بصیرت سے بصارت تک - ثناء آغا

چل بلھیا، چل اوتھے چلیے جتھے سارے اَنّے. نہ کوئی ساڈی ذات پچھانڑے نہ کوئی سانوں منّے شاید ہی اس جہاں میں اب کوئی کوچا ایسا رہا ہوگا جہاں آنکھیں رکھنے والے دیکھتے بھی ہونگے۔دیکھنے والے محسوس بھی کرتے ہوں گے اور محسوس کرکے غلط اور صحیح کے درمیان میزان بھی بنتے ہوں گے۔ہمارا معاشرہ پتا نہیں کس رخ چل...