(دوست احباب کے نام ایک کھلا خط)
2/ اکتوبر 2026ء
اَحبابِ مُحترم!
اَلسَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكاتُهُ!
کبھی کبھی نہ جانے کیوں دل کے کسی خاموش گوشے میں ایک پرانی سی آواز گونجنے لگتی ہے:
“پیار، محبت، اخلاص سے بھرپور اب کوئی خط نہیں آتا۔۔۔!”
اور پھر آنکھوں کے سامنے ماضی کی ایک پوری دُنیا آباد ہو جاتی ہے؛ وہ دُنیا جس میں تعلقات کے درمیان موبائل فون کی اسکرین نہیں، کاغذ کا ایک ٹکڑا ہوا کرتا تھا؛ رابطے کے لیے چند لمحوں کی انگلیوں کی حرکت نہیں، بلکہ دل کی کیفیت، قلم کی روانی اور لفظوں کی خوشبو ہوا کرتی تھی۔
وہ بھی کیا زمانہ تھا!
کسی عزیز یا دوست کے خط کا انتظار بھی محبت کا ایک حسین تجربہ ہوا کرتا تھا۔ ڈاکیے کی سائیکل کی گھنٹی گلی میں سنائی دیتی تو نہ جانے کیوں دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی۔ دروازے کی طرف نظریں اُٹھتیں، اور دل کہتا، “شاید آج میرا خط آیا ہے۔”
اگر ڈاکیا ہاتھ میں لفافہ لیے گھر کے دروازے تک آ جاتا تو اُس لمحے کی خوشی کا کوئی مول نہ تھا۔ لفافے پر اپنا نام دیکھ کر دل خوشی سے جھوم اٹھتا۔ آدمی لفافہ ہاتھ میں لے کر چند لمحے اُسے دیکھتا رہتا، جیسے کاغذ نہیں بلکہ کسی اپنے کا چہرہ ہاتھ میں تھام لیا ہو۔ پھر لفافہ کھولا جاتا۔ کاغذ پر کسی اپنے کے ہاتھ کی تحریر ہوتی۔ وہی قلم، وہی سیاہی، وہی لفظ، مگر ہر لفظ کے اندر ایک پوری دُنیا آباد ہوتی۔
“میرے عزیز دوست!”
یہ چند الفاظ پڑھتے ہی جیسے فاصلے سمٹ جاتے۔ یوں محسوس ہوتا کہ لکھنے والا دُور نہیں، بالکل سامنے بیٹھا ہے اور اپنے دل کی بات ہم سے کہہ رہا ہے۔
خط صرف خط نہیں ہوتا تھا؛
وہ یاد کا چراغ ہوتا تھا۔
وہ محبت کی دستک ہوتا تھا۔
وہ دوری میں قربت کا احساس ہوتا تھا۔
وہ خاموش دلوں کی گفتگو ہوتا تھا۔
کچھ خطوط ایسے ہوتے تھے جنہیں پڑھتے ہوئے آنکھیں بھیگ جاتیں۔ کچھ چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دیتے۔ کچھ دل کو تسلی دیتے اور کچھ ایسے ہوتے جنہیں ہم سنبھال کر رکھ لیتے، کیونکہ اُن کاغذی صفحات پر کسی اپنے کی یاد ثبت ہوتی تھی۔کبھی کئی برس بعد وہی خط کسی پرانی کتاب، صندوق یا الماری سے نکل آتا تو آدمی اُسے دوبارہ پڑھنے بیٹھ جاتا۔ کاغذ پرانے ہو چکے ہوتے، سیاہی مدھم پڑ چکی ہوتی، مگر محبت تازہ ہوتی۔تب دل کہتا:
“کاغذ بوڑھا ہو گیا، مگر یاد آج بھی جوان ہے۔”
آج زمانہ بہت آگے نکل گیا ہے۔
اب نہ ڈاکیے کا انتظار ہے، نہ لفافے کا، نہ ڈاک خانے کی راہ تکنے کی ضرورت۔ انگلی نے موبائل کی اسکرین کو چھوا اور پیغام ہزاروں میل دور بیٹھے شخص تک پہنچ گیا۔ ایک لمحے میں آواز بھی سن لی، چہرہ بھی دیکھ لیا اور بات بھی کر لی۔مگر عجیب بات ہے کہ اتنی آسانی کے باوجود دل کے کسی گوشے میں ایک خلا سا باقی ہے۔کیوں؟
شاید اس لیے کہ آج رابطہ آسان ہے، مگر تعلق مشکل۔
پیغام بہت ہیں، مگر انتظار نہیں۔
الفاظ بہت ہیں، مگر احساس کم۔
آن لائن لوگ بہت ہیں، مگر دل کے قریب کم۔
باتیں بہت ہیں، مگر دل کی بات کم۔
آج کوئی ہمیں “السلام علیکم” لکھتا ہے، جواب آتا ہے، پھر چند لمحوں بعد دونوں اپنی اپنی مصروفیات میں گم ہو جاتے ہیں۔مگر پرانے خط کا معاملہ مختلف تھا۔خط لکھنے والا پہلے ہمیں یاد کرتا تھا، پھر کاغذ تلاش کرتا تھا، قلم اٹھاتا تھا، بیٹھتا تھا، سوچتا تھا، لکھتا تھا، دوبارہ پڑھتا تھا، لفافے میں بند کرتا تھا، پتہ لکھتا تھا، ڈاک خانے تک جاتا تھا اور پھر کئی دن تک ہمارے جواب کا انتظار کرتا تھا۔ یعنی خط کے ایک ایک لفظ میں وقت بھی شامل ہوتا تھا اور محبت بھی۔ شاید اسی لیے خط کے الفاظ دل پر زیادہ گہرا اثر چھوڑتے تھے۔
میرے عزیز دوستو!
یہ چند سطریں کسی شکوے کے لیے نہیں لکھ رہا۔ یہ تو بس ایک پرانی یاد کی دستک ہے۔ہم سب زندگی کی دوڑ میں بہت آگے نکل آئے ہیں۔ کوئی کاروبار میں مصروف ہے، کوئی ملازمت میں، کوئی بچوں کی تعلیم اور مستقبل کی فکر میں، کوئی بیماریوں اور علاج کے چکروں میں، کوئی گھر کے مسائل میں اور کوئی اپنی ہی دنیا میں گم ہے۔
وقت گزر رہا ہے۔کل جو ہمارے ساتھ بیٹھا تھا، آج وہ کسی دوسرے شہر میں ہے۔جو روز ملاقات کرتا تھا، آج برسوں سے نظر نہیں آیا۔جس سے ہر روز بات ہوتی تھی، آج اُس کا فون نمبر بھی شاید رابطوں کی فہرست میں خاموش پڑا ہے۔
کچھ دوست دُنیا سے رخصت ہو گئے۔اُن کے نمبر شاید آج بھی موبائل میں محفوظ ہوں، مگر اُن کی آواز سنائی نہیں دیتی۔کچھ دوست ہم سے ناراض ہو کر دُور ہو گئے۔کچھ فاصلے وقت نے پیدا کر دیے۔اور کچھ کو ہماری مصروفیات نے ہم سے چھین لیا۔زندگی کا سفر عجیب ہے۔ ہم منزل کی تلاش میں چلتے رہتے ہیں اور راستے میں وہ لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں جو کبھی ہمارے سفر کی سب سے بڑی خوشی ہوا کرتے تھے۔
اس لیے، میرے عزیزو!
اگر آپ کے دل میں کسی دوست کی یاد آئے تو اُسے کل پر مت چھوڑیں۔
آج ہی سلام کر دیجیے۔
آج ہی فون کر لیجیے۔
آج ہی چند الفاظ لکھ بھیجئے۔
ممکن ہے وہ شخص بھی آپ کی طرح آپ کے پیغام کا منتظر ہو۔
ممکن ہے وہ موبائل کی اسکرین دیکھ کر سوچ رہا ہو کہ “نہ جانے میرا دوست مجھے بھول تو نہیں گیا؟”
اور پھر آپ کا ایک جملہ اُس کے دل پر دستک دے:
“دوست! آج تم بہت یاد آئے۔”
یقین کیجیے، کبھی کبھی یہی ایک جملہ انسان کو دنیا کی بڑی بڑی نعمتوں سے زیادہ خوشی دے جاتا ہے۔
ہم دوسروں کو خوش کرنے کے لیے بڑے تحفے تلاش کرتے ہیں، حالاں کہ کبھی کسی کو صرف اپنی یاد کا تحفہ درکار ہوتا ہے۔
کسی بزرگ دوست سے پوچھ لیجیے،
“آپ کیسے ہیں؟”
کسی بیمار دوست کو کہیے،
“آپ کے لیے دُعا کر رہا ہوں۔”
کسی پرانے ساتھی کو لکھ دیجیے،
“وہ دن یاد ہیں جب ہم ساتھ بیٹھا کرتے تھے؟”
کسی بچھڑے ہوئے دوست کو کہیے،
“رابطہ کم ہوا ہے، محبت نہیں۔”
اور اگر کوئی دوست ہم سے ناراض ہے تو پہل کرنے میں دیر نہ کیجیے؛ کیونکہ زندگی کسی کو منانے کے لیے ہمیشہ مہلت نہیں دیتی۔
کیا خبر کل ہم میں سے کون اس دُنیا میں نہ ہو!
