استنبول کی شام اور باسفورس کے سائے
سنہ 1798ء خزاں اپنے آخری ایام میں استنبول کے در و دیوار پر زردی اور اداسی کے نقوش چھوڑ رہی تھی۔ باسفورس کے نیلگوں اور متلاطم پانیوں پر جب شام کا دھندلا غبار اترنے لگا، تو اس کی لہریں ٹوپکاپی محل کی سنگِ مرمر کی بلند و بالا اور پرانی دیواروں سے ٹکرا کر ایک ایسا مدہم شور پیدا کر رہی تھیں جو کسی انہونی ہولناکی کی نوید دے رہا تھا۔ شہرِ استنبول—جسے صدیوں سے دنیا کا دل کہا جاتا تھا—آج ایک عجیب اور سوگوار کیفیت میں لپٹا ہوا تھا۔
گلی کوچوں میں جلنے والی تیل کی مشعلوں کی پیلی اور ترچھی روشنی جب پتھر کے راستوں پر پڑتی، تو وہاں سے گزرنے والے عام شہریوں کے چہروں پر چھائی ہوئی بے یقینی، خوف اور بھوک کی لہریں صاف دکھائی دیتی تھیں۔ دکانیں قبل از وقت بند ہو چکی تھیں، اور قہوہ خانوں میں جہاں کبھی سلطنت کی فتوحات، غازیوں کے کارناموں اور شعر و سخن پر گرم بحثیں ہوا کرتی تھیں، آج سناٹا تھا یا پھر کہیں کہیں مخصوص جگہوں پر سرگوشیوں میں ہونے والی ان ہولناک افواہوں کا شور تھا جو ینی چری کے نئے حیلہ و بہانوں اور درباری سازشوں سے متعلق تھیں۔
کہتے ہیں کہ دنیا کا کوئی شہر اس وقت قسطنطنیہ یعنی استنبول کا مقابلہ نہیں کر رہا تھا۔ لیکن ان گلیوں اور بازاروں سڑکوں کی یہ ویرانی ینی چری کے ظلم و استہزاء سے مکمل خاموش تھیں۔دور، آبنائے باسفورس پر گہرے ہوتے بادلوں کے درمیان مرغابیوں کے غول اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے تھے، مگر انسانوں کی اس بستی میں سکون کا نام و نشان تک نہ تھا۔ اس خلیج کے دوسری طرف، استنبول کے تاریخی میناروں اور گنبدوں کے سائے طویل ہوتے جا رہے تھے، گویا یہ شہر اپنی عظمتِ رفتہ کو الوداع کہنے کی تیاری کر رہا ہو۔ٹوپکاپی محل کے اندر، دیوانِ عام کی عظمت اپنی پوری شان کے ساتھ موجود تھی، مگر اس شکوہِ سلطنت کے پسِ پردہ تناؤ کی ایک ایسی باریک لہر دوڑ رہی تھی جو سنگِ مرمر کے ستونوں کو بھی لرزا رہی تھی۔
دیوانِ عام کے وسط میں بنے ہوئے شاہی تخت پر سلطان سلیم سوم جلوہ افروز تھے۔ ان کی عمر محض ابھی چالیس برس کے لگ بھگ نہ تھی، لیکن ان کی پیشانی پر پڑنے والی گہری شکنیں اور آنکھوں کے گرد پھیلی ہوئی سیاہی گواہی دے رہی تھی کہ تاج و تخت کا بوجھ ان کی روح کو کس بے دردی سے نچوڑ رہا ہے۔ ان کا لباس شاہی روایت کے مطابق قیمتی ریشم اور مہملی کپڑے کا تھا، جس پر زر بافت کا کام ہوا تھا، لیکن ان کا چہرہ کسی سپاہی کی طرح سخت اور متفکر تھا۔سلطان سلیم کے دائیں اور بائیں جانب درباری امراء، وزراء اور مشیر سر جھکائے کھڑے تھے۔ کمرے میں اس قدر خاموشی تھی کہ صرف سلطان کی انگلیوں کی ہلکی سی جنبش یا باہر سے آنے والی ہوا کا سنسناتا ہوا شور ہی سنائی دے رہا تھا۔
”حضور!“
دربار کے ایک کونے سے وزارتِ عظمیٰ کے شاہی قاصد نے آگے بڑھ کر، زمین کو بوسہ دینے کے بعد سر جھکایا۔ اس کی آواز میں خوف کی کپکپاہٹ واضح تھی،
”محاذِ جنگ اور سرحدوں سے جو اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، وہ کسی بھی طرح اطمینان بخش نہیں۔ مصر میں نپولین بوناپارٹ کی پیش قدمی کے بعد وہاں کا پورا انتظامی ڈھانچہ درہم برہم ہو چکا ہے۔ مراد بے کی تمام تر جنگی صلاحیتیں اور بہادری بھی فرانسیسی توپ خانے کے سامنے ٹک نہیں سکی؛ مراد بے کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا ہے، اور اسکندریہ سے لے کر قاہرہ تک کا پورا خطہ اب استعمار کے شکنجے میں جکڑا جا چکا ہے۔“
سلطان سلیم نے اپنی پلکیں اٹھائیں اور قاصد کی طرف دیکھا۔ ان کی نگاہوں میں حیرت کم اور تلخ حقیقت کا ادراک زیادہ تھا۔ انہوں نے ایک گہری سانس لی اور تخت کے بازو پر رکھی ہوئی اپنی انگشتِ شہادت کو ہلایا۔
”مصر کا گرنا صرف ایک صوبے کا زوال نہیں ہے،“ سلطان کی آواز دھیمی لیکن فولادی ارادے سے بھرپور تھی.
”یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا بدل چکی ہے۔ جو قومیں وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنے بازوؤں کو لوہے سے نہیں سکتیں، وہ زمانے کے قدموں تلے روند دی جاتی ہیں۔ اسی لیے ہم نے ‘نظامِ جدید’ کی بنیاد رکھی تھی۔ ہم نے چاہا کہ ہماری فوج وہی پرانی تلواروں اور تیر کمانوں تک محدود نہ رہے، بلکہ یورپی تیکنیک، جدید بندوقوں اور منظم عسکری تربیت سے آراستہ ہو۔ لیکن… لیکن افسوس کہ ہمارے اپنے ہی لوگ اس چراغ کو بجھانے کے درپے ہیں جو خود ہمارے گھر کو روشن کرنے چلا تھا۔“
دربار کے دوسرے کونے سے وزیرِ مشاورت نے آگے بڑھ کر ہاتھ جوڑے،
”عالی جاہ! آپ کا ویژن برحق ہے، لیکن ینی چری (Janissaries) کی طاقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ صدیوں سے وہ اس سلطنت کے بازو رہے ہیں۔ جب آپ ان پر یورپی طرز کی وردیاں مسلط کرتے ہیں، ان کی روایتی مراعات میں کٹوتی کرتے ہیں، اور انہیں نئے ضابطوں میں جکڑتے ہیں، تو ان کے اندر بغاوت کی آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ استنبول کی گلیوں میں اس وقت یہی چرچا ہے کہ سلطان اپنے ہی اجداد کے طریقوں سے منہ موڑ رہا ہے۔“
وزیر مشاورت پوری طرح ینی چری کے رنگ میں رنگا ہوا تھا۔
نپولین بوناپارٹ جس نے وینس کی قدیم جمہوریہ کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا تھا۔وینس کے خاتمے کے بعد فرانس اور سلطنت عثمانیہ کی سرحدیں مل گئیں۔یہ یکم جولائی 1798ء کی تاریخ تھی جب نپولین بوناپارٹ مصر کی بندرگاہ اسکندریہ اترا۔نپولین کا خیال تھا مصر فتح کرنے کے بعد ہندوستان پر اترے گا اور برطانیہ کو پورے ایشیائی خطے سے نکال باہر کرے گا۔یہ خیال محض خیال ہی رہا۔کیونکہ برطانوی لشکر کے امیر البحر نیلسن نے فرانسیسی بیڑے کو تباہ و برباد کردیا۔ دوسری طرف مراد بے اور ابراہیم بے جو مصر پر معطلق العنان حکمران بنے ہوئے تھے نپولین کا مقابلہ کیا اور شکست کھا گئے۔بعد ازاں مارچ 1802ء میں فرانس اور برطانیہ کے ساتھ ایک معاہدہ ہوا جس کو معاہدہ امیان Amiens کہا جاتا ہے اس معاہدے کے تحت مصر پر عثمانی تسلط قائم ہوگیا .
وزیر مشاورت کی گفتگو سن کر سلطان سلیم کا چہرہ غصے سے اور زیادہ سرخ ہو گیا۔ انہوں نے سختی سے کہا،
”اجداد کے طریقے۔۔۔۔! کیا ہمارے اجداد نے تلوار کے ساتھ ساتھ عقل، علم اور زمانے کی نبض کو پکڑنا نہیں سکھایا تھا؟ یہ ینی چری اب فوج کم اور استنبول کے بازاروں میں غنڈہ گردی کرنے والا ایک ایسا ناسور بن چکی ہے جو صرف اپنی تنخواہوں اور من مانیوں کا رس پینا جانتی ہے۔ہماری افواج اس وقت محاذِ جنگ پر پوری استقامت سے ڈٹے ہوئی ہے، لیکن مجھے ڈر ہے کہ باہر کے دشمن سے زیادہ خطرناک وہ سانپ ہیں جو ہمارے اپنے آیوانِ سلطنت میں آستینوں کے اندر پل رہے ہیں۔ مجھے یقین ہے ینی چری اندر ہی اندر کیا کھچڑی پکا رہے ہیں۔“
دربار میں ایک بار پھر سناٹا چھا گیا، مگر یہ وہ سناٹا تھا جو طوفان سے پہلے جنگلوں میں چھایا رہتا ہے۔سلطان سلیم خان ثالث ستائیس سال کی عمر میں تخت نشین ہوا۔ ان کے چچا مرحوم سلطان عبد الحمید خان نے سلیم خان کی نظر بند رکھنے کے ساتھ فوجی اور سیاسی تعلیمات پر توجہ دی۔یہی وجہ تھی سلیم کے اندر بے پناہ قوت ارادی اور نظام سلطنت چلانے کے لیے خوب واقفیت رکھتے تھے۔ سلطان سلیم نے سب سے زیادہ توجہ فوجی اور بحری اصلاحات پر کی۔ ینی چری کی خود سری پر نظر رکھتے ہوئے وہ خوب جانتا تھا کہ مذکورہ بالا اصلاحات کے جاری کرنے اور اور سلطنت کو بیرونی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ایک منظم اور وفادار فوج کی ضرورت ہے ۔ینی چری کی سرکشی روز بہ روز بڑھتی جا رہی تھی۔وہ سلطنت کے امن و امان کے لیے ایک مستقل خطرہ تھے۔وہ اپنے نظام کسی اصلاح کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ یہی وجہ تھی سلیم کو ایک ایسی فوج قائم کرنے کا خیال پیدا ہوا جو یورپ کے جدید فوجی نظام کے مطابق مرتب کی گئی ہو۔جس پر مکمل اعتماد اور یقین ہو۔
عین جنگ وہ منہ موڑے۔ پچھلی جنگ روس سے جو قیدی گرفتار ہوئے تھے ان میں ایک ترک عمر آغا بھی تھا۔جو مدت سے روس کی فوج میں لفٹیننٹ کے عہدے پر فائز رہا تھا۔ صدر اعظم یوسف پاشا اس سے روس کے فوج نظام پر گفتگو کرتا رہتا تھا۔عمر آغا کی خواہش پر یوسف پاشا نے عثمانیوں کا دستہ یورپین طرز پر مرتب کرنے کی کوشش شروع کردی۔ جب یوسف پاشا قسطنطنیہ واپس لوٹا تو اپنے ساتھ عمر آغا کو بھی لیتا آیا۔یوسف پاشا نے قسطنطنیہ کے پاس ایک گاؤں میں چھاؤنی تیار کی سلطان سلیم کو اطلاع دی۔سلیم خود دیکھنے پہنچا۔یوسف کے اس اقدام کو خوب سراہا۔ کہا کہ ینی چری میں بھی اسی نظام کو لایا جائے۔کچھ دنوں بعد ینی چری نے بغاوت کردی۔ مجبوراً سلیم سے ینی چری نے نظام جدید لاگو نہ کرنے کا عہد لیا۔لیکن سلیم عمر آغا کا نظام جدید کا دستہ بدستور قائم رکھا۔
1796ء میں جنرل ڈوبائے Dubayet جمہوریہ فرانس کے سفیر کی حیثیت سے قسطنطنیہ آیا تو اپنے ساتھ سلطان سلیم کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے متعدد توپیں، چند فرانسیسی توپچی اور انجینئر پیش کیے۔سلیم نے تحائف قبول کیے۔ چنانچہ فرانسیسی انجینئروں سے بہت کچھ اصلاحات کیں گئیں لیکن ینی چری پر بات مقابل آتی رہی۔ اسی دوران جنرل ڈوبائے فوت ہو گیا۔ تو بہت سے فرانسیسی انجینئر واپس لوٹ گئے کچھ قپودان کوچک حسین پاشا نے نظام جدید کی قدر و منزلت کا اندازہ کر کے کچھ افسروں کو روک لیا۔ان سے نظام جدید طرز فوج کی تیاری شروع کردی۔سلطان سلیم ثالث نے اصلاحات کا آغاز جنوری 1791ء صلح نامہ یاسی کے فوراً بعد کردیا تھا۔لیکن کبھی ینی چری کی سرکشی آڑے آتی کبھی بیرونی یلغاروں دھول ۔ پھر وقفے وقفے سے نظام جدید پر کام جاری رہا۔یہاں تک کہ 1798ء میں جب فرانسیسیوں کے خلاف سلطنت عثمانیہ نے جنگ کا آغاز کیا تو اس وقت اس فوج کی تعداد 600 تک پہنچ گئی تھی۔
دیوانِ عام کی اس سیاسی گرم بازاری سے کوسوں دور، ٹوپکاپی محل کا زن خانہ (حرم) اپنے اندر ایک الگ ہی دنیا بسائے ہوئے تھا۔ یہاں کی فضا میں عود اور لوبان کی خوشبو رچی ہوئی تھی، لیکن اس خوشبو کے نیچے ایک بوجھل پن اور بے چینی محسوس ہو رہی تھی جو دیواروں سے ٹپک رہی تھی۔حرم کے سب سے اونچے دالان میں، جو براہِ راست باسفورس کے نیلگوں پانیوں کی طرف کھلتا ہے، والدہ سلطان (عائشہ سینہ پر سلطان) ایک مسند پر تشریف فرما تھیں۔ عمر کے اس طویل سفر نے ان کے چہرے پر جھریوں کے نقوش تو چھوڑ دیے تھے، لیکن ان کی آنکھوں کی چمک اور شخصیت کا جلال ذرا بھر بھی مدہم نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے عثمانی شاہی رواج کے مطابق مخمل کا بیش قیمت جبہ پہن رکھا تھا اور سر پر مروارید سے جڑا ہوا تاج سجا رکھا تھا۔
ان کے بالکل قریب ہی حرم کی ایک انتہائی ذہین، تیز و طرار اور وفادار کنیز گل رخ ہاتھ باندھے ادب سے کھڑی تھی۔ گل رخ کی عمر بیس برس کے لگ بھگ تھی، اس کے نین نقش تیز اور آنکھوں میں ایک ایسی ہوشیاری و پھرتی تھی جو محل کے ہر چھوٹے بڑے راز سے واقف ہونے کی غماز تھی۔ وہ اس محل کے دالان کی ایک ایک اینٹ، ایک ایک کونے اور پتھر کے نیچے بنے ہوئے خفیہ تہہ خانوں اور راستوں سے بخوبی آگاہ تھی۔
”گل رخ!۔۔۔۔“ عائشہ سلطان نے اپنی تسبیح کے دانے گھوماتے ہوئے دھیمی آواز میں کہا، مگر ان کے لہجے میں ایک گہری لرزش تھی،
”باہر کی ہوائیں بہت زہریلی ہو چکی ہیں۔ میرے سلطان سلیم نے سلطنت کو بچانے کی جو قیمت چکائی ہے، وہ اسے اور ہمیں دونوں کو بہت مہنگی پڑنے والی ہے۔“
گل رخ نے جھک کر عرض کیا،
”ملکہ ! اللہ تعالیٰ حضورِ والا کی حفاظت فرمائے گا۔ استنبول کے غدار اتنی جرات کہاں سے لائیں گے کہ وہ تختِ عثمانیہ کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ سکیں؟“
عائشہ سلطان نے تلخی سے مسکرا کر سر ہلايا،
”اے میری نادان لڑکی ۔۔۔!تو ابھی محل کی دیواروں کے باہر کی دنیا سے ناواقف ہے۔ یہ سنگِ مرمر جتنا روشن اور حسین دکھائی دیتا ہے، اس کے پیچھے خون اور غداری کا اتنا ہی گہرا اندھیرا چھپا ہے۔ مجھے ڈر صرف اس بات کا نہیں کہ سلیم کا تخت خطرے میں ہے۔ مجھے ڈر اس بات کا ہے کہ اگر یہ طوفان آ گیا، تو اس گھر کا کوئی بھی چراغ سلامت نہیں بچے گا۔ شہزادہ محمود کہاں ہیں؟“
گل رخ نے فوراً جواب دیا،
”شہزادہ مصطفیٰ اپنے حجرے میں آرام فرما رہے ہیں، ان کو سخت پہرے میں رکھا گیا ہے، لیکن… لیکن محل کے اندرونی ملازمین ہمیشہ بے چین رہتے ہیں۔“
والدہ سلطان نے اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑکی کے پاس قدم بڑھائے اور باسفورس کے تاریک پانیوں پر نظریں جما دیں۔ ان کی آواز اب ایک ماں کی آسک اور فریاد میں بدل چکی تھی:
”گل رخ! یہ سلطنت رہے نہ رہے، عثمانی خاندان کا خون رایگان نہیں جانا چاہیے۔ شہزادہ محمود ابھی بہت چھوٹا ہے، مگر اس کی آنکھوں میں وہ چمک ہے جو آگے چل کر اس تباہ ہوتی ہوئی دنیا کو سنبھال سکتی ہے۔ اگر خدانخواستہ… اگر خدانخواستہ کوئی انہونی ہو جائے، تو اس محل کے اندرونی خفیہ راستوں سے شہزادہ محمود کو بچا کر باہر نکالنے کی ذمہ داری تیری ہے۔ کیا تو یہ امانت سنبھال سکے گی؟“
حالانکہ والدہ سلطان عائشہ سینہ پر سلطان بخوبی واقف تھی کہ ینی چری شہزادہ محمود کی بجائے مصطفی کو آگے لائیں گے ۔ جس کے نتیجے میں محمود بے مقصد مارا جائے گا۔
گل رخ کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ اس نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھا اور انتہائی عقیدت اور مضبوط لہجے میں کہا، ”والدہ سلطان! یہ کنیز جان دے سکتی ہے، مگر اس گھر کی عزت اور عثمانیوں کے آخری چراغ پر کوئی آنچ نہیں آنے دے گی۔ آپ بے فکر رہیں، اس محل کی راکھ سے بھی اگر راستہ نکالنا پڑا، تو یہ ناچیز شہزادہ محمود کو بچا لے گی۔“
جب رات نے استنبول کے آسمان پر اپنی سیاہ چادر پوری طرح پھیل دی، تو شہر کے پرانے اور گنجان آباد حصے میں واقع ایک بڑی اور ویران سرائے کے تہہ خانے میں ایک خطرناک محفل سج چکی تھی۔یہ سرائے باہر سے بالکل ویران اور خستہ حال دکھائی دیتی تھی، لیکن اس کے اندرونی ہال میں دسیوں مشعلیں روشن تھیں جن کی روشنی میں سرخ طربوش، زره بکتر، چمڑے کے جوتے اور ہاتھ میں ننگی تلواریں لیے ہوئے ینی چری کے وحشی اور غصے سے بھرپور چہرے چمک رہے تھے۔ یہ وہ جنگجو تھے جو کبھی سلطنتِ عثمانیہ کی فتح کا استعارہ سمجھے جاتے تھے، لیکن اب وقت کے ساتھ ساتھ وہ ایک ایسی بدمست اور سرکش طاقت بن چکے تھے جو اپنے ہی ملک کو روندنے کے لیے تیار تھی۔
