ہوم << زمیں و آسماں ملے مگر وہ لب نہیں ہلے – ڈاکٹر تصور بھٹہ
600x314

زمیں و آسماں ملے مگر وہ لب نہیں ہلے – ڈاکٹر تصور بھٹہ

ابو قاسم کے الفاظ ۔۔.۔ جو آج بھی کانوں میں گونجتے ہیں
پندرہ مئی انیس سو اڑتالیس۔
یہ دن ہر فلسطینی کے دل پر نقش ہے۔

تاریخ میں اسے نکبہ کہتے ہیں. تباہی، قیامت۔ ہر سال پندرہ مئی کو فلسطین بھر میں یہ دن بڑے اہتمام اور زور و شور سے منایا جاتا ہے، شاید اس لیے کہ اس سے جڑی یادوں میں انہیں اپنے بزرگوں کے لہو کی خوشبو آتی ہے۔

انبیاء اکرام علیہم السلام کی سرزمین پر ہر طرف ناانصافی، ظلم، استحصال اور جبر کی حکمرانی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بستی کے باسی آج دو ہزار سال بعد ایک بار پھر اپنی زندگی اور موت، عزت اور غلامی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ آگ اور دھوئیں کے اٹھتے بادلوں میں قبلۂ اوّل چھپ سا گیا ہے۔دنیا فلسطینیوں کے ختم ہو جانے کی بات کرتی ہے، لیکن نہ جانے کیوں مجھے اپنے ٹیکسی ڈرائیور کے وہ الفاظ بار بار یاد آتے ہیں، جو اس نے تین سال پہلے یروشلم شہر کے باہر ایک اونچی چوٹی پر کھڑے ہو کر دیر یاسین کے اجڑے گاؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہے تھے:

“ڈاکٹر! یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ٹوٹ جائیں گے، ہم ہار جائیں گے اور وہ ہمارے وطن پر قابض ہو جائیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہو گا۔ اس وقت تک ایسا نہیں ہو گا جب تک ہمارے جسموں میں خون کی ایک بوند بھی باقی ہے، ہمارے جسموں پر ایک بھی سر سلامت ہے۔”

“لن نرحل — ہم نہیں جائیں گے۔”

 “حتماً سنعود — ہم یقیناً واپس آئیں گے۔”

سوبا ۔۔۔ فلسطین کا اجڑا گاؤں

ابو قاسم کی نان اسٹاپ کمنٹری جاری تھی۔ وہ آدمی فلسطین کی تاریخ پر ایک چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا تھا، بلکہ انسائیکلوپیڈیا بھی کم ہے۔ وہ فلسطین کے حالات کی ایک زندہ دستاویز تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ سفر کے آغاز میں ہی ابو قاسم کا مل جانا کسی نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں تھا۔ وہ میری ان دعاؤں کا ثمر تھا جو میں نے آسٹریلیا سے نکلتے وقت مانگی تھیں۔ اس سے ملاقات ہمارے سفر کا بہترین آغاز تھی۔

اب وہ اسٹیئرنگ ایک ہاتھ سے پکڑے، دوسرا ہاتھ فضا میں لہرا لہرا کر ہمیں نکبہ کے بارے میں بتا رہا تھا کہ کیسے انیس سو اڑتالیس میں اسرائیل کی مسلح تنظیموں — ہگانہ، لہی اور ارگون — نے اسلحے اور طاقت کے زور پر فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے نکال کر دربدر کر دیا۔ اچانک اس نے دائیں جانب اشارہ کیا۔

“وہ دیکھو!” سڑک کے کنارے ایک چوٹی پر کچھ کھنڈرات تھے۔

“یہ سوبا ہے۔ وہ گاؤں جسے اڑتالیس میں جلا کر راکھ کر دیا گیا۔ باشندوں کو دربدر کر دیا گیا۔”

ہم نے دائیں طرف دیکھا۔ چھوٹی سی پہاڑی چوٹی، اجڑی عمارتوں کے کھنڈرات، چاند کی روشنی میں ملگجے اندھیرے اور دھند میں لپٹے ہوئے۔ دور سے وہ کسی بھوت بنگلے کی طرح نظر آتے تھے۔ سیاہ دیواریں کھڑی تھیں مگر چھتیں غائب تھیں۔ کھڑکیاں تھیں لیکن شیشے نہیں تھے۔ دیواروں میں بڑے بڑے سیاہ سوراخ تھے، جیسے آنکھیں نکالی ہوئی کھوپڑیاں۔

یہ ان چھ سو گاؤں میں سے ایک تھا جو آج بھی اسرائیل کے طول و عرض میں بکھرے نظر آتے ہیں۔ کچھ کو ملیامیٹ کر کے ان پر نئے شہر بسائے گئے، نئے نام رکھے گئے، جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ اور کچھ — سوبا کی طرح — آج بھی کھنڈرات کی صورت میں کھڑے ہیں، خاموش گواہ کی طرح، جو شق القلبی، دنیا کی بے حسی اور فلسطینیوں کی بے بسی کی ان کہی کہانیاں سناتے نظر آتے ہیں۔ اس کی آواز لرزنے لگی تھی۔

 

 نکبہ ۔۔۔ قیامت جو فلسطینیوں پر ٹوٹی

“عربی میں نکبہ کے معنی تباہی، بربادی، قیامت اور مصیبت کے ہیں، اور ڈاکٹر یقین کرو، وہ واقعی قیامت تھی۔”اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا:

 “پورے فلسطین میں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے زبردستی نکال دیا گیا۔ گھر چھینے گئے، زمینوں سے محروم کیا گیا۔ لاکھوں بے گھر ہوئے، ہزاروں بے گناہ قتل ہوئے۔”

 “اسی فیصد سے زیادہ فلسطینی بے گھر ہوئے۔ چار لاکھ سے زائد اردن، شام، لبنان اور دوسرے ہمسایہ ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ چھ سو کے قریب فلسطینی گاؤں اور شہر اجاڑ دیے گئے۔ گھروں کو بلڈوز کیا گیا، کنوؤں میں زہر ملایا گیا، زمینوں کو آگ لگائی گئی تاکہ واپسی کی کوئی امید باقی نہ رہے۔”وہ سلگتے ہوئے لہجے میں بولا:

 “یہ سب پلان ڈالٹ کے تحت ہوا، جس کی منصوبہ بندی بن گوریان نے کی تھی۔”

القدس کا پہلا نظارہ

اپنی گفتگو کے دوران ابو قاسم نے ہائی وے ون چھوڑ دی اور ایک ذیلی سڑک پر مڑ گیا۔

“اب ہم یروشلم میں داخل ہونے والے ہیں۔” میں اپنی سیٹ پر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ بلال بھی، جو پچھلی سیٹ پر اونگھ رہا تھا، جاگ گیا۔ چند ہی منٹوں بعد گاڑی ایک پہاڑی کا موڑ مڑ کر یروشلم کے نواح میں داخل ہوئی، اور اس نے اچانک ٹیکسی روک دی۔

“باہر آؤ ۔۔۔ اور دیکھو!”وہ ہمیں سڑک کے کنارے ایک اونچی جگہ پر لے گیا، جہاں سے میں نے یروشلم کا پہلا نظارہ دیکھا۔

مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں یروشلم کو دیکھ رہا ہوں۔ مسلمانوں کا القدس، جسے قرآن میں مقدس سرزمین کہا گیا ہے۔ بے شمار ٹمٹماتی روشنیوں میں نہایا القدس پہاڑیوں کی گود میں بیٹھا تھا۔ لگتا تھا جیسے کسی نے ستارے زمین پر بکھیر دیے ہوں۔ فضا میں خوشگوار خنکی تھی۔ ہلکی ہلکی ہوا جسم کو چھوتی ہوئی روح تک اتر رہی تھی۔ چودھویں کا چاند اپنی پوری آب و تاب سے جگمگا رہا تھا، اور اس چاندنی میں ہر سو ٹھنڈی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ دور شہر کی روشنیوں کے درمیان ایک سنہری گنبد چمک رہا تھا۔

قبۃ الصخرہ …. وہ منظر سحر انگیز ہی نہیں، فسوں خیز بھی تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے اس گنبد سے نور برس رہا ہو۔ یروشلم کا یہ پہلا نظارہ آنکھوں کے راستے میری روح میں اتر گیا، ہمیشہ کے لیے۔

 دیر یاسین کی دردناک کہانی

“وہ رہا کنگ ڈیوڈ ہوٹل۔” اس نے شہر کے بیچوں بیچ بنی ایک بلند عمارت کی طرف اشارہ کیا۔

“جہاں انیس سو چھیالیس میں ارگون نے بم دھماکے سے نوے لوگ مار دیے تھے۔” پھر اس نے وادی کی طرف اشارہ کیا۔

“اور وہاں ۔۔۔ کبھی ایک فلسطینی گاؤں آباد تھا — دیر یاسین۔”

اس کی آواز بھرّا گئی۔ نو اپریل انیس سو اڑتالیس کی رات صہیونی دہشت گرد تنظیموں نے گاؤں کو گھیر لیا۔ لوگوں کو گھروں میں بند کر کے آگ لگا دی گئی۔ اڑھائی سو کے قریب لوگ شہید ہوئے، جن میں عورتیں، بچے اور بوڑھے شامل تھے۔آج دیر یاسین کے کھنڈرات پر ایک ذہنی امراض کا اسپتال قائم ہے۔

“پاگل خانہ ۔۔۔ شہیدوں کی قبروں پر پاگل خانہ بنا دیا۔”

 

ابو قاسم کے آنسو

ابو قاسم دیر یاسین کی روداد سناتے ہوئے بالکل بدل گیا تھا۔ وہ مزاحیہ انداز میں باتیں کرنے والا آدمی کہیں غائب ہو گیا تھا۔ اس کی جگہ ایک ایسا شخص کھڑا تھا جس کی پلکوں سے بہتے آنسو گالوں تک آ پہنچے تھے۔ پھر وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولا:

 “میرے خاندان کے بھی کئی افراد ان میں شامل تھے۔ دیر یاسین میری نانی کا گھر تھا۔ میری ماں اسی گاؤں کی رہنے والی تھی۔ اس کے سارے رشتے دار اس آگ کی نذر ہو گئے۔”

وہ آنسو پونچھتے ہوئے بولا: “ڈاکٹر! یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ٹوٹ جائیں گے، لیکن ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ جب تک ہمارے جسموں میں خون کی ایک بوند باقی ہے، ہم نہیں جائیں گے۔”

 “حتماً سنعود — ہم یقیناً واپس آئیں گے۔”

 ابو قاسم کی امانت

ٹیکسی میں بیٹھنے سے پہلے میں نے اس سے پوچھا:

“کیا تم ہر مسافر سے ایسی باتیں کرتے ہو؟”وہ ہنس پڑا، مگر اس ہنسی کے پیچھے درد چھپا ہوا تھا۔

 “اگر میں ہر مسافر سے یہ باتیں کرتا تو میرا ٹیکسی لائسنس کب کا منسوخ ہو چکا ہوتا۔”

پھر وہ بولا: “ڈاکٹر! تم بھلے آدمی لگتے ہو۔ تمہیں مسلمانوں اور فلسطینیوں کے درد کا احساس ہے۔ اسی لیے تم سے دل کی بات کر دی۔”وہ کچھ دیر خاموش رہا، پھر کہنے لگا:

 “میری یہ ساری باتیں تمہارے پاس میری اور میری قوم کی امانت ہیں۔ وعدہ کرو انہیں ایسے ہی دنیا تک پہنچاؤ گے۔” میں نے سینے پر ہاتھ رکھا اور اسے یقین دلایا کہ میں اس کی امانت ضرور دوسروں تک پہنچاؤں گا۔

 

شکریہ جو ادا نہ ہو سکا

باقی سارا راستہ ابو قاسم خاموش رہا. جب اس نے ہمیں ہوٹل کے باہر اتارا اور میں نے اسے طے شدہ کرائے سے زیادہ رقم دی تو اس نے صرف اتنا کہا:

 “شکراً۔”اور چلا گیا۔

میں اس کا شکریہ ادا کرنے کے لیے الفاظ ڈھونڈتا رہ گیا۔ بعض لوگ زندگی میں ایک بار ملتے ہیں، مگر ایسے نقش چھوڑ جاتے ہیں جو کبھی نہیں مٹتے۔ ابو قاسم بھی ایسا ہی تھا۔ وہ ٹیکسی نہیں چلا رہا تھا، وہ فلسطین کی تاریخ سنا رہا تھا۔ اپنی قوم کا درد، اپنی سرزمین کا دکھ، اپنی نسلوں کی داستان۔

اور یہ تحریر ۔۔۔
یہ آنسو ۔۔۔
یہ الفاظ ۔۔۔
سب ابو قاسم کی امانت ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ڈاکٹر تصور اسلم بھٹہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment