انصاف کا مطالبہ ہر زبان پر ہے، مگر اس کا اصل امتحان وہاں ہوتا ہے جہاں اپنا مفاد، پسندیدہ رشتہ یا ذاتی غصہ سامنے آجائے۔ دوسروں سے حق مانگنا آسان ہے، اپنے اختیار میں موجود حق کسی کمزور کو دینا کردار کی آزمائش ہے۔ معاشرہ اسی وقت پُرامن بنتا ہے جب انصاف عدالت کی عمارت سے نکل کر گھر، بازار، دفتر اور باہمی گفتگو تک پہنچے۔ قانون کی بالادستی، رشتوں کی مضبوطی اور اختلاف میں شائستگی ایک ہی اخلاقی بنیاد سے جڑے ہیں: ہر حق دار کو اس کا حق ملے اور کسی کی کمزوری اس کی محرومی کا سبب نہ بنے۔
جمعہ، 6 نومبر 2026ء کو بیت المقدس مسجد اقصیٰ میں فضیلۃ الشیخ جسٹس محمد سرندح نے خطبہ جمعہ میں عدل و انصاف اور فرد و معاشرے کی اصلاح میں ان کے کردار کو موضوع بنایا۔ انہوں نے واضح کیا کہ انصاف دینی زندگی کی بنیادی ذمہ داری ہے، جس کا تعلق اقتدار اور فیصلوں کے ساتھ خاندان، اولاد، معاشرتی روابط اور اختلاف رائے سے بھی ہے۔ ان کے خطاب میں اجتماعی خرابیوں کی نشان دہی کے ساتھ اپنے رویوں کے احتساب کی دعوت تھی، کیونکہ دوسروں کے لیے انصاف چاہنے والے کو خود بھی انصاف کا پابند ہونا چاہیے۔خطبے کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ اللہ کا فیصلہ عدل پر قائم ہے اور انسان اپنے معاملات میں اسی اصول کی پاس داری کا ذمہ دار ہے۔ دنیا میں دبایا ہوا حق آخرت کی جواب دہی سے خارج نہیں ہوجاتا۔ طاقت، تعلقات اور ظاہری کامیابی کسی کے لیے مستقل تحفظ نہیں بن سکتے۔ اس یقین کا عملی تقاضا ہے کہ آدمی کسی کی زمین، مال، عزت یا محنت پر دست درازی سے بچے۔ عبادت کے ساتھ حقوق کی ادائیگی ضروری ہے؛ بندوں کے معاملے میں بے احتیاطی کرکے دینی ذمہ داری پوری نہیں ہوتی۔
انصاف کی سب سے نمایاں صورت قانون کے سامنے برابری ہے۔ خطیب نے نبوی طرز عمل اور حضرت ابوبکر صدیق کے اصول حکمرانی کی روشنی میں سمجھایا کہ کمزور کا حق دلانا اور طاقت ور سے حق واپس لینا اقتدار کی ذمہ داری ہے۔ خاندان، منصب یا سماجی حیثیت کسی کو احتساب سے مستثنیٰ نہیں کرسکتی۔ جب بااثر افراد کے لیے رعایت اور عام آدمی کے لیے سختی ہو تو قانون پر اعتماد ٹوٹتا ہے۔ معاشرتی امن اس یقین سے پیدا ہوتا ہے کہ مظلوم کی فریاد سنی جائے گی اور ظالم اپنے اثرورسوخ سے بچ نہیں نکلے گا۔خطبے میں امت کی تاریخ کا حوالہ دے کر یہ پہلو بھی نمایاں کیا گیا کہ انسان کی قدر نسل، زبان اور وطن سے متعین نہیں ہوتی۔ مختلف قوموں سے تعلق رکھنے والے اہل علم اور قائدین نے مشترک دینی و تہذیبی زندگی کی تعمیر میں حصہ لیا۔ صلاح الدین ایوبی، محمد فاتح اور دوسرے نام اسی تنوع کی یاد دلاتے ہیں۔ فضیلت کو خاندانی شناخت کے ساتھ مخصوص کردینا انصاف کی روح کے خلاف ہے۔ عمل، کردار اور خدمت کو معیار بنایا جائے تو صلاحیتوں کے لیے راستے کھلتے ہیں اور محرومی پیدا کرنے والی عصبیتیں کمزور ہوتی ہیں۔
ظلم کے مقابلے میں خاموشی بھی معاشرے کو خطرے میں ڈالتی ہے۔ جب لوگ زیادتی دیکھ کر اسے معمول سمجھنے لگیں تو ظالم کی جسارت بڑھتی اور کمزور کا حوصلہ ٹوٹتا ہے۔ تشدد، قتل اور قریبی رشتوں تک پھیلتی دشمنی اسی بگاڑ کی سنگین صورتیں ہیں۔ خطیب نے انسانی جان کی حرمت اور ظلم کے تباہ کن انجام کی طرف متوجہ کیا۔ کسی اختلاف، غصے یا ذاتی رنجش کو جان لینے کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ معاشرے کی حفاظت کے لیے ناانصافی روکنے، حق دار کی مدد کرنے اور زیادتی کو قبول نہ کرنے کا شعور ضروری ہے۔شہروں کی پائیداری کا تعلق بھی انصاف سے ہے۔ عمارتوں کی مرمت اور وسائل کی فراہمی اہم ہیں، مگر شہری اگر استحصال اور عدم تحفظ میں زندگی گزاریں تو ظاہری تعمیر ادھوری رہتی ہے۔ خطیب نے عمر بن عبدالعزیز سے منسوب نصیحت کے ذریعے یہی بات سمجھائی کہ آبادی کو مضبوط بنانے کے لیے اس کے راستوں سے ظلم ہٹانا ضروری ہے۔ اسی طرح صلاح الدین کے تذکرے میں فتح کے بعد عہد کی پابندی، کمزوروں سے رعایت اور مخالف کے ساتھ بھی انصاف کا پہلو سامنے آیا۔ طاقت کی اخلاقی قدر اس کے منصفانہ استعمال سے ظاہر ہوتی ہے۔
انصاف پسند رویے کی مخالفت وہاں شدید ہوتی ہے جہاں مفادات دوسروں کے حقوق دبانے سے وابستہ ہوں۔ ناجائز فائدہ اٹھانے والے اصلاح کی آواز سے بے چین ہوتے ہیں، کیونکہ انصاف ان کے فائدے کی بنیاد کو چیلنج کرتا ہے۔ ایسے ماحول میں دوسروں کی اندھی پیروی بھی انسان کو جواب دہی سے نہیں بچاتی۔ ہر شخص کو اپنے انتخاب اور تعاون کا جائزہ لینا ہوگا۔ مظلوم کے لیے اللہ کے عدل اور مدد کی امید حوصلے کا سرچشمہ ہے۔ مشکلات میں دعا، ذکر اور صبر اسے مایوسی کے غلبے سے بچنے کا سہارا دیتے ہیں۔اختلاف رائے میں انصاف کا تقاضا ہے کہ کسی کی ایک بات سے اختلاف اس کی پوری شخصیت کی نفی نہ بن جائے۔ خطیب نے امام مالک اور لیث بن سعد کے تعلق کا ذکر کرکے بتایا کہ علمی اختلاف کے باوجود محبت، تعاون اور خیرخواہی باقی رہ سکتی ہے۔ یہ رویہ آج خاص اہمیت رکھتا ہے، جب معمولی اختلاف پر الزام، کردار کشی اور دینی بدنامی کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ گمنام صفحات سے لوگوں کی لغزشیں اچھالنا اور قابل اختلاف مسئلے کو دشمنی بنانا ظلم ہے۔ تنقید میں دلیل، دیانت اور دوسرے کی عزت کا لحاظ ضروری ہے۔
دوسرے خطبے میں گفتگو گھر کے اندر انصاف کی طرف آئی۔ اولاد کی ضرورتیں پوری کرتے ہوئے ہر بچے کی حالت دیکھی جائے، جبکہ تحائف اور زندگی میں مال دینے کے معاملات میں جانب داری سے بچا جائے۔ کسی بچے کی بیماری یا تعلیم کا خرچ دوسرے سے مختلف ہوسکتا ہے؛ ایسی ضرورت کو محض پسند کی بنا پر ترجیح دینے کے ساتھ خلط ملط نہیں کرنا چاہیے۔ خطیب نے اولاد کی محنت اور والدین کی خدمت کا مناسب لحاظ رکھنے کی بھی بات کی۔ اصل مقصد یہ ہے کہ فیصلے کی بنیاد واضح اور منصفانہ ہو، کسی کو محروم کرنے کی خواہش نہ ہو۔یہ ذمہ داری باپ اور ماں دونوں پر عائد ہوتی ہے۔ ایک بچے کی خوشنودی کے لیے دوسرے کا حق دبانا گھر کے اندر رنجشیں پیدا کرتا ہے۔ زندگی بھر نیکی کرنے والا شخص بھی مال کی تقسیم اور وصیت میں نقصان پہنچانے کی روش اختیار کرکے سنگین جواب دہی مول لے سکتا ہے۔ اسی طرح بیوی، بچوں اور والدین کے حقوق میں توازن ضروری ہے۔ شوہر اپنی مصروفیات اور آسائشوں میں مگن رہے اور گھر و تربیت کا پورا بوجھ بیوی پر چھوڑ دے تو اسے اپنے رویے کا جائزہ لینا چاہیے۔ روزگار کی مصروفیت اہل خانہ کے حقوق ختم نہیں کرتی۔
انصاف کا ایک پہلو دوسروں کی خدمت کا اعتراف بھی ہے۔ صلح کرانے والوں کی کوششیں جان، مال اور خاندانوں کی حفاظت میں مدد دیتی ہیں، اس لیے ان کی قدر ہونی چاہیے۔ خطیب نے مسجد اقصیٰ کے خادموں، محافظوں اور انتظامی کارکنوں کی خدمات کو بھی سراہا۔ خاندان اور محلے میں نرمی، شفقت اور تحمل اختیار کرنا اسی اخلاقی ذمہ داری کا حصہ ہے۔ تشدد رشتوں میں خوف پیدا کرتا ہے، جبکہ احترام اور نرم گفتگو اصلاح کا راستہ کھولتے ہیں۔ حق ادا کرتے ہوئے لہجے اور برتاؤ کی شائستگی بھی پیش نظر رہنی چاہیے۔اختتام پر خطیب نے مسجد اقصیٰ کی حفاظت، مسلمانوں کی مشکلات میں آسانی، ظلم و مہنگائی کے خاتمے اور والدین و اہل علم کے لیے خیر کی دعا کی۔ اس خطاب کا عملی سوال ہر شخص کے سامنے ہے کہ اس کے اختیار میں کس کا حق موجود ہے۔ اولاد، شریک حیات، والدین، پڑوسی اور اختلاف رکھنے والا شخص، سب ہمارے انصاف کے مستحق ہیں۔ معاشرے کی اصلاح کا راستہ اسی ذاتی احتساب سے کھلتا ہے۔ تبھی گھر سے شروع ہونے والا عدل معاشرے کو عدل کی خوشبو سے معطر کر دیتا ہے۔



تبصرہ لکھیے