مجرم ماں باپ ہیں – احسان کوہاٹی

اس نے اپنا مہنگا سیل فون جیب سے نکالا، اس کے بٹنوں سے چھیڑچھاڑ کی اور پھر اسے سیلانی کی جانب بڑھا دیا۔ سیلانی نے فون لینے سے پہلے اس کی طرف وضاحت طلب نظروں سے دیکھا کہ میں اس فون کا کیا کروں؟ ’’دیکھیں تو سہی اس میں سے کوئی بھوت نہیں نکل آئے گا‘‘ اس نے بے تکلفی سے کہا اور سیلانی نے فون ہاتھ میں لے...

error: اس صفحے کو شیئر کیجیے!