عبث ہے شکوہ کہ اس ملک کا دستور یہی ہے – راؤ صمد

وہ اپنے والدین کا بہت ہی لاڈلا بیٹا تھا۔ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا، اس لیے والدین نے بہت سی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں اور اسے اس بات کا احساس بھی تھا ۔ وہ چاہتا تھا کہ جلد کسی جگہ سیٹ ہو اور اپنے بیمار والد کو آرام کروا سکے ، مزید پڑھیں

بڑے چوہدری کی پیشگوئی – تاج رحیم

نام تو اس کا عبدالرشید تھامگر نجانے سکول میں سب اسے “گاندھی” کیوں کہتے تھے؟ قد چھوٹا تھا مگر باتونی بہت تھا۔ میٹرک کے بعد اس نے مال روڈ پر کنڈا والا شو روم میں نوکری کرلی۔ جبکہ ہمارے گروپ کے دوسرے دوستوں نے لاہور کے مختلف کالجوں میں داخلے لے لئے۔ یہ 1957ء کا مزید پڑھیں

تین مائیں – طلحہ ادریس

ایک بڑھیا پانی کا گھڑا سر پرا ٹھائے کنویں کی طرف چلی جارہی تھی۔ اُس روز ذرا تاخیر ہوگئی تھی۔ گھر سے نکلتے ہی تین خواتین اور بھی اُن کے ہمراہ ہوگئیں۔ بڑھیا کو سب بڑے چھوٹے خالہ کہا کرتے تھے۔ گاؤں میں چونکہ پانی دستیاب نہ تھا، اِسی لیے خواتین دیگر بہت سے کاموں مزید پڑھیں

خدا کا جواب – لالہ صحرائی

ایک خاتون اپنی ڈیوٹی پر تھی جب اسے گھر سے فون کال موصول ہوئی کہ آپ کی بیٹی سخت علیل ہے، اچانک اسے بخار ہوگیا ہے جو لمحہ بہ لمحہ تیزتر ہوتا جا رہا ہے۔ خاتون گھر کے لیے روانہ ہوئی اور راستے میں ایک فارمیسی پر دوا لینے کے لیے رک گئی، جب واپس مزید پڑھیں

عمر عبداللہ! تیرے عشق کے نصیب – سائرہ ممتاز

منزلوں کے راستے سیدھے ہوں تو زمین قدموں کو گھسیٹتی نہیں بلکہ خود سمٹ سمٹ کر فاصلہ دوگام کرتی جاتی ہے. راہی روہی راستہ، رستگاری، ہشیاری سب عدم سے معدوم اور معدوم سے معلوم کی منزلیں قرار پاتی ہیں. ڈوب ڈوب کر ابھرنے والے تیرنا سیکھ جاتے ہیں اور درد کو دوائے دل بنانے والے مزید پڑھیں

سلامتی – عالیہ ذوالقرنین

“پٹاخ” کی زور دار آواز کے ساتھ فرخ کا پھینکا ھوا پٹاخہ گلی سے گزرنے والے کتے کے پاؤں کے پاس پھٹا اور وہ درد ناک آواز نکالتا اور لنگڑاتا ہوا ایک طرف بھاگا ۔ فرخ اور اس کے شرارتی دوست مل کر اس منظر سے لطف اندوز ہوئے اور ایک دوسرے کے ہاتھ پر مزید پڑھیں

خاموش شامیں ! – فاروق حیدر

ہم ایک شام کھیل رہے تھے کہ کسی نے معاً پکارا ۔ پلٹ کر دیکھا تو ابو جان کھڑے تھے ۔ ان کے چہرے پہپھیلی پریشانی دیکھ کر کچھ تعجب سا ہوا ۔ اگلے ہی لمحے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک کار ہمارے گھر کے سامنے آ کر رکی۔ سفید رنگت کی کار۔ ۔ ۔ مزید پڑھیں

پردہ- امبر اشفاق

“اماں مجھے ہر وقت مجبور نہ کیا کریں۔ میری دوستیں سر پہ دوپٹہ بھی نہیں لیتیں، میں تو سکارف پہن کر جاتی ہوں۔ اس سے زیادہ میرے بس میں نہیں ہے۔ میں نے اس کو بھی اتار دینا ہے۔ لوگوں کی باتیں مجھے سننی پڑتی ہیں۔ اب میں برقعہ کسی صورت نہ ڈالوں گی۔ پردہ مزید پڑھیں

پاگل – تاج رحیم

پارک کے ایک کنارے اس گلی میں صرف تین گھر ہیں۔ ڈاکٹر عبداللہ صاحب کا چار کنال پر ایک عالیشان گھر، اس کے سامنے اللہ یار خان پٹواری مرحوم کی بیوہ کا ایک کنال پر گھر اور جہاں گلی بند ہوتی ہے اس گلی کی چوڑائی پر مولوی عبدالغنی کا دو کمروں پر مشتمل گھر مزید پڑھیں

خواہش – سخاوت حسین

تھوڑی دیر میں ٹرین آنے والی تھی۔ وقت بدلا تھا نہ اس کے حالات۔ گھر پر دو بچے بھوک سے بے تاب ہو کر اس کا انتظار کر رہے تھے۔ غربت کے ہاتھوں تنگ آکر وہ شہر چھوڑ کر قریبی بستی میں آگیا تھا، جہاں ہر طرف غربت ہی غربت نظر آتی تھی۔ اس کے مزید پڑھیں