مثبت شخصیت کے چند اہم پہلو- اشفاق پرواز

انسان کی شخصیت صرف وضع و قطع کا نام نہیں، نہ اچھے لباس پہن لینے اور چلنے پھرنے کے سلیقے اور گفتگو کے موزوں طریقے سے شخصیت کی تکمیل ہوتی ہے۔ انسانی شخصیت کی تعمیر و تشکیل ( Personality Development) کے لیے اِن ظاہری صفات کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اُس میں داخلی خوبیوں کا ارتقا ہو کیونکہ جس طرح سورج اپنی روشنی سے،درخت اپنے پھل و پھول سے، عطر اپنی خوشبو سے پہچاناجاتا ہے، اسی طرح انسان اپنے عادات و اطوار سے خود کو منواتا ہے۔ دنیا کے سارے جانداروں میں انسان کو ہی یہ شرف حاصل ہے کہ وہ تعلیم و تربیت سے آراستہ ہوتا ہے۔اس میں ایک سے بڑھ کر ایک خوبیاں ہوتی ہیں، مثال کے طور پر حسنِ اخلاق، حسنِ معاملات، سچائی و صداقت، تواضع و انکساری، عزم حوصلہ، سنجیدگی و برداشت اور ایفائے عہد جیسی صفات۔دوسری طرف اس کے اندرایسی کمزوریاں بھی راہ پاتی ہیں جو شخصیت کو تباہ کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں جن کو ہم چار حصوں میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ ایک اخلاقی کمزوری،دوسری معاملات کی کمزوری، تیسری جسمانی کمزوری اور چوتھی نفسیاتی و ذہنی کمزوری۔

مثبت شخصیت کی سب سے اہم خوبی حسن ِ اخلاق ہے اور اس کا دائرہ کافی وسیع ہے۔ اس میں خوش کلامی آجاتی ہے یعنی اپنی زبان کا موزوں استعمال۔جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ’’پہلے تولو، پھر بولو‘‘، یہی نہیں زبان کی شیرینی غیروں کو بھی اپنا بنا لیتی ہے۔ زبان کے بارے میں ایک کہاوت یہ بھی مشہورہے کہ ’’تیر کا زخم تو بھر جاتا ہے لیکن زبان سے نکلے ہوئے الفاظ کا زخم ہمیشہ ہرا رہتا ہے۔‘‘واقعی ہم غور کریں تو یہ بڑی حیرت انگیز بات لگتی ہے کہ زبان میں ہڈی نہیں ہوتی، یہ گوشت کا ایک معمولی سا لوتھڑا ہے، پھر بھی اتنی طاقت رکھتا ہے کہ کسی کا بھی سینہ چھلنی کر سکتا ہے اور باآسانی دوسرے کے دل و دماغ متاثر کرسکتا ہے۔ بے شمار لوگ یہ نہیں جانتے کہ زبان سے پھول بھی جھڑتے ہیں اور خوشبو بھی آتی ہے، لوگوں کا دل بھی خوش ہو جاتا ہے تو ان کو دکھ بھی پہنچ سکتا ہے۔ یہی حال انسانی معاملات کا ہے کہ ان کی وجہ سے جہاں انسان کو عزت، احترام اور وقار حاصل ہوجاتا ہے وہیں ان کے بگاڑکی وجہ سے وہ لوگوں میں غیر مقبول، ناپسندیدہ اور گرا ہوا انسان سمجھا جانے لگتا ہے۔ کیونکہ انسان اور سماج کے آپسی رشتوں کو اچھا بنانے کے لیے معاملات کا درست ہونا بہت ضروری ہے۔ غرض کہ مثبت شخصیت میں معاملات کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ معاملات صحیح ہوں گے تو انسان سچائی و صداقت کا دامن بھی تھامے رکھے گا۔ اس میں تواضع و انکساری بھی پائی جائے گی اور عزم و حوصلہ بھی نظر آئے گا۔ سنجیدگی و برداشت اور وعدہ نبھانے کی خوبیوں سے بھی وہ آراستہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   شخصیت سازی زندگی کے آئینے میں - مدیحۃالرحمن

انسانی شخصیت کی ظاہری خوبیاں لوگوں کو تھوڑے عرصے کے لیے تو متاثر کرتی ہیں لیکن اگر باطنی صفات نہ ہوں تو ان کا بھرم جلد کھل جاتا ہے یعنی دوسرون کو متاثر کرنے کا عمل محض وقتی ہوتا ہے۔ شخصیت در حقیقت نام ہے ظاہری اور اندرونی صلاحیتوں کا، اگر کوئی انسان صرف ظاہری خوبیوں کا مالک ہے تو اس کے اثرات دیر پا نہیں ہوتے۔ جلد ہی اس کی کمزوریاں سامنے آجاتی ہیں۔اچھے اخلاق ظاہری طور طریقے کا نام نہیں بلکہ اس کے ذریعے باطنی کردار اور عمل میں بھی خوبیاں پیدا ہونا چاہیے۔دنیا کی تمام تعلیمات، سبھی مذاہب اور فلسفوں کا نچوڑ بھی یہی ہے کہ انسان خود کو ظاہری اور باطنی دونوں پہلووں سے بہتر بنائے۔ ساتھ ہی اس کی کمزوریوں کا خاتمہ ہو،شخصیت میں عیب پیدا ہونے کی بنیادی وجہ انسان کی اخلاقی کمزوریاں، بری عادتیں اور خود غرضی ہوتی ہے، جن پر قابو پا کر انسان خود کو بہتر بنا سکتا ہے۔ اس طرح قومیں انسانوں سے بنتی ہیں اور دنیا میں جتنی قومیں ہیں ان کی فطرت یکساں نہیں۔یہی وجہ ہے کہ کچھ قومیں مثالی اور بعض غیر مثالی تصور کی جاتی ہیں۔

یاد رکھیے: مثبت شخصیت علم، تجربہ، اخلاق، کردار اور جاذبیت کا نام ہے۔ اس کے لیے ظاہری اور باطنی دونوں طرح کی صلاحیتوں کے ارتقا کی ضرورت ہے۔ دنیا میں بڑے لوگ اس وجہ سے مشہور ہوئے کہ انہوں نے اپنی شخصیت کی تعمیر و تشکیل پر توجہ دی، اسے اُبھارا اور نکھارا۔ جس کے نتیجے میں ان کی صلاحیتیں نکھر کر سامنے آئیں اور وہ عوام الناس کی توجہ کا مرکز بن گئےاور عظیم لوگوں میں شمار ہوئے۔