دی کنٹریکٹر (آخری قسط) - ریحان اصغر سید

یہ بات واضح تھی کہ پاکستانی حکومت اپنے میڈیا کو میرے خلاف کہانیاں بنانے کے لیے استعمال کر رہی تھی۔ میری شکل میں ان کو بہت اچھا موقع مل گیا تھا جس سے وہ اپنے ملک میں امریکیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کو کم کرسکتے تھے۔ میڈیا میں مجھے جاسوس، پیشہ ور قاتل، امریکی ریمبو اور نہ جانے کیا کچھ کہا جا رہا تھا۔ عمومی طور پر پاکستانی قوم ہر بات میں سازشی نظریات تلاش کرنا پسند کرتی ہے۔ ایک مشہور پاکستانی صحافی نے ایک دفعہ عمران خان سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ پاکستانی لیڈرز ہر وقت اپنی قوم سے جھوٹ بولتے رہتے ہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ جو معاشرہ ہر وقت جھوٹ سننے کا عادی ہو جائے، وہاں ہر چیز کانسپرنیسی تھیوری بن جاتی ہے۔

جب میرے جسمانی ریمانڈ کے خاتمے کی مدت نزدیک آئی تو مجھے توقع تھی کی پولیس کا رویہ مجھ سے سخت ہو جائے گا، اور ایسا ہی ہوا۔ انھوں نے کبھی مجھے مارنے کی کوشش نہیں کی لیکن وہ اب وہ زیادہ وقت میرے پاس گزارتے اور مجھ سے مسلسل پوچھتے رہتے۔
تم کیا اور کس کے لیے کام کرتے ہو؟ تمھیں لینے آنے والے لوگ کون تھے؟ تمھیں ہر صورت میں جواب دینے ہی ہوں گے۔
نہیں میں تمھارے کسی سوال کا جواب نہیں دوں گا۔ میرا مؤقف واضح تھا۔

مجھے چودہ روزہ ریمانڈ کے بعد ایک خستہ حال بکتر بند میں ماڈل ٹاؤن عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں میں خود کو غیر محفوظ تصور کر رہا تھا۔ کمرہ عدالت بہت چھوٹا اور حسب معمول لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ میرے ہاتھ ہتھکڑیوں میں بندھے ہوئے تھے۔ اگر ہجوم میں سے کوئی مجھ پر چاقو سے حملہ کر دیتا تو میں اپنے بچاؤ کے لیے کچھ بھی نہ کر پاتا۔

وکیل استغاثہ اسد منظور بٹ نے نامکمل تفتیش کا بہانہ کر کے جج سے میرے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کی اجازت مانگی جسے جج نے مسترد کرتے ہوئے مجھے جوڈیشنل ریمانڈ پر کوٹ لکھپت جیل بھیج دیا۔ جیل میں میرے سامان کی تلاشی لی گئی اور مجھ سے فنگر پرنٹ کے لیے اصرار کیا گیا، جسے میں نے مسترد کر دیا۔ جیل میں میرا سیل پچھلے احاطے میں تھا۔ یہاں ایک میز کرسی کے علاوہ سونے کے لیے فرش پر ایک پتلا سا گدا ڈالا گیا تھا۔ باتھ روم میں واش بیسن اور نہانے کا باتھ ٹب بھی تھا۔ باتھ روم میں پانی سیل کی چھت پر پڑی ٹنکی سے آتا جو باہر کے ٹھنڈے موسم کی وجہ سے ہمیشہ انتہائی سرد رہتا تھا۔

جب آپ کو دن میں سے بائیس گھنٹے قید تنہائی کا سامنا کرنا پڑے تو آپ ذہنی طور پر حقیقت سے دور ہو جاتے ہیں، اسی عرصے میں، میں نے سیل میں آنے والی چڑیوں اور چھپکلی سے گفتگو کرنا شروع کر دی۔ قونصل خانے سے قونصل جنرل یا کوئی اور روزانہ مجھ سے ملنے آتا، وہ میرے لیے کھانے پینے کے سامان کے علاوہ پڑھنے کے لیے کتابیں اور میگزین بھی لاتے۔ میں ان سے بار بار پوچھتا کہ مجھے یہاں سے کیوں نہیں نکالا جا رہا، کیا مجھے بھلا دیا گیا؟ ان کے تفصیلات بتانے پر مجھے پتہ چلا کہ مجھے آزاد کروانے کے لیے کتنے اعلی پیمانے پر کوششیں جاری ہیں۔

