اسے ڈر لگتا ہے - انعام الحق

وہ کبھی کبھی لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھا رہتا ہے، کی بورڈپے انگلیاں رقص کرتی ہیں، سکرین پر کچھ ہنستے مسکراتے لفظ نظر آتے ہیں، ان سے آنکھیں چار ہوتی ہیں، تو وہ کچھ سوچ کے انہیں کاٹ دیتا ہے، وہ لکھتا ہے، مٹاتا ہے اس لیے کہ اسے ڈر لگتا ہے۔۔۔۔۔۔ وہ جو لفظ کاغذ پر اتارنا چاہتا ہے، وہ جو مزاح، قرطاس کی زینت بنانا چاہتا ہے نہیں بنا پاتا اس لیے کہ اسے ڈر لگتا ہے۔۔۔۔۔ اس کا دل کرتا ہے کچھ مذہبی موضوعات پر لکھے، اپنے خیالات کو دنیا کے سامنے رکھے لیکن نہیں لکھ پاتا۔۔۔۔ وہ سیاسی واقعات پر بھی تبصرہ کرنا چاہتا ہے، وہ کسی کے کام پر تنقید کرنا چاہتا ہے لیکن پھر خوف اس کے ہاتھ روک دیتا ہے۔ اسے اپنے بھائی دوستوں سے ڈر لگتا ہے، اسے اپنے ساتھ نماز پڑھنے والے سے ڈر لگتا ہے، وہ اپنے ہم جماعت سے ڈرتا ہے۔

اس لیے کہ اس کے گرد رہنے والے شریعت، عدالت، قانون، انصاف کیا ہے؟ بھلا چکے ہیں۔ الزام، شنوائی، توجیہ، فیصلہ، اور جزا وسزا کا میدان ہر کسی کی اپنی جاگیر سی بن گئی ہے۔ مخالف کے الفاظ کو وہ پہناوے پہنائے جاتے ہیں جو اس کے حاشیہ خیال میں بھی نہ ہوں۔ مذہبی، سیاسی، اور لسانی تعصبات عقلوں پے ایسے غالب آچکے ہیں کہ اپنے سوا کوئی ٹھیک لگتا ہی نہیں ہے۔ جو"ان" کی خوبیاں بیان کرنے لگیں تو سائیکل چلاتے، کسی چھوٹے سے ہوٹل میں کھانا کھاتے، کہیں بچوں کے ساتھ کھیلتے، ٹیکسی چلاتے کسی وزیر کا تذکرہ کرتے ہیں، لیکن اپنوں کو بازاروں، ہوٹلوں، پارکوں میں تو کیا مسجدوں میں بھی سکون سے چلنے نہ دیں، ائیر پورٹوں پر تذلیل کا نشانہ بنائیں، کسی کو جوتے کا تحفہ دیں، تو کسی کے قافلے کو روک لیں، کسی کے رخسار کو تھپڑ اور مکوں سے سرخ کر دیں، اور کچھ نہ ہو پائے تو کوئی غلیظ گالی دے دیں، احتجاج پر آئیں تو سڑکیں بند کرکے اپنے جیسے انسانوں کو اذیت کا نشانہ بنائیں۔

اختلاف میں برداشت سے نابلد، اسلوب گفتگو سے نا آشنا، اور دلائل سے عاری لوگوں کی بیچوں بیچ رہتا ہے وہ، اس کا گریبان چاک ہوتا ہے، وہ گالیوں اور طعنوں کی زد میں آتا ہے، لیکن کوئی بات نہیں، لیکن جب وہ گلہ کرے تو دوسرے آزادی اظہار کی چادر لپیٹ لیتے ہیں۔ لیکن جب وہ کچھ لکھتا ہے، جب کچھ کہتا ہے، تو جائز تنقید پر بھی کھلے گریبانوں، چڑھی آستینوں، جھاگ اڑاتی باچھوں کے ساتھ چلاتے ہوئے نظر آتے ہیں اس کے دوست۔

وہ جاہلانہ رسوم و رواج کی زنجیریں توڑنا چاہتا ہے، لیکن ڈرتا ہے کہ کبھی غیرت کے نام پر نہ مارا جائے۔ وہ نظام کو چیلنچ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ سر کچلی، برہنہ لاشوں کے خیال سے ہی لرز جاتا ہے۔ وہ کسی مظلوم گروہ سے اظہار ہمدردی کرنا چاہتا ہے لیکن اسے جلی ہوئی لاشیں ڈرا دیتی ہیں۔ اس کے سیکھنے کی رفتار بہت آہستہ ہے اس لیے کہ وہ غلطیاں کرنے سے بہت گھبراتا ہے۔ اسے یقین ہے کہ اسے اللہ معاف کردے گا لیکن وہ لوگوں سے ڈرتا ہے جو معافی مانگنے کو بھی ڈرامہ سمجھتے ہیں، جو معاف کرنا نہیں جانتے۔ وہ منافقت کے بجائے اپنے اختلافات کا اظہار چاہتا ہے لیکن اسے شیخ حسن جان، ڈاکٹر فاروق، اور پروفیسر اوج یاد آجاتےہیں۔۔ وہ دوسروں کی اچھائیاں بیان کرنے سے ڈرتا ہے کہ وہ ایجنٹ کہلوانا نہیں چاہتا۔ وہ حاسدوں کے مکر و فریب سے ڈرتا ہے، وہ قید ہے اپنے معاشرے کی سختی میں، اور جہالت کے خوگروں کے حصار میں۔

اسے مذہب پر کامل یقین ہے، وہ سیاست کو بھی ضروری سمجھتا ہے۔ وہ لسانی اور علاقائی پہچانوں کی بھی قدر کرتا ہے لیکن اسے مذہب کے نام لیواؤں، سیاسی پارٹیوں کے جیالوں اور لسانی اورعلاقیوں عصبیتوں سے متعفن وجودوں سے ڈر لگتا ہے۔

اس کے ہاتھ جب بھی اٹھتے ہیں تو اپنی ارض وطن کے لیے فصل بہاراں کی دعا کرتا ہے، وہ جہالت سے خلاصی کا طلبگار بنتا ہے، وہ اختلاف میں اتحاد کی فضا چاہتا ہے، وہ برداشت سے بھرے دل مانگتا ہے، وہ محبت اور امن کے آمیزے سے تیار دوستوں کی تمنا کرتا ہے۔۔۔ وہ ہنگامہ ہائے زندگی میں گھلنا چاہتا ہے کہ اسے تنہائی سے ڈر لگتا ہے۔

ٹیگز
error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!