ایاز_نظامی کی گرفتاری، اور دعائے ہدایت - عبدالوہاب سلیم

ہدایت کی دو اقسام ہیں، ہدایت توفیق اور ہدایت ارشاد۔ ہدایت توفیق کا کلی مالک اور ا سکی طرف دل پھیرنے والی ذات اللہ تعالی کی ہے اور دوسری ہدایت ارشاد ہے جس کا اختیار اللہ تعالی نے نبیوں کو دیا ہے اور اس کے بعد یہ اختیار مبلغین اور دعاۃ دین کے پاس موجود ہے۔ اسی لیے جناب علی المرتضی رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر تمھاری وجہ سے کسی کو ہدایت مل جائے یہ تمھارے لیے سو سرخ اونٹوں سے بہتر ہے. یہاں ہدایت ارشاد ہی مراد ہے۔

دین حنیف اور صراط مستقیم کی طرف ہدایت اللہ عزوجل کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے، اور ہدایت (توفیق) کا اختیار اللہ تعالی نے اپنے پاس رکھا ہے۔ ورنہ ابوالبشر آدم علیہ السلام کا بیٹا قابیل اپنے بھائی ہابیل کو قتل نہ کر ڈالتا، نوح علیہ السلام کا بیٹا اور بیوی طوفان کے سپرد نہ ہوتے، جدالانبیاء، خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام اپنے والد کو جہنم جانے سے ضرور روک لیتے۔ اور سید المرسلین، رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم جان سے عزیز تر چچا ابو طالب کو یہ مت کہہ رہے ہوتے کہ آپ ایک بار میرے سامنے توحید کا اقرار تو کیجیے تاکہ میں اللہ تعالی کے سامنے آپ کی سفارش کر سکوں، لیکن ایسا نہ ہو سکا بلکہ رب العزت نے ارشاد فرمایا: ’’اے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ جسے محبوب جانتے ہیں اسے ہدایت (بالتوفیق) نہیں دے سکتے بلکہ اللہ عزوجل جسے چاہتا ہے ہدایت سے نوازتا ہے۔ (سورہ القصص، 56)‘‘ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم میں مذکور یہ دعا بار بار پڑھتے: ’’ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ ھديتنا، اے ہمارے رب ہمارے دلوں کو ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو (ہدایت سے) مت پھیر دینا۔‘‘ اسی طرح نماز کی ہر رکعت میں سورہ الفاتحہ میں ہم اللہ تعالی سے ہدایت کے طلب گار ہوتے ہیں: اھدنا صراط المستقیم، ہمیں سیدھے راستے کی جانب ہدایت دے۔ سبط رسول، جنت کے سردار جناب حسن بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ دعا سکھلائی: اللھم اھدني فيمن ھديت، اے اللہ تعالی مجھے ہدایت والوں میں ہدایت نصیب فرما.۔ اس لیے ہدایت باری تعالی کا ہر دم شکر ادا کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:   الحاد کا فتنہ اور علماء کی کوششیں - محمد احمد

اس تمہید کا مقصد یہ تھا کہ جسیا کہ آپ سب کو بھی معلوم ہو چکا کہ پاکستان میں ملحدوں کا سرپرست اعلی ایاز نظامی، جس کا اصل نام عبدالوحید تھا، ساتھیوں سمیت گرفتار ہو چکا ہے۔ ایاز نظامی بنوری ٹاؤن مدرسے کا فارغ التحصیل تھا اور اب تک آنے والی معلومات کے مطابق دس سال مدرسے میں تدریس بھی کر چکا تھا، لیکن کسی حادثے میں بیٹا کھو جانے کے غم میں وہ ہوش و حواس کھو بیٹھا اور دین سے دور ہوتا ہوتا اسلام کا انکاری ہوگیا اور بالاخر ملحد، بلکہ ملحدوں کا سرپرست بن گیا اور بلامبالغہ اس نے ہزاروں سادہ لوح مسلمانوں پہ اسلام، اللہ تعالی کی ذات و صفات کے بارے شکوک و شبہات پیدا کر دیے۔ اس لیے دین کی معلومات ہونے، شرعی علم کی موجودگی، عقیدہ توحید کا اقرار کرنے، پانچ وقت کی نماز پڑھنے پہ اترانا نہیں چاہیے بلکہ اس پہ اللہ تعالی سے مستقل ہدایت کی دعا کرنی چاہیے اور اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا چاہیے اور آزمائش سے بچنے اور عاجزی و انکساری کا اللہ تعالی سے سوال کرنا چاہیے۔۔۔ اللہ تعالی نے خود ہمیں یہ سکھایا کہ اللہ تعالی سے کہو: اے رب ہمارے! اگر ہم بھول جائیں یا غلطی کریں تو ہمیں نہ پکڑ، اے رب ہمارے! اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر رکھا تھا، اے رب ہمارے! اور ہم سے وہ بوجھ نہ اٹھوا جس کی ہمیں طاقت نہیں، اور ہمیں معاف کر دے، اور ہمیں بخش دے، اور ہم پر رحم کر، تو ہی ہمارا کارساز ہے، کافروں کے مقابلہ میں تو ہماری مدد فرما. (البقرہ، 286)

اسی طرح نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کی تعلیمات سے سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالی سے مصیبت اور آزمائش نہیں مانگنی چاہیے اور اگر مصیبت اور آزمائش میں پڑ جائیں تو اس پہ اللہ تعالی سے ثابت قدم رہنے کی دعا کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:   الحاد کا فتنہ اور علماء کی کوششیں - محمد احمد

یہ تو تھا ہدایت کا معاملہ اور آزمائش سے بچنے اور اس میں پڑ جانے کے بعد کا تعامل، لیکن اہم سوال یہ ہے کہ اب کرنا کیا چاہیے؟ ایسے لوگوں کی سزا کیا ہونی چاہیے؟ اس سلسلے میں عرض ہے کہ یہ سب کچھ واضح طور پہ اللہ تعالی اور اس کے رسول سے جنگ اور فساد فی الارض ہے اور اس کا علاج قرآن مجید میں اللہ تعالی نے کر دیا ہے. ارشاد فرمایا: ایسے لوگوں کی سزا یہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ زمین پہ فساد پھیلے کہ انھیں بری طرح قتل کر دیا جائے یا پھر انھیں لٹکا دیا جائے یا پھر ان کے بازو اور مخالف سمت سے ٹانگ کاٹ دی جائیں یا پھر انھیں جلا وطن کر دیا جائے، ان کے لیے دنیا میں بھی ضلالت ہے اور آخرت میں تو ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے. (لمائدہ، 33)

حکومت پاکستان سے استدعا ہے کہ اس معاملے کی جلد از جلد تحقیقات مکمل کی جائیں، اس پورے نیٹ ورک کو پکڑا جائے اور اس معاملے میں تاخیر نہ کی جائے اور ان لوگوں کو قرآن مجید میں حکم کے مطابق سزا دی جائے. ان شاءاللہ ہمارے لیے امن کی نوید ثابت ہوگی.