میرے سیل کے باہر ایک بڑا سپیکر نصب تھا جس پر ہر وقت عید میلاد مصطفی (یہ 12 ربیع الاول کے آس پاس کے دن تھے) کی خوشی میں اونچی آواز میں نعیتں چلتی رہتیں، جسے بعد میں ہماری درخواست پر ہٹا دیا گیا۔ یہاں بھی سیل کی تیز روشنیاں ہر وقت جلتی رہتیں۔ گارڈ جب چاہتے میرے سیل میں آ جاتے۔ میں نہاتا تو تیز آنکھیں مجھے گھورتی، بظاہر مجھ پر کوئی تشدد نہیں کیا گیا لیکن شاید کچھ نفسیاتی تشدد۔

جیل کے ڈاکٹر کے ذریعے مجھے جیل انتظامیہ کی طرف سے یہ پیغام دیا گیا کہ اگر عافیہ صدیقی کو رہا کر دیا جائے تو مجھے بھی فورا چھوڑ دیا جائے گا، لیکن ظاہر ہے ایسا کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، عافیہ صدیقی ایک مسلمہ دہشت گرد اور عدالت کی طرف سے سزا یافتہ مجرم تھی، جبکہ میں سفارتی کردار کا حامل آدمی تھا جس نے سوائے سلیف ڈیفنس کے کوئی جرم نہیں کیا تھا، اس لیے اس خیال کو میں نے اور قونصل جنرل کارمیلا نے سختی سے مسترد کر دیا۔ انھی دنوں امریکہ کے ہاتھ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی رہائش گاہ کا سراغ لگ چکا تھا لیکن اس کے خلاف آپریشن میرے قید میں ہونے کی وجہ سے ملتوی کیا جا رہا تھا کہ پاکستان بدلہ لینے کے لیے مجھے قتل نہ کر دے۔ جیل میں مجھے قیدیوں کا لباس پہننے، ذاتی معلومات دینے اور فنگر پرنٹ کے لیے مسلسل کہا جاتا رہا لیکن میرا انکار ہاں میں نہیں بدلا. ایک دن کارمیلا نے جیلر کو دو ٹوک الفاظ میں بتا دیا کہ میں ایک سفارت کار ہوں، آپ لوگ پہلے ہی مجھے جیل میں رکھ کے عالمی قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ ریمنڈ کا فنگر پرنٹ دینے اور قیدیوں کا لباس پہننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

عدالت میں پہلی چند پیشیوں پر میری طرف سے کوئی وکیل پیش نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ خوف کی وجہ سے کوئی بھی میرا مقدمہ لڑنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ بعد میں قونصل خانے کی جانب سے کیس کی فیس کی رقم 20 ہزار ڈالر سے بڑھا کر ایک لاکھ ڈالر کی گئی تو ایک قابل وکیل زاہد بخاری نے میرا مقدمہ لڑنے کی ہامی بھر لی۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان پہلا ٹی20 بارش کے باعث منسوخ

مجھے آزاد کروانے کے لیے امریکی حکومت نے دو طریقے اختیار کر رکھے تھے۔ پہلے طریق کار کے مطابق وہ پاکستانی حکومت سے احتجاج کر رہے تھے کہ مجھے سفارت کار کا درجہ حاصل ہے، مجھے قید میں رکھنے یا مقدمہ چلانے کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا، اور دوسرے طریقے کے مطابق وہ خاموشی سے میری رہائی کے لیے پاکستانی حکام سے گفت و شیند میں بھی مصروف تھے۔ جان کیری کے پندرہ فروری کے پاکستانی دورے کے بعد آئی ایس آئی چیف جنرل شجاع پاشا واشنگٹن پہنچے، اور لیون پینٹا سے پوچھا کہ کیا میں CIA کے لیے کام کر رہا تھا؟ لیون پینٹا نے جواب دیا نہیں، بلکہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اس معاملے کو دیکھ رہا ہے۔ یہ جواب پاشا کے لیے خوش کن نہیں تھا. پاشا کے غصے میں تب اضافہ ہوگیا جب کمیرون منٹر نے (سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور وائٹ ہاوس کی جانب سے واضح ہونے کے بعد) پاشا کو میرے کام کی اصل نوعیت کے بارے میں بتایا۔ پاشا میری جلد سے جلد پاکستان سے رہائی کی دونوں ملکوں کے لیے اہمیت کو بخوبی جان گئے تھے، لیکن وہ اپنے ملک کے صدر اور وزیراعظم کی طرح مجھے تب تک جیل میں پڑے رہنے دینے پر راضی تھے، جب تک اس مسئلے کا کوئی قابل قبول حل نہ نکل آتا۔

میری رہائی کے لیے سی آئی اے چیف لیون پینٹا نے پرو امریکن پاکستانی سفیر حیسن حقانی سے بھی واشنگٹن میں ملاقات کی، لیکن اس معاملے میں حقانی بھی زیادہ واضح نہیں تھا۔
دو دن بعد مسقط (عمان) میں دونوں ملکوں کی فوجوں کے سربراہ (جنرل کیانی، ایڈمرل مائک مولن) ملے۔ یہ ملاقات افغان جنگ کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کئی ماہ پہلے سے طے تھی، لیکن ملاقات کے وقت کا زیادہ حصہ میرے مسئلے کا حل تلاش کرنے میں ہی گزرا اور دونوں طرف کی قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اس حادثے کو پاک امریکہ تعلقات برباد کا باعث نہیں بننے دیا جائے گا، بلکہ اس کا کوئی فوری حل نکالا جانا دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔ امریکہ کے لیے اس لیے بھی اس مسئلے کا جلد از جلد حل ڈھونڈنا ضروری تھا کہ دس سال کے طویل انتظار کے بعد اسے ایبٹ آباد میں اسامہ کی موجودگی کے واضح شواہد ملے تھے۔ اسامہ کے لیے آپریشن صرف میرے قید میں ہونے کی وجہ سے رکا ہوا تھا۔

چودہ دن کے جسمانی ریمانڈ کے بعد جوڈیشل ریمانڈ کے پانچ ہفتے میرے لیے بہت مشکل تھے، جس نے مجھے نفسیاتی طور پر بری طرح متاثر کیا۔ آخرکار 16 مارچ کا دن آ پہنچا۔ آج مجھ پر قتل کی فرد جرم عائد ہونے کا دن تھا۔ جیل کے ایک حصے کو ہی عدالت قرار دے کر وہاں کیس کی سماعت ہونے والی تھی۔ عدالت میں پیشی سے پہلے میری قونصل جنرل اور اپنے وکیل سے تفصیلی بات چیت ہوئی۔ قونصل جنرل نے اصرار کر کے میری ہتھکڑیاں کھلوا دیں۔ اس سے پہلے میں جب بھی کمرہ عدالت میں پیش ہوتا تھا، وہاں کا ماحول کچھ یوں ہوتا کہ جیسے یہ لوگ مجھے جج کی طرف سے مجرم قرار دینے کے ہی انتظار میں ہیں. ایک دفعہ ایسا ہونے کے بعد وہ مجھے گھیسٹ کے باہر لے جائیں گے اور کسی درخت پر پھانسی لٹکا دیں گے۔ آج بھی عدالت کی فضا ایسی ہی تھی۔ اس فرق کے ساتھ مجھ سے سختی سے پیش آنے والا وکیل استغاثہ اسد منظور بٹ آج عدالت میں نظر نہیں آ رہا تھا۔ اس کی جگہ سابقہ ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ ارشاد (جو اب آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے لیے کام کرتا تھا) بطور وکیل استغاثہ آگے بڑھا۔ میں آج لوہے کے ایک پنجرے میں بند تھا۔ جج نے تمام غیر متعلقہ لوگوں کو کمرہ عدالت سے نکال دیا جو چند لوگ کمرے میں باقی رہ گئے تھے، ان میں جنرل شجاع پاشا بھی شامل تھے، جو مسلسل امریکی سفیر کو عدالتی کارروائی کی پیش رفت سے ٹیکسٹ میسجز کے ذریعے آگاہ رکھے ہوئے تھے۔ کارمیلا اور میرے وکلا کی ٹیم میرے پنجرے کے بالکل سامنے بیٹھے تھے۔ عدالتی کارروائی جاری تھی، لیکن آج اردو بولنے پر میں انھیں ٹوک نہیں رہا تھا.

اتنی دیر میں پاول وکیلوں کی بھیڑ کو ہٹاتا ہوا میری طرف دوڑا۔
منصوبہ بدل گیا ہے!
اس نے اپنی بےترتیب سانسوں کو قابو کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
جج نے عدالت کو شرعی عدالت میں بدل دیا ہے۔
گہرے صدمے سے سنبھلتے ہوئے میرے ذہن میں کوڑے مارنے، رجم کرنے، سر کاٹنے، آنکھ کے بدلے آنکھ نکالنے جیسے مناظر گھوم کے رہ گئے۔
یہ کیا بکواس ہے؟ کیا تم سنجیدہ ہو؟ یہ کیسے ممکن ہے؟ میں سمجھ نہیں پایا۔
لیکن میرے آخری الفاظ ابھی منہ میں ہی تھے کہ پاول واپس بھاگ چکا تھا۔ میں نے کارمیلا سے اس بارے میں پوچھا۔ کارمیلا نے تفصیلی جواب دیتے ہوئے مجھے بتایا کہ اسلام میں دیت اور قصاص (بلڈ منی) کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے جو مقتول کے ورثا کو دی جاتی ہے۔ اب میرا کیس اس طریقے سے ہی نمٹایا جائے گا۔ اس کے علاوہ دوسرا کوئی حل دستیاب نہیں ہے۔
عدالتی کارروائی دیکھتے ہوئے کارمیلا پریشانی سے اپنے ہونٹ کاٹ رہی تھی۔
کیا کچھ مسئلہ ہے کارمیلا؟
اس منصوبے پر عملدرآمد کے لیے تمام ورثا کا دیت کو قبول کرنے پر اتفاق کرنا لازم ہے۔ اگر ایک نے بھی دیت لینے سے انکار کر دیا، تو یہ سارا بندوبست برباد ہو جائے گا اور ورثا میں سے ایک عورت قطعا خوش نہیں لگ رہی۔

بعد میں جو مجھے پتہ چلا، اس کے مطابق دیت کا منصوبہ کئی ہفتے پہلے ہی تیار ہو چکا تھا۔ کچھ اطلاعات کے مطابق یہ جان کیری کی چار ہفتے پہلے امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کے ساتھ ملاقات میں طے پایا۔ ایک خیال یہ تھا کہ شجاع پاشا اور امریکی سفیر کیمرون منٹر کی میٹنگ میں اس کے بارے میں سوچا گیا اور ایک افواہ یہ بھی تھی کہ اس کے پیچھے پاکستان فوج کا بھی ہاتھ ہے، اور نواز شریف اور آصف زرداری بھی اس سے آگاہ تھے۔ پیٹر سٹریسر جب میرا قانونی مشیر نامزد ہوا تو اس نے یہ خیال پیش کیا جس کی بخاری نے بھی تائید کی۔ میرا خیال ہے کہ اس تدبیر کا کریڈٹ کسی ایک کو نہیں دیا جا سکتا. یہ اس صورتحال سے نکلنے کی (دونوں جانب سے) ایک اجتماعی کوشش تھی تاکہ سب کی فیس سیونگ بھی بنی رہے۔ میرے سوا سب سے اس سے آگاہ تھے۔ بس مجھے ہی آخری لمحے تک اندھیرے میں رکھا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   چکور خوش ہے کہ بچوں کو آگیا اڑنا - شبیر بونیری

منصوبے کی منظوری کے بعد اسے پایہ تکمیل تک پہنچانا آئی ایس آئی کی ذمہ داری تھی۔ جنرل شجاع پاشا اس ڈیل کوکامیاب کرنے کے لیے نہایت پرعزم تھے کیونکہ دو دن بعد 18 مارچ کو وہ اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے تھے۔ اس ڈیل کی صورت میں انھیں اپنے عہدے کی ایک سال کی ایکسٹینشن بھی مل رہی تھی۔ وکیل استغاثہ اسد منظور بٹ کو ہٹا کے راجہ ارشاد کو اس کی جگہ لانا بھی پاشا کی ذمہ داری تھی، کیونکہ منصوبے کے مطابق تمام ورثا کا دیت پر متفق ہونا لازمی تھا اور اسد منظور بٹ ان میں سے کچھ کو مزاحمت پر مجبور کر رہا تھا۔ اس لیے آئی ایس آئی کے لوگوں نے ورثا پر اتنا دباؤ ڈالا جتنا ان کو منانے کے لیے لازم تھا۔ چودہ مارچ کو تمام ورثا کو اٹھا کے کوٹ لکھپت جیل میں لے آیا گیا اور انھیں ڈیل قبول کرنے پر آمادہ کیا گیا۔ انکار کی صورت میں خطرناک نتائج سے ڈرایا گیا۔ ہاں کی صورت میں انھیں اچھی خاصی رقم ملنے والی تھی۔ اصل وکیل استغاثہ اسد منظور بٹ کو اس دن کمرہ عدالت میں پہنچنے ہی نہیں دیا گیا۔

نئے وکیل راجہ ارشاد نے جج کے سامنے تمام اٹھارہ ورثا کا دستخط شدہ ورق پیش کیا اور بتایا کہ تمام لوگ دیت کے لیے راضی ہیں (کم از کم پیپر کی حد تک)، اس کے بعد جج کے سامنے تمام ورثا باری باری پیش ہوتے رہے اور اپنی شناحتی دستاویزت اور دیت پر آمادگی ظاہر کر کے 123000 ڈالر رقم وصولی کی رسید حاصل کرتے رہے۔ دیت کی کل رقم 2340000 ڈالر تھی جو پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی دیت ہے۔ جب تمام قانونی اور کاغذی کارروائی مکمل ہوگئی اور مجھے باقاعدہ آزادی کا پروانہ مل گیا تو میں بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کے رونے لگا۔

اسی دن قومی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے سیکرٹری آف سٹیٹ ہیلری کلنٹن نے اس بات سے انکار کیا کہ دیت کے لیے کسی بھی قسم کی کوئی رقم امریکہ نے پاکستان کو ادا کی ہے۔ تیکنکی طور پر ہیلری کلنٹن کی بات درست تھی۔ نیویارک ٹائمز کے بقول رقم وقتی طور پر آئی ایس آئی نے ہی ادا کی تھی، جسے بعد میں امریکہ نے پاکستانی حکومت کو لٹا دیا تھا.

میں ISI ایجنٹس کی معیت میں جیل سے نکلا اور بعد میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ایک ڈیزل SUV میں ائیرپورٹ پہنچا جہاں ایک ڈاکٹر نے مجھے مکمل بےلباس کر کے میرا تفصیلی طبی معائنہ کیا، جس کی ساتھ ساتھ ویڈیو ریکارڈنگ بھی جاری تھی۔ کچھ دیر بعد ہم رن وے پر تھے جہاں دو انجن والا سیسنا طیارہ سٹارٹ کھڑا میری ہی راہ دیکھ رہا تھا۔ جہاز کی سیڑھیوں میں امریکی سفیر کمیرون منٹر کھڑے تھے جھنوں نے اصرار کر کے میرا بیگ اٹھایا اور مجھے جہاز میں لے گئے۔ کمیرون منٹر بھی (میری سلامتی کے لیے) میرے ساتھ افغانستان جا رہے تھے۔ امریکی سفیر کی موجودگی میں شاید پاکستان کو جہاز کسی بہانے روکنے، واپس موڑنے یا کسی جہادی تنظیم کے ذریعے مار گرانے کی جرات نہیں ہوتی۔ ہم جب تک پاکستانی حدود میں تھے، خود کو محفوظ تصور نہیں کر سکتے تھے۔ کیمرون منٹر اپنے سٹیلائٹ فون سے ان لوگوں (جان کیری، فرینک ولف، پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکی نمائندہ خصوصی مارک گراسمین، رچرڈ ہالبروک) کو کال کر رہے تھے، جھنوں نے میری رہائی میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

سیکرٹری آف سٹیٹ کو فون کرتے ہوئے کیمرون منٹر نے رسما میری بھی ہیلری کلنٹن سے بات کروائی۔ کچھ گھنٹے بعد ہم افغانستان میں تھے، جہاں سے مجھے امریکہ روانہ کر دیا گیا۔

لاہور حادثے نے میری زندگی پر بہت تباہ کن اثرات مرتب کیے۔ سب سے پہلے مجھے ایک تفیتشی ٹیم کے سامنے تفتیش کے سخت مرحلے سے گزرنا پڑا (جان کیری نے پاکستان سے وعدہ کیا تھا کہ مجھ سے اس واقعے کی تفتیش امریکہ میں جاری رکھی جائے گی)، مجھے بار بار اپنی کہانی دہرانا پڑی. سوال جواب کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ آخر میں نے زچ ہو کر کہا کہ یا تو مجھے مجرم قرار دے دیں یا بری کر دیں۔ اب میں مزید کسی سوال کا جواب نہیں دوں گا۔ تب جا کر میری تفتیش کاروں سے جان چھوٹی۔

لاہور حادثہ میرے کیرئیر کو مکمل طور پر برباد کرنے میں کامیاب رہا۔ بیرون ملک سکیورٹی کلیئرنس نہ ملنے کی وجہ سے اس کے بعد میں بطور کنٹریکٹر کبھی دوبارہ معاہدہ نہیں حاصل کر پایا۔ دراصل لاہور حادثے نے مجھ سے میری شناحت ہی چھین لی ہے۔