ہوم << نافعیت اور استغناء – امیرجان حقانی
600x314

نافعیت اور استغناء – امیرجان حقانی

لکھنے کا مشق اور معمول دو عشروں پر مشتمل ہے۔ اس دوران اپنی بات لکھ کر لوگوں تک پہنچانے کے لیے دو اصول اپنا رکھے ہیں۔

پہلا اصول: نافعیت
اگر میں سمجھوں کہ میرے اس والے کالم / تحریر سے قارئین کو نفع یعنی فائدہ مل رہا ہے تو بہرحال لکھ لیتا ہوں، تاکہ کسی کا بھلا ہو، کسی کو کوئی نئی بات معلوم ہو، کسی کی سوچ میں کوئی مثبت تبدیلی آئے یا کسی کے لیے میری تحریر کسی کام آ جائے۔میرے نزدیک لکھنے کا سب سے بڑا جواز یہی ہے کہ الفاظ محض الفاظ نہ رہیں، بلکہ کسی نہ کسی درجے میں انسانوں کے لیے نفع بخش ثابت ہوں۔

دوسرا اصول: استغناء
لکھتے ہوئے کبھی یہ نہیں سوچا کہ اس کا مجھے کوئی مالی یا کوئی اور فائدہ ہوگا۔ اس بارے بھی خود کو مستغنی کر دیا ہے۔ اس لیے لوگوں کی تحسین و تضحیک کا خاص فرق نہیں پڑتا، البتہ تحسین سے حوصلہ ملتا ہے، تنقید سے اصلاح ہوتی ہے اور تضحیک سے دل دکھتا ہے۔میں نے لکھنے کو کبھی منفعت کا ذریعہ نہیں بنایا، اسے اپنی ذمہ داری، اپنے شوق اور اپنی بات پہنچانے کا ایک وسیلہ سمجھا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دو دہائیاں گزرنے کے باوجود لکھنے کا یہ مشق اور معمول بدستور قائم ہے اور بڑھتا جارہا ہے۔

تجربے کی بات ہے کہ “نافعیت” ہو تو قلم چلتا ہے، اور استغناء ہو تو قلم آزاد رہتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

امیر جان حقانی

امیر جان حقانیؔ گلگت بلتستان میں پولیٹیکل سائنس کے اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ممتاز محقق، استاد، اور مصنف ہیں۔ جامعہ فاروقیہ کراچی سے درس نظامی مکمل کرنے کے ساتھ کراچی یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور جامعہ اردو سے ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز کیا، بعد ازاں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی فکر، تاریخ و ثقافت سے ایم فل کی ڈگری حاصل کی۔ 2010 سے ریڈیو پاکستان کے لیے مقالے اور تحریریں لکھ رہے ہیں

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment