ہوم << زمین کا سب سے خطرناک باشندہ – نعیم اللہ باجوہ، آسٹریلیا
600x314

زمین کا سب سے خطرناک باشندہ – نعیم اللہ باجوہ، آسٹریلیا

انسان کائنات کی وہ مخلوق ہے جس نے زندگی کے راز دریافت کرتے کرتے زندگی ہی کو خطرے میں ڈال دیا۔ اس نے موت کو شکست دینے کے خواب دیکھے مگر اپنے ہاتھوں سے ایسی دنیا تعمیر کر دی جہاں زندہ رہنا روز بروز دشوار ہوتا جا رہا ہے۔زمین پر انسان کی آمد سے پہلے بھی زندگی تھی، اس کے بعد بھی زندگی کی کوئی نہ کوئی صورت باقی رہ سکتی ہے؛ مگر انسان نے اپنی بقا کو اس طرح زمین کی بقا سے مشروط کر لیا ہے کہ اب وہ اپنی ہی تخلیق کردہ آسائشوں کے ملبے تلے دبنے لگا ہے۔ اسے ابھی تک یہ غلط فہمی ہے کہ زمین اس کی ملکیت ہے، حالاں کہ وہ خود زمین کے نظام میں ایک عارضی مسافر سے زیادہ کچھ نہیں۔

جنگل اس لیے نہیں کٹتے کہ درخت مجرم ہیں، دریا اس لیے زہریلے نہیں ہوتے کہ پانی نے انسان سے کوئی دشمنی کی ہے، اور فضا اس لیے بوجھل نہیں ہوتی کہ ہوا نے زندگی سے منہ موڑ لیا ہے۔ ان سب کے پیچھے ایک ایسی مخلوق کے فیصلے ہیں جو اپنے مفاد کو کائنات کا مرکز اور اپنی خواہش کو فطرت کا قانون سمجھ بیٹھی ہے۔
انسان کی ذہانت نے اسے تباہی کے بے شمار وسائل دیے، مگر اس کی اخلاقی تربیت اس رفتار سے آگے نہ بڑھ سکی۔ اس نے ایٹم کو توڑ لیا مگر اپنے تعصب کی دیوار نہ توڑ سکا؛ سمندر کی تہوں تک پہنچ گیا مگر اپنے لالچ کی تہہ تک نہ اتر سکا؛ دوسرے سیاروں پر زندگی تلاش کرنے لگا مگر اپنے سیارے پر زندگی کے امکانات مٹانے لگا۔ یہ کیسی ترقی ہے جس میں انسان کا اختیار بڑھتا جاتا ہے اور اس کی ذمہ داری سکڑتی جاتی ہے؟

اس کی تہذیب کا ایک عجیب اصول ہے: جو چیز قدرت نے مفت دی ہو اسے بے دریغ ضائع کرو اور جو چیز اس کی تباہی کے بعد مہنگی ہو جائے اسے ترقی کی نئی صنعت بنا دو۔ پہلے پانی کو آلودہ کرو، پھر صاف پانی فروخت کرو؛ پہلے فضا کو زہریلا کرو، پھر سانس لینے کے لیے محفوظ جگہیں تلاش کرو؛ پہلے زمین کو گرم کرو، پھر ٹھنڈک کے مہنگے انتظامات پر فخر کرو۔ یوں انسان اپنے پیدا کردہ بحرانوں کا تاجر بھی ہے اور ان کا شکار بھی۔لیکن فطرت انسان کے اخلاقی جواز نہیں سنتی۔ اسے اس بات سے غرض نہیں کہ تباہی دانستہ کی گئی تھی یا منافع کی خاطر، جنگ کے نام پر ہوئی تھی یا ترقی کے نام پر۔ فطرت کے نظام میں نتائج کا تعلق اکثر اعمال سے ہوتا ہے، نیت کے دعووں سے نہیں۔ انسان اگر پانی، ہوا، مٹی اور زندگی کے دوسرے بنیادی وسائل کو نقصان پہنچائے گا تو اس کے اثرات کسی مذہب، نسل، دولت یا سرحد کا احترام نہیں کریں گے۔

شاید انسان کی سب سے بڑی خود فریبی یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو فطرت سے الگ سمجھتا ہے۔ وہ بھول جاتا ہے کہ جس ہوا کو وہ آلودہ کرتا ہے، اسی کو سانس میں لیتا ہے؛ جس زمین کو بنجر بناتا ہے، اسی سے خوراک اگاتا ہے؛ جس حیاتیاتی تنوع کو مٹاتا ہے، اسی سے اس کی اپنی زندگی کا توازن وابستہ ہے۔ انسان فطرت کے خلاف جنگ جیت بھی جائے تو اس فتح کے بعد زندہ رہنے کے لیے کوئی دنیا باقی نہ بچے گی۔اس کے باوجود انسان مکمل طور پر اپنی تباہی کا اسیر نہیں۔ اسی کے اندر وہ شعور بھی موجود ہے جو غلطی کو پہچان سکتا ہے، لالچ کے مقابلے میں ضرورت کو ترجیح دے سکتا ہے اور اپنی سہولت کے لیے دوسروں کے مستقبل کو گروی رکھنے سے انکار کر سکتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ انسان بدل نہیں سکتا؛ مسئلہ یہ ہے کہ وہ اکثر تبدیلی کی ضرورت اس وقت تسلیم کرتا ہے جب نقصان اس کے اپنے دروازے تک پہنچ چکا ہوتا ہے۔ہمیں یہ طے کرنا ہوگا کہ ترقی کا مطلب صرف زیادہ پیداوار، زیادہ رفتار، زیادہ دولت اور زیادہ اختیار ہے یا ایک ایسی زندگی بھی جس میں آنے والی نسلوں کے لیے سانس لینے کے قابل فضا، پینے کے قابل پانی اور آباد زمین باقی رہے۔ اگر ہماری کامیابی کا معیار صرف یہ ہے کہ ہم نے کتنا حاصل کیا تو ہم یہ سوال کبھی نہیں پوچھ پائیں گے کہ اس کے عوض کیا کچھ کھو دیا۔

زمین کو انسان کی عقیدت کے الفاظ نہیں، اس کے طرزِ عمل کی ضرورت ہے۔ اسے ہماری تقریروں سے زیادہ ہمارے فیصلوں میں تبدیلی درکار ہے۔ درخت لگانا ضروری ہے مگر ان جنگلات کو بچانا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے جو پہلے سے موجود ہیں؛ ماحول کی حفاظت کا اعلان اہم ہے مگر اس اعلان کے برخلاف ہونے والے فیصلوں کو روکنا اصل امتحان ہے۔انسان کو اب کائنات پر اپنی برتری ثابت کرنے سے زیادہ اپنے وجود کی ذمہ داری سمجھنے کی ضرورت ہے۔ عظمت اس میں نہیں کہ کوئی مخلوق اپنے ماحول کو اپنی مرضی کے مطابق بدلنے کی طاقت رکھتی ہو؛ عظمت اس میں ہے کہ وہ اپنی طاقت کے استعمال کی حدود بھی پہچانتی ہو۔آخرکار زمین کو انسان کے خلاف کسی انتقام کی ضرورت نہیں۔ انسان کے اعمال کے نتائج ہی اس کے لیے کافی ہو سکتے ہیں۔ زمین کے نظام بدل سکتے ہیں، انواع معدوم ہو سکتی ہیں اور زندگی کے وہ حالات جن پر انسانی تہذیب قائم ہے، ناقابلِ برداشت ہو سکتے ہیں۔ یہ کسی کائناتی عدالت کا فیصلہ نہیں بلکہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ہر اختیار کے ساتھ ذمہ داری اور ہر عمل کے ساتھ نتائج وابستہ ہوتے ہیں۔

شاید انسان کی بقا کا سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ زمین اسے کب تک برداشت کرے گی، بلکہ یہ ہے کہ انسان خود کو زمین پر رہنے کے لائق بنانے کے لیے کب سنجیدہ ہوگا۔کیونکہ زمین کو بچانا دراصل انسان کو اس کی اپنی خود فریبی سے بچانا ہے؛ اور فطرت کے ساتھ امن قائم کرنا کسی بیرونی دشمن سے صلح نہیں، اپنے وجود کی شرائط کو تسلیم کرنا ہے۔انسان اگر یہ بات سمجھ گیا تو زمین اس کے لیے محض رہائش گاہ نہیں رہے گی بلکہ ایک ایسی امانت بن جائے گی جسے وہ اپنے بعد آنے والوں کے حوالے کرنے کا اخلاقی حق بھی محسوس کرے گا۔ اور اگر وہ یہ نہ سمجھ سکا تو ممکن ہے اس کی سب سے بڑی ایجاد، اس کی سب سے بڑی تباہی ثابت ہو: ایک ایسی دنیا جسے فتح کرتے کرتے وہ اس میں زندہ رہنے کی صلاحیت کھو بیٹھے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

نعیم اللہ باجوہ

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment