پرانے تصورات بدلنے ہوں گے - محمد عامر خاکوانی

نیوز لیکس کا اونٹ آخر کار اچھے طریقے سے آسان سی کروٹ لے کر بیٹھ ہی گیا۔ ایک طرح سے اچھا ہوا کہ سیاسی بھونچال تھم گیا۔ پاکستان جیسے ممالک میں غیر یقینی صورتحال کا پیدا ہونا زیادہ خطرناک ہے۔ نیوز لیکس والے بحران میں ٹویٹ کے بعد دو ہفتوں تک جس انداز کی غیر محسوس کشیدگی اور غیر یقینی چھائی رہی، وہ تباہ کن تھی، اچھا ہوا دھند چھٹ گئی۔ مسلم لیگ ن کے حامی اخبارنویس اس پر خوش تو ہیں، مگر مجموعی طور پر اس پورے کیمپ نے اس حوالے سے متانت اور سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔ خوشی کے شادیانے بجانے کے بجائے یوں تاثر دیا جیسے کسی فریق کی ہار یا جیت نہیں ہوئی۔ دوسری طرف یہ صلح یا نیوز لیک کے معاملے کا ڈراپ آؤٹ پرو اسٹیبلشمنٹ حلقے پر بجلی بن کر گرا ہے۔ ہمارے کئی اینکر اور کالم نگار حضرات صدمے سے باہر نہیں آسکے، بعض تو ایک دو دنوں تک گنگ رہے۔ حکومتی کیمپ کے خوشہ چیں لکھاریوں نے اسے انگریزی اصطلاح کے مطابق Win/Win ڈیل قرار دیا ہے، یعنی دونوں فریقوں کی جیت۔ کیا واقعی معاملہ ایسا ہے؟ درست اور حتمی جواب تو شاید کسی کے پاس نہ ہو، مگر بظاہر یہ حکومتی مؤقف کی جیت ہے۔ ہمارے ہاں جو حلقہ روایتی طور پر اسٹیبلشمنٹ کو سپورٹ کرتا ہے، جو لکھاری، تجزیہ کار نیوز لیکس کے حوالے سے حکومت پر تنقید کرتے رہے اور انہوں نے اس ایشو پر اسٹیبلشمنٹ کو سپورٹ کیا، ان سب کو شدید مایوسی ہوئی ہے۔ یہ پورا کیمپ یہ محسوس کر رہا ہے جیسے انھیں استعمال کر کے چھوڑ دیا (ڈِچ کیا) گیا ہو۔ یہ شکست خوردہ احساسات ممکن ہے کچھ عرصے بعد نارمل ہوجائیں، مگر سردست یہ لگ رہا ہے کہ مستقبل قریب میں اپنے اس دیرینہ حامی حلقے کو اسٹیبلشمنٹ کے لیے استعمال کرنا زیادہ آسان نہیں رہے گا۔

ملین ڈالر سوال یہ ہے کہ کیا معاملہ ختم ہوگیا یا یہ عارضی جنگ بندی ہے؟ اب راوی چین ہی چین لکھے گا یا کچھ عرصہ بعد کوئی نیا قضیہ کھڑا ہوجائے گا؟ اس کا جواب تو خیر جلد سامنے آ ہی جائے گا، مگر اس بحران اور خاص کر اس کے اختتام سے ہم سب کو کچھ نہ کچھ سیکھنا چاہیے۔ اسٹیبلشمنٹ کو خاص طور پر اپنے پرانے مائنڈ سیٹ کو بدلنے اور نئے تصورات اپنانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے ریاستی ڈھانچے میں اسٹیبلشمنٹ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ کا درست ٹریک پر رہنا اور سماج میں در آنے والی تبدیلیوں کو نوٹ کرنا، ان کے مطابق خود کوبدلنا بہت اہم اور ضروری ہے۔ سب سے اہم بات یہ سمجھ لینا ہے کہ پاکستان میں سول اور ملٹری بالادستی کا ایشو اب سنجیدہ، گمبھیر اور گہرائی تک (Deep Rooted) جا چکا ہے۔1977ء یا 1999ء میں ایسا ہرگز نہیں تھا۔ اس وقت لوگ اسے سول ملٹری بالادستی کا ایشو نہیں سمجھتے تھے۔ یہ صرف سیاسی اشرافیہ کا ایشو یا جمہوریت اور آزادی اظہار پر یقین رکھنے والے سیاسی، صحافتی کارکنوں کے لیے اہمیت کا حامل تھا۔ حکمران وزیراعظم سے بیزاری اور سیاست دانوں کی ناپسندیدگی بہت اہم کردار ادا کرتی تھی۔ بھٹو صاحب کے مخالفین کے لیے بھٹو کے علاوہ ہر شخص قابل قبول تھا، چاہے اس نے خاکی وردی پہنی ہو یا وہ سول لبادے میں ملبوس ہو۔ جنرل مشرف کا بھی مسلم لیگ ن کے علاوہ بیشتر سیاستدانوں نے استقبال ہی کیا۔ آج پاکستان بدل چکا ہے۔ یہاں صورتحال یکسر مختلف ہے۔ مارشل لاء یا کسی ڈکٹیٹر کے آنے کے خواہش مند سیاستدان تو خیر آج بھی موجود ہیں، مگر اب ان کی طاقت، اثر اور حلقہ بہت سکڑ چکا ہے۔ آمریت اور اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے عوامی سطح پر بڑی تبدیلی آئی ہے۔ لوگ اسٹیبلشمنٹ اور سول حکومت پر اس کے اثر و رسوخ کو پسند نہیں کرتے۔ پاکستان میں سوشل میڈیا اپنی قوت منوا چکا ہے۔ جہاں اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے خاصا منفی تاثر موجود ہے اور اوسط پڑھے لکھے لوگ بھی سول حکومت کی بالادستی کی بات کرتے ہیں۔ سیاستدانوں پر اگرچہ سخت تنقید کی جاتی ہے مگر مستقبل کے لیے سیاسی حل ہی کو مناسب سمجھا جاتا ہے۔

ایک تبدیلی سیاستدانوں میں بھی آئی ہے۔ ماضی کی نسبت ان میں میچورٹی زیادہ بڑھی ہے یا انہیں سمجھ آ گئی ہے کہ مارشل لاء کی صورت میں دس بارہ برسوں کے لیے معاملات ان کے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں، اس لیے ٹوٹی پھوٹی جمہوریت ہی سہی، مگر اسے ہی چلانا چاہیے۔ دو سال پہلے عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنے کے موقع پر بیشتر سیاسی قوتوں نے متحد ہو کر ایک واضح پیغام دیا تھا۔ بلوچستان، خیبر پختونخوا کی قوم پرست جماعتوں کی سوچ نہایت واضح اور یکسو ہے۔ آمریت کی حمایت کرنا ان میں سے کسی کے لیے ممکن نہیں رہی۔ رائٹ ونگ کی اہم پارٹی جماعت اسلامی کا مؤقف اور نقطہ نظر بالکل بدل چکا ہے۔ ماضی میں اس پر پرو اسٹیبلشمنٹ ہونے کا ٹیگ چسپاں ہوتا رہا، مگر آج کی جماعت اسلامی اپنی سوچ، نظریے اور عمل کے اعتبار سے سو فیصد سیاسی اور اسٹیبلشمنٹ سے دور ہے۔ جماعت سے وابستہ نوجوانوں میں سخت اینٹی اسٹیبلشمنٹ خیالات عام نظر آتے ہیں۔ جے یوآئی کے مولوی فضل الرحمن تمام راستے کھلے رکھتے ہیں، مگر مجموعی طور پر ان کا بوجھ بھی پرو اسٹیبلشمنٹ پلڑے میں نہیں ہوتا۔ مسلم لیگ ن اب ہر لحاظ سے اینٹی اسٹیبلشمنٹ جماعت تصور ہوتی ہے۔ مستقبل میں وہ اپوزیشن میں رہے، تب بھی یہ ممکن نہیں لگتا کہ نوے کے عشرے کی طرح یہ اسٹیبلشمنٹ کی آلہ کار بن سکے۔ پی ٹی آئی اگرچہ اسٹیبلشمنٹ کے لیے کچھ نرم گوشہ رکھتی رہی ہے، دھرنے کے موقع پر وہ کسی حد تک استعمال بھی ہوئی ہے، مگر عمران خان بھی آخری تجزیے میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ ثابت ہوں گے۔ عمران جیسا شخص اگر اقتدار میں آیا تواسٹیبلشمنٹ کے لیے اسے دباؤ میں رکھنا ممکن نہیں ہوگا۔ عمران خان ریفارمز کا علمبردار ہے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ہمیشہ سٹیٹس کو کی حامی ہوتی ہے تو ان دونوں میں بھی فطری ٹکراؤ موجود ہے۔

اسٹیبلشمنٹ کو چاہیے کہ اب اپنے پرانے طریقے بدلے۔ سول ملٹری بالادستی کی کشمکش پاکستان اس وقت افورڈ نہیں کر سکتا۔ ویسے بھی ملک چاروں طرف سے خطرات میں گھرا ہوا ہے۔ بھارت کا بڑھتا ہوا دباؤ، افغانستان کی جانب سے جارحیت کے اشارے، ایران کا اضطراب، امریکہ کا دباؤ اور پھر سی پیک کی صورت میں روشن معاشی مستقبل کی جھلک۔ ان سب کے لیے پاکستان میں ایک مستحکم سول حکومت کا موجود ہونا اشد ضروری ہے۔ ایسی سول جمہوری حکومت جس پر عالمی دنیا اعتبار کر سکے۔ مختلف افراد، تنظیموں، گروہوں اور میڈیا کے ایک حلقے کو استعمال کر کے سول حکومت پر دباؤ جاری رکھنے کی حکمت عملی مناسب نہیں۔ یہ طریقہ کار اب بدلنا ہوگا۔ اسٹیبلشمنٹ بعض اوقات کسی ایشو کو غیر معمولی ہائپ دلاتی اور ایک بھونچال کی سی کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔ جب بعد میں معروضی حالات کے نتےجے میں پیچھے ہٹنا پڑتا ہے تو پھر سب کچھ بلبلے کی طرح پھٹ جاتا ہے۔ تب یہ ہائپ تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ ماضی میں بھی ایسا کیا گیا، نیو ز لیکس کے معاملے میں بھی یہ ہائپ مصنوعی طور سے پیدا کی گئی۔ اسی لیے اب جب اچانک ڈراپ سین ہوا تو ایک بڑے حلقے کو شدید مایوسی ہوئی۔ اس تجربے سے سبق سیکھ لینا چاہیے۔ پاکستانی عوام میں فوج کی مقبولیت بہت زیادہ ہے۔ فوج جس قدر سیاست سے دور رہے، اس مقبولیت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ جنرل راحیل شریف کا آپریشن ضرب عضب کے حوالے سے غیر معمولی کنٹری بیوشن رہا، مگر ان کا جارحانہ انداز اور سول حکومت کی شریان پر مسلسل دباؤ ڈالے رکھنا غلط تھا۔ جنرل باجوہ کا لو پروفائل رہنا زیادہ قابل قدر اور قابل تحسین ہے۔ اسی رویے کو جاری رکھنا چاہیے۔ سول اور ملٹری عملی طور پر ایک ہی صفحے پر ہوں تو انہیں یہ اعلان بار بار کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔اس سے حاصل ہونے والے ثمرات ہی ہر ایک کو بتا دیں گے کہ یہ پالیسی کس قدر درست ہے۔

حکومت کو بھی اس معاملے سے کئی باتیں سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کا رویہ اس پورے معاملے میں مثالی نہیں رہا۔ نیوز لیکس والے ایشو میں واضح طور پر حکومت نے ایک خاص پوزیشن لی۔ جو خبر لیک کی گئی، اس کی حساسیت اور اہمیت میں کوئی کلام نہیں تھا۔ کسی بھی حکومت کو اس کا سختی سے نوٹس لینا، ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچانا اور مستقبل کے حوالے سے فول پروف سسٹم بنانا چاہیے تھا۔ ہماری سول حکومت کا رویہ اس قدر پرجوش اور بھرپور نہیں رہا۔ جو نوٹیفکیشن نما چیز انہوں نے جاری کی تھی، سخت ٹویٹ آنے پر اسے نوٹیفکیشن ماننے سے انکار کر دیا، بعد میں وہی حتمی نوٹیفکیشن کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس پورے معاملے میں حکومتی بددلی صاف نظر آ رہی تھی۔ ہر ایک جانتا ہے کہ عسکری دباؤ نہ ہوتا تو کچھ بھی نہیں ہونا تھا۔ اس انکوائری کی اونر شپ حکومت نے نہیں لی، مارے بندھے کچھ کیا اور پھر اس سے جان چھڑانے کی کوشش کی۔ فرض کریں کہ ایسی کوئی نیوز لیک بھارت میں ہوجاتی؟ نریندر مودی نے اس پر طوفان اٹھا دینا تھا، بھارتی میڈیا اور پارلیمنٹ کس قدرفعال کردار ادا کرتی۔ پاکستان میں اس نیوز لیک کو صرف فوج کا مسئلہ سمجھا گیا اور دباؤ پڑنے پر تین چار لوگ قربان کر دیے۔ یہ مناسب رویہ نہیں تھا۔ منتخب جمہوری حکومت کو فرنٹ پر لیڈ کرنا چاہیے، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ انھیں ہر سٹیک ہولڈر کا خیال رکھنا ہوگا۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */