ماں جی، بانو قدسیہ کے نام - مہران دریگ

_ تقلید کتے کو بھی جنت میں پہنچا آتی ہے اور کبھی کتا ہی جنت لے جانے کا سبب بن جاتا ہے.

_ ڈبل پھاٹک ملتان میں، میں نے ایک کوڑھی دیکھا، وہ جھونپڑ میں رہتا تھ،ا اس کی پنڈلیاں گوشت سے خالی ہوکر جھڑ گئی تھیں،
”زخم نہ بھریں تو جھڑ جاتے ہیں، طے ہے کہ نہیں رہتے.“

_ کبھی خود کو بھی گلے لگا لیا کرو، تمہیں اپنی یاد نہیں ستاتی؟ تم میں تمہاری کمی ہے.

_ انسان سے معافی مانگنا، خدا سے معافی مانگنے سے زیادہ بڑی عبادت ہے.

_ ہم نے قنوطیوں سے یہ بھی کہتے سنا، آغا یہ زخم نہیں ہیں، وجود کِھل کھلا کے ہنس پڑا ہے.

_ ہمیں اپنے رویوں کے مفہوم و معنی بھی ازبر نہیں، انا کو غیرت، غیرت کو انا ٹھہرائے ہوئے ہیں، نفسیاتی کانسیپٹ بھی مجہول ورطہ حیرت!

_ آپ کا ”فلسفہ ِ مفلسی“، بھی مفلسی کا شکار ہے، پہلے ذہنی معیشت کی خبر کریں، گرد بیٹھنے لگے گی.

_ ماموں کے بیٹے کی سند میں غلطی سے لفظ ”حاجی“ کا اضافہ ہوگیا. تین ماہ بورڈ دفتر خجل ہونے کے بعد کہنے لگے. یار جی! یہ حج تو میرے گلے پڑ گیا ہے. لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا. میں نے کہا ہَے ہَے، لوگ تو کتبوں پہ بھی حاجی قاضی علامہ مولانا کندہ کرانا نہیں بھولتے کہ بوقت ضرورت سند رہے، مبادا نکیرین چوک کر بیٹھیں. آئیں باہر سے ہی کتبہ پڑھیں اور آگے کو نکل لیں. (کہ عبرت جا ہے تماشہ نہیں ہے)

_ ہم عورت کو سمجھنا نہیں سمجھانا چاہتے ہیں

_ غیرت بہت بڑھ جائے تو بےغیرتی میں ڈھل جاتی ہے.

_ اسے محتسب ہونا چاہیے، مجھے یہی اختلاف رہا، تعلیم بلیغ کرتی ہے تو ساتھ میں معتصب بھی تو کر دیتی ہے، جاہل سے محبت کرنے والے اس کے سب سے بڑے دشمن بھی تو بن جاتے ہیں، اہل علم نے کبھی خود کا احتساب نہیں کیا، کبھی خود پہ نقاد مکرر نہیں ہوئے، کبھی اپنی ہجو نہیں کی ،جب جب احتساب و ہجو کیا آنے والے کا کیا،
ٹھنڈا لوہا کُٹ محمد کوئی اوزار نہ بنڑدا

_ دو اشعار لکھے تھے
اِس طَور ہی تخفیف سی کر سجنا
فَكَان َ قَاب َ قَوْسَيْن ِ أَو ْ أَدْنَى
ایستادہ تیرے چہرے پہ کئی چہرے
مجھ سے تیری تصویر نہیں بنتی

_ ہر وہ شخص صوفی ہے جو اندر حالت ِ ذکر باہر حالت ِ فکر میں ہے.

_ زندگی وجود کو Design کرتی ہے، موت وجود کو Resign کرتی ہے

_ ذات کی ناؤ کا کوئی گڈانی شپ بریکنگ یارڈ نہیں ورنہ بہت سے علوم بردار شپ ایسے بھی ہیں جنہیں اب نہیں ہونا چاہیے.

