انسان کی زندگی کا رخ متعین کرنے میں دل بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ نیکی کی رغبت ہو یا برائی کی طرف میلان، اللہ کی اطاعت ہو یا خواہشات کی پیروی، ان سب کا تعلق دل کی کیفیت سے ہے۔ جس دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور عظمت رچ بس جائے، اس کے لیے نیکی کی راہیں آسان اور گناہوں سے بچنا سہل ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس جب دل دنیا کی محبت اور خواہشات کا اسیر بن جائے تو انسان ظاہری خوش حالی کے باوجود سکون سے محروم رہتا ہے۔
دل کی اسی اہمیت، اس کی اصلاح کے اسباب اور عملی تقاضوں پر مسجد الحرام، مکہ مکرمہ میں 30 اکتوبر 2026ء کو پروفیسر ڈاکٹر اسامہ بن عبداللہ خیاط نے خطبۂ جمعہ میں روشنی ڈالی۔خطیب محترم نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کے ہر عضو کو ایک خاص صلاحیت عطا فرمائی ہے۔ آنکھ دیکھنے، کان سننے اور زبان بولنے کے لیے ہے۔ جب کوئی عضو اپنی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے تو انسان اس کی کمی محسوس کرتا ہے۔ دل کا معاملہ ان سب سے بڑھ کر ہے، کیونکہ اس کی درستگی یا خرابی کے اثرات انسان کے پورے کردار پر مرتب ہوتے ہیں۔ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ انسانی جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ درست ہوجائے تو پورا جسم درست ہوجاتا ہے اور اگر وہ بگڑ جائے تو پورا جسم بگڑ جاتا ہے۔ یاد رکھو! وہ دل ہے۔دل کی حقیقی زندگی اللہ تعالیٰ کی معرفت اور محبت میں ہے۔ اپنے رب کو پہچاننا، اس کی طرف رجوع کرنا، اس کے قرب کی آرزو رکھنا اور اس کے ذکر سے اطمینان پانا ہی دل کی اصل خوشی ہے۔
دنیا کی کوئی لذت اللہ کی محبت سے حاصل ہونے والی راحت کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔ یہی وہ نعمت ہے جسے دنیا کی جنت کہا جاسکتا ہے، جبکہ آخرت کی سب سے بڑی سعادت جنت میں اللہ تعالیٰ کا دیدار اور اس کی رضا کا حصول ہے۔اللہ کی محبت دلی ٹھنڈک اور روحانی راحت ہے۔ جس دل میں یہ محبت نہ ہو، وہ اپنی حقیقی زندگی سے محروم رہتا ہے۔ بلکہ اللہ کی معرفت اور محبت سے خالی دل کی حالت اس بے جان جسم سے بھی بدتر ہے جس سے روح نکل چکی ہو۔ تاہم اس محرومی کا احساس اسی شخص کو ہوسکتا ہے جس کا دل زندہ ہو۔ مردہ جسم کو زخم کی تکلیف کہاں محسوس ہوتی ہے!چونکہ دل کی درستگی ہی انسان کی اصلاح، ہدایت اور ہر بھلائی کی بنیاد ہے، اس لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ دل کو استقامت کیسے نصیب ہوتی ہے۔ خطیب محترم نے اس سلسلے میں دو بنیادی اسباب بیان کیے۔پہلا سبب اللہ کی محبت کو ہر محبت پر مقدم رکھے۔ چنانچہ دنیا میں انسان کو بہت سی چیزیں عزیز ہوتی ہیں، لیکن جب اس کی اپنی پسند اور اللہ کی رضا میں ٹکراؤ پیدا ہوجائے تو وہ اللہ کی رضا کو ترجیح دے۔ یہی سچی محبت کا تقاضا ہے۔
اپنی خواہشات کو اللہ کے حکم پر مقدم رکھنے والا شخص بالآخر انہی خواہشات کے ہاتھوں پریشان ہوتا ہے۔ جن چیزوں کو وہ خوشی اور اطمینان کا ذریعہ سمجھتا ہے، وہی اس کے لیے بے چینی اور محرومی کا سبب بن جاتی ہیں۔انسان جس چیز کی محبت میں حد سے بڑھ جائے، وہ اس کے لیے آزمائش بن جاتی ہے۔ جس کے خوف کو اپنے دل پر غالب کرلے، اسی کا خوف اس پر مسلط ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اللہ سے غافل کردینے والی مصروفیات بالآخر اس کے لیے وبال بن جاتی ہیں۔ اس کے برعکس اللہ کی محبت، مسلسل ذکر الہی، اسی سے امید رکھنا اور اسی پر بھروسا کرنا ایسی نعمتیں ہیں جن کا دنیا کی کسی آسائش سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔امام ابن قیمؒ نے اس حقیقت کو خوب صورتی سے بیان کیا ہے کہ جس شخص کو اللہ کی محبت سے دل کا سکون نصیب ہو جائے، وہ دوسروں کے لیے بھی راحت کا باعث بنتا ہے۔ لیکن جس کا دل اس نعمت سے محروم ہو، وہ دنیا کی حسرتوں میں گھلتا رہتا ہے۔ اصل کامیابی ہر خواہش پوری ہونے میں نہیں، بلکہ دل کے اپنے رب کی محبت سے مطمئن ہونے میں ہے۔
دوسرا سبب اللہ تعالیٰ کے احکام اور اس کی مقرر کردہ حدود کی عظمت دل میں بٹھائیں۔ انسان جس قدر اپنے رب کی عظمت پہچانے گا، اسی قدر اس کے احکام کو اہمیت دے گا اور نافرمانی سے بچے گا۔ اللہ تعالیٰ نے سیدنا نوح ؑ کی زبان سے ان کی قوم کو متوجہ فرمایا کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی عظمت کا لحاظ نہیں رکھتے؟یہ سوال ہمیں بھی اپنے طرزِ زندگی پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ کیا ہم اللہ کے احکام کو وہ اہمیت دیتے ہیں جس کے وہ مستحق ہیں؟ کیا ہمارے فیصلوں اور معاملات میں اللہ کی رضا کو بنیادی حیثیت حاصل ہے؟رسول اللہؐ کی بعثت کا تقاضا یہی ہے کہ انسان اللہ کے احکام کے سامنے سر تسلیم خم کرے، نبوی ہدایات پر عمل کرے اور ممنوعات سے بچے۔ یہی سچے ایمان، درست عقیدے اور شرک سے بیزاری کی علامت ہے۔ تاہم صرف ظاہری نیکی کافی نہیں، بلکہ نیت بھی درست ہونی چاہیے۔بعض لوگ معاشرے میں اپنی عزت برقرار رکھنے، دوسروں کی نظروں میں اچھا بننے یا دنیاوی نقصان سے بچنے کے لیے نیکی کرتے اور برائی سے رکتے ہیں۔ بظاہر ان کا عمل درست ہوتا ہے، لیکن اس کے پیچھے اللہ کی رضا کے بجائے ذاتی مفاد کارفرما ہوتا ہے۔
ایسی نیکی اخلاص کے تقاضے پر پوری نہیں اترتی۔ عمل کی قبولیت کے لیے ضروری ہے کہ وہ خالص اللہ کی رضا کے لیے اور رسول اللہؐ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ہو۔دوسرے خطبے میں ڈاکٹر اسامہ خیاط نے واضح کیا کہ اللہ کے احکام کی عظمت محض زبانی دعوے سے ثابت نہیں ہوتی، بلکہ انسان کے عملی رویے سے اس کا اندازہ ہوتا ہے۔ جو شخص اللہ کے احکام کو اہم سمجھتا ہے، وہ ان کے مقررہ اوقات، حدود، ارکان اور واجبات کی پابندی کرتا ہے۔ نیکی کا موقع ملے تو اسے غنیمت جانتا ہے اور کسی عبادت یا اس کی فضیلت سے محروم رہ جائے تو افسوس کرتا ہے۔اس کی نمایاں مثال نماز ہے۔ جس شخص کے دل میں نماز کی اہمیت ہو، اسے جماعت چھوٹ جانے پر دکھ ہوتا ہے، کیونکہ باجماعت نماز کا اجر انفرادی نماز سے ستائیس درجے زیادہ ہے۔ اسی طرح نماز کے ابتدائی وقت، پہلی صف اور مسجد تک پیدل جانے کی فضیلت سے محرومی بھی اسے محسوس ہوتی ہے۔ رسول اللہؐ نے بتایا ہے کہ مسجد کی طرف اٹھنے والے ہر قدم پر اللہ تعالیٰ بندے کا ایک درجہ بلند فرماتا اور اس کی ایک خطا معاف کرتا ہے۔
نماز میں خشوع اور دل کی حاضری بھی نہایت اہم ہے۔ خشوع سے خالی نماز اس جسم کی مانند ہے جس میں روح نہ ہو۔ اگرچہ اس سے فرض ادا ہوسکتا ہے، لیکن نمازی اپنے اجر کے بڑے حصے سے محروم رہ سکتا ہے۔ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ بعض لوگوں کو ان کی نماز کا صرف دسواں، نواں، آٹھواں، ساتواں، چھٹا، پانچواں، چوتھا، تیسرا یا نصف اجر ملتا ہے۔ اس لیے نماز صرف ادا کرنا کافی نہیں، بلکہ اسے پوری توجہ اور خشوع کے ساتھ پڑھنا چاہیے۔دل کی استقامت محض نیکی کی خواہش کا نام نہیں، بلکہ اس کا حقیقی اظہار انسان کے اعمال اور فیصلوں میں ہوتا ہے۔ جس دل میں اللہ کی محبت اور عظمت جاگزیں ہو، وہ عبادت میں کوتاہی کو معمولی نہیں سمجھتا، نیکی کے مواقع ضائع ہونے پر افسوس کرتا ہے اور اپنی خواہشات کو اللہ کے احکام پر ترجیح نہیں دیتا۔ ایسے شخص کے لیے عبادت محض ذمہ داری نہیں رہتی، بلکہ اپنے رب کی رضا حاصل کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
خطیب محترم کی گفتگو کا حاصل یہ تھا کہ دل کی اصلاح کے لیے دو باتیں ناگزیر ہیں: اللہ تعالیٰ کی محبت کو ہر دوسری محبت پر مقدم رکھنا اور اس کے احکام و ممنوعات کی عظمت دل میں بٹھانا۔ ان دونوں اصولوں پر عمل سے انسان کی سوچ اور کردار سنورتے ہیں، زندگی میں اطمینان پیدا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا راستہ کھلتا ہے۔ یہی استقامتِ قلب کے بنیادی اسباب ہیں اور انہی کے عملی تقاضوں کی تکمیل میں دنیا کی خوش گواری اور آخرت کی کامیابی پوشیدہ ہے۔



تبصرہ لکھیے