کلمۂ طیبہ سے کلامِ طیب تک
کلمۂ طیبہ محض زبان سے ادا کیے جانے والے چند الفاظ نہیں، بلکہ ایک ایسے عقیدے کا اعلان ہے جو انسان کی پوری زندگی بدل دیتا ہے۔ یہ کلمہ دل میں ایمان کی بنیاد رکھتا ہے، سوچ کو پاکیزگی عطا کرتا ہے اور کردار کو سنوارتا ہے۔ جس زبان سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کیا جائے، اسے سچائی، خیر خواہی اور پاکیزگی کا ذریعہ بھی بننا چاہیے۔ ایمان کی مضبوط جڑوں سے اچھے اعمال اور پاکیزہ الفاظ ہی پھوٹنے چاہییں۔
قرآن کریم نے کلمۂ طیبہ کی مثال ایک ایسے درخت سے دی ہے جس کی جڑیں مضبوط، شاخیں بلند اور پھل مسلسل ملنے والے ہوں۔ یہ مثال ایمان اور عمل کے گہرے تعلق کو واضح کرتی ہے۔ کلمۂ توحید اس درخت کی جڑ، نیک اعمال اس کی شاخیں اور پاکیزہ گفتگو اس کے خوش گوار پھلوں میں سے ایک ہے۔ اس کے برعکس باطل کلمے کو ایسے درخت سے تشبیہ دی گئی ہے جس کی جڑیں اکھڑ چکی ہوں اور جسے کوئی پائیداری حاصل نہ ہو۔مسجد نبوی کے خطیب ڈاکٹر خالد بن سلیمان المہنا نے اپنے 9 اکتوبر 2026ء کے خطبۂ جمعہ میں اسی حقیقت کو اجاگر کیا کہ اسلام انسان کو صرف اچھے کاموں کی تعلیم نہیں دیتا، بلکہ اچھے الفاظ کے انتخاب کی بھی ترغیب دیتا ہے۔ پاکیزہ گفتگو ایمان کی خوبی، حسنِ اخلاق کی علامت اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔ زبان سے نکلنے والے الفاظ بظاہر معمولی ہوتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کی قدر و قیمت بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔
پاکیزہ گفتگو کا سب سے روشن نمونہ نبی کریم ؐ کی مبارک زندگی ہے۔ آپ ؐ نہایت شیریں گفتار، خوش کلام اور نرم مزاج تھے۔ آپ کی گفتگو میں نہ بدزبانی ہوتی تھی، نہ کسی کی تحقیر۔ آپ ؐ اچھے نام پسند فرماتے، ان سے نیک فال لیتے اور نامناسب ناموں کو بہتر ناموں سے بدل دیتے تھے۔ یہاں تک کہ اپنی طبیعت کی خرابی بیان کرنے کے لیے بھی ناپسندیدہ لفظ کے بجائے مناسب لفظ استعمال کرنے کی تعلیم دی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں صرف بات کا درست ہونا کافی نہیں، بلکہ اسے اچھے الفاظ میں بیان کرنا بھی اہم ہے۔پاکیزہ کلام کی سب سے اعلیٰ صورت اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔ کلمۂ توحید کے بعد سبحان اللہ، الحمدللہ اور اللہ اکبر جیسے کلمات اللہ تعالیٰ کو نہایت محبوب ہیں۔ قرآن کریم کی تلاوت، دعا، مفید علم کی تعلیم، خیر خواہی اور لوگوں کے درمیان صلح کرانا بھی پاکیزہ کلام کی صورتیں ہیں۔ قرآن کریم بتاتا ہے کہ پاکیزہ کلمات اللہ تعالیٰ کی طرف بلند ہوتے ہیں اور نیک اعمال انہیں بلندی عطا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاکیزگی کو پسند فرماتا ہے۔ اسی لیے اچھی گفتگو محض معاشرتی خوبی نہیں، بلکہ رضائے الٰہی کا ذریعہ بھی ہے۔ جنت میں بھی اہلِ ایمان کو ایسا پاکیزہ ماحول ملے گا جہاں بے ہودہ اور تکلیف دہ گفتگو کا کوئی وجود نہیں ہوگا۔
اچھی گفتگو کا ایک بڑا فائدہ دلوں میں محبت پیدا کرنا اور معاشرتی تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔ قرآن کریم نے اہلِ ایمان کو بہترین انداز میں بات کرنے کا حکم دیا ہے، کیونکہ شیطان لوگوں کے درمیان فساد اور دشمنی پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بہت سے گھریلو جھگڑے اور خاندانی اختلافات نامناسب الفاظ سے شروع ہوتے ہیں۔ بات معمولی ہوتی ہے، لیکن لہجہ اسے سنگین بنا دیتا ہے۔ اس کے برعکس ایک نرم جملہ بگڑے ہوئے تعلقات سنوار سکتا ہے، ناراض دلوں کو قریب لاسکتا ہے اور نفرت کی آگ بجھا سکتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے لوگوں کے درمیان صلح کرانے کو بڑی نیکی قرار دیا ہے۔اچھی بات کی ایک خوب صورت شکل ضرورت مندوں کی دل جوئی ہے۔ نبی کریم ؐ نے فرمایا کہ اچھی بات بھی صدقہ ہے۔ کسی پریشان حال انسان کو تسلی دینا، غم زدہ شخص کی دل جوئی کرنا اور کسی محتاج سے محبت و احترام کے ساتھ بات کرنا بھی صدقے میں شامل ہے۔ آپ ؐ نے یہ بھی تعلیم دی کہ انسان کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے جہنم سے بچنے کی کوشش کرے اور اگر یہ بھی میسر نہ ہو تو اچھی بات کے ذریعے اپنی نجات کا سامان کرے۔ قرآن کریم نے واضح کیا ہے کہ بھلی بات اور درگزر ایسی خیرات سے بہتر ہیں جس کے بعد احسان جتایا جائے یا تکلیف پہنچائی جائے۔ اس لیے ضرورت مند کی مدد کرتے ہوئے اس کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔
جس طرح اچھی بات انسان کو جنت کے قریب کرتی ہے، اسی طرح بری بات اسے تباہی کے دہانے تک پہنچا سکتی ہے۔ نبی کریم ؐ نے خبردار فرمایا کہ انسان بعض اوقات اللہ تعالیٰ کی رضا کا کوئی ایسا کلمہ کہہ دیتا ہے جس کی اہمیت کا اسے خود اندازہ نہیں ہوتا، لیکن اللہ تعالیٰ اس کے سبب اس کے درجات بلند فرما دیتا ہے۔ اس کے برعکس بے سوچے سمجھے کہی گئی کوئی بات اسے جہنم میں گرا سکتی ہے۔ آپ ؐ نے یہ بھی فرمایا کہ قیامت کے دن مومن کے اعمال کے ترازو میں حسنِ اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی چیز نہیں ہوگی، جبکہ اللہ تعالیٰ فحش گوئی اور بدزبانی کو ناپسند فرماتا ہے۔غصے کے وقت زبان کی حفاظت مزید ضروری ہوجاتی ہے۔ ایک سخت جملہ کسی کا دل توڑ سکتا ہے اور بے قابو گفتگو بڑے فساد کا سبب بن سکتی ہے۔ نبی کریم ؐ کے سامنے دو آدمیوں میں جھگڑا ہوا تو آپ ؐ نے غصے میں مبتلا شخص کو تعوذ پڑھنے کی تعلیم دی۔ قرآن کریم بھی یاد دلاتا ہے کہ انسان کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ محفوظ کیا جارہا ہے۔ اس لیے بولنے سے پہلے سوچنا چاہیے کہ جو بات کہی جارہی ہے، کیا وہ درست، ضروری اور فائدہ مند ہے؟
سلف صالحین زبان کی حفاظت کو بڑی اہمیت دیتے تھے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ جو شخص اپنی گفتگو کو اپنے اعمال میں شمار نہیں کرتا، اس کی غلطیاں بڑھ جاتی ہیں۔ امام اوزاعی رحمہ اللہ نے بھی گفتگو کو عمل سمجھنے والے کی کم گوئی کا ذکر کیا، جبکہ امام مالک رحمہ اللہ نے ہر سنی سنائی بات آگے بیان کرنے سے خبردار کیا۔ ان اقوال کا حاصل یہ ہے کہ زبان کی حفاظت اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے احساس کا تقاضا ہے۔ نبی کریم ؐ نے بھی مسلمان کی پہچان یہ بیان فرمائی کہ دوسرے مسلمان اس کی زبان اور ہاتھ سے محفوظ رہیں۔ اسی طرح اچھی بات کہنے یا خاموش رہنے کی تعلیم دی اور زبان اور شرم گاہ کی حفاظت کرنے والے کے لیے جنت کی ضمانت بیان فرمائی۔اللہ تعالیٰ کا کثرت سے ذکر زبان کو پاکیزہ بنانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ جب انسان اپنی زبان کو تلاوت، دعا اور اچھی باتوں کا عادی بناتا ہے تو بے مقصد گفتگو اور بدزبانی سے بچنا آسان ہوجاتا ہے۔ اس لیے زبان کی اصلاح صرف بری باتوں سے رکنے کا نام نہیں، بلکہ اسے اچھے کلمات سے آباد رکھنا بھی ضروری ہے۔
خطبے کے اختتامی حصے میں ڈاکٹر خالد المہنا نے حرمین شریفین کی عظمت اور حرمت کی طرف بھی توجہ دلائی۔ انہوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے خلاف جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے حوثی دہشت گردوں کی کارروائی کا ذکر کیا اور اصحابِ فیل کے انجام سے عبرت حاصل کرنے کی تلقین کی۔ خطیب محترم نے واضح کیا کہ بیت اللہ الحرام اور مدینہ منورہ کی حرمت پامال کرنے کی کوشش نہایت سنگین جرم ہے۔ انہوں نے مدینہ منورہ کے خلاف سازش اور شرانگیزی سے متعلق نبوی وعید بھی بیان کی۔ آخر میں مسجد اقصیٰ کی حفاظت، فلسطینی مسلمانوں کی نصرت، حرمین شریفین کے امن اور سعودی عرب کی سلامتی کے لیے دعائیں کی گئیں۔کلمۂ طیبہ سے کلامِ طیب تک کا سفر دراصل ایمان کو کردار میں ڈھالنے کا سفر ہے۔ کلمۂ توحید دل میں ایمان کی بنیاد رکھتا ہے اور پاکیزہ گفتگو اس ایمان کے عملی اثرات ظاہر کرتی ہے۔ جو زبان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرتی ہے، اسے ذکرِ الٰہی، سچائی، خیر خواہی اور محبت کا ذریعہ بننا چاہیے۔ یہی زبان دلوں کو جوڑ سکتی ہے، معاشرے میں اصلاح پیدا کرسکتی ہے اور انسان کی آخرت سنوار سکتی ہے۔



تبصرہ لکھیے