اس خواب کی تقدیر میں تعبیر نہیں کیا - مہوش کرن

جب سے ہوش سنبھالا ہے یہی خبر دیکھتی اور سنتی آرہی ہوں۔ اتنے سال بیت گئے لیکن خبریں وہی رہیں، میرے بچپن سے میری اولاد کے بچپن تک کا سفر لیکن ا ±ن سب کا سفر لامتناہی اور موت طلب ہی رہا۔جا بجا بکھری ہوئی خون میں نہلائی ہوئی لاشیں نگاہوں میں گھومتی ہیں۔ کوئی لال، کوئی ہری، کوئی سفید چادر یا میرے ہی وطن...