وقت تیزی کے ساتھ گزر رہا تھا۔ شام کے سائے کب رات کے دھندلکے میں بدلے، کام میں منہمک غازی کو پتہ ہی نہیں چلا۔ اس پر بس ایک ہی دھن سوار تھی کہ آج ہر حال میں فائل تلاش کر کے کل جج کے سامنے رکھنی ہے۔ جج صاحبہ نے آج کا ہی وقت دیا تھا۔ ویسے تو غازی اپنے کام میں ماہر اور کام چور بھی نہیں تھا، اپنا کام مکمل کر کے ہی چھٹی کرتا تھا، مگر آج چھٹی ہوئے کافی وقت ہو چکا تھا۔
ساتھی کلرک کب کے جا چکے تھے۔ سینئر کلرک عبداللہ صاحب بھی گھر سے ضروری فون آنے کی وجہ سے گھر چلے گئے تھے۔ اب غازی اکیلا ضلعی عدالت کی اس انگریز دور کی عمارت کی بھول بھلیوں میں گم تھا۔مسئلہ یہ تھا کہ اس کو ایک ایسی فائل تلاش کرنی تھی جو کہ سو سال پرانی تھی، یعنی انگریز دور کی، اس لیے وہ عدالت سے منسلکہ کمروں میں ریکارڈ کھنگال رہا تھا۔ مگر فائل تھی کہ مل کر نہیں دے رہی تھی۔ غازی کل جج صاحبہ کے غصے کے ڈر سے پریشان ہو رہا تھا۔ ویسے تو جج اچھی شہرت کی حامل تھیں، مگر کام کے معاملے میں وہ اتنی سخت تھیں کہ کئی کلرکوں نے ان کی سختی کی وجہ سے سفارشیں تلاش کر کے اپنا تبادلہ کروا لیا تھا۔ مگر غازی ایک عام سے گھرانے کا فرد تھا، جس کا اوڑھنا بچھونا ایمانداری تھی۔ نہ تو خاندان کا کوئی فرد اعلیٰ عہدے پر تھا، نہ ہی ان کے پاس اتنا پیسہ تھا کہ وہ رشوت دے کر نوکری حاصل کرتے یا تبادلے کرواتے۔ اس لیے غازی ہر سختی برداشت کرتا تھا۔
آج بھی رات بھیگتی جا رہی تھی، مگر غازی ریکارڈ روم کی مدھم روشنی، دھول مٹی کی ملی جلی بدبو اور حبس زدہ ماحول میں ہر فائل پر وہ نمبر اور نام تلاش کر رہا تھا جو کہ سینئر کلرک نے اس کو بتایا تھا، جس کی کل عدالت میں سماعت تھی۔ اس مقدمے کے بارے میں غازی کو زیادہ معلومات نہ تھیں، سوائے اس کے کہ پڑپوتوں نے اپنے پردادا کی اس جائیداد کے مقدمے کو دوبارہ کھلوانے کے لیے درخواست دی ہے جو کبھی انگریزوں نے اس کے پرکھوں سے انگریزوں کے خلاف آواز اٹھانے پر زبردستی چھین کر بحق سرکار ضبط کر لی تھی۔غازی اس ریکارڈ روم کی پراسرار خاموشی اور باتیں کرتی تنہائی میں اپنے کام میں پوری طرح مگن تھا۔ اب ادھی رات بیت چکی تھی کہ دور گیٹ سے آتی پولیس اہلکاروں کی آوازیں بھی رک چکی تھیں۔ ریکارڈ روم میں دور سے چاند کی سفیدی کسی ان دیکھے دریچے سے اندر آ رہی تھی۔ کافی دیر محنت کے بعد غازی تھک گیا۔ اتنی محنت کے بعد بھی فائل نہ ملی تو اس نے سینئر کلرک کو فون کرنے کے لیے واپس دفتر میں جانے کے لیے ریکارڈ روم کے دروازے سے نکل کر زینہ چڑھنے لگا۔
ابھی وہ زینے پر ہی تھا کہ اس کو زینے سے منسلک طویل راہداری سے کوئی آواز سنائی دی، یوں جیسے کوئی بہت پیار سے کچھ دلفریب کلام پڑھ رہا ہو۔ وہ متجسس ہو گیا کیونکہ صاف آواز تھی، یہ اس کا وہم نہیں تھا۔ پھر اس نے واپس اترنے اور آواز کی سمت جانے کا فیصلہ کیا۔ ایک لمحے کو قدم ڈگمگائے جب عبداللہ صاحب کی آواز کان میں گونجی کہ بیٹا، چاہے کچھ بھی ہو جائے، آپ نے زینے سے آگے راہداری میں کسی صورت نہیں جانا، بس ریکارڈ روم تک جانے کی ہی اجازت ہے۔ مگر غازی اس دل پسند آواز کو نظر انداز نہیں کر سکا تھا، اس لیے اس کے قدم آگے بڑھتے چلے گئے۔زینے کے اختتام پر دائیں جانب کچھ ہی قدم پر اس کو ایک وسیع چبوترہ نظر آیا جو کہ ایک طویل میدان کے بیچ تھا۔ چبوترے پر نامعلوم کہاں سے چاند کی مدھم روشنی منعکس ہو رہی تھی۔ شاید چھت کی کوئی دراڑ یہ موقع چاندنی کو دے رہی تھی یا کوئی کونہ تھا جو اندھیرے سے نفرت کرتا تھا۔ غازی کے کانوں میں اب وہ سرگوشیاں بھی گھومنے لگیں جو مختلف کلرک ایک دوسرے سے رازداری سے کرتے تھے کہ ریکارڈ روم کے ساتھ انگریزوں کا پھانسی گھاٹ ہے، جہاں جانا ممنوع ہے کہ نامعلوم کتنے بے گناہ مسلمانوں کو تختہ دار پر چڑھایا گیا۔ لیکن اب سو سال کے طویل عرصے سے وہ بند ہے۔
غازی کو ایک لمحے کو لگا وہ ایک پھانسی گاہ پر پہنچ گیا ہے۔ مگر یہاں وہ اکیلا نہیں تھا، بلکہ ایک خوش الحان درود شریف پڑھتا مجسم ساتھ تھا۔ سفید براق لباس میں، گلاب کی خوشبو میں بسا، مدھم لے والا نوجوان جو اتنا خوبصورت تھا کہ غازی نے کبھی اپنی زندگی میں کسی اسمارٹ ترین فرد کو بھی اتنا خوبصورت نہ دیکھا تھا جتنا وہ پیارا تھا۔ مگر وہ یہاں آدھی رات کو اس خوفناک پھانسی گاہ کے نیچے کیا کر رہا تھا؟ اس کو یہاں تک آنے کی اجازت کیسے ملی؟ چابیاں تو عبداللہ صاحب کسی کو دیتے ہی نہیں تھے کہ مبادا غلطی سے بھی کوئی ریکارڈ روم تک نہ آ جائے اور ان کی ذمہ داری پر سوال کھڑا ہو جائے۔غازی کی ان سوچوں سے کہیں دور وہ مثلِ غلامِ رسول اتنے جذب سے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھ رہا تھا کہ غازی کے لب بھی خود بخود اس کی لے میں ساتھ ملانے لگے۔ غازی نے آج تک کبھی اتنے پیار سے کسی کو صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ورد کرتے نہیں سنا تھا۔ کافی دیر یہ سلسلہ چلتا رہا۔ غازی کو یوں محسوس ہو رہا تھا کہ چاروں اطراف ہر شے اس کے پر ان کے ساتھ ہے۔ شاید کوئی بھی اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ یہاں تک کہ اذانِ اکبر کی آواز سنائی دینے لگی۔
آواز کے ساتھ ہی وہ نوجوان اٹھا اور قبلہ رخ چلنے لگا۔ غازی جیسے کسی خواب سے جاگا، خاموشی میں اس پر ایک وحشت طاری ہو گئی۔ وہ اس نوجوان کو روکنا چاہتا تھا، اس کے جاتے قدموں سے لپٹ کر دوبارہ درود شریف سنانے کی التجا کرنا چاہتا تھا۔ وہ اس کے پیچھے سلامِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سعادت حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اگرچہ وہ ایک عام سا مسلمان تھا، مگر اس پھانسی گاہ میں ملنے والے اس نوجوان سے وہ اتنا متاثر ہوا تھا جیسے پروانہ شمع کا دیوانہ ہو جاتا ہے۔ مگر وہ نوجوان طویل راہداری میں نہ جانے کہاں جا رہا تھا۔ کچھ دیر بعد ہی غازی کو وہ مجسمہ گم ہوتا ہوا نظر آیا۔ غازی نے اس کو دائیں بائیں ہر جگہ تلاش کیا، مگر وہ کہیں نہ تھا۔تھک ہار کر غازی واپس ریکارڈ روم سے منسلک زینے کی طرف بڑھا، پھر پہلے زینے پر رکھی فائل اٹھا لی جو شاید اس نے یہیں چھوڑ دی تھی۔واپس اوپر آ کر وہ اپنی ٹیبل پر مدہوش سا گر گیا۔ کچھ ہی دیر بعد عبداللہ صاحب نے اس پر پانی کے چھینٹے مارے، تب وہ جاگا۔ سینئر کلرک عبداللہ پریشان تھا کہ غازی کیوں یہاں سو گیا۔ اگر فائل نہیں مل رہی تھی تو اس کو گھر چلے جانا چاہیے تھا۔
غازی نے عبداللہ کو بڑی مشکل سے لب کھول کر بتایا کہ سر، فائل تو میں لے کر آیا ہوں، یہ دیکھیں۔ جس پر عبداللہ صاحب مزید ناراض ہوئے اور فائل کو اٹھا کر واپس ریکارڈ روم میں چلے گئے۔ عبداللہ صاحب کے ہاتھ میں دبی فائل پر غازی نے حیران نظروں سے دیکھا کہ فائل کور پر “غازی علم دین” جلی حروف میں لکھا ہوا تھا۔



تبصرہ لکھیے