عوام کہاں جائیں؟ - فیصل ضیاء تونسوی

پہلے دھاندلی کا شور اٹھا، تقریباً دو سال سے زائد عرصے تک ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچی گئی، قوم کو تگنی کا ناچ نچایا گیا۔ گونگی بہری عوام کو پتا نہیں کس جرم کی سزا دی گئی؟ پھر نجانے کہاں سے کمبخت پانامہ آ ٹپکا؟ آتے ہی اس نے حکومت کے ساتھ ساتھ سب کی ناک میں دم کر دیا۔نہ حکومت کو چین نہ اپوزیشن کو سکون۔ ابھی قوم سکھ کا سانس نہ لینے پائی تھی کہ ڈان لیکس آ دھمکا۔گویا کہ میڈیا کو پھر سے نیا ڈھول مل گیا جس کو پیٹ کر مسائل سے نبرد آزما قوم کو خوب نچایا گیا۔اب تو یوں لگتا ہے کہ اپوزیشن کو کرسی چاہیے اور کرسی کو حکومت۔ہماری حکومت بھی پہلے کی نسبت کافی تجربہ کار ہوگئی ہے، کرسی کو دانتوں اور ہاتھوں سے اچھی طرح پکڑا ہوا ہے کہ کہیں یہ ہر بار کی طرح سرک نہ جائے۔

کبھی کبھی خیال گزرتا ہے کہ یا تو میاں صاحب نے وزن کم کر لیا ہے یا پھر کرسی میاں صاحب کا وزن اٹھانے کی عادی ہوگئی ہے۔اس سارے شور میں کسی اور کو فائدہ ہو نہ ہو لیکن حکومت کو یقینی ہوا ہے،کیونکہ اسے اپنی نا اہلی اور سستی چھپانے کا نادر موقع ہاتھ آیا ہے۔تبھی تو میاں صاحب ہر جگہ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ہمیں احتجاج اور دھرنوں نے کام نہیں کرنے دیا۔کیا عجیب منطق ہے میاں صاحب کی؟ میاں صاحب! ہمیں تو بچپن میں یہ سبق پڑھایا گیا کہ اگر دامن صاف ہو تو بے دھڑک جیو! آپ کی پریشانی بتا رہی ہے کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ ساری دال کالی ہے۔

شکوہ حکومت اور اپوزیشن کے ساتھ ساتھ میڈیا سے بھی ہے کیونکہ میڈیا نے بے چاری عوام کو گھاس ہی نہیں ڈالی۔ اس کے لیے عرض ہے کہ عوام کو ان چکروں سے کچھ سروکار نہیں، آپ ارباب اقتدار کی توجہ عوامی مسائل کی طرف دلائیں۔اگر آپ کو کبھی حکومت کے قصر شاہی اور اپوزیشن کے محلوں سے نکلنے کا موقع ملے تو عوام کے غریب خانے میں بھی تشریف لائیے گا،یہاں عوام سسک رہی ہے۔ ہماری نوجوان نسل اپنی اصلی تعلیمی ڈگریاں اٹھائے جاب کی تلاش میں مارے مارے پھر رہی ہے اور ملازمت گدھے کے سر سے سینگوں کی طرح غائب ہے۔ گلی گلی، نگر نگر میں کھلے تعلیمی ادراے بہترین تعلیم دینے کے تو ضامن ہیں لیکن اچھے اور روشن مستقبل کی ضمانت دینے کو تیار نہیں۔ ہم تو دشمن کے بچوں کو پڑھانے والے تھے مگر افسوس کہ ہمارے اپنے ڈھائی کروڑ سے زائد بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ شہر شہر اور قریہ قریہ تھوک کے حساب سے ہسپتال تو کھلے ہوئے ہیں لیکن مریض پھر بھی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر رہے ہیں۔پینے کا صاف پانی اب صرف اچھی اچھی تصویروں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔لوڈ شیڈنگ 6 ماہ میں ختم کرنے کی بجائے چار سالوں میں بھی کم نہ کی جا سکی۔امن تو ایک سہانا اور پرانا سپنا لگتا ہے۔ ہر الیکشن سے پہلے عوام ناچتی اور بھنگڑے ڈالتی ہے لیکن الیکشن کے بعد چاک گربیاں اور ننگے بدن نظر آتی ہے۔ سیاستدان الیکشن سے قبل عاجزی و انکساری کا نمونہ بنے نظر آتے ہیں لیکن بعد از الیکشن پانچ سال کیلے اعتکاف میں بیٹھ جاتے ہیں۔اسمبلی ہال بسا اوقات یوں لگتا ہے جیسے پہلوانوں کا اکھاڑا ہو۔۔

یہ بھی پڑھیں:   ہم سمجھنا ہی نہیں چاہتے - شیخ خالد زاہد

ان حالات میں عوام کہاں جائیں؟ کس کو نوحہ غم سنائيں؟میڈیا سے درد مندانہ اپیل ہے کہ جس طرح دن رات سیاسی مسائل کا راگ الاپا جاتا ہے اسی طرح عوامی مسائل پر بھی توجہ دی جائے تو عوام الناس کے بہت سارے مسائل حل ہو جائیں۔