علامہ اقبال اور قرآن - عمران ناصر

عمران ناصر اقبال اپنی شخصیت، مزاج اور افتاد طبع کے لحاظ سے شاعر تھے۔ بالعموم شاعر حضرات کی سستی اور کاہلی کی داستانیں پردہ اخفاء میں نہیں ہیں۔ مشہور شعرا کے قول اور فعل میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے اور ان کی شاعری رومانویت کی طرف مائل کرتی ہے اور مقصدیت سے بالکل عاری ہوتی ہے۔ ایسی شاعری انسان کے قوائے عمل کو معطل کر کے اسے زندگی کے برتر اور اعلیٰ مقاصد سے غافل کرتی ہے لیکن اقبال کا معاملہ یکسر مختلف ہے۔ اقبال اپنی شاعری جو قدرت نے ان کو ودیعت کی تھی، سے انسان کو مقصد حیات کی یاد دہانی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اقبال کی شاعری پر مختصر ترین تبصرہ یہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کی شاعری قرآن کی ہی تشریح ہے۔ اس میں ارتقائی عمل کو محسوس کیا جا سکتا ہے لیکن یہ اپنے مدار سے ہٹتی نہیں ہے یعنی قرآن کے حصار میں ہی مقید رہتی ہے۔\r\n\r\nسرسید اور ان کے بعد اقبال کی فکر کا بنیادی نکتہ تھا کہ ”الاسلام ھوالفطرۃ و الفطرۃ ھی الاسلام“ یعنی اسلام فطرت ہے اور فطرت عین اسلام ہے۔ اقبال سمجھتے تھے کہ قرآن قول خدا ہے اور فطرت عمل خدا ہے، لہذا قرآن اور فطرت دونوں میں ہم آہنگی ناگزیر ہے، جیسا کہ سورۃ حم السجدہ کی آیت 53 میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہےکہ:\r\n\r\n”ہم عنقریب ان کافروں کو اپنی آیات بینات عالم آفاق میں دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس (جانوں میں) بھی، یہاں تک کہ یہ بات کھل کران کے سامنے آجائے گی کہ یہ (تعلیمات قرآنی) برحق ہیں۔ کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ تیرا پروردگار ہر شے پر شاہد ہے.“\r\n\r\nقران کی یہ آیت اور متعدد دوسری آیات پیہم اصرار کرتی دکھائی دیتی ہیں کہ نفس اور آفاق میں حقیقت مطلقہ کے لیے نشانیاں موجود ہیں۔ اقبال اپنی شہرہ آفاق خطبات کے مجموعہ ”ری کنسٹرکشن اور ریلیجیس تھاٹ“ میں پیغمبرانہ شعور کی صداقت کو پرکھنے کے لیے دو معیارمقر رکرتے ہیں۔\r\n\r\n1: Pragmatic Test 2: Intellectual Test\r\n\r\nانٹلیکچول ٹیسٹ سے ان کی مراد یہ ہی ہے کہ شعور کی دریافت کردہ حقیقتوں کو عقلی علوم سے سے ہم آہنگ ہونا چاہیے، اگرایسا نہیں ہے تو حقائق قابل اعتبارنہیں۔ اقبال کی شاعری اور نثر سے یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ اقبال سائنس اور مذہب کے باہمی تعلق کو تسلیم کرتے تھے بلکہ اپنے خطبات میں اپنی اس سوچ کو واضح انداز میں آشکار بھی کرتے ہیں۔\r\n\r\n”وہ دن دور نہیں کہ مذہب اور سائنس میں ایسی ایسی ہم آہنگیوں کا انکشاف ہو جو سردست ہماری نگاہوں سے پوشیدہ ہیں۔ بایں ہمہ یاد رکھنا چاہیے کہ فلسفیانہ غور و فکر میں قطعیت کوئی چیزنہیں۔ جیسے جیسے جہان علم میں ہمارا قدم آگے بڑھتا ہے اور فکرکے لیے نئے نئے راستے کھل جاتے ہیں، کتنے ہی اور، اور شاید ان نظریوں سے جو ان خطبات میں پیش کیے گئے ہیں، زیادہ بہتر نظریے ہمارے سامنے آتے جائیں گے۔ ہمارا فرض بہرحال یہ ہے کہ فکر انسانی کی نشو و نما پر بااحتیاط نظر رکھیں اور اس باب میں آزادی کے ساتھ نقد و تنقید سے کام لیتے رہیں.“\r\n\r\nاقبال پرامید تھے کہ سائنسی تحقیقات وقت گزرنے کے ساتھ قرآنی حقائق کی تائید کریں گی اور فکر و نظرکی نئی نئی راہیں کھلتی چلی جائیں گی، اور اسلام دین برحق کی صورت منظرعام پر آئے گا۔ اس لیے ہی فرماتے ہیں\r\nقرآن میں ہو غوطہ زن اے مرد مسلمان\r\nاللہ کرے تجھ کو عطا جدت کردار\r\n\r\nچودہ سو سال میں اسلام پر ہونے والے کام کو احاطہ نظر میں لایا جائے تو بلاشبہ فلسفیوں، دانشوروں اور علماء نے اسلام کی اشاعت کے لیے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ عقلی تاویلات سے قرآن کو کسی حد تک کتاب الہی ثابت کرنے میں کامیاب رہے لیکن قرآن اور فطرت کے تعلق کو واضح نہ کرسکے۔ فطرت کو آشکار کرنے کی کوئی قابل ذکر سعی تاریخ میں نظر نہیں آتی۔ شاید اسی ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ضرب کلیم میں فرماتے ہیں\r\nیہ علم وحکمت کی مہرہ بازی، یہ بحث و تکرار کی نمائش\r\nنہیں ہے دنیا کو اب گوارا پرانے افکار کی نمائش\r\n\r\nاقبال کو یقین واثق ہے کہ مسلمانوں کے زوال کا سبب علمی انحطاط ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ فطرت اللہ کا عملی وعدہ ہے۔ فطرت ہی اسلام کو دین فطرت ثابت کرتی ہے۔ مسلمان علماء نے فطرت پر غور و فکر سے ایسے ہی اجتناب برتا ہے جیسے اس کا دین الہی سے دور کا بھی واسطہ نہیں جبکہ سورہ فاطر میں اللہ تعالیٰ اسی طرف ہی انسان کی توجہ دلاتے ہیں۔ ”اللہ سے اس کے علم والے بندے ہی ڈرتے ہیں۔ بیشک اللہ غالب بخشنے والا ہے.“\r\n\r\nمزید سورۃ الغاشیہ میں اللہ فرماتا ہے، ”بھلا کیا وہ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے ہیں؟ کیا وہ اونٹ کی طرف نہیں دیکھتے کہ کس طرح پیداکیا گیا؟ اور آسمان کی طرف (نہیں دیکھتے) کہ کس طرح کھڑے کیے گئے ہیں؟ اور زمین کو (نہیں دیکھتے) کہ کس طرح بچھائی گئی ہے؟\r\nاور سورۃ الذاریات میں اللہ فرماتا ہے کہ\r\n”اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں، اور تمہاری اپنی جانوں میں بھی کیا تم دیکھتے نہیں؟“\r\n\r\nاقبال قرآن کی انھی آیات کے تناظرمیں یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن اور فطرت ایک ہی رب جلیل کے دو قرآن ہیں اول الذکر ”قول“ اور مؤخرالذکر”فعل“۔ لہذا وہ مسلمان سے چاہتے ہیں کہ وہ فطرت پر غور و تدبر کرے۔ وہ کائنات کی وسعتوں کو اپنے احاطہ نظر و فکر میں لائے۔ وہ جاننے کی حتی الامکان سعی کرے کہ یہ اللہ نے آخر کیوں تخلیق کیے ہیں، کیونکہ یہ حکم خداوندی ہے کہ وہ ان پر تدبر کرے بلکہ ایک آیت مبارکہ میں تو اللہ تعالیٰ یہ حکم دیتے ہیں،\r\n”اے محمد ان کو (امت مسلمہ) حکم دیں کہ یہ اس زمین پر چل پھر کر دیکھیں کہ میں نے اس آفرینش کی ابتدا کیسے کی تھی.“\r\nاقبال قرآن کے انھی ارشادات کو اپنی شعری زبان میں یوں بیان کرتے ہیں،\r\nکھول آنکھ، زمین دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ\r\nمشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرا دیکھ\r\n\r\nعروج آدم خاکی کے منتظر ہیں تمام\r\nیہ کہکشاں یہ ستارے یہ نیلگوں افلاک\r\n\r\nموضوع کی وسعت اور مضمون کی طوالت پیش نظر نہ ہو تو اس موضوع کا خاتمہ کلام ممکن نہیں۔ اقبال کی شاعری کا مقصد اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اسلام کی حقانیت کو واضح کیا جائے، اور پیغام خدا کو عام کیا جائے، اور یہ کہنا مبالغہ آرائی نہ ہوگا کہ اقبال تن تنہا اس مشکل ترین مہم کو سر کرنے میں ایک انسان کی استطاعت سے زیادہ کامیابی سے ہمکنار ہوئے.

Comments

عمران ناصر

عمران ناصر

عمران ناصر علم و ادب سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔ سیاست، ادب، تاریخ، مطالعہ مذاہب سے شغف ہونے کے باعث اپنا نقطہ نظر منطقی اور استدلالی انداز میں پیش کی کرنے کی بھرپور اہلیت رکھتے ہیں۔ شدت پسندی اور جانبدارانہ رویوں کواقتضائے علمیت سے متصادم سمجھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں