ہوم << معصوم زندگیوں کا سوال – عطا حسین
600x314

معصوم زندگیوں کا سوال – عطا حسین

بچپن زندگی کا وہ خوبصورت دور ہوتا ہے جب انسان کی آنکھوں میں خواب، دل میں امیدیں اور ذہن میں ایک روشن مستقبل کی تصویر ہوتی ہے۔ یہ وہ عمر ہے جب بچوں کو محبت، تعلیم، تحفظ اور رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں بہت سے بچے ایسے بھی ہیں جن کے لیے بچپن خوشیوں کا نہیں، بلکہ خوف، محرومی اور اذیت کا نام بن چکا ہے۔

ملتان میں 15 سالہ یتیم بچے کے ساتھ پیش آنے والے افسوس ناک واقعے نے ایک بار پھر ہمارے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک ایسا بچہ جو زندگی میں آگے بڑھنے اور کوئی ہنر سیکھنے کی امید لے کر نکلا تھا، مبینہ طور پر ایک المناک واقعے کا شکار ہوا اور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اس واقعے کی مکمل حقیقت کا تعین قانونی تحقیقات سے ہونا چاہیے. لیکن اس سانحے نے ایک بنیادی سوال ضرور اٹھایا ہے:
کیا ہمارے معاشرے میں ایک بے سہارا بچے کی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں؟

یہ سوال صرف ایک بچے کا نہیں، ان ہزاروں بچوں کا ہے جو غربت، یتیمی، گھریلو تشدد، جبری مشقت اور استحصال کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔جب مجبوری، بچپن چھین لیتی ہے. ہمارے معاشرے میں جب کسی بچے کے سر سے والدین کا سایہ اٹھ جاتا ہے تو اس کی زندگی پہلے ہی کئی مشکلات کا شکار ہو جاتی ہے۔ ایسے بچے کو صرف کھانے، کپڑوں اور چھت کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ اسے ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے یہ احساس دلائیں کہ وہ تنہا نہیں ہے۔ افسوس کہ بعض اوقات یہی بچے دوسروں کی بے رحمی، غفلت اور مفاد پرستی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کوئی انہیں کمزور سمجھ کر ان سے سخت محنت کرواتا ہے، کوئی ان کی خاموشی کو رضامندی سمجھ لیتا ہے، اور کوئی ان کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ ذرا تصور کیجیے، ایک پندرہ سالہ بچہ جو اپنے مستقبل کے لیے کوئی ہنر سیکھنے جاتا ہے، اس کے دل میں بھی وہی خواب ہوتے ہیں جو کسی خوش حال گھرانے کے بچے کے ہوتے ہیں۔ وہ بھی چاہتا ہے کہ ایک دن اپنے پیروں پر کھڑا ہو، عزت کی زندگی گزارے اور اپنے حالات بدل سکے۔ لیکن اگر اسی سفر میں اسے تحفظ کے بجائے خوف اور رہنمائی کے بجائے تشدد ملے تو اس کے خوابوں کا ذمہ دار کون ہوگا؟

ہم اکثر بچوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کو صرف مار پیٹ یا جسمانی تشدد تک محدود سمجھتے ہیں، حالانکہ بچوں کا استحصال کئی شکلوں میں سامنے آتا ہے۔ جسمانی تشدد، ذہنی اذیت، جنسی استحصال، جبری مشقت، تضحیک اور مسلسل خوف میں رکھنا، یہ سب بچے کی شخصیت اور مستقبل کو متاثر کر سکتے ہیں۔بعض گھروں میں بچوں کو نظم و ضبط کے نام پر مارا جاتا ہے۔ بعض کام کی جگہوں پر انہیں سیکھنے والے شاگرد کے بجائے سستے مزدور کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ کہیں ان کی شکایات کو اہمیت نہیں دی جاتی اور کہیں انہیں خاموش رہنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ بچے کی خاموشی ہمیشہ اس کی رضامندی نہیں ہوتی۔ کبھی وہ خوف زدہ ہوتا ہے، کبھی اسے یقین نہیں ہوتا کہ کوئی اس کی بات سنے گا، اور کبھی وہ اس شخص کے خلاف بولنے سے ڈرتا ہے جس پر اس کی روزمرہ زندگی کا انحصار ہوتا ہے۔بچے کی کمزوری سے فائدہ اٹھانا طاقت نہیں، انسانیت کی شکست ہے۔

یتیم خانے، اسکول اور تربیتی مراکز ان بچوں کے لیے امید کی جگہیں ہونے چاہییں جو زندگی میں پہلے ہی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان اداروں کی ذمہ داری صرف بچوں کو کھانا، رہائش یا تعلیم فراہم کرنا نہیں، بلکہ انہیں محفوظ ماحول دینا بھی ہے۔اگر کسی بچے کو ہنر سیکھنے کے لیے کسی استاد یا ٹھیکیدار کے حوالے کیا جاتا ہے تو اس کی نگرانی، حفاظت اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ بچے کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اگر اس کے ساتھ بدسلوکی ہو تو وہ کس سے مدد لے سکتا ہے۔ اداروں کو بچوں سے رابطہ برقرار رکھنا چاہیے، ان کی شکایات سننی چاہییں اور کسی بھی خطرے کی صورت میں فوری کارروائی کرنی چاہیے۔محض کسی ادارے کا فلاحی ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہاں ہر بچہ محفوظ بھی ہے۔ اصل معیار یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ عملی طور پر کیسا سلوک کیا جاتا ہے۔

بچوں پر تشدد کی روک تھام صرف حکومت یا پولیس کی ذمہ داری نہیں۔ والدین، اساتذہ، سماجی رہنما، آجر، فلاحی ادارے اور عام شہری سب اس ذمہ داری میں شریک ہیں۔حکومت کو بچوں کے تحفظ کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانا چاہیے۔ بچوں سے مشقت لینے والے افراد اور اداروں کی نگرانی ہونی چاہیے، جبکہ تشدد یا استحصال کی شکایت کرنے والے بچوں کو فوری مدد فراہم کی جانی چاہیے۔میڈیا کو بھی ایسے واقعات کو محض چند روزہ سنسنی خیز خبر بنانے کے بجائے ان کے بنیادی اسباب، ادارہ جاتی غفلت اور بچوں کے حقوق پر مسلسل بات کرنی چاہیے۔ معاشرے کے ہر فرد کو یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی بچے کے ساتھ ہونے والی زیادتی کو نظر انداز کرنا بعض اوقات ظلم کرنے والے کو مزید طاقت دے دیتا ہے۔اگر ہمیں کسی بچے کے ساتھ بدسلوکی کا علم ہو تو خاموش رہنے کے بجائے محفوظ طریقے سے متعلقہ حکام تک اطلاع پہنچانا ضروری ہے۔ تاہم متاثرہ بچے کی شناخت اور عزتِ نفس کا تحفظ بھی ہماری ذمہ داری ہے۔

ہم اکثر بچوں کو قوم کا مستقبل کہتے ہیں، لیکن مستقبل صرف خوبصورت نعروں سے محفوظ نہیں ہوتا۔ مستقبل اس وقت محفوظ ہوتا ہے جب کسی غریب بچے کو بھی وہی عزت ملے جو ایک امیر بچے کو حاصل ہوتی ہے؛ جب یتیم بچے کو بے سہارا سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے؛ اور جب کوئی استاد، مالک یا سرپرست اپنے اختیار کو ظلم کا ذریعہ نہ بنائے۔ملتان کے اس افسوس ناک واقعے کو بھی وقت گزرنے کے ساتھ بھول جانا سب سے آسان راستہ ہوگا۔ اصل امتحان یہ ہے کہ کیا ہم اس سانحے سے کوئی سبق سیکھیں گے؟ کیا ہم اپنے اردگرد موجود ان بچوں کو دیکھیں گے جو خوف کے باعث اپنی تکلیف بیان نہیں کر پاتے؟ کیا ہم ان اداروں سے جواب طلب کریں گے جن کی ذمہ داری بچوں کی حفاظت ہے؟

ایک بچے کی جان واپس نہیں لائی جا سکتی، لیکن اس کی المناک موت ہمیں دوسرے بچوں کی زندگیاں بچانے کے لیے بیدار کر سکتی ہے۔ بچوں کو صرف زندہ رہنے کا حق نہیں، بلکہ عزت، محبت، تحفظ اور خواب دیکھنے کا حق بھی حاصل ہے۔ ان کے چھوٹے ہاتھوں میں اوزار تھمانے سے پہلے ہمیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ان کے ہاتھ محفوظ ہیں، ان کے دل خوف سے آزاد ہیں اور ان کا مستقبل استحصال کے بجائے امید سے جڑا ہوا ہے۔آئیے، ہم اپنے معاشرے میں بچوں کے ساتھ ہونے والے ظلم کو معمول سمجھنا چھوڑ دیں۔ کسی بچے کی غربت اس کی بے قدری کا جواز نہیں، اس کی یتیمی اس کی کمزوری سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں، اور اس کی خاموشی ہمارے ضمیر کو خاموش رکھنے کا بہانہ نہیں بن سکتی۔کیونکہ کسی بھی معاشرے کی اصل پہچان اس کی بلند عمارتیں، دولت یا طاقت نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہاں سب سے کمزور انسان، خصوصاً ایک بچہ، کتنا محفوظ ہے۔

اگر ہم واقعی ایک بہتر پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں بچوں کو صرف قوم کا مستقبل کہنا نہیں، بلکہ ان کے حال کو محفوظ بنانا ہوگا۔ ہمیں ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں کوئی بچہ اپنی مجبوری کے باعث ظلم برداشت کرنے پر مجبور نہ ہو، جہاں ہر بچے کی آواز سنی جائے اور جہاں اس کی زندگی کو قیمتی سمجھا جائے۔آخر میں سوال یہی ہے: اگر ہم اپنے بچوں کو تحفظ، انصاف اور محبت نہیں دے سکتے تو ہم کس بنیاد پر ایک مہذب معاشرے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں؟

یہ صرف ایک بچے کی کہانی نہیں، بلکہ ہماری اجتماعی ذمہ داری اور انسانیت کا امتحان ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment