مکافاتِ عمل - تنور طور

عقل کو خدا سمجھنے والوں نے شروع سے ہی عقل کو اوندھے منہ گرایا ہے، بالکل عرب کے بدوؤں کی طرح، آٹے سے بت بنا کر پوجا اور جب بھوک لگی تو آگ پر گرم کر کے کھا بھی گئے۔ یہ دل والے ہی ہیں جنہوں نے ہمیشہ عقل کو پاؤں پر کھڑا کیا، ہمت بندھائی اور جینے کا پھر سے حوصلہ دیا۔ عقل ہمیشہ سے نفس کے نرغے میں رہ کر دل پر ستم بالائے ستم ڈھاتی رہی ہے۔ عقل والے کہتے ہیں کہ سمندر کی لہریں جب گولائی میں بل کھاتی ہیں تو اس کے درمیانی خلا سے بارش وجود پا کر ہواؤں کے دوش پر سفر کرتی ہے، اور جہاں درجہ حرارت اس کے حسبِ حال ہوتا ہے برس جاتی ہے۔ عقل والے یہ نہیں بتاتے کہ بارشیں اپنا راستہ بدلتی کیوں رہی ہیں، عرب جو کبھی سرسبز و شاداب تھا، صحرائے گوبی بھی کبھی ہریالی سے بھر پور تھا، تو آج ایسا کیوں نہیں۔ انہیں زچ کیا جائے تو کہتے ہیں عالمی موسمی تبدیلیاں، یہ ہوتی رہی ہیں اور ہوتی رہیں گی۔

عقل والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ درجہ حرارت خواہ کتنا ہی قلیل کیوں نہ ہو، اپنا اثر رکھتا ہے، فریکوینسی خواہ کتنی ہی ہلکی کیوں نہ ہو اپنا وجود رکھتی ہے اور آواز، حرارت فنا سے دوچار نہیں ہوتے۔

تاریخ میں دل والوں نے کہا سوچوں کا بھی حساب کتاب ہے، خیال اپنی قوت رکھتا ہے اور عمل مکافاتِ عمل سے دوچار ہے۔ بارشیں، موسم ، ہوائیں لوگوں کے اعمال سے متاثر ہوتے ہیں۔ انسانی جسم درجہ حرارت رکھتا ہے، سماج میں لوگوں کا کلام اپنی نیتِ شوق، خیال کے تقاضے فطرت میں روبۂ عمل ہیں اور سب کو یہ تسلیم ہے کہ فطرت خودکار سسٹم سے جمع تفریق کرتی رہتی ہے۔ دیکھنے والی آنکھیں رکھنے والوں کو دکھائی دیتا ہے، آوازوں میں کلام کو ان کے رنگوں سے پہچان والے کچھ بتاتے ہیں۔

ایک گیند ٹھپا کھا کر واپس ہاتھوں میں آتی ہوئی تو دکھائی دیتی ہے لیکن عمل جس نیت سے کیا گیا اسے پلٹتے ہوئے بھی دیکھنے والے دیکھتے ہیں۔گیند پر قوت عمل کر رہی ہے، عمل بھی وجود پاتا ہے، گیند کو قوت ایک خاص سمت کی طرف دھکیلتی ہے، عمل بھی اپنی نیت کی سمت میں جاتا ہے۔

سوچ جسم پر اثر انداز ہے، مصنوعی غصہ خواہ کتنا ہی جھوٹ موٹ کا کیوں نہ ہو، جسم کو لازمی متاثر کرتا ہے۔ آنکھیں جسے دیکھ کر ٹھہر جاتی ہیں، سارے جسم میں ہلچل مچا کر اثرات مرتب کرتی جاتی ہیں۔ ڈاکٹر کہتا ہے کہ سوڈیم کلورائیڈ کھانے سے ایسا ہوتا ہے، پوٹاشیم پر مگنیٹ کے یہ اثرات ہیں مگر دل والے نیکی بدی کے اثرات بتائیں تو کہتے ہیں کہ اس میں کہاں کی عقلمندی ہے۔ انھی لوگوں کا کہنا ہے کہ تتلی کا پھڑپھڑانا ساری کائنات پر اثر انداز ہوتا ہے اور جوار بھاٹے کا عمل چاند کی روشنی کا کمال ہے، پھلوں کی مٹھاس میں چاند کا نور ہے مگر انھی لوگوں سے جب یہ کہا جائے کہ لوگوں کے اعمال موسموں پر اثرانداز ہوتے ہیں تو کیا عمل فطرت سے ماوراء ہے.

دیکھنے میں حرارت ہے، خیال قوت ہے، نیت اثرات سے بھر پور ہے اور یہ سب فطرت میں ہے۔ اور عقل والے خدا کے منکر ہیں مگر فطرت کے نہیں، پھر بھی نہیں سمجھتے۔ آئی سی یو، آپریشن تھیٹر میں موبائل لے جانا منع ہے اس لیے کہ فریکیونسی حساس آلات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ عمل کے ردِ عمل کو مادے مین تسلیم کرتے ہیں نیکی بدی کے حوالہ سے انکار کر دیتے ہیں!

عقل والے کہتے ہیں پودوں کو روشنی نہ ملے تو ان کی نشونما رک جاتی ہے، یہی بات عقل والوں کو سرمایہ کے حوالہ سے بتائی جائے کہ سوشل کیپیٹل محض اصطلاح ہی کے طور پر استعمال نہ کرو، کیپیٹل بھی تو انہیں دو، تو برا مان جاتے ہیں۔ تاریخ میں عبرت کی مثالیں دیں تو تمسخر اڑاتے ہیں۔ اپنا سب سے بڑا کارنامہ یہ بتاتے ہیں کہ دنیا کے سارے ادیان نے غلامی کو ختم نہیں کیا، دیکھو ہم نے کیا، انہیں جب کہا جاتا ہے کہ ملازمت کیا ہے تو کہتے ہیں یہ بے وقوف ہیں۔

خدا نے ہر دور میں خدا نما کو لازمی عبرت بنایا ہے۔ اس دور میں بھی یہ ہوگا، عقل والے خواہ کتنے ہی سیخ پا کیوں نہ ہوں۔ خدا کی آیات میں نہ کوئی تغیر ہے اور نہ ہی تبدل فطرت میں ہے. سچ ہے کہ
آنکھیں تو ہیں مگر اندھے ہیں، ان سے دیکھنے کا جو حق تھا وہ ادا نہ ہوا.
کان تو ہیں، سنتے بھی ہیں، مگر بہرے ہیں اس لیے کہ سننے کا جو حق تھا وہ حق ادا نہ ہوا.
عقل پر مہر لگ چکی، سوچتے تو ہیں، جاننے کا دعوی تو ہے مگر غلط جاننے کی جہالت میں غرق ہوچکے.