قانون توہینِ مذہب، ہم اورادارے-اظہر عباس

معاشرہ دو انتہاؤں میں بٹا ہوا ہے۔ ایک انتہا پر دانشوری کے دعویدار لبرلز اور سیکولرزکھڑے ہیں جو مذہب بیزار ہیں. کائنات کی روحانی تعبیر ان کے لیے غیر ضروری بلکہ مضحکہ خیز ہے۔ وہ ہر سوال کا جواب مادے اور توانائی کی زنبیل سے ڈھونڈنے میں کوشاں ہیں۔ مذہب کی تضحیک ان کا مشغلہ ہے۔ یہ خرد کو مشعلِ راہ نہیں...