ہوم << سرزمین حجاز سے مصر کا سفر (1) - تزئین حسن

سرزمین حجاز سے مصر کا سفر (1) - تزئین حسن

cano_ja_49_tut
ذکر اس پری وش کا اور تیرا بیان غالب
بحر عرب کے ساحلوں سے بحر احمر تک
آوارہ گردی کا یوں تو ہمیں بچپن بلکہ شیرخوارگی کی عمر سے شوق رہا. اسکول کے زمانے میں آوارہ گرد کی ڈائری پڑھی تو یہ دوآتشہ ہوگیا اور ابن بطوطہ بننے کے شوق نے انگریزی اور اردو کا سفر خوب کروایا. ہمارے مالی حالات کبھی قابل رشک نہ رہے مگر وہ جو کہتے ہیں
ع دل والوں کی دور پہنچ ہے ظاہر کی اوقات نہ دیکھ
انگریزی کا محاورہ when there is a will there is a way یعنی جہاں چاہ وہاں راہ ہمارے او پر کچھ زیادہ ہی صادق آتا چلا گیا. دنیا کو بازیچہ اطفال بنانے کے شوق نے سن 2000ء میں بذریعہ قاہرہ یورپ کا سفر کروایا.
بحراحمر کو پار کر کہ مصر پہنچنے کا ہمارا خواب بھی بہت پرانا تھا. زمانہ طالب علمی میں اپنے عمرے کے سفر کے دوران مکّہ مکرّمہ میں بڑی تعداد میں مصریوں کو دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ بحری جہاز کے ذریعہ عمرے اور حج کی ادائیگی کے لیے آتے ہیں. اسی وقت نقشہ کھنگالا گیا تو پتہ چلا سعودی عرب کی بندرگاہ ینبوع سے مصر کا فاصلہ کچھ زیادہ نہیں. اسی وقت سے یہ خواہش بیدار ہوئی کہ بحر احمر کو پار کر کے سنّت موسی پر عمل کی سعادت حاصل کی جائے. گو ان کے تعاقب میں فرعون کی فوج تھی اور ہمیں کوئی ایسی مجبوری لاحق نہیں تھی. ایک عشرے بعد یہ خواہش کچھ اس طرح تکمیل کو پہنچی کے مشیت الہی نے ہمیں بحر عرب کے ساحلوں سے اٹھا کر سزمین حجاز پر مصر کے انتہائی قریبی مقام پر لا پٹخا.
دیکھ ذرا کرتار کہ کھیل
حسن کو سعودی منسٹری آف ہیلتھ میں ایک اچھی آفر ہوئی، سچی بات تو یہ ہے کہ حجاز کی سرزمین پر رہائش ہماری دیرینہ خواہش تھی جس کے لیے ہم عرصے سے بیتاب تھے. حسن نے ہمیں لاکھ سمجھانے کی کوشش کی کہ تم پہلے اپنی پڑھائی مکمّل کرلو پھرچلیں گے. لیکن کعبہ نامی اس حسین قیامت سے پہلی ہی نظر میں جو عشق ہوا، اس 'لوایٹ فرسٹ سائٹ' کے بعد سے اللہ کے گھر نے ہمارے دل میں گھر کر لیا تھا. یہ تصوّر ہی روح کو سرشار کر دینے والا تھا کہ بغیر ویزا اور ائیرٹکٹ کے جب دل چاہے گا محبوب کے گھر جا کر (جو اب بذات خود بہت محبوب ہو گیا تھا) اس سے راز و نیاز کر سکیں گے. اور سچی بات تو یہ بھی ہے کہ مشرق وسطیٰ کی سیاحت کی خواہش جو دل میں انگڑائی لیتی رہتی تھی، وہ بھی اب منہ ہاتھ دھو کر چلنے کے لیے تیار ہو گئی تھی.
حسن کی تعیناتی تبوک میں ہوئی تھی مگر ان کی روانگی کے بعد معلوم ہوا کہ اصل پوسٹنگ تبوک شہر میں نہیں بلکہ ایک قریبی ساحلی شہر میں ہے. انٹرنیٹ سے رجوع کیا، قریب ترین ساحلی شہر ضبا الشمال نامی بندرگاہ جہاں سے مصر کے شہرغردقہ، سفاگا، شرم ا لشیخ اور اردن کی بندرگاہ عقبہ کے لیے جہاز آپریٹ ہوتے ہیں. مکّہ اور مدینہ سے فاصلے کا جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ مدینے کے مقابلے میں بیت المقدس یعنی یروشلم سے فاصلہ قدرے کم ہے. گو فلسطین پر اسرائیلی کنٹرول کے سبب بیت المقدس کا سفر پاکستانی پاسپورٹ پر شدید خواہش کے باوجود تقریباً ناممکن. خصوصا اس صورت میں کہ آپ سعودی عرب میں ملازمت و رہائش رکھتے ہوں.
اور یوں نومبر 2006ء میں ہم اپنے ٹیلی کام PhD کو نامکمّل چھوڑ کر آئی بی اے IBA کی تدریسی ذمہ داریوں سے ایک سال کی طویل رخصت پر بچوں سمیت مملکت کی شمالی سرحد پر واقع اس چھوٹے سے شہر میں آ پہنچے. تبوک کی پہاڑیوں اور دوسری طرف بحر احمر کے درمیاں اس سہانے سے شہر کی چوڑائی محض ڈیڑھ سے دو کلومیٹر اور لمبائی ساحل کے ساتھ ساتھ کوئی مشکل چھ سے آٹھ کلومیٹر، آبادی کوئی 20 سے 25 ہزار تھی.
کراچی کے مقابلے میں خوب کھلی کھلی سڑکیں، صاف پانی، تازہ ہوا، شہر بھر میں صرف دو ٹریفک سگنل. ہم مصطفیٰ کمال کا ادھڑا ہوا زیر تعمیر کراچی چھوڑ کے گئے تھے جہاں گاڑی رینگتی بھی مشکل سے تھی. ایک کراچی والا ہی ہمارے جذبات کا صحیح اندازہ کر سکتا ہے.
ساحل پر واقع ہمارے گھرکے داخلی راستے، کھڑکیوں، چھت اور سیڑھیوں سے سمندر کا نظارہ. گھر کے پیچھے مصنوعی تالابوں، پلے ایریا اور واکنگ ٹریکس سے مزیّن خوبصورت کارنش. ہم نے خواب میں بھی کبھی بحر احمر کو اپنے پچھلے صحن میں نہیں دیکھا تھا.
back-of-my-house-in-duba-tabuk-region-saudi-arabia
اب ضبا پہنچ کر نہ لیکچر تیار کرنے کی مصروفیت، نہ کلاس میں پہنچنے کی جلدی، نہ خوفناک اسائنمنٹس، نہ منتھلی ایگزامز کی تیاری، نہ دقیق ریسرچ پپرز اور نہ پریسنٹشنز اور نہ ہی کانفرنسز. نہ یونیورسٹی جانے سے پہلے کھانا پکانے اور گھر کے کام کاج کی فکر. یعنی ہم یک جنبش طیارہ درس و تدریس کی ذمہ داریوں سے فارغ ہو گئے تھے. یہ اور بات کہ بچوں کے لیے انگلش میڈیم اسکول نہ ہونے کی وجہ سے اپنے ذاتی بچوں کی ہوم اسکولنگ اب ہمارا فریضہ بن گئی. چلیں جی بچوں کو صبح صبح تیار کر کے اسکول بھیجنے کی ذمہ داری اور روز ان کے کپڑوں جوتوں کی فکر بھی ختم.
حسن شہر کے واحد چیسٹ اسپیشلسٹ تھے اور آٹھ گھنٹے کے علاوہ بھی مسلسل کال پر رہتے. یکایک معمول میں تبدیلی سے ہمیں بےخوابی رہنے لگی. کہاں کراچی میں سونے کا وقت نکالنا شہد کی نہر کھودنے کے مترادف تھا اور کہاں رات گزارنا مشکل ہو گیا.
راتوں کو انٹرنیٹ کی تلاوت ہمارا معمول بن گئی. تاریخ کا مطالعہ شروع کیا تو معلوم ہوا کہ یہ علاقہ تاریخی طور پر قرآن میں مذکور مدین کا حصّہ رہا ہے. حضرت موسیٰ (علیہ سلام ) مصر سے پہلی مرتبہ ہجرت کے بعد یہیں مقیم ہوئے. گو مدین کی جغرافیائی حدود کا آغاز دریائے اردن سے ہوتا تھا. کوئی ڈیڑھ سو کلومیٹر شمال میں مقنہ شہر کے نزدیک کچھ کھنڈرات قریہ شعیب یعنی شعیب کی بستی کہلاتے. وہیں ایک کنواں 'عین موسیٰ' جس کے بارے میں مشہور تھا کہ یہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹیوں کی بکریوں کو پانی پلایا. دور سے صحرائے سینا کے پہاڑ بھی نظر آتے.
اور مقنہ سے کوئی پچاس کلومیٹر دور سمندر میں نکلا ہوا خشکی کا ٹکڑا جس کا آخری کنارہ راس حمید کہلاتا. (خشکی کا پانی میں آگے کو نکلا ہوا حصّہ عربی میں راس کہلاتا ہے) یہاں سے مصر اتنا قریب کہ موبائل پہ مصر سے رومنگ سگنل شروع ہوجاتے. صحرائے سینا کے پہاڑ اور وا ضح نظر آتے.
راس حمید سے ایک سمندری پل کے ذریعہ مصر اور سعودی عرب کو خشکی کے راستے ملانے کا منصوبہ، کئی دہائیوں سے اسرائیل کے اعتراض کی وجہ سے التوا کا شکار ہے. صحرائے سینا اور راس حمید کے درمیان طیران اور سنافیر نامی دو جزیرے، سعودی عرب کی ملکیت، مگر بعض افواہوں کے مطابق بین الاقوامی نگرانی کے نام پر اسرائیل کے زیراستعمال ہیں. کوئی تین سو کلومیٹر شمال ہی میں اردن، مصر، سعودی عرب اور فلسطین کی سرحدیں ایک دوسرے کو قطع کرتی ہیں. مکّہ، جدّہ اور مدینہ تینوں جنوب میں الگ الگ لیکن ضبا سے تقریباً آٹھ سو کلومیٹرکی مسافت پر ہیں.
ایک شامی مصنف ڈاکٹر شوق الخلیلی کی ترتیب کردہ اطلس القرآن ( Quranic Atlas ) وغیرہ کے مطالعہ اور خصوصا اس علاقے کا قرآن میں تذکرہ ہونے کے سبب ہماری دلچسپی ارض قرآن میں بڑھتی چلی گئی جو جغرافیائی لحاظ سے ہمیں گھیرے ہوئے تھا. ہمارا سارا سال اردن، مقبوضہ فلسطین اور اس سے آگے شام ترکی اور بحراحمرکے پار مصر کی سیاحت کے خواب دیکھتے گزر گیا. ان میں مصر اور اردن جو ہم سے صرف تین سو کلو میٹر کے فاصلے پر تھے، کی سیاحت کا زیادہ اشتیاق رہا.
egyptian_museum_366
ایک نوزائیدہ سعودی سیاحتی چینل پر مسلسل مصر کی ایک ٹریول ڈاکیومنٹری میں جنوبی مصر میں موجود فراعنہ کے مقابر اور عالیشان مندر، قاہرہ کی اسلامی دور کی مسجدیں اور قلعے، اسکندریہ کے یونانی اور رومی ادوار کے کھنڈرات دیکھ کر ہمارا دل للچانے لگتا. اور ہم نے مصمم ارادہ کر لیا کہ مصر کا ایک تفصیلی دورہ ضرور کرنا ہے اور اس دفعہ کندھوں پر سامان لاد کر بنجاروں کی طرح یعنی بیک پیکنگ ٹرپ کی صورت کرنا ہے.
حسن ابتدا میں بچوں کے ساتھ اس نوعیت کی آوارہ گردی کے لیے راضی نہیں تھے. ان کا کہنا تھا کہ سیاحت کا شوق مجھے بھی ہے مگر میں تمہاری طرح دیوانہ نہیں ہوں. ہم کیا جواب دیتے، انشا جی پہلے ہی ہمارے لیے کہہ گئے تھے
ع دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانہ کیا
بدقت تمام سال کے آخر تک حسن راضی ہو ہی گئے اور اس سے قبل کامیابی کی امید پر ہم مصر کے قا بل دید مقامات کے تاریخی تذکرہ اور سیا حتی احوال وغیرہ کا اپنا ہوم ورک تقریباً مکمّل کر چکے تھے. سفر کا پلان بھی تیار تھا جس کے مطابق ضبا سے غردقہ، وہاں سے قاہرہ اور قاہرہ سے اسکندریہ اور پھرغردقہ واپسی شامل تھے، لیکن سمندر پار کے مختصر سفر سے پیشتر ساڑھے آٹھ سو کلومیٹر دور جدّہ جا کر ویزا لینا بھی ضروری تھا.
چلیے آپ بھی کیا یاد کریں گے. آپ کو بھی مصر نامی اس حسینہ سے ملواتے ہیں جس نے اپنے عجائبات سے تمام عالم کو ہزاروں سال سے اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے.
ع ذکر اس پری وش کا اور تیرا بیان غالب

Comments

Click here to post a comment