سارے مسائل کا حل نظام خلافت میں ہی ہے -حبیب الرحمن

1958 کے بعد سے تا حال، یوں لگتا ہے کہ جمہوریت ہمیں چھو کر بھی نہیں گزری۔ جو حکمران بھی آتا ہے، خواہ وردی والا ہو یا سادے لباس والا، اس کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ اس کے منھ سے نکلا ہوا ہر لفظ "قانون" مانا جائے۔ ایوب خان تو خیر سے آئے ہی آئین و قانون کی سارے بندھنوں کو توڑ کر تھے اس لئے ان سے اگر کوئی...