بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد، اسلام آباد
درس بعد نمازِ ظہر
الحمدللہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علیٰ سید الأنبیاء والمرسلین، وعلیٰ آلہ وصحبہ أجمعین۔
اما بعد!
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَا يُصِيبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ، وَلَا وَصَبٍ، وَلَا هَمٍّ، وَلَا حَزَنٍ، وَلَا أَذًى، وَلَا غَمٍّ، حَتَّى الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا، إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ۔
ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کو جو بھی تھکن، بیماری، فکر، غم، تکلیف یا پریشانی پہنچتی ہے، یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا بھی چبھتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہوں میں سے کچھ گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔(صحیح بخاری)
یہ حدیثِ مبارکہ ہمیں زندگی کی تکالیف کے بارے میں ایک بہت عظیم حقیقت بتاتی ہے کہ مومن کی کوئی تکلیف اللہ تعالیٰ کے ہاں بے فائدہ نہیں جاتی۔ اگر انسان بیماری، پریشانی اور مصیبت کے وقت صبر کرے، اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو اور اسے اللہ کی طرف سے سمجھتے ہوئے اجر کی امید رکھے، تو اس کی تکلیف اس کے لیے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔
بیماری صرف تکلیف نہیں، رحمت کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے
انسان جب بیمار ہوتا ہے تو عموماً پریشان ہو جاتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ یہ بیماری میرے لیے مصیبت بن گئی ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیماری اور تکلیف کا ایک دوسرا پہلو بھی بتایا ہے۔مومن کے لیے بیماری صرف جسمانی تکلیف کا نام نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے گناہوں کی معافی اور درجات کی بلندی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔کبھی انسان صحت کے زمانے میں اللہ تعالیٰ سے غافل ہو جاتا ہے، لیکن جب بیماری آتی ہے تو اس کی زبان پر دعا آتی ہے۔ دل اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، نماز کی فکر بڑھ جاتی ہے اور انسان اپنی کمزوری کو محسوس کرتے ہوئے اپنے رب کے سامنے جھک جاتا ہے۔اس لیے جب کبھی کوئی بیماری یا تکلیف آئے تو مسلمان کو صرف یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ میں مشکل میں مبتلا ہو گیا ہوں، بلکہ اسے یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ شاید اس تکلیف کے ذریعے میرے گناہوں کو معاف فرمانا چاہتے ہیں اور مجھے اپنے قریب کرنا چاہتے ہیں۔
تکلیف چھوٹی ہو یا بڑی، مومن کے لیے اجر کا ذریعہ ہے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک فرمایا کہ اگر ایک کانٹا بھی مسلمان کو چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مومن کی تکلیف کی بڑی قدر ہے۔بیماری بڑی ہو یا چھوٹی، چند گھنٹوں کی ہو یا کئی دنوں کی، معمولی درد ہو یا شدید تکلیف، اگر بندہ صبر کے ساتھ اسے برداشت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید رکھتا ہے تو اس کے لیے یہ تکلیف بھی نفع کا ذریعہ بن سکتی ہے۔لہٰذا بیماری کے وقت مایوس ہونے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور دل میں یہ یقین رکھنا چاہیے کہ میرا رب میری اس تکلیف کو بھی میرے حق میں بہتر بنا سکتا ہے۔
بیماری کے وقت صبر کرنا چاہیے
بیماری اور پریشانی کے وقت انسان کے صبر کا امتحان ہوتا ہے۔مومن کا شیوہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ بیماری کے وقت شکوہ شکایت اور بے صبری کے بجائے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو. وہ دعا کرے:اے اللہ! میری اس بیماری اور تکلیف کو میرے لیے گناہوں کا کفارہ بنا دے، میرے درجات بلند فرما، مجھے صحت عطا فرما اور مجھے اپنے قریب فرما۔یقیناً درد محسوس کرنا، بیماری کی تکلیف بیان کرنا یا علاج کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنا صبر کے خلاف نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ دل میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے پر ناراضی نہ ہو اور زبان و عمل سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی جائے۔
توکل کے ساتھ علاج بھی ضروری ہے
ڈاکٹر صاحب نے اس بات کی بھی وضاحت فرمائی کہ بیماری کے وقت اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا ضروری ہے، لیکن توکل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان علاج ہی نہ کرے. بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم علاج کروائیں گے تو شاید ہمارا توکل کم ہو جائے گا، حالانکہ یہ درست تصور نہیں۔اللہ تعالیٰ پر توکل بھی کیا جائے اور علاج بھی کروایا جائے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود علاج اختیار فرمایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بھی علاج کی ترغیب دی۔ اس لیے بیماری کی صورت میں مناسب علاج کروانا بھی سنتِ نبوی کے مطابق ہے۔علاج کرواتے ہوئے دل کا یقین ڈاکٹر، دوا یا کسی مخلوق پر نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ پر ہونا چاہیے۔ دوا صرف ایک ذریعہ ہے، شفا دینے والا حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہے۔
علاج کرنا توکل کے خلاف نہیں
اگر کوئی شخص علاج کرواتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے اللہ تعالیٰ پر اعتماد نہیں۔مثلاً جب انسان بھوک محسوس کرتا ہے تو کھانا کھاتا ہے، پیاس لگتی ہے تو پانی پیتا ہے اور سفر کرنا ہو تو سواری اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح بیماری کی صورت میں علاج بھی ایک سبب ہے۔مومن اسباب اختیار کرتا ہے، لیکن اس کا دل اسباب کے بجائے مسبب الاسباب، یعنی اللہ تعالیٰ سے وابستہ رہتا ہے۔لہٰذا درست طریقہ یہ ہے کہ دعا بھی ہو، توکل بھی ہو، علاج بھی ہو اور شفا کا یقین اللہ تعالیٰ سے ہو۔
کلونجی کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کلونجی کے بارے میں بھی ارشاد فرمایا:
فِي الْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ شِفَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ
ترجمہ:”اس کلونجی میں ہر بیماری کے لیے شفا ہے، سوائے موت کے۔“(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
کلونجی چھوٹے چھوٹے سیاہ دانوں کی شکل میں ہوتی ہے اور عام طور پر پنساری کی دکانوں سے دستیاب ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اندر شفا کا ذکر فرمایا ہے۔تاہم اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ انسان بیماری کی صورت میں ضروری طبی علاج چھوڑ دے، بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہمیں علاج اختیار کرنے کی بھی تعلیم دیتی ہے۔مناسب علاج، ڈاکٹر سے مشورہ، دوا اور ساتھ اللہ تعالیٰ سے شفا کی دعا، یہ سب اسباب اختیار کرنے کے دائرے میں آتے ہیں۔
بیماری کے وقت اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کریں
بیماری کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنے رب کو زیادہ یاد کرنے لگتا ہے۔صحت میں انسان بہت سے کاموں میں مصروف رہتا ہے، لیکن جب بیماری آتی ہے تو اسے اپنی کمزوری کا احساس ہوتا ہے۔ اس وقت انسان کو چاہیے کہ نماز کی پابندی کرے، دعا کرے، استغفار کرے، اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے اور اپنے گزشتہ اعمال کا جائزہ لے۔بیماری کو صرف جسم کی تکلیف نہ سمجھیں، بلکہ اسے اپنے دل کی اصلاح کا موقع بھی بنائیں۔
یہ سوچیں:
میں اپنے رب کے ساتھ اپنا تعلق کس طرح بہتر کر سکتا ہوں؟
کون سے گناہ ہیں جنہیں مجھے چھوڑ دینا چاہیے؟
کون سے حقوق ہیں جو مجھے ادا کرنے چاہئیں؟
کون سی نیکیاں ہیں جنہیں مجھے اپنی زندگی کا معمول بنانا چاہیے؟
اس طرح ایک بیماری انسان کی پوری زندگی کو بدلنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
تکلیف کے وقت مایوسی نہیں، اللہ کی رحمت کی امید
مومن کبھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہوتا۔اگر کوئی شخص طویل عرصے سے بیمار ہے، کسی پریشانی میں مبتلا ہے یا کسی تکلیف سے گزر رہا ہے، تو اسے یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ میری دعا قبول نہیں ہو رہی یا اللہ تعالیٰ مجھ سے ناراض ہیں۔ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس تکلیف کے ذریعے اس کے گناہوں کو معاف فرما رہے ہوں، اس کے درجات بلند فرما رہے ہوں یا اسے ایسی بھلائی عطا کرنے والے ہوں جس کا اسے ابھی علم نہیں۔اس لیے بیماری کے وقت دل کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ جوڑیں اور یقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ حکمت سے بھرپور ہے۔
ایک اہم سبق
اس حدیث سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ مسلمان کی زندگی کا کوئی لمحہ بے فائدہ نہیں۔خوشی آئے تو اللہ کا شکر کرے، مصیبت آئے تو صبر کرے، بیماری آئے تو علاج کرے اور اللہ سے شفا مانگے۔تکلیف آئے تو اسے گناہوں کے کفارے کا ذریعہ سمجھے اور ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط رکھے۔پس جب کبھی ہمیں بیماری، درد، پریشانی یا کوئی دوسری تکلیف پہنچے تو ہمیں گھبرا کر مایوس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے۔اے اللہ! اس بیماری اور تکلیف کو میرے لیے گناہوں کا کفارہ بنا دے، میری خطاؤں کو معاف فرما اور میرے درجات بلند فرما۔ مجھے صبر عطا فرما، مجھے کامل صحت عطا فرما اور اس تکلیف کے بعد مجھے پہلے سے بہتر حالت میں اپنی اطاعت اور عبادت کی توفیق عطا فرما۔ آمین۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحت و عافیت کی قدر کرنے، بیماری اور مصیبت کے وقت صبر کرنے، ہر حال میں اپنے رب کی طرف رجوع کرنے، سنتِ نبوی کے مطابق علاج اختیار کرنے اور اپنی ہر تکلیف کو آخرت کے لیے نفع کا ذریعہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین.



تبصرہ لکھیے