ماہِ صیام – صہیب اکرام

آگیا آخر وہ ماہِ حاملِ صد احترام مضطرب تھے جس کے استقبال کو سب خاص و عام ہر زباں باندھے ہوئے احرامِ ورد و ذکر ہے ہر دلِ بیدار کو بس عاقبت کی فکر ہے تیرگی گویا مقید ہے حصارِ نور میں روشنی ہی روشنی ہے اب شبِ دیجور میں ساحلِ رحمت پہ وہ دیکھو مزید پڑھیں

‘ لا حاصل’ – فرحان سعید خان

ہزار شب کی طویل عمری تمہاری چوکھٹ پہ ہار کر بھی اس ایک لمحے کا قرض شاید کبھی بھی تجھ کو چکا نہ پاؤں جو تیری قربت میں سنگ تیرےبیتا چکا ہوں جو بن کے جوگی تیری تپسیا میں اپنا جیون تیاگ بھی دوں تو جب بھی میری سبھی یہ کاوش فقط لاحاصل۔۔۔ فقط لاحاصل۔۔۔

نظم : مجھے بھائی جیسا پڑھا میرے بابا – سردار فہد

شاعر: سردارفہد ‏کہتا رہا اس کو سارا زمانہ کہ بیٹی کو اپنی کبھی مت پڑھانا کہ ہے اس کی دنیا میں اک بند کمرا کبھی جھاڑو دینا ہے کھانا پکانا وہ باہر کی دنیا میں اب کیا کرے گی وہ کیوں علم سیکھے گی کیوں کر پڑھے گی سلائی کڑھائی سکھا دینا اس کو کتابوں مزید پڑھیں

یہ حلب رو رہا ہے – مبارک بدری

ہر سمت سے صدائیں کیسی یہ آرہی ہیں ہر کوئی سن رہا ہے ہر کوئی پوچھتا ہے کہنا کہ ایک ظالم ایسا بھی ہے جہاں میں معصوم روح کو بھی جو بخشتا نہیں ہے اور یہ صدائیں شستہ جو سن رہے ہو تم سب مظلوم کی بکا ہے یہ حلب کی صدا ہے یہ حلب مزید پڑھیں

ایسے کچھ لوگ بھی مٹی پہ اتارے جائیں – حسان احمد اعوان

ایسے کُچھ لوگ بھی مٹی پہ اُتارے جائیں دیکھ کر جن کو خدوخال سنوارے جائیں ایک ہی وصل کی تاثیر رہے گی قائم کون چاہے گا یہاں سال گزارے جائیں تیرے مژگاں ہیں کہ صُورت کوئی قوسین کی ہے درمیاں آکے کہیں لوگ نہ مارے جائیں اِک جُنوں ہے کہ تُجھے پانا ہے دُنیا میں مزید پڑھیں

بھول یا بھول بھلیاں؟ فرح رضوان

ایک سے بڑھ کر ہر اک کوڑھ مغز بھنبھناتا ہوا بھنورا ہو یا گستاخ مگس سب کا کہنا ہے، ہمیں بھول کی ہے بیماری سینت کے رکھی ہوئی چیز نہ مل پائے کبھی بیچاری ہم جو کہتے ہیں کہ یہ عمر کا تقاضا ہے کیا کبھی یوں ہی سہی، گذرے کل میں جھانکا ہے؟ بھول مزید پڑھیں

سیہون – ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

اک شاپر گوشت ملا ہے کچلی ہوئی امیدوں کا درد میں ڈوبی روحوں کے دم توڑتے نوحوں کا اک بوتل تھی ٹوٹ گئی ہے منت کے روغن میں لپٹی امیدیں بھی چھوٹ گئی ہیں میرا بچہ چھوٹا سا تھا خالی فیڈر صحن سے ملا ہے باقی کچھ بھی باقی نہیں ہے وہ بابا کھچڑی بالوں مزید پڑھیں

کیا تمھیں ضرورت ہے؟ ام ربیعہ

زندگی کے میلے کے بے کراں سمندر میں پرسکون اجالوں اور رات کے اندھیروں میں اک حقیقی عشق کی کیا تمھیں ضرورت ہے؟ چاہ کی ضرورت ہو یا سرد تیرے جذبے ہوں، مہکے من میں چپکے سے خواہشیں انگڑائی لیں، دھوپ ہو کہ چھاؤں ہو یا اوس ہو فضاؤں میں بارشوں کا شور ہو یا مزید پڑھیں

خالی کتنا بادل ہے – سمیرا غزل

عشق کے فسانے میں حسن زہر قاتل ہے پھر قیاس ہے مجنوں لیلی غیر عامل ہے کس قدر گرجتا ہے خالی کتنا بادل ہے روح بھی ہے شرمندہ جسم کتنا کاہل ہے پیار کا بس اک لمحہ زندگی کا حاصل ہے بالکل سرمد جیسا ہے دل بھی خود سے غافل ہے جذبہ کتنا سچا ہے مزید پڑھیں

پیارے بچے- حیا مسکان

بچے ہیں سارےہی پیارے آتے ہیں وہ کام بڑوِں کے محنت سے نہ جی ہیں چراتے اپنی دھن کے وہ ایسے پکے مشکل کام سے نہ گھبراتے مدد کو ہر دم وہ تیار رہتے من کے ہیں وہ ایسےسچے بات جو سچی ہو وہ کہتے جھوٹ وہ کبھی نہ بولتے لڑائ جو ہو کسی سے مزید پڑھیں