جگہ موسم کے حوالے سے ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ کہیں پنجاب اور سندھ کی طرح بہت گرمی تو کہیں مری کی طرح بہت زیادہ سردی، اس لیے یہاں آنے سے پہلے ہر، ہر ضلع اور علاقے کی جانکاری حاصل کرلینا بہت ضروری ہے۔

ارض شمال بلاشبہ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔ یہاں آنے والے سیاحوں کی تعداد پچھلے سال 12 لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی جبکہ اس پورے خطے کی اپنی کل آبادی بمشکل 22 سے 25 لاکھ کے درمیان ہے۔ ذرا اندازہ کیجئے جب سیاح ہی اس کی آبادی کے قریبا آدھی تعداد میں آجائیں تو ان کی مہمان نوازی میں کمی کوتاہی یقینی ہے جس کا احساس اس خطے میں رہنے والے ہر شخص کو ہے۔

بین الاقوامی معیار کے ہوٹل نہ ہونے کی وجہ سے بالخصوص بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کو مشکلات درپیش آتی ہیں۔ خاص طور پر سیزن میں سیاحوں کو رات رہنے کے لیے جگہ ملنے میں مشکلات پیش آتی ہیں جو گلگت کے شعبہ سیاحت کے لیے اچھی خبر نہیں۔ علاقے کی سیاحتی سہولیات ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں جو بھی موجود ہے وہ دراصل یہاں امن و امان کی وجہ سے ہے۔ اس لیے کم عرصے میں بہت زیادہ ترقی کے خواب دیکھا شاید غلط ہوگا کیونکہ بناؤ میں ہمیشہ وقت لگتا ہے۔ آئندہ چند سالوں میں اس علاقے میں ہوٹلوں کی تعداد اور بین الاقوامی معیار کی سہولیات متوقع ہیں۔

پھر بھی پچھلے چند سالوں میں گلگت بلتستان میں سیاحت کو جتنا فروغ ملا ہے، وہ علاقے کے لوگوں کے لیے خوشی کی نوید ہے۔ مگر سیاحوں کے انتظامات کی کمی سیاحت کو مستقبل میں بڑھانے کے بجائے کم کرنے کاموجب بن سکتے ہیں۔ بابوسر سے شروع ہوکر گلگت بلتستان کے آخری کونے تک سڑکوں کی صورتحال بہت بہتر کرنے کی ضرورت ہے اس کے ساتھ ساتھ ہوٹلوں کے معیار اور ان کی تعداد میں اضافہ بھی وقت کی اہم ضرورت بن گئی جو مستقبل میں مزید ضروری ہوجائے گا۔ اسی طرح سیاحوں کی رجسٹریشن اور گلگت بلتستان کے حدود میں داخل ہونے سے پہلے ڈرائیور سمیت سب کو ممکنہ مشکلات کے حوالے سے معلومات مہیا کرنا ہوگی اور یہ سب سے ضروری بھی ہے کیونکہ لوگ انجانے میں نئے ڈرائیور کے ہمراہ جب یہاں آتے ہیں تو یہ شہروں سے بالکل مختلف سڑکیں پاکر حیران و پریشان ہوجاتے ہیں۔ نتیجے میں بہت سارے حادثات بھی رونماہوتے ہیں اور یہی کچھ ماضی میں دیکھا بھی گیا ہے۔ ان سارے انتظامات کی تکمیل کے لیے نہ صرف صوبائی حکومت بلکہ وفاقی حکومت کو بھی سنجیدگی سے اقدامات کرنے ہوں گے۔