انسان روزانہ بے شمار کام کرتا ہے۔ روزی کمانا، گھر سنبھالنا، بچوں کی ضرورتیں پوری کرنا اور تھکن کے بعد آرام کرنا زندگی کے معمولات ہیں۔ انہی کاموں میں اجر کے مواقع بھی پوشیدہ ہیں، بشرطیکہ انسان انہیں اللہ کی رضا سے وابستہ کرلے۔ نیت کی درستی معمول کے عمل کو بندگی کا مفہوم عطا کرتی ہے اور زندگی کی مصروفیات کو بامقصد بناتی ہے۔ اس احساس کے ساتھ ذمہ داریاں بوجھ محسوس ہونے کے بجائے نیکی کا موقع بن سکتی ہیں۔ یوں عبادت کا تعلق انسان کے پورے طرز زندگی سے قائم ہوجاتا ہے۔
6 نومبر 2026ء کو مسجد الحرام میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر ماہر بن حمد المعیقلی نے اسی حقیقت کو موضوع بنایا۔ انہوں نے تقویٰ کو بہترین زاد راہ اور آخرت کی کامیابی کا وسیلہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اللہ نے بندوں کے لیے بھلائی کے بے شمار راستے کھولے ہیں۔ ان راستوں سے فائدہ اٹھانے میں نیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ انسان اپنے عمل کا مقصد درست کرلے تو روزمرہ زندگی میں بھی اجر کے ایسے مواقع دیکھ سکتا ہے جن سے وہ پہلے غافل تھا۔کسی عمل کی ظاہری صورت اس کی پوری قدر متعین نہیں کرتی۔ ایک معمولی کام اخلاص کے باعث بڑی نیکی بن سکتا ہے، جبکہ بظاہر عظیم خدمت نیت کی خرابی سے بے ثمر رہ سکتی ہے۔ اس لیے عمل سے پہلے اپنے دل کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ اس کوشش کا مطلوب کیا ہے۔ اللہ کی خوشنودی مقصود ہو تو کام کی نوعیت کے ساتھ اس کی ادائیگی کا طریقہ بھی اہم ہوجاتا ہے۔ نیک نیت انسان کو اپنی ذمہ داری زیادہ دیانت، توجہ اور خوش دلی سے نبھانے کی طرف مائل کرتی ہے۔
نیت کی برکت اس وقت بھی ظاہر ہوتی ہے جب کوئی حقیقی عذر انسان کو نیکی سے روک دے۔ بیماری یا سفر کے باعث معمول کی عبادت جاری نہ رہ سکے تو بندہ اس نیک کام کے اجر سے محروم نہیں ہوتا جو صحت اور قیام کی حالت میں اس کا معمول تھا۔ یہ اللہ کی رحمت کا مظہر اور نیکی پر پابندی کی ترغیب ہے۔ انسان صحت اور فرصت کو غنیمت جانے، اپنی زندگی میں اچھے معمولات قائم کرے اور مجبوری آنے پر اللہ کے فضل سے امید رکھے۔ سچی رغبت کی قدر اللہ تعالی کے ہاں محفوظ رہتی ہے۔عبادت کا وسیع تصور مسلمان کو اپنی پوری زندگی اللہ کی بندگی کے تابع کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ نماز، روزہ، حج اور زکوٰۃ اپنی جگہ بنیادی فرائض ہیں، مگر ان کے ساتھ جائز روزمرہ کام بھی نیک مقصد سے باعث اجر بن سکتے ہیں۔ اس کی خوب صورت مثال صحابہ کی زندگی میں ملتی ہے۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری مختلف حالتوں میں تلاوت کرتے تھے، جبکہ سیدنا معاذ بن جبل اپنے آرام پر بھی اجر کی امید رکھتے تھے۔ ان کی نیت یہ تھی کہ نیند سے تازگی حاصل کرکے رات کی عبادت بہتر طور پر ادا کر سکوں گا۔
اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ آرام اور مصروفیت دونوں کو نیک مقصد سے جوڑا جاسکتا ہے۔ جسم کو اس کا حق دینا اگلی ذمہ داری کی تیاری بھی ہے۔ تاہم محض نیت کا دعویٰ کافی نہیں؛ عمل جائز ہو اور انسان اپنے فرائض سے غافل نہ ہو۔ نیت کی اصلاح کا مطلب زندگی کے موجودہ کاموں میں خیر کا شعور پیدا کرنا ہے۔ گھر، ملازمت اور معاشرتی تعلقات میں یہی شعور انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اس کی محنت کی قدر صرف لوگوں کی نظر میں طے نہیں ہوتی۔دوسروں کی خدمت میں اخلاص اور ایثار کی اہمیت بیان کرتے ہوئے امامِ کعبہ نے ایک انصاری صحابی اور ان کی اہلیہ کا واقعہ پیش کیا۔ ایک بھوکے مہمان کے لیے ان کے گھر میں صرف بچوں کے حصے کا تھوڑا سا کھانا تھا۔ انہوں نے بچوں کو بہلا کر سلایا اور چراغ بجھا دیا تاکہ مہمان کو ان کے ساتھ کھانا نہ کھانے کا احساس نہ ہو۔ دونوں خود بھوکے رہے اور مہمان کو کھلا دیا۔ اس واقعے میں اپنی ضرورت کے باوجود دوسرے کو ترجیح دینے اور اس کی عزت نفس کا خیال رکھنے کی تعلیم ہے۔
اہل و عیال پر خرچ بھی نیک نیت سے صدقے کا اجر پاتا ہے۔ گھر کا راشن، بچوں کی ضرورتیں اور شریک حیات کی آسائش کے لیے خرچ ہونے والی رقم انسان کی ذمہ داری ہے، مگر اللہ کی رضا مطلوب ہو تو یہی ادائیگی نیکی بن جاتی ہے۔ محبت سے کھلایا جانے والا لقمہ بھی اس دائرے میں شامل ہے۔ یوں خاندان کی کفالت کرنے والا شخص اپنی محنت کو محض اخراجات پورے کرنے کی دوڑ سمجھنے کے بجائے خدمت اور بندگی کا موقع جانتا ہے۔خاندانی زندگی میں اجر کے مواقع مالی ضرورتوں سے آگے بھی پھیلے ہوئے ہیں۔ خوش اخلاقی، اچھی بات، حسن معاشرت اور ایک دوسرے کی بھلائی کے لیے کوشش رشتوں کو مضبوط کرتی ہے۔ جائز ازدواجی تعلق بھی پاک دامنی اور حلال راستہ اختیار کرنے کی نیت سے باعث اجر بنتا ہے۔ یہ تصور انسان کی فطری ضرورتوں اور دینی ذمہ داریوں میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔ گھر کے اندر محبت اور ذمہ داری کا جو اظہار بظاہر معمولی دکھائی دیتا ہے، وہ اخلاص کے ساتھ اللہ کے قرب کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
نیکی کی اس روح کو لوگوں کی تعریف کا انتظار کمزور کردیتا ہے۔ بعض لوگ خدمت میں وقت، مال اور صلاحیتیں صرف کرتے ہیں، لیکن اعتراف نہ ملے تو دل برداشتہ ہوجاتے ہیں۔ شکریے کی خواہش رفتہ رفتہ اتنی غالب آجاتی ہے کہ بھلائی کا سلسلہ رک جاتا ہے۔ خطیب محترم نے اس محرومی سے بچنے کے لیے اجر کی امید اللہ سے وابستہ رکھنے کی تاکید کی۔ لوگوں کی توجہ محدود اور رویے بدلتے رہتے ہیں، مگر اللہ کسی نیک عمل کو ضائع نہیں کرتا۔ یہ یقین خدمت کے جذبے کو دوسروں کے ردعمل سے محفوظ رکھتا ہے۔خطبے کے دوسرے حصے میں بیماری، پریشانی اور عزیزوں کی جدائی جیسی آزمائشوں کا ذکر ہوا۔ ایسے وقت میں صبر، اللہ سے حسن ظن اور اجر کی امید مومن کا سہارا ہیں۔ تکلیف، تھکن، فکر اور غم، حتیٰ کہ معمولی اذیت بھی گناہوں کی معافی کا سبب بن جاتی ہے۔ محبوب چیز کی جدائی پر اجر کی امید کے ساتھ صبر کرنے والے کے لیے عظیم انعام ہے۔ دکھ کے لمحوں میں یہ یقین انسان کو اپنی بے بسی کے باوجود امید قائم رکھنے اور اللہ کی رحمت سے تعلق مضبوط کرنے کی قوت دیتا ہے۔
صبر کے ساتھ مشکلات سے نکلنے کی تدبیر بھی ضروری ہے۔ بیماری میں علاج، پریشانی میں مناسب کوشش اور ضرورت کے وقت مدد حاصل کرنا امید کے عملی تقاضے ہیں۔ انسان آزمائش کو اللہ سے بدگمانی اور مایوسی کا سبب بنانے کے بجائے اس کی رحمت پر بھروسا رکھے۔ دنیا کی نعمتیں عارضی ہیں اور یہاں کی تکلیفیں بھی ہمیشہ نہیں رہتیں۔ آخرت کا اجر پائیدار اور اللہ کی رضا سب سے بڑی کامیابی ہے۔ یہ تقابل مصیبت کی شدت میں بندے کو اپنے انجام کی طرف دیکھنے کا حوصلہ دیتا ہے۔
امامِ کعبہ کے اس پیغام پر عمل کا آغاز اپنے روزمرہ کاموں کے مقصد کو درست کرنے سے ہوتا ہے۔ گھر کی خدمت، رزق کی کوشش، آرام اور آزمائش میں صبر کو اللہ کی رضا سے جوڑ لیا جائے تو زندگی میں نیکی کے مواقع بڑھ جاتے ہیں۔ نیت کی مسلسل نگہداشت انسان کو ہر ذمہ داری میں بندگی کا راستہ دکھاتی ہے۔



تبصرہ لکھیے