سوشل میڈیا کا غلط استعمال - احسن سرفراز

اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے سوشل میڈیا کا کردار ایک انقلابی حیثیت اختیار کر چکا ہے، اس کی سب سے بڑی مثال ماضی قریب کی عرب بہار ہے، اچھے یا برے اثرات سے قطع نظر یہ سوشل میڈیا ہی تھا جس کے ذریعے امنڈنے والے عوامی سیلاب نے سالہا سال سے جمی جمائی آمرانہ حکومتوں کو جڑ سے اکھاڑ پھیینکا. ترکی کی ناکام بغاوت کے خلاف فوری عوامی ردعمل کو منظم کرنے اور اس عوامی ردعمل کو دنیا تک پہنچانے میں بھی سوشل میڈیا کا اہم ہا تھ رہا، اسی طرح میانمار میں فوجی جنتا اور بدھ انتہا پسندوں کے روہنگیا کے مسلمانوں پر خوفناک مظالم کا پول بھی سوشل میڈیا نے دنیا کے سامنے کھولا.

سوشل میڈیا کے مثبت اثرات اپنی جگہ مگر اس کے نقصانات بھی کم خطرناک نہیں. کسی بھی جھوٹ کو سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلانا شرپسند قوتوں کے بائیں ہاتھ کا کھیل بن چکا ہے، کوئی بھی سنسنی خیز خبر، فوٹو شاپ کی ہوئی تصویر، مشہور شخصیات کی تصاویر لگا کر ان سے منسوب من گھڑت اقوال و بیانات بلکہ یہاں تک کہ ضعیف اور موضوع احادیث بھی سوشل میڈیا کے ذریعے چند ہی دنوں میں عوام کی ایک بڑی تعداد کے نزدیک مستند اور سچ قرار پاتی ہیں. حالیہ دنوں میں ملک بھر میں بچوں کے اغوا کے حوالے سے جنگل کی آگ جیسی پھیلتی افواہوں کی ترویج میں سوشل میڈیا کا خاصہ بڑا حصہ رہا، ان افواہوں نے عوام کو نفسیاتی مریض بنا ڈالا اور اس کے اثرات کی وجہ سے گرمیوں کی طویل چھٹیوں کے اختتام کے باوجود سکولوں کی حاضری ابھی تک معمول پر نہیں آسکی ہے. اخباری اطلاعات کے مطابق کچھ سکولوں نے تو والدین پر بچوں کو خود سکول چھوڑ کر جانے اور واپس لانے کو لازم قرار دے دیا ہے، یہ پابندی ملازم پیشہ والدین کےلیے وبال جان بنتی جا رہی ہے.

یہ بھی پڑھیں:   اب تو سوچا ہے - حبیب الرحمن

سوشل میڈیا پر انفرادی اور اجتماعی طور پر ناپسندیدہ فرد یا گروہ کے خلاف خبر کو کسی تحقیق کے بغیر پھیلانے میں انتہائی مستعدی دکھائی جاتی ہے. نریندر مودی کی بلوچستان کے متعلق ہرزہ سرائی کے حوالے سے مریم نواز کے جعلی اکاؤنٹ سے جاری کردہ متنازعہ بیان پر انھیں بڑے پیمانے پر مطعون کیا گیا، یہی حال دوسرے سیاسی لیڈروں سےجھوٹے بیانات منسوب کر کے ان کے مخالفین کرتے ہیں. فیس بک پر محض لائک اکھٹے کر نے کی خواہش عجیب مناظر دکھاتی ہے، لوگوں کو جذباتی طور بلیک میل کیا جاتا ہے کہ وہ یہ مواد شیئر یا لائک کریں، کبھی شیطان کا طعنہ دے کر چیزیں شیئر کروائی جاتی ہیں اور کبھی ایمانی غیرت کو للکارا جاتا ہے. اسی طرح تشدد سے بھرپور مناظر اور دل دھلا دینے والی انسانی اعضاء کی قطع و برید والی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر عام ہوتی جا رہی ہیں. یہ مناظر عام قاری پر کیسے خوفناک نفسیاتی اثرات مرتب کر تے ہیں، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں. سوشل میڈیا پر بحث ومباحثہ کے دوران گھٹیا اور اخلاق سے گرے ہوئے ردعمل اور مغلظات کے وافر استعمال کے مناظر بھی بکثرت نظر آتے ہیں، یہ طرزعمل بیمار ذہنیت اور اخلاقی گراوٹ کا آئینہ دار ہوتا ہے. قرآن پاک ہمیں بحث و مباحثہ کے دوران حکمت، عمدہ نصیحت اور شائستہ طرز عمل کی تلقین کرتا ہے. ضروری ہے کہ ہم ذمہ دار مسلمان اور شہری کا طرز فکر اپناتے ہوئے سوشل میڈیا کےمندرجہ بالا یا اسی قبیل کے دوسرے منفی پہلوؤں کی حوصلہ شکنی کریں اور مثبت رویوں کو آگے بڑھائیں.

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.