کھودا پہاڑ، نکلی چوہیا – احسان کوہاٹی

’’دھت تیرے کی۔۔۔۔کھودا پہاڑ نکلا چوہا بلکہ چوہا بھی نہیں چوہیا۔۔۔۔‘‘ٹیلی ویژن اسکرین سے سیلانی تک پہنچنے والے پانامہ اسکینڈل کے ’’تاریخ ساز‘‘فیصلے پر آس پاس دوستوں کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا،کچھ نے وہ الفاظ کہے کہ سیلانی لکھ ڈالے تو آپ دوستوں تک سیلانی کی توہین عدالت کے الزام میں سینٹرل جیل روانگی کی خبر پہنچی ہی پہنچی۔ ۔۔اخبارات اور نیوز چینلز کے نیوزروم میں ہمیشہ ایک خاص قسم کا شوراور سگریٹ کا دھواں پھیلا رہتا ہے اس فیصلے سے وہاں بھی خامشی پھیل گئی تھی، اس فیصلے سے پہلے ماحول ہی کچھ ایسا بن گیا تھا کہ لگتا تھا کہ میاں صاحب کے ستارے گردش میں آہی گئے لیکن ہوا اس کے برعکس تھااسی الٹ پھیر نے سب کو ہکا بکا کر دیا تھا۔ ان میں عدالتوں کا مزاج جاننے والے دوستوں کے لبوں پر عجیب سی طنزیہ مسکان تھی جیسے کہہ رہے ہوں دیکھا !وہی ہوا ناں جو ہم نے کہا تھا۔۔۔۔نیوزروم میں پھیلی خامشی کے برعکس اسکرین پر مسلم لیگ نون کے کارکنوں اور قیادت کی کھلی ہوئی باچھیں دنیا دیکھ رہی تھی، لیگی متوالے بغلیں بجا رہے تھے۔۔۔۔بکرے بلا رہے تھے۔۔۔نعرے لگا رہے تھے۔۔۔میاں کے نعرے وج رہے تھے۔ ۔۔۔ان کی آنکھیں فاتحانہ چمک لئے ہوئے تھیں۔۔۔۔ لیگی قیادت کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ سپریم کورٹ کے باہر ہی لڈیاں ڈالنا شروع کردیں۔۔۔ان کی لڈیاں ڈالنے سے پہلے ہی ٹی وی چینلز کی اسکرینوں پر الفاظ بھنگڑے ڈالنے لگے۔۔۔ایک نیوز چینلز نے بریکنگ نیوزکا ڈبا گھمایا:

’’2/3کا فیصلہ۔۔۔‘‘

دوسرے کا کہنا تھا

’’سرمایہ قطر کیسے گیا ؟ کمیشن تحقیقات کرے‘‘

تیسرے کی بریکنگ نیوز تھی

’’نوازشریف بچ گئے‘‘

چوتھے کا کہنا تھا

’’نوازشریف، حسن اور حسین کو کمیشن کے سامنے پیش ہونے کا حکم‘‘

پانچواں بریکنگ دے رہا تھا

’’ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا جائے گا‘‘

سیلانی ہکا بکا حیرت سے منہ کھولے یہ سب دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھاکہ یہ ہے وہ تاریخی فیصلہ جس کے بارے میں معزز جج صاحبان فرماتے تھے کہ ایسا فیصلہ دیں گے کہ قوم یاد رکھے گی۔۔۔واقعی قوم یاد رکھے گی اور مورخ لکھے گا کہ جب معزز عدلیہ کے جج صاحبان نے محفوظ کیا ہوا فیصلہ باہر لاکر سنایا تو سب کو سانپ سونگھ گیا،ایسا انصاف ایسی منصفی صرف اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عدلیہ ہی کر سکتی ہے۔

سیلانی نیوز روم میں دیوار پر لگی بارہ اسکرینوں کے سامنے کھڑاکبھی ایک چینل کی طرف نگاہ ڈالتا اور کبھی دوسرے کی طرف۔ اس کی نظریں کسی ایک اسکرین پر جم رہی تھیں، نہ ذہن کسی ایک نقطے پر رک رہا تھا۔ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اس تاریخ ساز فیصلے کو کس زاویے سے دیکھے کہ وہ اسے تھوڑا سا تاریخی تاریخی لگے۔ دو جج صاحبان نے اپنے تین جج ساتھیوں کے فیصلے سے واضح اختلاف کیا تھالیکن وہ دو تھے ان کے مقابلے میں تین جج صاحبان کے فیصلے نے میاں صاحب کے تخت کو دھڑن تختہ ہونے سے بچا لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   میاں نوازشریف کو کیوں نکالا گیا - سلیم صافی

اچھا!سیلانی کوئی قانونی آئینی ماہرنہیں، اسے بھلا اس فیصلے کی باریکیوں کی کیا سمجھ آتی۔ اس کی موٹی عقل میں تو یہ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ عدلیہ کے اس تاریخ سازفیصلے کے احکامات پر عملدرآمد کیسے ہوگااوریہ بھلا کیوں کر ممکن ہے ؟اسے اپنی پیشہ وارانہ صحافتی زندگی کے ابتدائی ایام کا سبق یاد آگیا۔ تب ٹیلی ویژن اسکرین پر صرف اور صرف پاکستان ٹیلی ویژن کی اجارہ داری ہوتی تھی جو سرکار چاہتی تھی پی ٹی وی وہی دکھاتا تھا حتٰی کہ ایک بار بدھ کے روز ایک سیاسی جماعت نے کراچی میں زبردست ہڑتال کی اور پی ٹی وی کے ہوشیار پروڈیوسر نے ہڑتال ناکام دکھانے کے لئے خبرنامے میں کھلے بازاروں کی پرانی فوٹیج چلا دیں اور بدھ کے دن قصابوں کو مصروف کار دکھا دیا۔ بدھ کے روز اس وقت بھی گوشت کا ناغہ ہوتا تھا۔۔۔۔ان دنوں سیلانی امت کی چھاپہ مار ٹیم کا حصہ تھا ۔ یہ چھاپہ مار ٹیم روز ہی کہیں نہ کہیں جوئے کے اڈے،اسمگل شدہ شراب کی دکانوں،جعلی عاملوں، سرکاری دفتروں اورراشی تھانیداروں کے نجی حوالات میں چھاپے مارا کرتی تھی۔ ان دنوں موجودہ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ،ڈی آئی جی ثناء اللہ عباسی ایس ایس پی ہوا کرتے تھے۔ اچھے افسر شمار ہوتے تھے اور امت کی خبروں پر تو لازمی کارروائیاں کرتے تھے۔ باقاعدہ انکوائریاں ہوتی تھیں، ان انکوائریوں کا پہلا قدم تھانیدار یا متعلقہ افسر کی معطلی ہوتا تھا۔ سیلانی نوآموز رپورٹر تھا وہ سمجھتا تھا کہ معطلی ہی سزا ہوتی ہے۔ کسی افسر کے خلاف خبر لگنے کی سزا اسے معطل کرکے دی جاتی ہے لیکن ایک روزایک سینئر صحافی نے اس کی غلط فہمی دور کرتے ہوئے سمجھایا کہ بیٹا! معطلی سزا نہیں ہوتی، ہاں اسے بدعنوان افسر کی سزا کی جانب پہلا قدم کہہ سکتے ہیں۔ ملزم افسر یا اہلکار کو اس لئے معطل کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی سیٹ کا ناجائز فائدہ نہ اٹھاسکے اور دوسری وجہ اس کے دفتر پر عوام کا اعتماد بھی مجروح نہ ہو۔

معزز جج صاحبان کے فیصلے سے سیلانی کو برسوں پرانے یہی سبق یاد آرہا تھا۔ وہ سوچنے لگا بھلایہ کس طرح ممکن ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی اور سب سے طاقت ور جماعت کے سربراہ اور ملک کی سب سے اونچی کرسی پر براجمان وزیر اعظم اپنے ماتحت وزیر داخلہ کے ماتحت محکمے کے ایک ایڈیشنل ڈائریکٹر کے سامنے پیش ہوگا اور وہاں موجود 19 یا 20 گریڈ کے افسران کے سوالات کا جواب دے گا؟ انہیں بتائے گا کہ جناب یہ رقم اس طرح بیرون ملک گئی تھی۔ بھلا یہ ممکن ہے کہ ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر کی سربراہی میں بنائے جانے والا کمیشن اپنے ملک کے وزیر اعظم سے پوچھ سکے کہ جناب ! آپ نے جو ایوان میں کہا تھا وہ درست ہے یا آپ کے صاحبزادے نے جو انٹرویودیاوہ سچ تھا؟کیا ان افسران میں سے کسی کی یہ مجال ہوگی کہ وزیراعظم کی بات کاٹ کر پوچھے کہ آپ نے اور کون کون سے نقد سودے کر رکھے ہیں اور اتنا سارا کیش ساتھ رکھنے کے لئے کتنی کیش وین ساتھ رکھتے ہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   احتساب کی گولی - ریحان اصغر سید

عدالت اپنے فیصلے میں سول اداروں میں سب سے مضبوط ادارے نیب کے چیئرمین کی جرات پر سوال اٹھایا ہے اور صاف کہا ہے کہ انہوں نے تحقیقات میں دلچسپی نہیں لی اور پھر اگلی ہی سطور میں ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر کی سربراہی میں مشترکہ کمیشن کے قیام کا انوکھا فیصلہ کرکے سیلانی سمیت سب ہی کے منہ کھولے دے رہی تھی۔ سیلانی کی موٹی عقل میں یہ بات نہیں آرہی تھی کہ ایف آئی اے کے ڈائریکٹرکے شاندار دفتر کے باتھ روم جتنے دفتر میں سامنے دیوار سے ٹنگی ٹی وی اسکرین کے چینل بدل بدل کر پانچ بجنے کے انتظار میں سیل فون پر پوگو کھیلنے والا بندہ کس طرح ملک کے سب سے طاقتور شخص سے سوال کر سکتا ہے کیاوہ زبان سے تو تفتیش کا’’ت‘‘تک نہیں نکال سکیں گے؟؟؟

سیلانی کی موٹی عقل میں یہ بات بھی نہیں آئی کہ وزیر اعظم پر جو الزام تھا وہ پکی گوند کی طرح ابھی بھی چپکا ہی ہوا ہے۔ ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر صاحب نے اسی الزام کی تصدیق کرنی ہے ناں ! توپھراس حساب سے وزیر اعظم ملزم ہی ٹھہرے، تو کیا دو ماہ تک پاکستان کا وزیر اعظم ایک ’’ملزم ’’ ہوگا؟ سیلانی کاسر گھومنے لگا وہ نیوز روم میں کرسی پر بیٹھ گیا اور ٹھوڑی تلے ہاتھ رکھ کر ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کے مصداق سامنے ٹیلی ویژن اسکرینوں پر بریکنگ نیوز کے ڈبے گھومتے دیکھتا رہا دیکھتا رہا اور دیکھتا چلا گیا!

Comments

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی

احسان کوہاٹی کراچی کے سیلانی ہیں۔ روزنامہ اُمت میں اٹھارہ برسوں سے سیلانی کے نام سے مقبول ترین کالم لکھ رہے ہیں اور ایک ٹی وی چینل سے بطورِ سینئر رپورٹر وابستہ ہیں۔ کراچی یونیورسٹی سے سماجی بہبود میں ایم-اے کرنے کے بعد قلم کے ذریعے سماج سدھارنے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں