ہوم << ڈیجیٹل دنیا میں تنہا ہوتا انسان – مبشرہ بٹ
600x314

ڈیجیٹل دنیا میں تنہا ہوتا انسان – مبشرہ بٹ

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں دنیا کے کسی بھی کونے میں موجود شخص سے رابطہ کرنا چند لمحوں کا کام ہے۔ ایک اسکرین پر انگلی رکھتے ہی پیغام پہنچ جاتا ہے، ویڈیو کال کے ذریعے فاصلے سمٹ جاتے ہیں اور سوشل میڈیا پر سینکڑوں لوگ ہماری زندگی کے مختلف پہلوؤں سے واقف ہو جاتے ہیں۔ بظاہر ہم پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے کے قریب آ چکے ہیں، لیکن ایک اہم سوال اپنی جگہ موجود ہے: کیا رابطوں میں اضافے نے واقعی ہمیں ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے، یا ہم ڈیجیٹل دنیا کے ہجوم میں تنہا ہوتے جا رہے ہیں؟

ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو آسان بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ معلومات تک رسائی، تعلیم، کاروبار اور رابطوں کے نئے مواقع نے ہماری زندگیوں کو بدل دیا ہے۔ تاہم، مسئلہ ٹیکنالوجی کی موجودگی نہیں بلکہ اس کا بے احتیاط استعمال اور ہماری زندگیوں میں اس کی بڑھتی ہوئی بالادستی ہے۔ جب موبائل فون ہماری توجہ، وقت اور جذباتی وابستگی کا مرکز بن جائے تو حقیقی دنیا کے تعلقات آہستہ آہستہ پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔آج ایک ہی گھر میں بیٹھے افراد کے درمیان بھی خاموشی کی ایک دیوار حائل دکھائی دیتی ہے۔ سب اپنے اپنے موبائل فون میں مصروف ہوتے ہیں۔ گفتگو کے لیے وقت کم اور اسکرین پر گزرتے ہوئے لمحات زیادہ ہوتے جا رہے ہیں۔ کبھی خاندان کے افراد ایک دوسرے کے دن بھر کے تجربات سنتے تھے، دوست آمنے سامنے بیٹھ کر اپنے مسائل بیان کرتے تھے اور کسی پریشانی میں کسی کا ساتھ دینا ایک فطری عمل سمجھا جاتا تھا۔ اب بعض اوقات ایک ہی محفل میں موجود لوگ ایک دوسرے سے بات کرنے کے بجائے اپنی اسکرینوں پر دوسروں کی زندگیوں کو دیکھنے میں مصروف رہتے ہیں۔

سوشل میڈیا نے رابطوں کو آسان ضرور بنایا ہے، لیکن رابطہ اور تعلق ایک ہی چیز نہیں ہیں۔ کسی کی تصویر پسند کرنا، اس کی پوسٹ پر تبصرہ کرنا یا اسے مبارک باد کا پیغام بھیجنا سماجی رابطے کی ایک شکل ہے، مگر کسی کی خاموشی کو سمجھنا، اس کی پریشانی سننا اور مشکل وقت میں اس کے ساتھ کھڑے ہونا ایک گہرے انسانی تعلق کی علامت ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں ہماری فہرستِ احباب طویل ہو سکتی ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ضرورت کے وقت ہمارے پاس بات سننے والا کوئی شخص بھی موجود ہوگا۔ اس صورتِ حال کا ایک اہم پہلو دوسروں سے مسلسل موازنہ کرنا بھی ہے۔ سوشل میڈیا پر عموماً زندگی کے خوبصورت لمحات، کامیابیاں، تفریحی سرگرمیاں اور خوش گوار تجربات زیادہ نمایاں کیے جاتے ہیں۔ ان منتخب مناظر کو دیکھ کر بعض افراد اپنی روزمرہ زندگی کو دوسروں کی بظاہر مکمل زندگی سے موازنہ کرنے لگتے ہیں۔ انہیں محسوس ہو سکتا ہے کہ دوسرے لوگ زیادہ کامیاب، زیادہ خوش اور زیادہ مطمئن ہیں، جبکہ ان کی اپنی زندگی میں کوئی کمی ہے۔ حالاں کہ اسکرین پر دکھائی دینے والی زندگی کسی شخص کی مکمل حقیقت نہیں ہوتی۔ ہر مسکراہٹ کے پیچھے خوشی اور ہر خاموشی کے پیچھے غم ہونا ضروری نہیں۔

یہ موازنہ خصوصاً نوجوانوں کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتا ہے، کیونکہ اس عمر میں شناخت، خود اعتمادی اور مستقبل کے بارے میں احساسات تشکیل پا رہے ہوتے ہیں۔ دوسروں کی منظوری حاصل کرنے کی خواہش میں پسندیدگیوں، تبصروں اور پیروکاروں کی تعداد کو اپنی اہمیت کا پیمانہ سمجھنا انسان کو اپنی ذات کے بارے میں غیر ضروری تشویش میں مبتلا کر سکتا ہے۔ جب خود اعتمادی کا انحصار دوسروں کے ردِعمل پر ہونے لگے تو انسان اپنی حقیقی صلاحیتوں اور کامیابیوں کی قدر کرنا بھول سکتا ہے۔
تاہم، یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ڈیجیٹل دنیا تنہائی کی واحد وجہ ہے۔ تنہائی کے پیچھے خاندانی مسائل، معاشی دباؤ، مصروف زندگی، سماجی توقعات اور ذاتی حالات سمیت کئی عوامل ہو سکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی بعض لوگوں کے لیے مددگار بھی ثابت ہوتی ہے، خصوصاً ان افراد کے لیے جو فاصلے، معذوری یا دیگر وجوہات کی بنا پر اپنے پیاروں سے بالمشافہ نہیں مل سکتے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب مجازی رابطے حقیقی تعلقات کا متبادل بننے لگیں اور انسان اپنی جذباتی ضروریات کو سمجھنے کے بجائے مسلسل اسکرین میں پناہ تلاش کرنے لگے۔

اس صورتِ حال میں حل ٹیکنالوجی سے مکمل دوری اختیار کرنا نہیں بلکہ اس کے استعمال میں توازن پیدا کرنا ہے۔ خاندان کے افراد روزانہ کچھ وقت موبائل فون سے دور رہ کر ایک دوسرے سے گفتگو کر سکتے ہیں۔ دوستوں کے ساتھ بالمشافہ ملاقاتوں کو اہمیت دی جا سکتی ہے۔ کھانے کے دوران، خاندانی محفلوں میں اور گفتگو کے وقت فون ایک طرف رکھنا ایک چھوٹی سی تبدیلی ہے، لیکن اس سے دوسروں کو توجہ دینے اور ان کی بات سننے کی عادت پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی طرح نوجوانوں میں ڈیجیٹل شعور کو فروغ دینا ضروری ہے تاکہ وہ آن لائن مواد کو حقیقت کا مکمل عکس نہ سمجھیں اور اپنی خود اعتمادی کو مجازی مقبولیت سے وابستہ نہ کریں۔تعلیمی اداروں، خاندانوں اور ذرائع ابلاغ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ صحت مند ڈیجیٹل رویوں کے بارے میں آگاہی پیدا کریں۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کسی شخص کی آن لائن موجودگی اس کی جذباتی کیفیت کا مکمل اظہار نہیں ہوتی۔ بسا اوقات جو شخص سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ متحرک دکھائی دیتا ہے، وہ بھی حقیقی زندگی میں توجہ، ہمدردی اور کسی مخلص ساتھی کا خواہش مند ہو سکتا ہے۔ اس لیے دوسروں کے رویوں کو فوراً تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے ان کی بات سننا اور ان کے حالات کو سمجھنے کی کوشش کرنا زیادہ اہم ہے۔

آخرکار، ترقی کا مطلب صرف تیز رفتار انٹرنیٹ، جدید آلات اور رابطوں کے وسیع ذرائع حاصل کرنا نہیں۔ حقیقی ترقی یہ بھی ہے کہ ان سہولتوں کے باوجود ہم اپنی انسانیت، احساس اور تعلقات کو زندہ رکھ سکیں۔ اگر ٹیکنالوجی ہمیں دنیا سے تو جوڑ دے لیکن اپنے اردگرد موجود لوگوں سے دور کر دے تو ہمیں اپنے طرزِ زندگی پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔شاید آج کے انسان کو مزید رابطوں سے زیادہ بامعنی تعلقات کی ضرورت ہے؛ ایسے تعلقات جن میں توجہ ہو، خلوص ہو اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی گنجائش ہو۔ کیونکہ آخرکار انسان کو صرف یہ احساس کافی نہیں کہ بہت سے لوگ اسے دیکھ رہے ہیں، بلکہ اسے یہ بھی محسوس ہونا چاہیے کہ کوئی اسے سمجھتا ہے، اس کی بات سنتا ہے اور اس کی موجودگی کو اہمیت دیتا ہے۔ ڈیجیٹل دنیا میں حقیقی کامیابی شاید یہی ہے کہ ہم رابطوں کے اس وسیع ہجوم میں اپنی انسانیت اور ایک دوسرے کے لیے وقت نکالنا نہ بھولیں۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment