ہوم << فرض نماز کے بعد تسبیحات کی فضیلت اور سنتِ نبوی ﷺ کی پابندی – محمد عدنان
600x314

فرض نماز کے بعد تسبیحات کی فضیلت اور سنتِ نبوی ﷺ کی پابندی – محمد عدنان

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب، فیصل مسجد، اسلام آباد
درس بعد نمازِ ظہر

الحمدللہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سید الأنبیاء والمرسلین، وعلیٰ آلہ وأصحابہ أجمعین۔
نبی مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا فرض نماز کے بعد ایک معمول اور عظیم سنت یہ تھی کہ آپ ﷺ 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمدللہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھنے کی تلقین فرماتے تھے۔ مختلف احادیثِ مبارکہ میں ان اذکار کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔یہ صرف چند کلمات نہیں، بلکہ نبی کریم ﷺ کی عظیم سنت ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ فرض نمازوں کے بعد ان اذکار کا باقاعدگی سے اہتمام کریں۔ ذکرِ الٰہی ایسی عبادت ہے جس میں بندے کے لیے دنیا و آخرت کی خیر، برکت اور اجر پوشیدہ ہے۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا واقعہ
نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا گھر کے روزمرہ کے تمام کام خود انجام دیتی تھیں۔ چکی پیسنے اور گھریلو کاموں کی مشقت کی وجہ سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بہت تھک جاتی تھیں۔اس زمانے میں جنگ کے نتیجے میں بعض لونڈیاں بھی مسلمانوں کے پاس آتی تھیں، جنہیں نبی کریم ﷺ ضرورت مند مسلمانوں میں تقسیم فرما دیتے تھے۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا کہ آپ گھر کے کاموں کی وجہ سے بہت تھک جاتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں کچھ لونڈیاں آئی ہیں، آپ بھی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے لیے ایک خادمہ طلب کر لیں۔حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اپنی تکلیف اور گھر کے کاموں کی مشقت عرض کی۔باپ کی اپنی بیٹی کے لیے شفقت کا جو مقام ہوتا ہے، نبی کریم ﷺ کی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے محبت اپنی جگہ بے مثال تھی۔ لیکن آپ ﷺ نے انہیں دنیاوی سہولت کے بجائے ایک ایسی نعمت عطا فرمائی جو ان کے لیے اس سے کہیں زیادہ قیمتی تھی۔

آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جو خادمہ سے بھی بہتر ہے اور دنیا و مافیہا سے بھی بہتر ہے؟“
پھر آپ ﷺ نے سونے سے پہلے 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمدللہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھنے کی تعلیم دی۔ یہ ذکر بعد میں تسبیحِ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نام سے معروف ہوا۔ اس واقعے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ذکرِ الٰہی انسان کے لیے روحانی طاقت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد و برکت کا ذریعہ ہے۔

مشکلات میں سنتِ نبوی ﷺ کو اختیار کرنا
آج ہماری زندگی میں بھی کام کی کثرت، ذمہ داریوں کا بوجھ، پریشانیاں اور مختلف مشکلات موجود ہیں۔ اگر ہم نبی کریم ﷺ کی اس سنت کو یقین، محبت اور پابندی کے ساتھ اختیار کریں تو اللہ تعالیٰ ہمارے لیے آسانیاں پیدا فرمائے گا۔ان اذکار کو صرف ایک معمول سمجھ کر نہ پڑھیں، بلکہ اس یقین کے ساتھ پڑھیں کہ یہ نبی کریم ﷺ کی سنت ہے اور ہم اپنے پیارے نبی ﷺ کی اتباع میں اسے ادا کر رہے ہیں۔بسا اوقات انسان کام کے بوجھ سے پریشان ہو جاتا ہے، لیکن جب وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسانی کے راستے پیدا فرما دیتا ہے۔ ذکرِ الٰہی دل کو سکون، زندگی میں برکت اور اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔لہٰذا آج سے ہم میں سے ہر شخص اس سنت کو اپنے معمول کا حصہ بنائے۔ ہر فرض نماز کے بعد 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمدللہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھنے کا اہتمام کریں اور اس سنت کو اپنی زندگی میں لازم پکڑیں۔یہ صرف خود عمل کرنے کی چیز نہیں، بلکہ خیر کے اس پیغام کو اپنے گھر والوں، دوستوں اور دوسرے مسلمانوں تک بھی پہنچانا چاہیے، تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نبی کریم ﷺ کی اس عظیم سنت پر عمل کرنے والے بنیں۔

اللہ رب العزت ہمیں نبی کریم ﷺ کی سنتوں سے سچی محبت عطا فرمائے، ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اپنی زندگیوں کو ذکرِ الٰہی سے آباد فرمائے اور ہمیں سنتِ رسول ﷺ کی سچی اتباع نصیب فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