ہوم << سیک سمینار 2016، جو دیکھا، جو سنا - محمد عامر خاکوانی

سیک سمینار 2016، جو دیکھا، جو سنا - محمد عامر خاکوانی

سیک سمینار کی روداد تفصیل سے لکھنے کا ارادہ تھا، مگر تاخیر ہوئی جا رہی ہے اور اب لگتا ہے کہ نہ لکھنے سے کچھ لکھ دینا بہتر ہے۔ آج دو دن کے لیے لاہور سے باہر جانے کا ارادہ ہے، پھر اگلے ہفتے کے شروع ہی سے کام کا دباؤ اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ وقت نکالنا مشکل ہوجائے گا۔ اس وقت طبعیت بھی ٹھیک نہیں، بخارکی کیفیت چل رہی ہے، اوپر سے لاہور میں جس خوفناک دھند نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں، اس سےسانس کا مسئلہ شروع ہوگیا ہے۔ اس لیے اس روداد کو صرف اپنے تاثرات تک محدود رکھنا پڑ رہا ہے۔
%d8%b9%d8%a7%d9%85%d8%b1-%d8%ae%d8%a7%da%a9%d9%88%d8%a7%d9%86%db%8c
سیک سمینار مجموعی طور پر بہت کامیاب رہا۔ اگر موازنہ کیا جائے تو لاہور کی نسبت مجھے اسلام آباد کا سمینار زیادہ بھرپور، مؤثر اور دلچسپ لگا۔ اس میں تقریباً سوفیصد شیڈول پر عملدرآمد ہوگیا اور بعض سیشنز کے وقت میں رد و بدل ہوا، مگر مجموعی طور پر بہت عمدہ رہا۔ ثاقب ملک مبارک باد کے مستحق ہیں، ان کی ٹیم نے بھی شاندار کام کیا۔ لاہور کے سمینار میں برادرم ظفر اقبال مغل کا حصہ بہت شاندار اور مرکزی رہا۔ ظفر بھائی نے فنانس کے ایک بڑے حصے کا بوجھ اٹھایا اور ہر کام میں ساتھ ساتھ رہے. میرا خیال ہے کہ ثاقب ملک ظفر بھائی کے بغیر شاید اتنا اچھا سمینار کرنے میں کامیاب نہ رہتا۔ ظفر بھائی ایک شاندار انسان ہیں، نہایت منکسر، حلیم ، محبت کرنے والے اورغیرمعمولی کشادہ دل۔ ایسا خوبصورت شخص کم ہی دیکھنے کو ملا۔ خرم مشتاق صاحب نے بھی اچھا تعاون کیا، شاہد اعوان اسلام آباد کی طرح اس بار بھی مددگار رہے. عماد بزدار نے بڑے دل و جاں سے کام کیا۔ عماد اپنی دلکش واسکٹ میں سب سے منفرد اور ممتاز لگے۔ ثاقب ملک کے حوصلے، کمٹمنٹ اور جذبے کی داد دینی چاہیے، جس نے اتنے مشکل ٹاسک کا انتخاب کیا اور پھر اسے کر دکھایا۔ ویل ڈن ثاقب ملک، ٹیم ثاقب ملک۔ عامر مغل کی فوٹوگرافی بہت ہی عمدہ تھی، عامر مغل خوبصورت نوجوان ہیں، ان کے کام میں وہ ٹچ آف کلاس اور خوبصورتی ہے جو بڑے بلکہ مہا قسم کے فنکاروں کا حصہ ہے۔ آفیشل فوٹوگرافر ناگی صاحب نے بھی عمدہ کام کیا۔ ثاقب ملک کی نظامت پہلے کی طرح اچھی تھی، ظفر مغل نے ہمایوں احسان صاحب کا تعارف دل سے کرایا اور ہمارے دل جیت لیے، شاہد اعوان نے بھی کچھ دیر کے لیے مہارت سے کمپیئرنگ کی۔
فلیٹیز لاہور کے اچھے ہوٹلوں میں سے ہے، ان کا ہال خاصا خوبصورت ہے، مگر مجھے دو حوالوں سے خاصی مایوسی ہوئی۔ ایک تو ان کا ہال ساؤنڈ پروف نہیں تھا، کسی اچھے ہوٹل کے ہال میں پہلی بار ایسا دیکھا کہ ساتھ والے ہال کی آوازیں ادھر سنائی دینے لگیں۔ یہ فلیٹیز کی ناکامی تھی۔ اس کا بہت برا امپریشن پڑا۔ ساتھ والے ہال میں جو تقریب جاری تھی، اس کا شور یہاں آتا رہا اور بعض مقررین ڈسٹرب ہوئے۔ کھانا مناسب تھا، مگر میں مناسب سے زیادہ اچھے کھانے کی توقع کر رہا تھا۔ بریانی گزارے لائق تھی، اور قورمہ جسے بادامی قورمہ کہا گیا، میرے حساب سے وہ قورمہ ہی نہیں تھا، مرغ شوربہ اسے البتہ کہا جا سکتا تھا۔ سٹیم روسٹ بہتر تھا، مگر اس طرح کے فنکشن میں کھانا چلتے پھرتے اور باتیں کرتے ہی کھایا جاتا ہے، سٹیم روسٹ تو بیٹھ کر کھانے کی چیز ہے، اسے چھری کانٹے یا چمچ کے ساتھ نہیں کھایا جا سکتا۔ میرے خیال میں کباب، تکہ بوٹی وغیرہ ہونی چاہیے تھی، بیشتر سمینارز میں ایسا ہی دیکھا ہے کہ بریانی کے ساتھ قورمہ، کباب، تکہ بوٹی ہوتی ہے، بلکہ بعض میں تو چائنیز رائس اور ساتھ کوئی ایک آدھ چائنیز ڈش بھی ہوتی ہے۔ کھانے کا بل بہت زیادہ بنا اور جتنے پیسے فلیٹیز نے لیے، اتنا اچھا کھانا فراہم نہیں کیا۔ چائے بہت ہی تھکی ہوئی تھی، اور اگرچہ میں چائے کی میز پر نہیں جا سکا، مگر مجھے محسوس ہوا کہ چائے کے ساتھ سنیکس یعنی بسکٹ وغیرہ یا تھے نہیں یا کم تھے۔
%d8%b9%d8%a7%d9%85%d8%b1-%d8%ae%d8%a7%da%a9%d9%88%d8%a7%d9%86%db%8c-%d9%82
سیک سمینار کے حوالے سے اہم ترین بات لوگوں کا مختلف علاقوں سے شامل ہونا ہے۔ مجھے خوشگوار حیرت ہوئی، جب معلوم ہوا کہ چترال سے دو ساتھی تشریف لائے، پشاور سے عامر ککےزئی آئے، آزاد کشمیر سے دوست آئے، دیر، بونیر وغیرہ کے صاحبان شامل ہوئے، سانگھڑ سندھ سے رندھاوا صاحب طویل سفر طے کر کے آئے، ادھر ملتان، تونسہ جبکہ اسلام آباد سے کئی لوگ آئے۔ یہ ایک مثبت روایت ہے۔ لاہور سے زیادہ لوگ شامل ہونے چاہیے تھے، ثاقب ملک کی وال پر لاہور، فیصل آباد وغیرہ کے کئی لوگوں نے معذرت کی، مگر مجھے ان کی بات عذرلنگ ہی لگی۔ اکثر کے پاس کوئی جواز نہیں تھا نہ آنے کا۔ اتنی بڑی ایکٹیوٹی تھی، مہینہ بھر سے زیادہ عرصے سے پبلسٹی ہوتی رہی اس کی، مگر لاہور بیٹھے یہ لوگ نہیں شامل ہوئے۔ اپنی ملازمت یا دوسری مصروفیت کی تو یہ حقیقت ہے کہ اگر خدانخواستہ اس روز انہیں بخار ہوا ہوتا تو انہوں نے گھر ہی بیٹھ جانا تھا، سب کاموں پر تین حرف بھیج کر۔ تو بات ترجیحات کی ہوتی ہے۔ ثاقب کو چاہیے کہ ایسے لوگوں پر جرمانے لگائے، خاص کر وہ خواتین جو بچگانہ سے ایکسکیوز کر رہی ہیں، ان کے عذر قبول نہیں کرنے چاہییں، جو تین چار خواتین شامل ہوئیں، انہوں نے ہمت کی، ان کی ستائش ہونی چاہیے، خاص کر دو بہنوں سعدیہ بٹ اور زرقا اطہر کی۔ ڈاکٹر رامش فاطمہ نے تو خیر ملتان سے سفر کیا، مگر ان کا ذکر مقررین میں ہوگا۔ عامر ککےزئی نے اپنے اخلاق، عجز اور انکسار سے ہر ایک کو متاثر کیا۔ اپنے کمنٹس سے وہ جارحانہ قسم کے آدمی لگے، مگر ان کی شخصیت یکسر مختلف تھی۔ انہتائی انکسار سے وہ ہر ایک سے ملتے رہے، مجھے تو وہ بہت خوبصورت دل والے کوئی درویش لگے۔ عامر ککےزئی اور سانگھڑ سے رندھاوا صاحب نے ثاقب ملک کو اجرک اور پشاوری گرم شال بھی ڈالی۔ خاکسار ہر دو چیزوں کو کنکھیوں سے دیکھتا رہا، اجرک پر ہماری خاص نظر تھی۔ بعد میں معلوم ہوا کہ رندھاوا صاحب نے اپنے ایک روم میٹ پر بھی ایک عدد اجرک وار ڈالی۔ افسوس کہ پہلے علم نہ ہوا ورنہ ثاقب سے ساز باز کر کے ہم بھی اسی ہوٹل میں مکین ہوجاتے۔ خیر اللہ خوش رکھے ان دونوں کو، دور سے آئے اور اپنی محبت سے سب کو فتح کر ڈالا۔
سمینار کی روداد میں نے پڑھی، مختلف لوگوں نے اپنے اپنے تاثرات بیان کیے۔ مجھے دلی خوشی ہے کہ پروفیسر ہمایوں احسان کی تقریر کو بہت پسند کیا گیا۔ یہ خاکسار پچھلے کئی برسوں سے پروفیسر ہمایوں احسان اور ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کا پبلسٹی ایجنٹ ہے۔ ہمایوں صاحب ہمارے مینٹور، مہربان استاد اور گرو ہیں، جبکہ ڈاکٹر عاصم صاحب سے بھی بہت کچھ سیکھا۔ ان دونوں کی تقریر کو بہت پسند کیا گیا، تو ہر داد اور تعریف مجھے اپنی تعریف محسوس ہو رہی تھی۔ ہمایوں صاحب کا خطاب واقعی میری زندگی کی دو تین متاثر کن ترین تقریریوں میں سے ایک تھا۔ جن لوگوں کو اس کی ویڈیو دیکھنے کا موقع ملا ، وہ یقیناً میری بات کی تصدیق کریں گے۔ ڈاکٹر عاصم کی تقریر خاصی دیر سے آئی، انہیں کچھ جلدی بات کرنی چاہیے تھی، مگر بہت عمدگی سے وہ بولے اور اپنا مخصوص دلکش نقش ذہن میں چھوڑ گئے۔
رعایت اللہ فاروقی صاحب کا سیشن بہت عمدہ رہا۔ مجھے خطرہ تھا کہ فاروقی بھائی پر حملوں کی بوچھاڑ ہوگی، مگر انہوں نے کمال مہارت سے افغان ایشو کو نبھایا اور ہر ایک کو حیران کر دیا۔ ان کا سٹانس خاص طور سے بہت اہم، دلچسپ اور بولڈ رہا۔ کم ہی رائٹسٹ اتنی دلیری اور تیقن سےوہ بات کہتے ہیں جو فاروقی صاحب نے کہی۔ ان کے بلاگ آپشن سے کئی نوجوان ناخوش تھے، مگر فاروقی صاحب نے اپنے اخلاق سے سب کے دل جیتے۔ سیک سمینار تو مجھے لگتا ہے منعقد ہوا ہی پروفیسر ہمایوں احسان کا سکہ جمانے اور رعایت اللہ فاروقی صاحب کی جانب سے اپنے امیج کو یکسر بدل دینے کے لیے تھا۔ فاروقی صاحب محفل پر چھا گئے تھے۔ ان کی باتوں میں بہت کچھ دیکھنے کے لیے تھا۔
فرنود عالم نے حسب معمول عمدہ تقریر کی۔ وہ اچھا اور نہایت رواں بولتے ہیں، ایسے ترتیب کے ساتھ خیالات کہ لگتا ہے جیسے لکھا ہوا پڑھ رہے ہوں۔ انہوں نے البتہ پچھلے سمینار والی کئی باتیں دہرائیں۔ ان جیسے تازہ خیال نوجوان کو ہر بار نئی باتیں کہنا چاہییں، دہرائی باتیں بار بار کہی جائیں، ان پر ہی بات ہو تو مزا نہیں رہتا۔ ید بیضا کے نہ آنے سے مایوسی ہوئی۔ انہیں آنا چاہیے تھا۔ وجاہت مسعود صاحب کے نہ آنے کا افسوس بھی ہوا اور دکھ بھی۔ ان کی جانب سے آخر وقت تک آنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ میں نے سنا تھا کہ بعض لوگ وجاہت مسعود صاحب کو سیک سمینار میں آنے سے روک رہے ہیں، وہ ایسا کیوں کر رہے تھے، یہ میری سمجھ سے باہر تھا، تاہم مجھے امید تھی کہ وجاہت مسعود ایک بااصول آدمی ہیں، جب وہ وعدہ کر لیں اور ان کے حوالے سے بار بار فیس بک پر تشہیر بھی ہوچکی ہو تو وہ لازمی شامل ہوں گے۔ ان کے نہ آنے سے مایوسی ہوئی۔ ان کی جانب سے کوئی معذرت کا پیغام بھی دوران سیمینار تو کم از کم موصول نہیں ہوا تھا۔ وجاہت صاحب اگر آ جاتے تو سمینار کو رونق لگتی، مگر شاید ان کی بھی کوئی مجبوری رہی ہوگی۔ جمالیات کے حوالے سے خالد صاحب کو بہت کم وقت ملا، مگر انہوں نے کئی عمدہ نکتے اٹھا کر داد وصول کی۔ ان سے کسی اور نشست میں تفصیل سے بات سننے کی ضرورت ہے۔
عظیم الرحمن عثمانی کا آن لائن سیشن شاندار تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں اتنی متاثر کن گفتگو کم ہی سنی۔ عثمانی بھائی کی زبان میں تاثیر ہے، اللہ انہیں جزائے خیر دے، کمال بولے۔ میں نے وہیں بیٹھے بیٹھے اپنی ایک فیس بک پوسٹ ڈیلیٹ کر دی ان کی باتیں سننے کے بعد۔ انعام رانا کی گفتگو متاثر کن تھی۔ کمنٹس ان کے شگفتہ ہوتے ہیں، مگر انہوں نے نہایت معقولیت سے مدلل گفتگو کی، ایک دو سوالات کے جواب بھی عمدہ دیے۔ انعام رانا نے بھی بہت سوں کو متاثر کیا۔ میرے خیال میں تو عارف انیس ملک کا سیشن بھی شاندار تھا۔ وہ اعلیٰ درجے کے موٹی ویٹر ہیں، اچھا بولے اور ان کا ہپناٹزم کا سیشن بہت اچھا تھا۔ میں نے اسے اچھے طریقے سے کیا اور مجھے خاصا ریلیف محسوس ہوا۔ اتنے دور سے اس قدر بڑے مجمع کو ہپناٹائز کرنا آسان کام نہیں۔ عارف انیس ملک نے کمال کر دکھایا۔ احمد حماد کی شاعری کا سیشن اسلام آباد کی طرح بہت اچھا رہا۔ انہیں شعر کہنا بھی آتا ہے اور پڑھنا بھی۔ اس بار انہوں نے پنجابی بولیوں سے خوب رنگ جمایا۔ بہت اچھا بولے۔
پینل ڈسکشن کے لیے وقت بہت کم ملا، مزا نہیں آ سکا۔ اس کے لیے کچھ زیادہ وقت چاہیے تھا۔ ڈاکٹر رامش نے تو صرف ایک فقرہ بولا، ملتان سے لاہور تک کا سفر ایک فقرے کے لیے۔ سیک سمینار کے لیے ان کا اتنا وقت دینا اچھا لگا۔ عامر ککےزئی نے اپنے مخصوص انداز میں بات کی۔ ہم نے بھی وہی کہا، جو کہتے رہتے ہیں، ڈاکٹر عاصم نےالبتہ عمدہ نکتہ اٹھایا، فرنود عالم کو بھی تفصیل سے بات کرنے کا موقع نہیں ملا۔ اگلے سمینار میں اس سیشن کو زیادہ وقت دینا چاہیے ۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

عامر خاکوانی

Click here to post a comment