پھر نہ موبائل پر پیغام جائے گا، نہ فون کی گھنٹی بجے گی، نہ ملاقات ہوگی، نہ خط لکھا جائے گا۔
صرف یادیں رہ جائیں گی۔
اس لیے تعلقات کو زندہ رکھیے۔
محبت کو زندہ رکھیے۔
دوستی کو زندہ رکھیے۔
اور اگر ممکن ہو تو کبھی کبھی خط بھی لکھیے۔
ہاں، خط!
وہی پرانے زمانے والا خط۔
کاغذ پر، قلم سے، اپنے ہاتھ سے۔
کیونکہ ہاتھ سے لکھا ہوا خط صرف پڑھا نہیں جاتا، محسوس کیا جاتا ہے۔
ممکن ہے آج کا خط پڑھنے والا اسے برسوں بعد بھی سنبھال کر رکھے اور جب کبھی اُس کی نظر اُس پر پڑے تو اُس کے چہرے پر مسکراہٹ آ جائے اور وہ دھیرے سے کہے:
“دیکھو! اُس زمانے میں بھی کوئی تھا جو مجھے یاد کرتا تھا۔”
اور شاید یہی کسی خط کی سب سے بڑی کامیابی ہے کہ وہ وقت گزر جانے کے بعد بھی اپنے لکھنے والے کو زندہ رکھتا ہے۔
میرے محترم دوستو!
آئیے، اس تیز رفتار دُنیا میں چند لمحے نکال کر اپنے اُن دوستوں کو یاد کریں جنہوں نے ہماری زندگی میں کبھی خوشی کے رنگ بھرے تھے۔
کسی کا نام یاد آ رہا ہے تو اُسے پکار لیجیے۔
کسی کا چہرہ یاد آ رہا ہے تو اُسے سلام کہیے۔
کسی کی بات یاد آ رہی ہے تو اُس سے بات کر لیجیے۔
اور اگر کسی کی بہت زیادہ یاد آ رہی ہے تو شاید اُسے ایک خط لکھنے کا وقت آ گیا ہے۔
ممکن ہے آپ کا خط کسی کے لیے صرف کاغذ نہ ہو؛
ممکن ہے وہ اُس کے لیے ماضی کی ایک کھڑکی ہو،
محبت کی ایک دستک ہو،
اور یہ احساس ہو کہ:
“میں آج بھی کسی کے دل میں زندہ ہوں۔”
کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ وقت کی گھڑی اُلٹی چلنے لگے۔
ایک شام پھر دروازے پر دستک ہو۔
باہر ڈاکیا کھڑا ہو۔
اُس کے ہاتھ میں ایک لفافہ ہو۔
لفافے پر ہمارا نام لکھا ہو۔
ہم لرزتے ہاتھوں سے لفافہ کھولیں۔
اندر کسی اپنے کے ہاتھ کی لکھی ہوئی چند سطریں ہوں۔
ہم پڑھتے پڑھتے مسکرائیں، کہیں آنکھیں نم ہو جائیں، اور دل کی گہرائی سے ایک آواز آئے:
“تم نے مجھے یاد کیا۔۔۔ شاید یہی احساس دُنیا کے کسی بھی خط سے زیادہ قیمتی ہے۔”
اَحبابِ گرامی!
اگر یہ چند سطریں پڑھ کر آپ کو بھی اپنا کوئی پرانا دوست، کوئی بچھڑا ہوا ساتھی، کوئی عزیز یا کوئی ایسا شخص یاد آ گیا ہے جس سے مدت سے رابطہ نہیں ہوا، تو میری طرف سے اُسے بھی اَلسَّلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكاتُهُ کہہ دیجیے۔
اور اگر ممکن ہو تو آج ہی اُسے ایک پیغام بھیج دیجیے۔کیونکہ:
“رشتے خود بخود زندہ نہیں رہتے، انہیں یاد کرنا پڑتا ہے، نبھانا پڑتا ہے اور وقت دینا پڑتا ہے۔”
شاید ہماری ایک چھوٹی سی کوشش کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لے آئے۔
شاید ہماری ایک فون کال کسی کی تنہائی کم کر دے۔شاید ہمارا ایک خط کسی کے دل میں برسوں سے بجھتے ہوئے چراغ کو پھر روشن کر دے۔تو پھر دیر کس بات کی؟
آئیے، آج کسی اپنے کو یاد کرتے ہیں۔
آج کسی دوست کو سلام کرتے ہیں۔
آج کسی بچھڑے ہوئے ساتھی کا حال پوچھتے ہیں۔
اور شاید آج، بہت عرصے بعد، کسی کے نام ایک خط بھی لکھتے ہیں۔
کیونکہ دل اب بھی کہتا ہے:
“پیار، محبت، اخلاص سے بھرپور۔۔۔ اب کوئی خط نہیں آتا!”
تو کیوں نہ ہم ہی پہل کریں؟
شاید کسی کے انتظار کی گھڑی ختم ہو جائے۔
والسّلام،
آپ کا پُرانا دوست



تبصرہ لکھیے