_ گھر کے پچھواڑ کی بیری تنے تک منڈھوا دی ، داؤ جی آئے تو بڑے برہم ہوئے، کہنے لگے، کیوں کٹوا دی؟ میں نے کہا، محلے کے آوارہ شیطان بچے سارا دن پتھر اچھالتے رہتے، تکلیف ہوتی ہے، کہنے لگے! ناس! ابے تو خدا کا ہمسایہ تھا، تجھے خدا کی ”پشت پناہی“ حاصل تھی، ابے جہاں بیری ہو وہاں پتھر تو آتے ہیں، اب شیطان کے آوارہ بچے خدا کی بیری (سدرۃالمنتہیٰ) پہ بھی تو سنگ باریاں کرتے ہیں، تو کیا کٹوا دیں؟ یہ کھیتی جی للچاتی، پھل آور احاطہ میں شیطان بچوں کے ہاتھ پتھوار توگرتی، پھل کے موسم میں پھول تو نہیں برسیں گے پتھر ہی برسیں گے، ”پوجنے سے لے کر اچھالنے تک خدا کے گھر پتھر ہی تو آتے ہیں“ سر پیٹتے جاتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں،

_ بےحیائی پھیلانا دہشت پھیلانے سے تو کچھ معقول قسم کی برائی ہے.

_ پیا رنگ کالا میں اک ایسا صفحہ گزرا جس میں کراچی کے بازار حسن کی کسی بالکنی میں اک ولی عورت کا گھر ہے، سب اسے رنڈی کہتے ہیں، خود بھی یہی کہتی ہے. بات پردے کی ہے اور معاملہ ہے کہ درپردہ ہے، حجاب عبایا ضروری بھی ہے اور اسے چھیڑنا بےوقوفی بھی ہے.

_اس بات کو معتبر سوچتا ہوں کہ ہر شخص کا اک سروپ ہے، کوئی انسان ہوتے ہوئے بھی کتے کی خصلت پہ ہے اور کوئی کتا ہوتے ہوئے بھی انسان کی خصلت پہ ہے، زندگی کی سب سے خوبصورت چیز اس کا تنوع ہے، اس کی ورائٹی، طرح طرح کے لوگ، سلوک و معرفت کی بات ہے.

_ فکری کروموسومز کی کراسنگ اوور، مرد کو مرد کے مسائل پڑھائے جاتے ہیں؟ عورت کو عورت کے؟ کیوں؟ یہ ڈیوائیڈ اینڈ رول ہے، عورت مرد کے، مرد عورت کے مسائل پڑھ لے، تو صاحبو دونوں اک دوسرے کے گلے لگ دھاڑ دھاڑ روئیں.

_ فکری اختلاط! پر انسٹی ٹیوٹ انسٹی ٹیوٹ میں ڈھل گئے، انسٹی ٹیوٹ پرانسٹی ٹیوٹ میں ڈھل گئے

_ ہتھوڑے کی ضرب جاروب کی پشت پہ پڑتی ہے، سل اکھڑتی ہے، چھن چھناچھن، گورکن! واہ عجباہ
”ابے ساری زندگی نام بناتے بناتے قبر بن جاتی ھے نام بھی بن جاتا ہے.“
اٹھو! کتبہ نویس! !
شعر لکھا
قبر کھودیے گورکن
ہم مر گئے کسی پہ
_ ابو کہتے تھے
عاشق قرضہ کنجہاں، جیٹھا
پتر نواب دا رَسے
قرض پیر کا فقیر کا ضمیر کا، ریا کا زیا کا ربا کا زنا کا، اگیتا یا پچھیتا دیر بدیر، وہ تم موقوف پر بچہ نواب کا بھی ہے تو (رسے) اتار کے ہی قبر میں اترے گا.

_ نور وٹو میرے سنیئر ہوا کرتے تھے، کہا کرتے تھے، یار جی! انگریزی کا دی اور پنجابی کا دا جتھے لگدا ہوئے لگا دیا کر.

_لیہ کے اک گاؤں کی مسجد میں اک سطر پڑھی، لکھا تھا، انسان بھی کتنا عجیب ہے عبادت کرتے ہوئے سمجھتا ہے اللہ بہت قریب ہے، گناہ کرتے ہوئے سمجھتا ہے اللہ بہت دور ہے،
جسم مول ہے روح بیاج ہے، موت وہ بنیا ہے جو مقررہ تاریخ کو اپنا بیاج لے لیتا ہے.

_میرے گاؤں جماعت آئی، ایک دور افتادہ گاؤں، میں انھیں بیرون میں لے گیا، چچا جان محمد زندہ تھے، پرلی زمینوں پہ کپاس کے احاطے میں کھرپے سے گھاس اکھیڑ رہے تھے، میں نے کہا مبلغ بھائی آئے ہیں دین کی نسبت سے، بولے کیا کہنا ہے؟ کپاس کے پودے میں کھرپا چلاتے رہے، میں نے کہا دین کی اشاعت کے سلسلے میں جیسا کہ آپ جانتے ہیں، اللہ کا دین مٹ رہا سمٹ رہا ہے، اس نے طرح مصرعہ دی، کھرپا پھینک کر ٹانڈے سے اٹھ کھڑے ہوئے، ہل چلا چلا دوہرا گیا ہوں، یہ اٹ سٹ ( جڑی بوٹی) مکنے نہیں ہوتی میرے سے، قدرت کی فطرت میں ریجھاؤ ہے، بڑی چیڑھی شے ہے بڑا رچ رچاؤ ہے، اور تمھیں لگتا ہے دین فطرت سمٹ رہا ہے، اور تم بھی میری طرح کھرپا لے کر زنگ اکور اکور چِلا چِلا دوہرے ہو رہے، Grafting کہتی ہے، یاد رکھنا ہر اس چیز کی نسل ختم ہوجاتی ہے جو بیج سے پیدا ہوتی ہے، ہر اس چیز کی نسل ختم نہیں ہوتی جو جڑ سے پیدا ہوتی ہے، جڑ تسلسل ہے جڑ کسی کی مرہون منت نہیں، اسلام برگد کی جڑ ہے، برگد کی جڑ سمجھتے ہو نا؟ اس کا بیج کوے کے پیٹ میں بھی نہیں مرتا، بیٹھ کے ساتھ پتھر کے اوپر بھی اگ آتا ہے، اور برگد کی جڑ اتنی گہری اتنی سرایت کرتی ہے، آب حیات پیتی ہے جہاں برگد اگے وہاں پر تاقیامت رہےگا، اس کا تدارک ممکن نہیں،
رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے، دل بادشاہ ہے، اعضاء اس کی رعایا ہیں، بادشاہ بگڑ جائے تو رعایا بھی بگڑ جاتی ہے.

_آج سے آٹھ سال پہلے کا مجھے وہ دن یاد آرہا، لیہ پھاٹک کا چکلہ! قدیم ترین قریہ خرابات، میں ذوالفقار کے ساتھ وہاں گیا تھا، اس نے الکحل چڑھا رکھی تھی، دلال لنگڑا تھا، پیپل کے درخت کے پیچھے، دروازے کا رنگ شاید خاکستری تھا، وہ گنگنا رہا تھا نصرت کا گانا ”اچھی صورت کو سنورنے کی ضرورت کیا ہے، اچھی صورت کو سنورنے کی ضرورت کیا ہے“. ہم نے وہاں ایک لڑکی دیکھی، بہت خوبصورت تھی، اس نے نقاب اٹھایا، وہ واقعی میں بہت خوبصورت تھی، سنگھار کے معاملے میں بڑی دیالو، اس نے میک اپ بھی دریا دلی سی تھاپ رکھا تھا، ذوالفقار اسی کو دیکھ کر یہ گنگنا رہا تھا. میں نے ہاسٹل واپس پلٹ کر ذوالفقار کو کہا تھا، یار جی! یہ میک اپ کی تھاپ رین نین نہیں چھپاتی بھلے، مگر ان تاثرات کو تو چھپا جاتی ہے جس لمحے ہم انہیں بھنبھوڑ رہے ہوتے، وہ شکن وہ دراڑیں چونے کے اس پار، دیوار کا بگڑتا ہوا فق ہوتا ہوا رنگ چھپ جاتا ہوگا. اس دبیز تہہ کے اوڑک، دبکی وہ اچھی صورت، فشار خوں کو دباتا ہوا کرب، کراہیت ناگواری التجا، نیچے ہی کہیں سنگھار کے نیچے دبی ہوئی تاثرات کی جھڑی، جب بھنبھوڑی جاتی ہے نا یارجی! یہ پیشہ ورانہ مجبوریاں بھی نا یار جی! ورنہ اس دلال نے تمھیں دھت دیکھ کر اتنا تو ضرور کہا، بھنبھوڑنا تو طے ہے، کسی کی ماں بیٹی ہی سمجھ کے بھنبھوڑنا سئیں، نئی آئی ہے عمر کی بھی کچی ہے، ابھی بچی ہے سئیں،
اے شجر ِحیات ِ شوق ایسی خزاں رسیدگی
پوشش برگ و گل تو کیا جسم پہ چھال بھی نہیں