ہوم << ذکر الٰہی: اللہ کے قرب و رضا کا بہترین ذریعہ – مولانا قاری محمد سلمان عثمانی
600x314

ذکر الٰہی: اللہ کے قرب و رضا کا بہترین ذریعہ – مولانا قاری محمد سلمان عثمانی

اللہ رب العزت فرماتے ہیں: تم میرا ذکر کرو، میں تمہارا ذکر کروں گا، وہ بھی عرش پر فرشتوں میں۔ جس انسان کی زبان اللہ تعالیٰ کے ذکر سے تر رہتی ہے، وہی انسان کامیاب ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے بڑا دنیا میں کوئی کام نہیں، اللہ کا نام سب سے بڑا ہے۔ذکرِ الٰہی کے احادیث میں بڑے فوائد اور فضائل بیان کیے گئے ہیں۔ اسی طرح علماء، مشائخ اور بزرگانِ دین نے بھی ذکرِ الٰہی کی فضیلت کو انتہائی خشوع کے ساتھ بیان کیا ہے۔

ذکر کرنے والے کی مثال زندہ جیسی ہے اور نہ کرنے والے کی مثال مردہ جیسی ہے۔ ذکر صرف زبان سے چند کلمات دہرا لینے کا نام نہیں، بلکہ دل، زبان اور اعمال کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کا نام ہے۔سورۃ الاحزاب میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
”اے ایمان والو! اللہ کا ذکر کثرت سے کرو۔“

سورۃ آل عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ:
”اور جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں۔ اے ہمارے رب! تو نے یہ بیکار نہ بنایا، پاکی ہے تجھے، تو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔“

سورۃ الاحزاب میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
”اور کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور ذکر کرنے والی عورتیں، ان سب کے لیے اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے۔“

سورۃ البقرہ میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
”تم میرا ذکر کرو، میں تمہارا ذکر کروں گا، اور میرا شکر بجا لاؤ اور ناشکری نہ کرو۔“

ذکرِ الٰہی سے روگردانی کرنے والوں کے لیے قرآن مجید میں سخت وعید فرمائی گئی ہے۔ اسی طرح سورۃ الزخرف میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
”اور جو رحمن کے ذکر سے غافل ہو جائے، ہم اس پر ایک شیطان تعینات کریں کہ وہ اس کا ساتھی رہے۔“

احادیثِ مبارکہ میں بھی ذکر کی بے شمار فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے عرض کیا:
یا رسول اللہ ﷺ! شریعت کے احکام میرے اوپر کثرت سے لازم ہو گئے ہیں، پس مجھے کوئی ایسی شے بتائیں جس سے میں چمٹ جاؤں اور اسے لازم پکڑ لوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تیری زبان ہر وقت اللہ کے ذکر سے تر رہنی چاہیے۔ (ترمذی)

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
”نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں تمہارے سب سے بہترین عمل کے بارے میں نہ بتاؤں، جو تمہارے مالک کو سب سے زیادہ پاکیزہ لگتا ہے، جو تمہارے درجات بلند کرنے کے لیے سب سے زیادہ مفید ہے، تمہارے لیے سونے اور چاندی کو خرچ کرنے سے بہتر ہے اور تمہارے لیے دشمن سے جہاد اور اپنی جانیں قربان کرنے سے افضل ہے؟ عرض کی گئی: یا رسول اللہ ﷺ! آپ ضرور ارشاد فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا ذکر ان تمام اعمال سے بہتر ہے۔“

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ کے ذکر سے زیادہ عذابِ الٰہی سے بچانے والی اور کوئی شے نہیں ہے۔ (ترمذی)

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہر دن اور ہر رات میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کوئی احسان اور کوئی صدقہ فرماتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے کسی پر اس سے بڑا احسان نہیں کیا جتنا بڑا احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندے کو اپنے ذکر کی توفیق عطا فرما دے۔ (الدعا للطبرانی)

حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص میرے ذکر میں مصروفیت کی وجہ سے مجھ سے مانگ نہ سکا، تو میں اسے وہ نعمتیں عطا فرماتا ہوں کہ وہ سارے مانگنے والے لوگوں سے بڑھ کر ہوتی ہیں۔ (شعب الایمان)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی رحمت ﷺ نے ارشاد فرمایا: آدم کا بیٹا جو وقت بھی گزارتا ہے، جس میں وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتا، وہ قیامت کے دن اس کے لیے حسرت کا باعث ہوگا۔ (شعب الایمان)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی رحمت ﷺ مکہ کے راستے پر چل رہے تھے تو ایک پہاڑ کے پاس سے گزرے جسے جمدان کہا جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: چلو، اس جمدان پر، بے شک مفردون سبقت لے گئے۔ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! مفردون کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے والے مرد اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے والی عورتیں۔ (مسلم)

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو کثرت سے ذکر کرتا ہے، اللہ اسے اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔ (الترغیب)

حضرت سہل بن معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ سے ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! کون سے مجاہد کو سب سے زیادہ اجر ملتا ہے؟ فرمایا: جو کثرت سے اللہ کا ذکر کرے۔ اس نے پھر عرض کی: کس روزے دار کو زیادہ اجر ملتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ذکر کرنے والے کو۔ پھر اس نے نماز، زکوٰۃ، حج اور صدقہ کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے ہر سوال کے جواب میں یہی فرمایا کہ ذکر کرنے والے کو۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سخت اعمال تین طرح کے ہیں؛ ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے وقت نکالنا، دوم ہر وقت اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہنا، اور سوم یہ کہ اپنے بھائی کی مالی مدد کرنا۔ (حلیۃ الاولیاء)

حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کرو اور یہ کوشش کرو کہ صرف اسی کی صحبت میں بیٹھو جو اللہ تعالیٰ کے ذکر میں تمہاری مدد کرے۔ (شعب الایمان)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو زمین میں گھومتے رہتے ہیں اور مجالسِ ذکر کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ جب وہ کسی ایسی مجلس کو پاتے ہیں جس میں اللہ کا ذکر ہو رہا ہو تو وہ بھی وہاں بیٹھ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کو اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں، یہاں تک کہ وہ مجلس آسمانِ دنیا تک بھر جاتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ان فرشتوں سے سوال کرتا ہے، حالانکہ وہ سب کچھ بہتر جانتا ہے، اور آخر میں فرماتا ہے: میں نے انہیں بخش دیا، ان کی دعائیں قبول کر لیں اور جس چیز سے انہوں نے پناہ مانگی، اس سے انہیں محفوظ کر دیا۔ جب فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اس مجلس میں ایک گناہ گار بھی تھا جو محض گزر رہا تھا اور بیٹھ گیا، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اسے بھی معاف کر دیا۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھنے والا بھی محروم نہیں رہتا۔“ (صحیح البخاری: 6408، صحیح مسلم: 2689)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جہاں اللہ کا ذکر ہوتا ہے، اس جگہ کو فرشتے گھیر لیتے ہیں۔ (صحیح مسلم)

بخاری شریف میں بحوالہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ درج ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جس وقت بندہ میرا ذکر کرتا ہے اور میری یاد میں اس کے ہونٹ حرکت کرتے ہیں تو اس وقت میں اپنے اس بندے کے ساتھ ہوتا ہوں۔“

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک ایسے درخت کے پاس سے گزرے جس کے پتے سوکھ چکے تھے۔ آپ ﷺ نے اس پر اپنا عصا مبارک مارا تو اس کے سوکھے پتے جھڑ پڑے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ کلمے: سبحان اللہ، والحمد للہ، ولا الٰہ الا اللہ، واللہ اکبر، بندے کے گناہوں کو اس طرح جھاڑ دیتے ہیں جس طرح تم نے اس درخت کے پتے جھڑتے دیکھے۔“ (جامع ترمذی)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جو لوگ اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے کے لیے بیٹھتے ہیں، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں، اللہ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، اور اللہ تعالیٰ فرشتوں کے درمیان ان کا ذکر کرتا ہے۔“ (صحیح مسلم: 2700)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس دنیا کی وہ تمام چیزیں جن پر سورج کی روشنی اور اس کی شعاعیں پڑتی ہیں، ان سب چیزوں کے مقابلے میں مجھے یہ زیادہ محبوب ہے کہ میں ایک دفعہ سبحان اللہ، والحمد للہ، ولا الٰہ الا اللہ، واللہ اکبر کہوں۔“

حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سب سے افضل ذکر لا الٰہ الا اللہ ہے۔“

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو بندہ دل کے اخلاص سے کہے، لا الٰہ الا اللہ، اس کے لیے لازماً آسمانوں کے دروازے کھل جائیں گے، یہاں تک کہ وہ عرشِ الٰہی تک پہنچے گا، بشرطیکہ وہ آدمی کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے۔

ترمذی شریف میں ایک اور حدیث ہے: ”کلمہ لا الٰہ الا اللہ کے اور اللہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں۔ یہ کلمہ سیدھا اللہ کے پاس پہنچتا ہے۔“
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں اپنے دل کے سکون اور اللہ کی رضا کے لیے خشوع و خضوع کے ساتھ اپنا مبارک ذکر کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

مولانا قاری محمد سلمان عثمانی

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment