ہوم << اللہ تیرے دل کی مراد پوری کرے - سلمان رضا

اللہ تیرے دل کی مراد پوری کرے - سلمان رضا

گاڑی میں ایندھن ڈلوانے کے لیے پمپ پر گاڑی روکی۔ ابھی ایندھن بھرا جا رہا تھا کہ ایک عورت گود میں بچہ تھامے ہماری جانب لپکی:
بھائی اللہ کے نام پہ کچھ امداد کر دو۔ اللہ تمہارے دل کی مراد پوری کرے!
ایندھن ڈلوا کے آگے بڑھے۔ راستے میں سرخ بتی کے باعث سگنل پر گاڑی روکی۔ دائیں جانب سے ایک صاحب لنگڑاتے ہوئے چلے آئے:
بیٹا اللہ کے نام پہ کچھ دیتا جا۔ اللہ تیرے دل کی مراد پوری کرے!
گاڑیوں کے اژدھام سے گزر کے بازار پہنچے۔ پارکنگ میں گاڑی لگائی۔ ادھر سے ایک نو عمر لڑکا بڑے پروفیشنل انداز میں ہماری جانب لپکا:
صاحب اللہ کے نام پہ آٹا دلا دو۔ اللہ تمہارے دل کی مراد پوری کرے!
بازار سے واپسی پر رات ہو گئی۔ روٹی لینے کے لیے تندور پر گاڑی روکی۔ ادھر سے پھر ایک مائی لپکی:
اللہ کے نام پہ بیوہ کی کچھ مدد کر دو۔ اللہ تمہارے دل کی مراد پوری کرے۔
آگے بیکری پہ گاڑی روکی ڈبل روٹی لینے کے لیے۔ ادھر سے ایک اور خاتون آئیں:
اللہ کے نام پہ اپنے بچے کا صدقہ دے جا۔ اللہ تیرے دل کی مراد پوری کرے!
آگے دودھ لینے رکے تو وہاں ایک اور صاحب نے ہاتھ پھیلا دیا:
بیٹا دس بیس روپے سے میری مدد کر دو۔ اللہ تمہارے دل کی مراد پوری کرے!
گھر پہنچتے پہنچتے عشاء ہو گئی۔ نماز پڑھنے کے لئے مسجد پہنچے۔ سلام پھیرتے ہی مسجد میں ایک گلوگیر آواز بلند ہوئی: معذرت کے ساتھ میں آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہوں۔۔۔ آگے ایک دکھ بھری داستان۔!
باہر مسجد کے دروازے پر ایک اور مائی لجاجت بھرے انداز میں صدا لگا رہی تھی: نمازی بھائیو! میری مدد کرتے جاؤ۔ اللہ تمہارے دل کی مراد پوری کرے!
قارئین! یہ کوئی خیالی کہانی نہیں ہے۔۔۔ یہ آج کے دن کی روداد ہے۔
سمجھ نہیں آتا حکومت نام کی کوئی چیز ہے اس ملک میں کہ نہیں؟
گوگل پہ سرچ کیا:
پاکستان کی حکومت کہاں ہے؟
اس بد بخت نے جواب میں ایک ویڈیو کلپ کا لنک دے دیا۔
لنک پہ کلک کیا تو عجب منظر دیکھا۔
واشنگٹن میں ورلڈ بینک کی عمارت کے سامنے ایک مائی بیٹھی ہے اور ہر آنے جانے والے کے آگے بڑی لجاجت سے ہاتھ جوڑ رہی ہے:
اے سخی بابو!
اللہ کے نام پہ غریب کی دس بیس ملین ڈالر سے امداد کرتا جا۔
اللہ تیرے دل کی مراد پوری کرے۔!

Comments

Click here to post a comment