رات کا پچھلا پہر تھا۔ آسمان پر چاند کسی شکستہ پیالے کی طرح جھکا ہوا تھا اور کھڑکی کے باہر نیم کے درخت کی شاخیں ہوا کے ساتھ یوں ہل رہی تھیں، جیسے وقت کی انگلیاں زندگی کے آخری اوراق پلٹ رہی ہوں۔ کمرے میں ایک مدھم بلب جل رہا تھا۔ اس کی زرد روشنی میں دیوار پر لٹکی گھڑی کی سوئیاں مسلسل آگے بڑھ رہی تھیں۔ ہر ٹِک ٹِک گویا خاموشی سے اعلان کر رہی تھی کہ انسان کی مہلت کم ہو رہی ہے۔
حاجی شفیق اپنے بستر پر نیم دراز تھے۔ عمر نے اُن کے چہرے پر جھریوں کی ایک ایسی کتاب لکھ دی تھی، جس کا ہر ورق کسی تجربے، کسی محرومی، کسی محبت یا کسی پچھتاوے کی داستان سناتا تھا۔ سر کے بال سفید ہو چکے تھے، آنکھوں کی روشنی مدھم پڑ گئی تھی، مگر اُن آنکھوں میں زندگی کو پہچاننے کی ایک عجیب سی چمک باقی تھی۔
اُن کے سرہانے ایک پرانی ڈائری رکھی تھی۔ ڈائری کے پہلے صفحے پر بڑے بڑے حروف میں لکھا تھا:
”جب مَیں مَر جاؤں گا!“
شفیق بار بار اِس جملے کو پڑھتے، پھر کھڑکی سے باہر اندھیرے میں دیکھنے لگتے۔ اُن کے ہونٹوں پر کبھی ہلکی سی مسکراہٹ آتی اور کبھی ایک ایسی اُداسی اُتر آتی، جیسے کوئی پرانا زخم اچانک ہرا ہو گیا ہو۔
اُن کا بیٹا زبیر کمرے میں داخل ہوا۔ اُس کے ہاتھ میں موبائل فون تھا اور ماتھے پر مصروفیت کی شکنیں تھیں۔
”ابّا جی! آپ ابھی تک جاگ رہے ہیں؟ ڈاکٹر نے آرام کا کہا ہے۔ آپ کو نیند کیوں نہیں آتی؟“
شفیق نے ڈائری بند کر دی۔
”بیٹا! نیند تو آ جاتی ہے، مگر کچھ سوال ہیں جو آنکھیں بند نہیں ہونے دیتے۔“
”کون سے سوال، ابّا جی؟“
بوڑھے باپ نے بیٹے کی طرف دیکھا۔
”یہی کہ انسان ساری زندگی جن لوگوں کے لیے جیتا ہے، کیا اُن میں سے کوئی اُس کے دل کی دھڑکن بھی سنتا ہے؟ یا سب اپنی اپنی ضرورتوں کے شور میں اتنے گم ہو جاتے ہیں کہ کسی کے خاموش ہو جانے کا انتظار کرنے لگتے ہیں؟“
زبیر نے موبائل کی اسکرین بند کی اور باپ کے قریب بیٹھ گیا۔
”آپ ایسی باتیں کیوں کرتے ہیں؟ اللہ آپ کو لمبی عمر دے۔“
شفیق مسکرائے۔
”عمر کی لمبائی سے زیادہ اہم یہ ہے، بیٹا، کہ اُس میں کتنی زندگی موجود ہے۔ بعض لوگ سو سال جی کر بھی کسی کے دل میں جگہ نہیں بنا پاتے، اور بعض چند برسوں میں ایسی خوشبو چھوڑ جاتے ہیں جو اُن کے بعد بھی فضا میں باقی رہتی ہے۔“
زبیر خاموش ہو گیا۔ شاید وہ باپ کی بات سمجھنا نہیں چاہتا تھا، یا شاید سمجھنے کے لیے اُسے اپنے اندر کے شور کو خاموش کرنا پڑتا۔
شفیق نے ڈائری دوبارہ کھولی اور دھیمی آواز میں پڑھنے لگے:
”جب میں مَر جاؤں گا، تو معلوم ہوگا کہ کون میرا تھا!“
پھر اُنہوں نے سر اٹھایا۔
”لیکن زبیر! ایک بات یاد رکھنا، مرنے کے بعد کسی کی قدر پہچاننے سے بہتر ہے کہ اُس کی زندگی میں اُس کی قدر کر لی جائے۔ قبر پر پھول رکھنے والے بہت مل جاتے ہیں، مگر بعض اوقات زندگی میں ایک گلاس پانی دینے والا بھی نصیب نہیں ہوتا۔“
زبیر کی نگاہیں جھک گئیں۔ باہر ہوا تیز ہو گئی تھی۔
## ۱۔ رفاقت کے بدلتے موسم
شفیق نے اپنی زندگی غربت کی ایک تنگ گلی سے شروع کی تھی۔ اُن کے والد ایک معمولی مزدور تھے اور والدہ لوگوں کے گھروں میں کام کر کے بچوں کا پیٹ پالتی تھیں۔ گھر کی چھت سے بارش ٹپکتی تھی، دیواروں میں دراڑیں تھیں اور سردیوں میں لحاف سے زیادہ دعاؤں کی گرمی میسر آتی تھی۔
اُنہوں نے بچپن ہی میں جان لیا تھا کہ غریب کے گھر میں خواہشیں بھی ناپ تول کر پیدا ہوتی ہیں۔ مگر اُن کی ماں کہا کرتی تھیں:
”شفیق! غربت سے مت ڈرنا، بے ایمانی سے ڈرنا۔ خالی جیب آدمی کو مجبور کر سکتی ہے، لیکن خالی ضمیر اُسے اندر سے مار دیتا ہے۔“
یہ الفاظ اُن کے دل میں ایسے اترے کہ پھر عمر بھر اُنہیں کوئی دولت، کوئی منصب اور کوئی لالچ خرید نہ سکا۔
جوانی میں اُنہوں نے ایک چھوٹی سی دکان کھولی۔ دکان کیا تھی، لکڑی کی چند الماریاں، ایک ترازو، کچھ دالیں، چینی، آٹا اور روزمرہ کی معمولی اشیا تھیں۔ مگر اُس چھوٹی سی دکان میں اُن کا کردار کسی بڑے محل سے کم نہ تھا۔
ایک دن اُن کا بچپن کا دوست رفیق دکان پر آیا۔ دونوں نے ایک ہی گلی میں کھیلتے ہوئے جوانی کی دہلیز پار کی تھی۔ رفیق کے پاس باتوں کی دولت تھی اور شفیق کے پاس خاموش محنت کا سرمایہ۔
رفیق نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے کہا:
”شفیق! تم بھی عجیب آدمی ہو۔ ساری زندگی ایمانداری کا ڈھول پیٹتے رہو گے تو بچوں کو کیا دو گے؟ دنیا عقل مندوں کی ہے، سادہ لوگوں کی نہیں۔“
شفیق نے مسکرا کر ترازو میں چینی تولی۔
”رفیق! میں بچوں کو شاید بڑی جائیداد نہ دے سکوں، مگر اتنا ضرور چاہتا ہوں کہ وہ میرے نام کے ساتھ بے ایمانی کا لفظ نہ سنیں۔“
رفیق ہنس پڑا۔
”نام سے پیٹ نہیں بھرتا، میرے دوست!“
”اور بے ضمیری سے دل نہیں بھرتا۔“
یہ سن کر رفیق نے قہقہہ لگایا، مگر وقت نے بعد میں دونوں کی باتوں کا فیصلہ اپنے انداز میں کیا۔
رفیق نے کاروبار میں تیزی سے ترقی کی۔ پہلے موٹر سائیکل، پھر گاڑی اور پھر شہر کے اچھے علاقے میں مکان۔ اُس کے ہاں دعوتیں ہوتی تھیں، بڑے لوگ آتے تھے، تصویریں کھنچتی تھیں اور محفلوں میں اُس کی کامیابی کے قصے سنائے جاتے تھے۔
شفیق کی دکان وہی رہی، البتہ اُن کے بال سفید ہونے لگے۔
ایک روز ایک غریب عورت اپنے بیمار بچے کو گود میں اٹھائے دکان پر آئی۔ اُس نے آٹے کا ایک تھیلا لینے کے بعد شرمندگی سے کہا:
”شفیق بھائی! پیسے اگلے ہفتے دے دوں گی۔ بچے کو دو دن سے ٹھیک طرح کھانا نہیں ملا۔“
شفیق نے تھیلا اُس کے حوالے کرتے ہوئے کہا:
”بہن! پیسے جب ہوں، دے دینا۔ بچے کو بھوکا مت رکھنا۔“
عورت کی آنکھیں بھر آئیں۔
”اللہ آپ کے بچوں کو سلامت رکھے۔“
شفیق نے نگاہیں جھکا لیں۔
”دُعا ضرور کرنا، بہن! ہم سب کو ایک دن کسی نہ کسی کی دُعا کی ضرورت پڑتی ہے۔“
وہ عورت چلی گئی تو دکان کے سامنے کھڑے رفیق نے کہا:
”تم کبھی امیر نہیں ہو سکتے، شفیق! تمہارا دل کاروبار میں رکاوٹ ہے۔“
شفیق نے جواب دیا:
”اگر کسی بھوکے کے لیے میرا دل رکاوٹ ہے تو مجھے ایسی ترقی نہیں چاہیے، جس میں انسان اپنے اندر کے انسان کو کھو دے۔“
رفیق نے سر جھٹکا اور گاڑی میں بیٹھ کر چلا گیا۔
برسوں گزر گئے۔ رفیق کی دولت بڑھتی گئی، مگر اُس کے گھر کے دروازوں پر تالے بھی بڑھتے گئے۔ بیٹوں میں جائیداد کے جھگڑے شروع ہو گئے، بھائی ایک دوسرے سے دور ہو گئے اور دوستوں کی محفلیں مفادات کے حساب سے سجنے لگیں۔
دوسری طرف شفیق کا گھر سادہ تھا، مگر اُس کے دروازے پر کسی محتاج کے لیے دستک دینا کبھی دشوار نہ تھا۔
ایک دن رفیق کا کاروبار شدید نقصان میں چلا گیا۔ جن لوگوں کے ساتھ وہ ہر روز بیٹھتا تھا، اُنہوں نے فون اٹھانا چھوڑ دیا۔ جن محفلوں میں اُس کی تعریفیں ہوتی تھیں، وہاں اُس کا ذکر بھی کم ہونے لگا۔
وہ پریشان، تھکا ہارا اور شکستہ دل شفیق کی دکان پر آیا۔
”شفیق! میں تباہ ہو گیا ہوں۔ جنہیں اپنا سمجھتا تھا، سب نے منہ موڑ لیا۔“
شفیق نے اُسے کرسی پر بٹھایا، پانی پلایا اور خاموشی سے اُس کی بات سنتے رہے۔
رفیق کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے۔
”تم نے مجھے کبھی اپنا سمجھنا نہیں چھوڑا؟“
شفیق نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
”رفیق! تم میرے دوست تھے، ہو اور رہو گے۔ میں نے تمہاری دولت سے دوستی نہیں کی تھی کہ اُس کے جانے پر دوستی بھی ختم ہو جاتی۔“
رفیق دیر تک روتا رہا۔ اُس روز اُسے پہلی مرتبہ معلوم ہوا کہ دولت کے محل میں رہنے اور کسی کے دل میں رہنے میں کتنا فرق ہوتا ہے۔
## ۲۔ چہروں کے پیچھے چھپے چہرے
شفیق کی زندگی میں ایک اور شخص تھا، جس کا نام ناصر تھا۔ وہ اُن کے ساتھ ایک فلاحی ادارے میں کام کرتا تھا۔ اُس کی زبان ایسی میٹھی تھی کہ شہد بھی شرما جائے، لباس ایسا صاف کہ کردار بھی سفید دکھائی دے، اور چہرے پر ایسی مسکراہٹ تھی کہ ہر شخص اُسے مخلص سمجھ بیٹھے۔
ناصر ہر محفل میں شفیق کی تعریف کرتا۔
”شفیق صاحب جیسے لوگ اب کہاں ملتے ہیں؟ سچائی، دیانت اور خدمت کی زندہ مثال ہیں!“
لیکن جب شفیق کسی معاملے میں اُس کی رائے سے اختلاف کرتے تو ناصر کی مسکراہٹ کے پیچھے چھپی تلخی باہر آنے لگتی۔ وہ لوگوں کے سامنے اُن کی سادگی کو کم عقلی، اُن کی خاموشی کو کمزوری اور اُن کی دیانت کو کاروباری ناسمجھی قرار دیتا۔
ایک شام ادارے کے حسابات میں کچھ بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔ شفیق نے ریکارڈ دیکھنے کا مطالبہ کیا تو ناصر نے بات بدلنے کی کوشش کی۔
”شفیق صاحب! آپ مجھ پر شک کر رہے ہیں؟ اتنے برسوں کی رفاقت کے بعد بھی آپ کو مجھ پر اعتماد نہیں؟“
شفیق نے پُرسکون لہجے میں جواب دیا:
”اعتماد اپنی جگہ، حساب اپنی جگہ۔ امانت کا تقاضا ہے کہ ہر معاملہ واضح ہو۔“
ناصر کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔
”آپ مجھے بدنام کرنا چاہتے ہیں!“
”میں کسی کو بدنام نہیں کرنا چاہتا، ناصر! میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ سچ سامنے آ جائے۔“
اگلے چند دنوں میں ناصر نے شہر بھر میں یہ بات پھیلا دی کہ شفیق بوڑھے ہو چکے ہیں، اُن کی سوچ میں توازن نہیں رہا اور وہ ہر شخص پر شک کرتے ہیں۔ بعض لوگوں نے بغیر تحقیق کے اُس کی باتوں پر یقین کر لیا۔ کچھ نے خاموشی اختیار کر لی اور چند نے تو سلام دعا بھی کم کر دی۔
شفیق کو دُکھ ہوا، مگر اُنہوں نے کسی کی کردار کُشی کا جواب کردار کُشی سے نہ دیا۔
اُن کی بیوی نے ایک رات کہا:
”آپ نے ساری عمر لوگوں کا بھلا کیا۔ بدلے میں یہ سب کیوں سہہ رہے ہیں؟ کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ آپ بھی اُنہیں اُنہی کی زبان میں جواب دیں۔“
شفیق نے پانی کا گلاس میز پر رکھا۔
”اگر ہر شخص دوسرے کی برائی کا جواب برائی سے دینے لگے تو اچھائی کے لیے جگہ کہاں بچے گی؟ انصاف کے لیے آواز اٹھانا ضروری ہے، مگر اپنے دل کو نفرت کا گھر بنا لینا ضروری نہیں۔“
بیوی نے اُن کی طرف دیکھا۔
”تو کیا ہر زیادتی خاموشی سے برداشت کر لی جائے؟“
”نہیں! ظلم کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے، اپنا حق مانگنا چاہیے، لیکن اپنے حق کی خاطر دوسرے کا حق نہیں مارنا چاہیے۔ سچائی کمزور نہیں ہوتی، بس کبھی کبھی اُس کی آواز دیر سے سنائی دیتی ہے۔“
بعد میں حسابات کی جانچ پڑتال ہوئی تو بے ضابطگیاں سامنے آ گئیں۔ ناصر کو اپنے عمل کی جواب دہی کا سامنا کرنا پڑا۔ کچھ لوگوں نے شفیق سے معذرت کی، مگر کچھ ایسے بھی تھے جو حقیقت معلوم ہونے کے بعد بھی اپنی غلطی ماننے پر آمادہ نہ ہوئے۔
شفیق نے اپنے بیٹے سے کہا:
”بیٹا! انسان کی آزمائش صرف اُس وقت نہیں ہوتی جب اُس پر الزام لگایا جائے۔ اصل آزمائش اُس وقت بھی ہوتی ہے جب اُسے حق مل جائے اور وہ بدلہ لینے کی قدرت رکھتا ہو۔“
زبیر نے پوچھا:
”اور اگر سامنے والا کبھی اپنی غلطی تسلیم ہی نہ کرے؟“
شفیق نے جواب دیا:
”تو تم اپنی سچائی اُس کی معافی کے ساتھ مشروط مت کرنا۔ ہر انسان تمہیں سمجھنے کے لیے پیدا نہیں ہوا، اور تم بھی ہر دل کے دروازے پر دستک دیتے رہنے کے پابند نہیں۔ بس اپنے کردار کی حفاظت کرنا۔“
## ۳۔ فقیری کا چراغ
شفیق کے گھر میں آسائشیں کم تھیں، مگر سکون کی کمی نہ تھی۔ صحن میں ایک پرانا نیم کا درخت تھا۔ اُس کے نیچے لکڑی کی چارپائی پڑی رہتی، جس پر وہ عصر کے بعد بیٹھ کر قرآنِ مجید کی تلاوت کرتے یا بچوں کو زندگی کے قصّے سناتے۔
ایک دن زبیر نے کہا:
”ابّا جی! آپ نے ساری عمر محنت کی۔ اگر کچھ سمجھوتے کر لیتے، کاروبار میں تھوڑی سی چالاکی دکھا لیتے تو آج ہمارے پاس بھی بڑی گاڑیاں، شاندار گھر اور بہت سی دولت ہوتی۔“
شفیق نے اُس کی بات غور سے سنی۔
”بیٹا! دولت ہونا بُری بات نہیں، دولت کی غلامی بُری بات ہے۔ بڑا گھر بنانا غلط نہیں، لیکن اُس گھر میں اپنے ماں باپ کے لیے جگہ نہ رکھنا غلط ہے۔ کاروبار بڑھانا بُرا نہیں، مگر اُس کی خاطر اپنے اصول چھوڑ دینا بُرا ہے۔“
زبیر نے کہا:
”لیکن دنیا تو مال داروں کو عزت دیتی ہے۔“
شفیق ہنسے۔
”دنیا کبھی مال کو عزت سمجھ لیتی ہے اور کبھی عزت کو مال بنانے کا ذریعہ۔ مگر اصل عزت وہ ہے جو انسان کی غیر موجودگی میں بھی اُس کے کردار کے ساتھ کھڑی رہے۔“
پھر اُنہوں نے نیم کی شاخوں کی طرف اشارہ کیا۔
”اِس درخت کو دیکھو۔ یہ کسی سے نہیں پوچھتا کہ تم امیر ہو یا غریب۔ جو تھکا ہوا آتا ہے، اُسے سایہ دیتا ہے۔ جو پرندہ آتا ہے، اُسے جگہ دیتا ہے۔ یہی فقیری ہے، بیٹا! اپنے پاس موجود چیزوں کو صرف اپنے لیے نہ سمجھنا۔“
زبیر نے حیرت سے پوچھا:
”کیا فقیری کا مطلب غربت میں رہنا ہے؟“
”نہیں! فقیری دل کی آزادی ہے۔ حلال رزق کمانا، محنت کرنا، اپنے اہل و عیال کی ضروریات پوری کرنا اور پھر بھی مال کے سامنے اپنے ضمیر کو نہ جھکانا، یہی فقیری ہے۔ انسان کے پاس دولت ہو، مگر دل میں قناعت بھی ہو؛ اختیار ہو، مگر عاجزی بھی ہو؛ علم ہو، مگر تکبر نہ ہو۔“
شفیق کچھ دیر خاموش رہے، پھر بولے:
”یاد رکھنا، بیٹا! خالی جیب انسان کی مجبوری ہو سکتی ہے، مگر خالی دل اُس کی بدقسمتی ہے۔“
یہ جملہ زبیر کے ذہن میں دیر تک گونجتا رہا۔
شفیق نے اپنی زندگی میں کبھی شہرت کے لیے خدمت نہیں کی تھی۔ وہ کسی کی مدد کرتے تو نام چھپاتے، کسی ضرورت مند کو رقم دیتے تو احسان نہ جتاتے اور کسی غریب کی غلطی معاف کرتے تو اُسے شرمندہ نہ کرتے۔
وہ کہا کرتے تھے:
”نیکی کا سب سے خوب صورت لباس خاموشی ہے۔ جب نیکی اپنے اشتہار کی محتاج ہو جائے تو انسان کو اپنے ارادے کا جائزہ ضرور لینا چاہیے۔“
## ۴۔ ماں کی دعا، باپ کا سایہ
شفیق کی ماں اُن کی شادی کے چند برس بعد دنیا سے رخصت ہو گئی تھیں۔ اُس کے بعد جب بھی زندگی میں کوئی مشکل آتی، اُنہیں ماں کی آواز یاد آتی:
”بیٹا! کسی کا دل مت توڑنا۔ دل ٹوٹ جائے تو آواز نہیں آتی، مگر اُس کی کرچیاں بہت دیر تک روح میں چبھتی رہتی ہیں۔“
اُن کے والدِ محترم، والدہ ماجدہ سے پہلے وفات پا گئے تھے۔ باپ کی ایک پرانی گھڑی اُن کے پاس محفوظ تھی۔ وہ گھڑی اب بند ہو چکی تھی، مگر شفیق اُسے کبھی پھینک نہ سکے۔ اُن کے لیے وہ محض ایک چیز نہیں، بلکہ وقت کی امانت اور باپ کی یاد تھی۔
اپنے بچوں کے لیے اُنہوں نے وہ سب کچھ کرنے کی کوشش کی جو اُن کے والدین وسائل کی کمی کے باعث نہ کر سکے تھے۔ زبیر کو پڑھایا، اُس کی شادی کی، گھر بنایا اور اپنی بساط کے مطابق ہر ضرورت پوری کی۔
مگر عمر کے آخری حصے میں کبھی کبھی اُنہیں محسوس ہوتا کہ بچوں کے پاس اُن کے لیے وقت کم پڑ گیا ہے۔
زبیر کاروبار میں مصروف رہتا، پوتے اسکول اور موبائل کی دنیا میں گم رہتے اور گھر کی مصروفیات میں شفیق کی باتیں اکثر ادھوری رہ جاتیں۔
ایک شام اُنہوں نے پوتے یاسر کو آواز دی۔
”بیٹا! ذرا میرے پاس بیٹھو۔ تمہیں ایک کہانی سناؤں؟“
یاسر نے موبائل سے نظریں اٹھائے بغیر کہا:
”دادا ابو! ابھی نہیں، میں دوستوں کے ساتھ آن لائن ہوں۔ بعد میں سنتا ہوں۔“
شفیق نے مسکرا کر کہا:
”اچھا بیٹا، بعد میں سہی۔“
مگر اُن کے لہجے میں ایک ایسی اداسی تھی جسے بچے نے محسوس نہ کیا۔ بیوی نے یہ منظر دیکھا تو اُن کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
رات کو اُنہوں نے زبیر سے کہا:
”تمہارے ابّا جی کو کسی چیز کی ضرورت نہیں، صرف تھوڑا سا وقت چاہیے۔ ساری عمر اُنہوں نے تمہارے لیے دوڑ لگائی۔ اب اُن کے قدم آہستہ ہو گئے ہیں تو تم اُن کے ساتھ چند قدم چلنے سے بھی کتراتے ہو۔“
زبیر نے دفاعی انداز میں کہا:
”امی! میں اُن کے لیے ہی تو محنت کرتا ہوں۔“
ماں نے دھیرے سے جواب دیا:
”بیٹا! جس باپ کے لیے تم محنت کر رہے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اُس کے پاس بیٹھنے کا وقت اُس وقت نکالو جب وہ سننے کے لیے موجود ہی نہ ہو۔“
یہ بات زبیر کے دل میں اتر گئی، مگر زندگی کے معمولات نے جلد ہی اُسے پھر اپنی گرفت میں لے لیا۔
اگلے روز شفیق نے زبیر کو اپنے پاس بلایا۔
”بیٹا! قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم صرف اُن کی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہیں، اُن کے ساتھ عزت، نرمی اور محبت سے پیش آنا بھی اِس کا حصہ ہے۔“
زبیر نے کہا:
”ابّا جی! میں آپ سے محبت کرتا ہوں۔“
شفیق کی آنکھیں روشن ہو اٹھیں۔
”مجھے معلوم ہے، بیٹا! مگر محبت صرف دل میں رکھنے کی چیز نہیں۔ یہ عملی گواہی مانگتی ہے۔ کبھی یہ وقت مانگتی ہے، کبھی توجہ، کبھی ایک نرم جملہ اور کبھی خاموشی سے کسی کے پاس بیٹھ جانا۔“
پھر اُنہوں نے بیٹے کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔
”اپنے والدین کی زندگی میں اُنہیں یہ احساس دے دو کہ وہ تمہارے لیے بوجھ نہیں، نعمت ہیں۔ کیونکہ قبر پر آنسو بہانے سے زیادہ قیمتی وہ مسکراہٹ ہے جو کسی زندہ چہرے پر تمہاری وجہ سے آ جائے۔“
زبیر نے باپ کے ہاتھ چوم لیے۔ اُس رات وہ دیر تک اُن کے پاس بیٹھا رہا۔ دونوں نے پرانی باتیں کیں، بچپن کے قصے دہرائے اور ہنستے ہنستے کئی بار خاموش ہو گئے۔ کچھ خاموشیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں الفاظ کی ضرورت نہیں ہوتی؛ صرف ساتھ بیٹھنا کافی ہوتا ہے۔
## ۵۔ موت کی دہلیز پر
وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔ موسم بدلے، نیم کے درخت کے پتے گرے اور نئے پتے نکل آئے۔ شفیق کی صحت کمزور ہوتی گئی۔ چلنے کے لیے سہارے کی ضرورت پڑنے لگی اور کبھی کبھی سانس لیتے ہوئے اُن کے سینے میں درد اٹھتا۔
ایک دن ڈاکٹر نے زبیر کو الگ لے جا کر بتایا کہ اُس کے والد کی بیماری سنگین ہے۔ علاج جاری رہے گا، لیکن گھر والوں کو اُن کی دیکھ بھال اور آرام کا خاص خیال رکھنا ہوگا۔
زبیر نے پہلی بار موت کو ایک دُور کی حقیقت نہیں، بلکہ اپنے دروازے پر کھڑی خاموش دستک کے طور پر محسوس کیا۔
اُس نے باپ کے لیے بہترین ڈاکٹر سے رابطہ کیا، ادویات کا انتظام کیا اور کاروبار کے اوقات کم کر دیے۔ اب وہ ہر شام شفیق کے پاس بیٹھتا، اُن کی باتیں سنتا اور کبھی کبھی اُن کے ساتھ قرآنِ مجید کی تلاوت کرتا۔
ایک رات شفیق نے اُسے ڈائری تھمائی۔
”بیٹا! اِسے سنبھال کر رکھنا۔“
زبیر نے ڈائری کھولی۔ ہر صفحے پر زندگی کے مختلف تجربات درج تھے۔ کہیں کسی غریب کی مدد کا ذکر تھا، کہیں کسی دوست کی بے وفائی کا، کہیں ماں کی یاد تھی اور کہیں موت کے بعد کی زندگی کا تصوّر۔
ایک صفحے پر لکھا تھا:
”انسان کی اصل پہچان یہ نہیں کہ وہ دنیا سے جاتے ہوئے کتنی دولت چھوڑ گیا، بلکہ یہ ہے کہ اُس کے ہاتھوں سے کتنی آسانیاں تقسیم ہوئیں، اُس کی زبان سے کتنے دلوں کو سکون ملا اور اُس کے کردار نے کتنے لوگوں کو سچائی کی طرف مائل کیا۔“
زبیر پڑھتے پڑھتے رُک گیا۔
”ابّا جی! آپ کو موت سے ڈر نہیں لگتا؟“
شفیق نے کچھ دیر سوچا۔
”ڈر تو لگتا ہے، بیٹا! انسان ہوں، پتھر نہیں۔ لیکن موت کا خوف اگر ہمیں اپنے اعمال درست کرنے پر آمادہ کرے تو یہ خوف بھی نعمت بن جاتا ہے۔ مجھے اپنے رب کی رحمت سے اُمید ہے، مگر اپنے اعمال پر غرور نہیں۔ میں نے زندگی میں بہت سی نیکیاں کی ہوں گی، مگر کوتاہیاں بھی کم نہیں کیں۔“
زبیر نے کہا:
”آپ نے کبھی کسی کا بُرا نہیں چاہا۔“
شفیق نے اُس کی طرف دیکھا۔
”کسی کا بُرا نہ چاہنا اچھی بات ہے، لیکن انسان کو اپنے حقوق اور دوسروں کے حقوق، دونوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ میں بھی غلطی کر سکتا ہوں، اِس لیے اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں۔“
پھر اُنہوں نے کھڑکی کی طرف دیکھا۔
”قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ یہ دنیا مستقل ٹھکانہ نہیں۔ مگر اِس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ انسان زندگی سے منہ موڑ لے۔ ہمیں زندگی کی امانت کو بہتر طریقے سے ادا کرنا ہے، اپنے فرائض پورے کرنے ہیں اور آخرت کی تیاری کرنی ہے۔“
زبیر کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
”ابّا جی! آپ ہمارے ساتھ رہیں گے۔ ابھی بہت وقت ہے۔“
شفیق نے بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھا۔
”اللہ تمہیں خوش رکھے، بیٹا! لیکن وقت کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے کسی کے مرنے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ زندگی کا ہر دن ایک موقع ہے۔ جو بات آج کہنی ہے، آج کہو۔ جس کا حق آج ادا کرنا ہے، آج ادا کرو۔ جس سے معافی مانگنی ہے، آج مانگ لو۔ کل کا وعدہ کسی کے ہاتھ میں نہیں۔“
## ۶۔ آخری رات کا مکالمہ
اُس رات بارش ہو رہی تھی۔ صحن میں پانی کے قطرے گرتے تو نیم کے پتے دھل کر چمکنے لگتے۔ کمرے میں شفیق کی بیوی قرآنِ مجید کی تلاوت کر رہی تھیں اور زبیر باپ کے سرہانے بیٹھا تھا۔
شفیق کی سانسیں بھاری تھیں، مگر ہوش قائم تھا۔ اُنہوں نے اشارے سے زبیر کو قریب بلایا۔
”بیٹا! اگر میں چلا جاؤں تو میری ایک بات یاد رکھنا۔“
”جی، ابّا جی!“
”میرے مرنے کے بعد لوگوں کے رویّے دیکھ کر اپنی زندگی کا فیصلہ مت کرنا۔ کوئی آئے گا، کوئی نہیں آئے گا۔ کوئی روئے گا، کوئی خاموش رہے گا۔ کوئی سچے دل سے یاد کرے گا، کوئی رسم پوری کرے گا۔ لیکن تم اپنے دل کا سکون لوگوں کے رویّوں کے حوالے مت کرنا۔“
زبیر نے اُن کا ہاتھ تھام لیا۔
”میں آپ کو کبھی نہیں بھول سکتا۔“
شفیق نے دھیرے سے کہا:
”بھولنے کا خوف محبت کو چھوٹا کر دیتا ہے۔ محبت کو عمل میں زندہ رکھنا۔ اگر مجھ سے محبت کرتے ہو تو کسی غریب کا حق نہ مارنا، کسی مجبور کی بے بسی کا فائدہ نہ اٹھانا، کسی کی غیر موجودگی میں اُس کی عزت پامال نہ کرنا۔ اور اگر کبھی تم سے غلطی ہو جائے تو اُسے تسلیم کرنے میں دیر مت کرنا۔“
کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اُنہوں نے پوچھا:
”تمہیں معلوم ہے، بیٹا، انسان کی سب سے بڑی فتح کیا ہے؟“
زبیر نے سر ہلایا۔
”اپنے دشمن کو شکست دینا؟“
شفیق کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ آ گئی۔
”نہیں! اپنے اندر کے اُس انسان کو شکست دینا جو تمہیں جھوٹ بولنے، ظلم کرنے، حسد پالنے اور تکبر میں مبتلا ہونے پر آمادہ کرتا ہے۔ دوسروں کی غلطیوں سے سبق لینا آسان ہے، اپنے عیبوں کو دیکھنا مشکل۔“
زبیر نے آنسو پونچھتے ہوئے کہا:
”اور اگر لوگ ہمارے ساتھ ناانصافی کریں؟“
”تم انصاف کے لیے کوشش کرنا۔ خاموشی کو ہر حال میں نیکی مت سمجھنا۔ جہاں کسی کا حق مارا جا رہا ہو، وہاں آواز اٹھانا۔ لیکن اپنے دل میں انتقام کو اِس حد تک جگہ نہ دینا کہ تم خود بھی اُسی ظلم کا حصہ بن جاؤ جس کی شکایت کرتے ہو۔“
اُنہوں نے گہری سانس لی۔
”اور ایک بات، بیٹا! جنازے میں آنے والوں کی تعداد سے اپنی زندگی کی قدر و قیمت مت ناپنا۔ کسی کے جنازے میں ہزاروں لوگ آ جائیں، مگر اُس کی زندگی سے کسی کو فائدہ نہ پہنچا ہو۔ اور کسی گمنام انسان کو چند لوگ دفن کریں، مگر اُس نے اُن چند لوگوں کے دلوں میں محبت کے چراغ روشن کیے ہوں۔ اصل حساب اللہ کے پاس ہے۔“
زبیر کے آنسو اب رُک نہیں رہے تھے۔
”ابّا جی! آپ ایسی باتیں نہ کریں۔“
شفیق نے اُس کا ہاتھ دبایا۔
”بیٹا! موت کا ذکر زندگی کو اداس کرنے کے لیے نہیں، زندگی کو بامعنی بنانے کے لیے کرنا چاہیے۔ مجھے معلوم نہیں، میری مہلت کتنی ہے، لیکن میں چاہتا ہوں کہ تم اپنے حصے کی زندگی سچائی، محبت اور خدمت کے ساتھ گزارو۔“
پھر اُنہوں نے آنکھیں بند کر لیں۔
کمرے میں قرآنِ مجید کی تلاوت کی آواز گونجتی رہی۔ باہر بارش تھم چکی تھی۔ نیم کے درخت سے پانی کے قطرے اب بھی ٹپک رہے تھے، جیسے رات اپنے آنسو پونچھنے میں مصروف ہو۔
## ۷۔ جب وہ مر گئے
اگلی صبح فجر کے بعد شفیق کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ زبیر نے ڈاکٹر کو فون کیا، بیوی نے اُن کے سر پر ہاتھ رکھا اور گھر کے دوسرے افراد بھی کمرے میں جمع ہو گئے۔
شفیق نے ایک بار آنکھیں کھولیں۔ اُن کی نگاہ پہلے بیوی کے چہرے پر ٹھہری، پھر زبیر پر۔ اُن کے ہونٹ ہلے، جیسے کوئی دُعا مانگ رہے ہوں۔
زبیر جھک کر اُن کے قریب ہوا۔
”ابّا جی! میں یہاں ہوں۔“
شفیق کی انگلیوں نے بیٹے کے ہاتھ کو آخری بار چھوا۔ پھر اُن کی نگاہ چھت پر ٹھہر گئی اور پلکیں آہستہ سے بند ہو گئیں۔
کمرے میں ایک ایسی خاموشی اُتر آئی جسے کوئی آواز توڑ نہ سکی۔
بیوی کی سسکیاں بلند ہوئیں۔ زبیر نے باپ کے ہاتھ اپنے چہرے سے لگا لیے۔ وہ ہاتھ جنہوں نے کبھی اُسے گرنے نہیں دیا تھا، اب بے حرکت تھے۔
چند ہی گھنٹوں میں خبر شہر بھر میں پھیل گئی۔ لوگ آنے لگے۔ کسی نے کہا، ”بہت نیک آدمی تھے۔“ کسی نے کہا، ”ہمیشہ دوسروں کے کام آتے تھے۔“ کسی نے اُن کی دیانت کے قصے سنائے، کسی نے اُن کی سادگی کا ذکر کیا۔
رفیق بھی آیا۔ اُس نے شفیق کا چہرہ دیکھا تو اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔
”میرے دوست! تم نے ساری زندگی مجھے سمجھانے کی کوشش کی، مگر میں نے تمہاری قدر بہت دیر سے پہچانی۔“
ناصر بھی آیا۔ اُس کے چہرے پر شرمندگی تھی۔ وہ دیر تک ایک کونے میں بیٹھا رہا۔ شاید اُسے اپنی وہ باتیں یاد آ رہی تھیں جو اُس نے کبھی شفیق کے خلاف پھیلائی تھیں۔
لیکن ہر آنے والا سچے دل سے غم زدہ نہیں تھا۔ کچھ لوگ رسمی تعزیت کے لیے آئے، کچھ نے پرانی جان پہچان کا حق ادا کیا اور کچھ ایسے بھی تھے جنہیں جنازے کے بعد کسی اور محفل میں پہنچنے کی جلدی تھی۔
زبیر نے یہ سب دیکھا۔ اُسے باپ کی بات یاد آئی:
”لوگوں کے رویّوں کو اپنی زندگی کا پیمانہ مت بنانا۔“
جنازہ اٹھا تو محلے کے بہت سے لوگ ساتھ چل پڑے۔ وہ دکاندار بھی تھا جس کی کبھی شفیق نے مدد کی تھی، وہ مزدور بھی تھا جسے اُنہوں نے مشکل وقت میں قرض دیا تھا، وہ عورت بھی تھی جس کے بچے کے لیے اُنہوں نے آٹا مفت دیا تھا۔ کچھ نوجوان بھی تھے جنہیں اُنہوں نے پڑھائی کے لیے کتابیں خرید کر دی تھیں۔
جنازہ ادا کیا گیا۔
قبرستان میں جب مٹی کی آخری مٹھی ڈالی گئی تو زبیر کے دل میں ایک سوال ابھرا: کیا یہی اختتام ہے؟
اُسے یوں محسوس ہوا، جیسے زمین نے ایک جسم کو اپنی آغوش میں لے لیا ہو، مگر اُس جسم کے ساتھ جڑی ہوئی یادوں، دعاؤں اور نیکیوں کو اپنے اندر دفن نہیں کر سکی۔
لوگ آہستہ آہستہ واپس جانے لگے۔ قبرستان کے راستے پر قدموں کی آوازیں مدھم ہوتی گئیں۔ زبیر اپنے باپ کی قبر کے پاس کھڑا رہا۔
اُس نے دھیرے سے کہا:
”ابّا جی! آپ کہتے تھے کہ انسان کے جانے کے بعد اُس کی زندگی کا اصل حساب شروع ہوتا ہے۔ آج مجھے معلوم ہوا کہ آپ کے لفظوں میں کتنی سچائی تھی۔“
ہوا کا ایک جھونکا آیا۔ قبر کے پاس پڑے خشک پتے ہلنے لگے۔
زبیر نے آسمان کی طرف دیکھا اور دُعا کی:
”یا اللہ! میرے والد کی مغفرت فرما، اُن پر رحم فرما اور اُن کی کوتاہیوں سے درگزر فرما۔“
پھر وہ گھر واپس آ گیا۔
## ۸۔ قبر کے بعد کی زندگی، یادوں کے اندر
شفیق کی وفات کے بعد گھر کا ماحول بدل گیا۔ صحن میں نیم کا درخت وہی تھا، دیوار پر گھڑی بھی چل رہی تھی اور دکان کے دروازے پر روز کی طرح گاہک آتے تھے، مگر گھر میں ایک ایسی جگہ خالی ہو گئی تھی جسے کوئی چیز پُر نہیں کر سکتی تھی۔
شفیق کی بیوی کبھی اُن کی چارپائی کے پاس بیٹھ کر خاموش ہو جاتیں۔ زبیر دفتر سے واپس آتا تو غیر ارادی طور پر باپ کو آواز دینے لگتا، پھر اچانک یاد آتا کہ اب جواب نہیں آئے گا۔
ایک روز یاسر دادا کی ڈائری لے کر زبیر کے پاس آیا۔
”ابّو! یہ دادا ابو کی ڈائری ہے؟“
”ہاں، بیٹا!“
”اُنہوں نے اِس میں کیا لکھا ہے؟“
زبیر نے ڈائری کھولی اور ایک صفحہ پڑھ کر سنایا:
”زندگی ایک چراغ ہے۔ اِسے صرف اپنے کمرے کو روشن کرنے کے لیے نہ جلاؤ۔ اگر ممکن ہو تو کسی ایسے راستے پر رکھ دو جہاں سے گزرنے والوں کو بھی روشنی مل سکے۔“
یاسر کچھ دیر سوچتا رہا۔
”ابّو! کیا دادا ابو واقعی سب کی مدد کرتے تھے؟“
زبیر نے جواب دیا:
”وہ کوشش کرتے تھے، بیٹا! لیکن وہ بھی انسان تھے۔ اُن سے بھی غلطیاں ہوتی ہوں گی۔ اُن کی سب سے اچھی بات یہ تھی کہ وہ اپنی غلطی کو چھپانے کے بجائے اُس سے سیکھنے کی کوشش کرتے تھے۔“
یاسر نے پوچھا:
”کیا ہم بھی اُن جیسے بن سکتے ہیں؟“
زبیر نے اُسے اپنے قریب بٹھا لیا۔
”اُن جیسا بننے کا مطلب اُن کے کپڑے پہننا یا اُن کی طرح بولنا نہیں، بلکہ اُن کے اچھے اصول اپنانا ہے۔ سچ بولنا، محنت کرنا، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا، والدین کی عزت کرنا اور کسی کی مجبوری سے فائدہ نہ اٹھانا۔“
اُسی شام زبیر نے دکان کے حسابات دیکھے۔ اُسے معلوم ہوا کہ کئی غریب خاندانوں کے ذمے پرانے قرض باقی تھے۔ وہ چاہتا تو رقم وصول کر سکتا تھا، مگر اُس نے اُن خاندانوں کے حالات معلوم کیے اور جہاں واقعی ضرورت تھی، قرض معاف کر دیا۔
اُس نے دکان کے ایک حصے میں ایک رجسٹر رکھا اور لکھا:
”ضرورت مند خاندانوں کے لیے راشن اور بچوں کی تعلیم میں مدد — حسبِ استطاعت، بلا تشہیر۔“
اُس نے اپنے بیٹے کو ساتھ بٹھایا اور کہا:
”یاسر! یہ تمہارے دادا ابو کی میراث ہے۔“
یاسر نے دکان کے گرد نظر دوڑائی۔
”لیکن ابّو! یہاں تو کوئی بڑی جائیداد نہیں۔“
زبیر مسکرایا۔
”میراث ہمیشہ زمین، مکان اور سونے کی شکل میں نہیں ہوتی۔ کچھ میراثیں اصولوں، دعاؤں اور کردار کی صورت میں ملتی ہیں۔ اُن کی حفاظت کے لیے دل بڑا چاہیے، جیب بڑی ہونا ضروری نہیں۔“
## ۹۔ وقت کا آئینہ
کچھ ماہ بعد رفیق ایک بار پھر زبیر سے ملنے آیا۔ اُس کے چہرے پر پہلے جیسی خود اعتمادی نہیں تھی۔ کاروبار سنبھل رہا تھا، مگر اُس کی زندگی نے اُسے بہت کچھ سکھا دیا تھا۔
وہ نیم کے درخت کے نیچے بیٹھے تو دیر تک خاموش رہے۔
آخر رفیق نے کہا:
”زبیر! تمہارے والد کہا کرتے تھے کہ دولت انسان کے ہاتھ میں اچھی لگتی ہے، دل میں بیٹھ جائے تو مصیبت بن جاتی ہے۔ اُس وقت مجھے اُن کی بات سمجھ نہیں آتی تھی۔ آج محسوس ہوتا ہے کہ میں ساری عمر بہت کچھ حاصل کرنے میں لگا رہا، مگر یہ نہیں سوچا کہ حاصل کرنے کے چکر میں کیا کیا کھو رہا ہوں۔“
زبیر نے پوچھا:
”اب آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟“
رفیق نے دھیرے سے کہا:
”اپنی باقی زندگی کو کچھ بہتر بنانا چاہتا ہوں۔ شاید جو کچھ کھو گیا، وہ واپس نہ آئے، مگر جو وقت باقی ہے، اُسے تو ضائع نہ کروں۔“
زبیر نے جواب دیا:
”ابّا جی یہی کہتے تھے کہ ماضی کی غلطیوں پر پچھتانا کافی نہیں، اُن کی اصلاح کی کوشش بھی ضروری ہے۔“
رفیق نے نیم کی شاخوں کی طرف دیکھا۔
”تمہارے والد غریب تھے، مگر اُن کے پاس ایک ایسی دولت تھی جسے میں کبھی خرید نہیں سکا۔“
”کون سی دولت؟“
”اپنے ضمیر کے ساتھ سکون سے بیٹھنے کی دولت۔“
دونوں خاموش ہو گئے۔
کچھ دیر بعد رفیق نے کہا:
”میں نے زندگی میں بہت سے لوگوں کو اپنی کامیابی کا گواہ بنایا، لیکن بہت کم لوگوں کو اپنی کمزوری کا ساتھی بنایا۔ تمہارے والد اُن چند لوگوں میں سے تھے جو میری ناکامی کے وقت بھی میرے ساتھ کھڑے رہے۔ اب سمجھ آیا کہ رفاقت کا اصل امتحان جشن میں نہیں، شکست میں ہوتا ہے۔“
زبیر نے کہا:
”اور شاید کردار کا امتحان بھی اِسی وقت ہوتا ہے کہ ہم کسی کے زوال کو اُس کی تذلیل کا موقع بناتے ہیں یا اُس کے لیے سہارا بن جاتے ہیں۔“
رفیق نے سر ہلایا۔ اُس دن دونوں نے فیصلہ کیا کہ محلے کے غریب بچوں کی تعلیم کے لیے ایک چھوٹا سا فنڈ قائم کریں گے۔ اِس فنڈ کا نام شفیق کے نام پر رکھا گیا، لیکن زبیر نے ایک شرط رکھی:
”ابّا جی کا نام ضرور لکھیں، مگر مدد لینے والے بچوں کی عزت کا خیال رکھیں۔ کسی کی غربت کو تشہیر کا ذریعہ نہ بنائیں۔“
رفیق نے جواب دیا:
”یہی تمہارے والد کی اصل پہچان تھی۔“
## ۱۰۔ جب مَیں مَر جاؤں گا!
ایک سال گزر گیا۔ شفیق کی برسی کے دن گھر میں قرآنِ مجید کی تلاوت ہوئی، مرحوم کے لیے دُعا کی گئی اور چند ضرورت مند خاندانوں میں راشن تقسیم کیا گیا۔ مگر اِس بار زبیر نے نہ کوئی بڑی تقریب کی، نہ تصاویر بنوائیں اور نہ اپنی خدمت کا اعلان کیا۔
رات کو وہ اپنے والد کی ڈائری لے کر نیم کے درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔ ہوا میں ہلکی سی خنکی تھی۔ دُور کسی گھر سے بچے کے ہنسنے کی آواز آ رہی تھی۔
اُس نے ڈائری کا آخری صفحہ کھولا۔ وہاں شفیق نے لکھا تھا:
”جب میں مَر جاؤں گا، تو شاید میرے نام کے ساتھ بہت سے قصّے وابستہ ہوں گے۔ کوئی میری تعریف کرے گا، کوئی میری خامیوں کا ذکر کرے گا، کوئی مجھے یاد رکھے گا اور کوئی بھول جائے گا۔ یہ سب انسانی فطرت کا حصہ ہے۔
لیکن میری اصل خواہش یہ نہیں کہ لوگ میرے مرنے کے بعد میرے لیے کتنے آنسو بہاتے ہیں۔ میری خواہش یہ ہے کہ میرے زندہ رہنے سے کسی کے آنسو کم ہوئے ہوں، کسی مجبور کو سہارا ملا ہو، کسی بھوکے کو کھانا نصیب ہوا ہو، کسی بچے کو علم کی روشنی ملی ہو اور کسی ٹوٹے ہوئے دل کو امید کی کرن دکھائی دی ہو۔
اگر میں نے کسی کے ساتھ زیادتی کی ہے تو اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرمائے، اور اگر کسی نے مجھ پر زیادتی کی ہے تو اللہ ہمیں انصاف اور درگزر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
میری زندگی کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں ہوگی کہ میرے جنازے میں کتنے لوگ شریک ہوئے، بلکہ یہ ہوگی کہ میں نے اپنی زندگی میں کتنے لوگوں کے حقوق ادا کیے، کتنی امانتوں کی حفاظت کی اور اپنے رب کی رضا کے لیے کتنی سچی کوشش کی۔
میں چاہتا ہوں کہ میرے بچے میری موت سے پہلے زندگی کی قدر سیکھ لیں۔ وہ سمجھیں کہ والدین کی خدمت کسی ایک دن کا فریضہ نہیں، محبت کسی ایک جملے کا نام نہیں اور نیکی کسی ایک بڑے کارنامے کی محتاج نہیں۔
میں چاہتا ہوں کہ وہ اپنے حصے کی زندگی دیانت، محنت، قناعت اور خیرخواہی کے ساتھ گزاریں۔ وہ دنیا میں رہیں، دنیا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھائیں، مگر دنیا کو اپنے ضمیر کا مالک نہ بننے دیں۔
اور جب اُن کی زندگی کی شام اترنے لگے تو اُنہیں یہ پچھتاوا نہ ہو کہ وہ ساری عمر دوسروں کے پچھتاوے کا انتظار کرتے رہے اور اپنے حصے کی محبت بانٹنا بھول گئے۔“
زبیر نے ڈائری بند کر دی۔ اُس کی آنکھوں میں آنسو تھے، مگر یہ آنسو صرف غم کے نہ تھے۔ اُن میں ایک عہد کی روشنی بھی شامل تھی۔
وہ اٹھا، نیم کے درخت کے تنے کو ہاتھ لگایا اور آسمان کی طرف دیکھا۔ اُسے محسوس ہوا جیسے باپ کی آواز اب بھی کہیں قریب سے آ رہی ہو:
”بیٹا! زندگی کو موت کے انتظار میں مت گزارنا۔ زندگی کو اِس طرح جینا کہ موت آئے تو تمہارا دامن کوشش، توبہ، محبت اور خدمت سے خالی نہ ہو۔“
اُس نے دل ہی دل میں عہد کیا کہ اپنے بچوں کو صرف کامیابی کے راستے نہیں دکھائے گا، بلکہ اچھا انسان بننے کا ہنر بھی سکھائے گا۔ وہ دولت کمائے گا، مگر دیانت کے ساتھ؛ اپنے حقوق کے لیے کھڑا ہوگا، مگر دوسروں کے حقوق پامال نہیں کرے گا؛ غلطی پر معافی مانگے گا اور کسی کی غلطی پر انصاف کا دامن نہیں چھوڑے گا۔
اُس نے سوچا کہ انسان کی زندگی دراصل ایک امانت ہے۔ کوئی اُسے نفرت میں گزار دیتا ہے، کوئی انتقام میں، کوئی دولت جمع کرنے میں اور کوئی دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے میں۔ موت سب کے حصے میں آتی ہے، مگر ہر شخص اپنی زندگی کو ایک جیسا معنی نہیں دے پاتا۔
شفیق چلے گئے تھے، مگر اُن کی خاموشی میں چھپی ہوئی آواز اب زبیر کے اندر بولنے لگی تھی۔
اُسے اب معلوم ہو گیا تھا کہ موت کے بعد لوگوں کا رویّہ زندگی کی مکمل گواہی نہیں ہوتا۔ اصل گواہی وہ کردار ہے جو انسان اپنے اعمال سے تعمیر کرتا ہے، وہ بھلائی ہے جو کسی کے دل میں جگہ بنا لیتی ہے اور وہ جواب دہی ہے جس سے کوئی شخص اپنی دنیاوی حیثیت کے بل پر بچ نہیں سکتا۔
نیم کے درخت سے ایک خشک پتا ٹوٹ کر زمین پر گرا۔ زبیر نے اُسے اٹھایا، ہتھیلی پر رکھا اور دیر تک دیکھتا رہا۔ پتا کبھی سرسبز شاخ کا حصہ تھا، ہوا سے باتیں کرتا تھا، دھوپ میں چمکتا تھا اور پرندوں کے گیت سنتا تھا۔ اب وہ زمین پر تھا، مگر جس درخت سے وہ ٹوٹا تھا، اُس کی شاخوں پر نئے پتے نکل رہے تھے۔
زبیر کے دل میں ایک خیال روشن ہوا: شاید انسان بھی اپنے پیچھے ایسے ہی اثرات چھوڑتا ہے۔ جسم مٹی میں لوٹ جاتا ہے، مگر اُس کے اچھے اعمال کی روشنی دوسرے انسانوں کی زندگی میں نئی کونپلیں پیدا کر سکتی ہے۔
وہ گھر کے اندر آیا، والد کی ڈائری الماری میں رکھی اور آخری بار اُس جملے کو دیکھا جو سرورق پر لکھا تھا:
”جب مَیں مَر جاؤں گا!“
اب یہ جملہ اُسے کسی سے شکوہ کرتا ہوا محسوس نہیں ہوتا تھا۔ یہ ایک سوال تھا، ایک تنبیہ تھی اور ایک دعوت تھی کہ انسان اپنے زندہ ہونے کا حق ادا کرے۔
اُس نے ڈائری کے خالی صفحے پر قلم رکھا اور لکھا:
”جب میں مَر جاؤں گا، تو میرے بعد لوگ مجھے کس طرح یاد کریں گے، یہ فیصلہ صرف اُن کے ہاتھ میں نہیں؛ اِس کی بنیاد میرے آج کے اعمال میں ہے۔ لیکن میں اپنی زندگی اِس انتظار میں ضائع نہیں کروں گا کہ کون میرے جانے پر روئے گا۔ میں کوشش کروں گا کہ میرے زندہ رہنے سے کسی کی زندگی آسان ہو، کسی کے دل میں امید پیدا ہو اور کسی کے حق کی حفاظت ہو۔میں چاہتا ہوں کہ میری فقیری، سادگی اور وقار میرے دل کی آزادی ہوں، میری دولت کسی کے کام آنے کا ذریعہ ہو، میری زبان سچائی کی امین ہو اور میرا کردار میرے دعووں کی گواہی دے۔میں چاہتا ہوں کہ جب میری آخری ساعت آئے تو میں اپنے رب کی رحمت سے امید رکھتے ہوئے اُس کے حضور حاضر ہوں؛ نہ اپنی نیکیوں پر غرور کروں، نہ اُس کی رحمت سے مایوس ہوں، بلکہ اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اُس کی مغفرت کا طلب گار رہوں۔کیونکہ زندگی کا اصل سوال یہ نہیں کہ ’جب میں مَر جاؤں گا تو میرے ساتھ کیا ہوگا؟‘
اصل سوال یہ ہے کہ ’جب تک میں زندہ ہوں، میں کیا کر رہا ہوں؟‘“
قلم رک گیا۔
رات گہری تھی، مگر زبیر کے اندر ایک نیا چراغ روشن ہو چکا تھا۔اور شاید یہی شفیق کی زندگی کا سب سے بڑا پیغام تھا کہ موت انسان کے سفر کا اختتام ضرور ہے، مگر اُس کی زندگی میں بوئی گئی نیکیوں کی فصل اُس کے بعد بھی پھل دے سکتی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص کے ساتھ جینے، اپنے والدین کی خدمت کرنے، انسانوں کے حقوق ادا کرنے، ظلم کے خلاف کھڑے ہونے، اپنے نفس کی اصلاح کرنے، فریب اور منافقت سے بچنے اور ایمان و عافیت کے ساتھ دنیا سے رخصت ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔



تبصرہ لکھیے