ہال کے صدر مقام پر موسیٰ پاشا—جو بظاہر قائم مقام صدرِ اعظم کے منصب پر فائز تھے مگر اندر سے بغاوت کے سب سے بڑے ماسٹر مائنڈ تھے—اپنے وزنی جسم کو سنبھالے ہوئے کرسی پر بیٹھے تھے۔ ان کے قریب ہی مفتی اعظم عطا اللہ آفندی کے خاص کارندے اور چند بڑے ینی چری کمانڈر موجود تھے جن میں قباقجی اوغلو اور دیگر خونخوار سردار شامل تھے۔ایک ینی چری کمانڈر علی اوغلو نے اپنی بھاری مٹھی میز پر دے ماری، جس سے وہاں رکھی ہوئی تانبے کی صراحی لرز اٹھی۔ وہ دہاڑ اٹھا:
”بہت ہو چکا! وہ سلیم کون ہوتا ہے جو ہمیں ہمارے آباؤ اجداد کی روایات سے دور کرے؟ کون سا نظامِ جدید؟ وہ ہمیں غلام بنانا چاہتا ہے! ہم نے اس سلطنت کے لیے اپنا خون بہایا ہے، اور آج یہ بزدل ہمارے ہاتھ سے ہماری تلوار چھیننا چاہتے ہیں!“
موسیٰ پاشا نے بڑی نفاست سے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرا۔ ان کے چہرے پر ایک مکارانہ مسکراہٹ تھی، ایسی مسکراہٹ جو بظاہر نرم دکھائی دیتی تھی مگر اندر زہر سے بھری ہوتی تھی۔ انہوں نے آہستہ سے کہا، ”ذرا صبر کرو میرے شیرو! غصہ اچھا ہے، لیکن غصے کے ساتھ عقل کا استعمال نہ کیا جائے تو تلوار اپنے ہی پیر پر لگ جاتی ہے۔ سلیم پاگل ہو چکا ہے۔ وہ یورپ کی تقلید میں اس سلطنت کی جڑیں کاٹ رہا ہے۔ اگر ہم نے آج قدم نہ اٹھایا، تو کل نہ صرف ینی چری کا نام و نشان رہے گا، بلکہ دین اور شریعت کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں بچے گا۔ مفتی اعظم عطا اللہ آفندی نے بھی فتوے کی منظوری دے دی ہے—شیخ الاسلام اسعد آفندی کے انتقال کے بعد عطا اللہ آفندی نے جو مسند سنبھالی ہے، وہ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ شریعت ہمارے ساتھ ہے!“
ہال میں موجود تمام لوگوں نے ایک ساتھ نعرہ بلند کیا، ”شریعت زندہ باد! نظامِ جدید مردہ باد! تخت ہمارا ہے!“
موسیٰ پاشا نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے شور کو خاموش کیا اور سرگوشی کے انداز میں بولے، ”صدرِ اعظم ابراہیم علمی پاشا اس وقت محاذِ جنگ پر پھنسے ہوئے ہیں اور جلد ہی ان کے خاتمے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ استنبول اب بالکل خالی اور غیر محفوظ ہے۔ ہمیں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ آنے والے چند دنوں میں، جب باسفورس کی لہریں سو رہی ہوں گی، ہم ٹوپکاپی محل کے دروازے توڑ کر اندر داخل ہوں گے۔ سلیم کو اس کے تخت سے گھسیٹ کر باہر نکالا جائے گا، اور اس تخت پر وہ بیٹھے گا جو ہمارے ضابطوں کا پابند ہو—یعنی شہزادہ مصطفیٰ!“
اسی لمحے، اندھیرے میں ڈوبی ہوئی اس سرائے کے باہر سے کسی کبوتر کے پھڑپھڑانے کی سی آواز آئی، لیکن اندر بیٹھے ہوئے سازشی اس خونی کھیل کی تیاری میں اتنے مست تھے کہ انہیں اس بات کا ذرا بھی احساس نہیں ہوا کہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں، اور تاریخ اس وقت اپنی ڈائری میں ایک نیا خونریز باب درج کرنے کے لیے قلم اٹھا چکی تھی۔
(جاری ہے)



تبصرہ لکھیے