درس بعد نمازِ ظہر
مقرر: ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد اسلام آباد
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمدللہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ خاتم النبیین، اما بعد!
معزز نمازی حضرات!
آج کے اس پُرفتن دور میں مختلف قسم کی آزمائشیں، فتنے اور ایسے حالات بڑھتے جا رہے ہیں جن میں انسان کے ایمان، عقیدے اور دینی استقامت کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں ایک مسلمان کو سب سے زیادہ فکر اپنے ایمان کی حفاظت کی کرنی چاہیے۔کیونکہ دنیا میں انسان کے پاس سب سے قیمتی دولت اس کا ایمان ہے۔ مال و دولت، عہدہ، شہرت اور دنیا کی تمام آسائشیں ایک طرف ہیں اور ایمان کی نعمت دوسری طرف۔اگر ایمان محفوظ ہے تو انسان کی اصل کامیابی اور نجات کی امید باقی ہے۔ لیکن اگر ایمان ہی خطرے میں پڑ جائے تو دنیا کی تمام نعمتیں بھی آخرت میں کام آنے والی نہیں۔نبی کریم ﷺ نے امت کو فتنوں سے خبردار فرمایا اور ان سے حفاظت کے لیے دعائیں بھی سکھائیں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا، أَوْ يُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا۔
ترجمہ: نیک اعمال میں جلدی کرو، ان فتنوں کے آنے سے پہلے جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی طرح ہوں گے۔ ان حالات میں آدمی صبح کے وقت مومن ہوگا اور شام کو کافر ہو جائے گا، یا شام کو مومن ہوگا اور صبح کافر ہو جائے گا۔ وہ دنیا کے معمولی فائدے کے بدلے اپنا دین فروخت کر دے گا۔(صحیح مسلم: 118)
اس حدیث مبارک سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات فتنے انسان کو اس قدر متاثر کرتے ہیں کہ وہ اپنے دین اور ایمان کے معاملے میں بھی کمزوری کا شکار ہو جاتا ہے۔ کبھی دنیا کا لالچ، کبھی مال و دولت کی محبت، کبھی شہرت کی خواہش، کبھی خوف اور کبھی ماحول کا دباؤ انسان کو حق سے دور کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم نیک اعمال میں جلدی کریں، قرآن مجید سے اپنا تعلق مضبوط رکھیں، نمازوں کی پابندی کریں، حلال و حرام کی تمیز برقرار رکھیں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے ایمان پر ثابت قدمی کی دعا کرتے رہیں۔
قرآن مجید کی عظیم دعا: ایمان پر ثابت قدمی
معزز حضرات!
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کی ایک نہایت جامع دعا بیان فرمائی ہے، جس میں ایمان کی حفاظت، دل کی استقامت اور اللہ تعالیٰ کی رحمت طلب کی گئی ہے۔
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ۔
ترجمہ: اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت عطا فرمانے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ ہونے دے، اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، بے شک تو ہی بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے۔(سورۃ آل عمران: 8)
اس مختصر دعا میں ایک مسلمان کی دینی اور اخروی کامیابی کے لیے نہایت اہم مطالبات موجود ہیں۔ آئیے، ان پر الگ الگ غور کرتے ہیں۔
1۔ ایمان اور ہدایت کی حفاظت کی دعا
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا: اے ہمارے رب! ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ ہونے دے۔
اس دعا میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کی گئی ہے کہ ہمارے دل حق سے نہ ہٹیں اور ہمیں گمراہی کی طرف جانے سے محفوظ فرما۔انسان کا دل بدلنے میں دیر نہیں لگتی۔ کبھی کسی غلط نظریے سے متاثر ہو کر، کبھی کسی گناہ کو معمولی سمجھ کر، کبھی کسی دنیاوی مفاد کی خاطر اور کبھی مسلسل غفلت کے نتیجے میں انسان کے دل میں حق سے دوری پیدا ہونے لگتی ہے۔اسی لیے صرف یہ کافی نہیں کہ انسان آج ایمان پر قائم ہے، بلکہ اسے یہ فکر بھی ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اسے زندگی کے آخری لمحے تک ایمان پر قائم رکھے۔ہمیں اپنی عبادات، اپنے معاملات، اپنے اخلاق اور اپنے عقائد کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے۔ اگر کوئی غلطی ہو جائے تو فوراً توبہ کرنی چاہیے، اور اگر کسی فتنے کا سامنا ہو تو اپنے ایمان کو اس کے حوالے نہیں کر دینا چاہیے۔یہ بھی یاد رہے کہ ہر اختلاف، ہر آزمائش یا کسی واقعے کو دیکھ کر فوراً کسی کے ایمان کے بارے میں فیصلہ کرنا درست نہیں۔ ہمیں اپنے ایمان کی حفاظت کے ساتھ حکمت، عدل اور شریعت کی تعلیمات کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔
2۔ ہدایت ملنے کے بعد ثابت قدمی کی دعا
بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا: ہمیں ہدایت عطا فرمانے کے بعد۔
اس دعا کے الفاظ ہمیں متوجہ کرتے ہیں کہ ہدایت مل جانا اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ لیکن اس نعمت پر قائم رہنا بھی اللہ تعالیٰ کی توفیق اور رحمت کا محتاج ہے. بعض لوگ ایک وقت میں دین سے بہت محبت کرتے ہیں، عبادات کا اہتمام کرتے ہیں اور نیکی کے کاموں میں آگے رہتے ہیں۔ لیکن بعد میں دنیا کی محبت، بری صحبت، مسلسل غفلت یا گناہوں کی وجہ سے ان کے معمولات اور دینی کیفیت میں کمزوری آ جاتی ہے۔اسی لیے ہمیں اپنے ماضی کی نیکیوں پر مطمئن ہو کر نہیں بیٹھ جانا چاہیے، بلکہ ہر دن اللہ تعالیٰ سے ہدایت میں اضافے اور اس پر استقامت کی دعا کرنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زَادَهُمْ هُدًى وَآتَاهُمْ تَقْوَاهُمْ۔
ترجمہ: اور جن لوگوں نے ہدایت اختیار کی، اللہ نے انہیں مزید ہدایت عطا فرمائی اور انہیں ان کا تقویٰ عطا فرمایا۔(سورۃ محمد: 17)
لہٰذا ایک مومن کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ اس کا آج گزشتہ کل سے بہتر ہو، اس کا اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہو اور اس کے دل میں نیکی کی محبت بڑھتی رہے۔
3۔ اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت مانگنا
وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً: اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما۔
یہاں اللہ تعالیٰ سے رحمت مانگی جا رہی ہے۔ رحمت ایک وسیع مفہوم رکھنے والی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت میں ہدایت، ایمان پر استقامت، گناہوں کی معافی، نیکی کی توفیق، دل کا اطمینان اور آخرت کی کامیابی سب شامل ہیں۔انسان اپنی عقل، تجربے اور کوشش سے بہت کچھ حاصل کر سکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر حقیقی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔ہماری زندگی میں بہت سے ایسے مواقع آتے ہیں جب ہمیں خود معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارے لیے کیا بہتر ہے۔ بعض اوقات جس چیز کو ہم اپنے لیے نعمت سمجھ رہے ہوتے ہیں، وہ آزمائش بن جاتی ہے، اور بعض اوقات جس چیز کو ہم مصیبت سمجھتے ہیں، اسی میں ہمارے لیے خیر کا پہلو ہوتا ہے۔اس لیے ایک مسلمان کو اللہ تعالیٰ سے صرف اپنی خواہشات پوری ہونے کی دعا نہیں کرنی چاہیے، بلکہ یہ بھی مانگنا چاہیے کہ اے اللہ! ہمیں وہ عطا فرما جس میں ہمارے دین، دنیا اور آخرت کی بھلائی ہو۔اللہ تعالیٰ کی رحمت ہی ہے کہ وہ بندے کی توبہ قبول فرماتا ہے، اس کی خطاؤں کو معاف کرتا ہے، اسے گناہوں سے بچنے کی توفیق دیتا ہے اور مشکل حالات میں اس کے لیے آسانی کے راستے پیدا فرماتا ہے۔
4۔ اللہ تعالیٰ کی عطا پر کامل یقین
إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ: بے شک تو ہی بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے۔
دعا کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی صفتِ وہابیت کا ذکر ہے۔ یعنی وہ ذات جو بے حساب عطا فرمانے والی ہے اور جس کی عطا کسی مخلوق کی عطا کی طرح محدود نہیں۔جب بندہ اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے تو اسے یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس کی دعا سنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حکمت کے مطابق عطا فرماتا ہے۔کبھی بندے کو وہ چیز مل جاتی ہے جو اس نے مانگی ہوتی ہے، کبھی اس کے بدلے کوئی دوسری بھلائی عطا ہوتی ہے اور کبھی کسی نقصان یا مصیبت سے حفاظت فرما دی جاتی ہے۔ہمیں دعا مانگتے وقت مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اپنی کمزوریوں، گناہوں اور مشکلات کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید رکھنی چاہیے اور اس کے سامنے عاجزی کے ساتھ ہاتھ پھیلانے چاہییں۔اس دعا میں ہم اللہ تعالیٰ سے یہ مانگ رہے ہیں کہ ہمارے دلوں کو حق پر قائم رکھ، ہمیں اپنی رحمت عطا فرما اور ہمیں دین و دنیا کی بھلائیاں نصیب فرما۔
مال و دولت کی فراوانی کامیابی کی قطعی علامت نہیں
معزز نمازی حضرات!
ایک اور اہم بات سمجھنے کی ہے کہ دنیاوی مال و دولت کی فراوانی کو اللہ تعالیٰ کی رضا کی قطعی علامت نہیں سمجھنا چاہیے، اور نہ ہی مالی تنگی کو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کی یقینی دلیل سمجھنا چاہیے۔کسی کے پاس بہت زیادہ مال ہو سکتا ہے، لیکن اس کے لیے وہ مال آزمائش بن جائے۔ کسی کے پاس کم مال ہو سکتا ہے، لیکن وہ صبر، شکر اور تقویٰ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند مقام حاصل کر لے۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:
فَأَمَّا الْإِنْسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ كَلَّا۔
ترجمہ: لیکن انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا رب اسے آزماتا ہے، پھر اسے عزت دیتا اور نعمتیں عطا فرماتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دی۔ اور جب اسے آزماتا ہے اور اس کا رزق اس پر تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا۔ ہرگز نہیں!(سورۃ الفجر: 15-17)
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ مال کی فراوانی اور رزق کی تنگی دونوں آزمائش بن سکتی ہیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ نعمت ملنے پر انسان شکر گزار ہو اور تنگی آنے پر صبر کرے، حلال ذرائع اختیار کرے اور اللہ تعالیٰ سے امید قائم رکھے۔اللہ تعالیٰ چاہتا تو کافروں کو دنیا میں اتنی آسائشیں عطا فرما دیتا کہ ان کے گھروں کی چھتیں اور سیڑھیاں بھی سونے اور چاندی کی بنا دی جاتیں۔ لیکن دنیا کی یہ چمک دمک اللہ تعالیٰ کے ہاں کامیابی کا معیار نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَلَوْلَا أَنْ يَكُونَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً لَجَعَلْنَا لِمَنْ يَكْفُرُ بِالرَّحْمَٰنِ لِبُيُوتِهِمْ سُقُفًا مِنْ فِضَّةٍ وَمَعَارِجَ عَلَيْهَا يَظْهَرُونَ۔
ترجمہ: اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ تمام لوگ ایک ہی طریقے کے ہو جائیں گے تو ہم رحمان کا انکار کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں چاندی کی بنا دیتے اور سیڑھیاں بھی جن پر وہ چڑھتے۔(سورۃ الزخرف: 33)
ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی آسائشیں اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کا حتمی پیمانہ نہیں ہیں۔ دنیا کی نعمتیں بھی آزمائش ہیں اور ان سے محرومی بھی آزمائش ہو سکتی ہے۔لہٰذا کسی شخص کو صرف اس کی دولت، کاروبار، عہدے یا ظاہری کامیابی کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کا مقرب نہیں سمجھنا چاہیے۔ اصل فضیلت ایمان، تقویٰ، اخلاص اور نیک اعمال میں ہے۔
مومن کے لیے دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ۔
ترجمہ: دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔(صحیح مسلم: 2956)
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مومن دنیا میں اپنی خواہشات کو شریعت کے تابع رکھتا ہے۔ وہ ہر حلال و حرام کی پابندی کرتا ہے، اپنی خواہشات پر حدود قائم کرتا ہے اور آخرت کی کامیابی کو سامنے رکھ کر زندگی گزارتا ہے۔اس کے مقابلے میں جو شخص آخرت کی جواب دہی کو نظر انداز کرتا ہے، اس کے لیے دنیا کی آسائشیں ہی سب کچھ بن سکتی ہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ مومن دنیا کی نعمتوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا یا مال کمانا برا ہے۔اسلام حلال روزی کمانے، اہل و عیال کی ضروریات پوری کرنے، غرباء کی مدد کرنے اور نعمتوں پر شکر ادا کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ مومن دنیا کو اپنا آخری مقصد نہیں بناتا، بلکہ اسے آخرت کی تیاری کا ذریعہ سمجھتا ہے۔مال زیادہ ہونا بذاتِ خود قابلِ مذمت نہیں، بشرطیکہ وہ حلال ہو، انسان کے دین پر غالب نہ آ جائے اور اس کے حقوق اللہ اور حقوق العباد متاثر نہ ہوں۔ اسی طرح غربت بھی بذاتِ خود کسی شخص کے تقویٰ کی دلیل نہیں۔ایک مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے لیے کشادہ اور بابرکت رزق مانگے، فقر و محتاجی سے حفاظت کی دعا کرے، حلال کمائی کی کوشش کرے، لیکن مال و دولت کی خاطر اپنے ایمان، اصولوں اور دینی ذمہ داریوں پر سمجھوتا نہ کرے۔
فتنوں کے دور میں اپنے ایمان کی حفاظت کیسے کریں؟
معزز حضرات!
جب فتنے بڑھ جائیں تو ہمیں اپنی توجہ چند اہم باتوں پر مرکوز رکھنی چاہیے:
1\. نماز کی پابندی: پانچ وقت کی نماز انسان کو اللہ تعالیٰ سے جوڑتی ہے اور اس کے دل میں تقویٰ پیدا کرتی ہے۔
2\. قرآن مجید سے تعلق: قرآن کی تلاوت، اس کے معانی کو سمجھنا اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنا ہدایت پر قائم رہنے کا اہم ذریعہ ہے۔
3\. دعاؤں کا اہتمام: صبح و شام کی مسنون دعائیں پڑھیں اور اللہ تعالیٰ سے ایمان پر ثابت قدمی مانگیں۔
4\. صحبت کا انتخاب: نیک لوگوں کی صحبت اختیار کریں اور ایسی مجالس و مواد سے بچیں جو دین سے دوری، شکوک و شبہات یا گناہوں کی طرف لے جائیں۔
5\. حلال و حرام کی پابندی: مال، ملازمت، کاروبار اور معاشرتی تعلقات میں اللہ تعالیٰ کے احکامات کو مقدم رکھیں۔
6\. اپنے گھر والوں کی دینی تربیت: اپنی اولاد اور اہلِ خانہ کو ایمان، نماز، قرآن اور اسلامی اخلاق کی تعلیم دیں اور انہیں فتنوں سے بچنے کا شعور فراہم کریں۔
7\. اللہ تعالیٰ پر توکل: آزمائش کے وقت گھبرانے کے بجائے صبر، دعا اور درست عملی تدابیر اختیار کریں۔
رسول اللہ ﷺ نے فتنوں کے زمانے میں ایک جامع دعا بھی سکھائی:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ النَّارِ وَعَذَابِ النَّارِ، وَفِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَشَرِّ فِتْنَةِ الْفَقْرِ۔
ترجمہ: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں آگ کے فتنے اور آگ کے عذاب سے، قبر کے فتنے اور قبر کے عذاب سے، مال داری کے فتنے کے شر سے اور محتاجی کے فتنے کے شر سے۔(صحیح بخاری و صحیح مسلم، دعاؤں کے ابواب)
یہ دعا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ مال داری اور محتاجی دونوں میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنی چاہیے۔ مال ملے تو تکبر، غفلت اور حرام سے بچنے کی توفیق مانگیں، اور تنگی آئے تو مایوسی، ناشکری اور حرام ذرائع اختیار کرنے سے حفاظت طلب کریں۔
دعا
آئیے، ہم سب اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کے ساتھ دعا کریں:
اے اللہ! ہمارے ایمان کی حفاظت فرما۔ اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت عطا فرمانے کے بعد ہمارے دلوں کو حق سے منحرف نہ ہونے دینا۔ ہمیں اپنے دین پر ثابت قدم رکھنا اور زندگی کے آخری لمحے تک ایمان کی حالت میں زندہ رکھنا. اے اللہ! ہمارے دلوں میں ایمان کی محبت پیدا فرما، کفر، فسق اور نافرمانی سے نفرت عطا فرما۔ ہمیں ہر قسم کے ظاہری و باطنی فتنوں سے محفوظ فرما۔ ہمارے عقائد، اعمال، اخلاق اور معاملات کی اصلاح فرما۔اے اللہ! ہمیں فتنوں کے زمانے میں حق کو حق سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما، اور باطل کو باطل سمجھنے اور اس سے بچنے کی توفیق نصیب فرما۔ ہمارے دلوں کو شکوک و شبہات، گمراہی، ریاکاری، تکبر، حسد اور دنیا کی بے جا محبت سے پاک فرما۔اے اللہ! ہمیں اپنے پاس سے خصوصی رحمت عطا فرما۔ ہمارے گناہوں کو معاف فرما، ہماری توبہ قبول فرما، ہماری عبادات میں اخلاص پیدا فرما اور ہمیں قرآن و سنت کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں حلال، پاکیزہ، کشادہ اور بابرکت رزق عطا فرما۔ ہمیں فقر، محتاجی، قرض کے بوجھ، حرام کمائی اور ہر قسم کے شر سے محفوظ فرما۔ ہمیں مال عطا فرما تو اس میں برکت عطا فرما۔ شکر کی توفیق دے اور اسے اپنی رضا کے کاموں میں خرچ کرنے والا بنا۔اے اللہ! ہماری اولاد، اہلِ خانہ، والدین، اساتذہ، طلبہ اور تمام مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت فرما۔ ہمارے گھروں کو ایمان، قرآن، نماز، محبت اور سکون کا گہوارہ بنا۔ ہماری اولاد کو نیک، صالح، باعمل اور دین کا خادم بنا۔اے اللہ! امتِ مسلمہ پر رحم فرما۔ جہاں کہیں مسلمان فتنوں، ظلم، خوف، بھوک اور پریشانیوں میں مبتلا ہیں، ان کی مدد فرما۔ ہمیں آپس میں محبت، خیر خواہی، اتحاد اور اخلاص نصیب فرما۔اے اللہ! ہمیں دنیا کی آزمائشوں میں کامیابی عطا فرما، قبر کی منزل آسان فرما، قیامت کے دن ہماری مغفرت فرما اور ہمیں اپنے فضل و کرم سے جنت الفردوس میں جگہ عطا فرما۔
رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ۔
اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ ہونے دے، اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، بے شک تو ہی بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے۔آمین یا رب العالمین۔



تبصرہ لکھیے