ہمارے ہاں استاد کو قوم کا معمار کہا جاتا ہے۔ اس کی عظمت پر تقریریں ہوتی ہیں، پانچ اکتوبر کو خوبصورت تصاویر لگائی جاتی ہیں، پھول پیش کیے جاتے ہیں اور اس کے احترام میں قصیدے پڑھے جاتے ہیں۔ لیکن اگلے ہی روز یہی قوم کا معمار آٹھ، دس یا پندرہ ہزار روپے ماہانہ پر اپنی کلاس میں موجود ہوتا ہے جہاں سامنے تیس چالیس بچے، ہاتھ میں مارکر، میز پر کاپیوں کا ڈھیر، دماغ میں اگلے پیریڈ کی فکر اور لیسن پلان کی پابندی اس کی مستقل ساتھی ہوتی ہے۔
قوم کی تعمیر کا ٹھیکہ تو اسے دے دیا گیا ہے، البتہ اس کی اپنی زندگی کی تعمیر ایک عجیب سوالیہ نشان نظر آتی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے نجی تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے اساتذہ کی ذہنی کیفیت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ایک چیز شدت سے محسوس ہوئی کہ ہم ایک ایسے پیشے کو محض چھ گھنٹے کی ملازمت سمجھ بیٹھے ہیں جس کی ذمہ داریاں سکول کے مرکزی دروازے پر ختم ہی نہیں ہوتیں۔ صبح اسمبلی، حاضری، مسلسل تدریس، کلاس مینجمنٹ، لیسن پلان، کمزور طلبہ پر خصوصی توجہ، ڈائری، اسائنمنٹس، ٹیسٹ، پیپرز، نتائج اور والدین کی شکایات۔ ہر بچہ الگ مزاج کا حامل ہے اور ہر ایک کی تعلیمی و نفسیاتی ضروریات مختلف ہیں، لیکن توقع یہ ہے کہ استاد ایک ہی وقت میں ماہرِ تعلیم، ماہرِ نفسیات، منتظم اور تربیت کار بن کر سب کچھ سنبھال لے۔ اور وہ بھی دس سے پندرہ ہزار میں۔ یہاں والدین کا کردارکچھ کم دلچسپ نہیں۔ آج کے دور میں بچوں کی تربیت کا ایک بڑا حصہ بھی سکول کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے۔ بعض بچے بلکہ بعض سے بھی زیادہ بچے بنیادی آداب، برداشت، نظم و ضبط اور دوسروں کے احترام سے ناواقف ہوتے ہیں۔
استاد پڑھائے بھی، تربیت بھی کرے، بدتمیزی بھی برداشت کرے، بچے کو نفسیاتی طور پر بھی سمجھے وہ سب بھی صرف تیس سے پنتیس منٹ کے لیسن میں، اور کہیں سخت لہجہ اختیار کر لے تو شکایتیں سننے کے لیے تیار رہے۔ والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سکول تعلیم و تربیت میں شریک ضرور ہے، لیکن گھر کا متبادل نہیں۔ جس بچے کی بنیادی تربیت میں والدین اپنا کردار ادا نہیں کرتے، اس کی تمام ذمہ داری استاد کے کندھوں پر ڈال دینا ناانصافی ہے۔ پھر ہمارے معاشرے میں بچوں کو نمبروں کی ایک عجیب دوڑ میں ڈال دیا گیا ہے۔ ہر والدین اپنے بچے کو پہلی پوزیشن پر دیکھنا چاہتے ہیں، چاہے اس کی فطری صلاحیت، دلچسپی یا سیکھنے کی رفتار کچھ بھی ہو۔ ہر بچہ ریاضی دان نہیں بن سکتا، ہر بچہ سائنس دان نہیں بن سکتا۔ کسی کی صلاحیت زبان میں ہے تو کوئی کھیل، آرٹ یا کسی عملی ہنر میں بہتر ہو سکتا ہے۔ مگر ہم سب کو ایک ہی ترازو میں تولتے ہیں۔ نتیجہ توقع کے مطابق نہ آئے تو بچے کی انفرادی استعداد پر غور کرنے کے بجائے انگلی استاد کی طرف اٹھا دی جاتی ہے۔
ادھر سکول کی چھٹی ہوتی ہے اور استاد کی ملازمت کا دوسرا مرحلہ شروع ہو جاتا ہے۔ گھر پہنچ کر کاپیاں چیک کرنا، اگلے دن کا لیسن پلان، ورک شیٹس، سوالیہ پرچے اور نتائج کی تیاری۔ میرے ذاتی مشاہدے کے مطابق نجی سکولوں میں اساتذہ روزانہ مزید دو سے تین گھنٹے گھر پر سکول کا کام کرتے ہیں۔ امتحانات میں یہ دورانیہ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ یوں چھ گھنٹے کی ظاہری ملازمت آٹھ نو گھنٹے یا اس سے زائد کی ذمہ داری بن جاتی ہے جبکہ تنخواہ طے کرتے ہوئے اس ملازمت کو محظ چند گھنٹوں کی ملازمت میں ہی گنا جاتا ہے۔اور اس تمام مشقت کا معاوضہ؟
بہت سے نجی سکولوں میں میرے مشاہدے کے مطابق ماہانہ تنخواہ محض آٹھ سے پندرہ ہزار روپے ہے۔ اس کا تقابل کیجیے کہ پنجاب حکومت نے ستمبر 2025 کے سرکاری گزٹ میں صنعتی و تجارتی اداروں کے متعلقہ کارکنوں کی کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے مقرر کی تھی۔
یہ رقم آٹھ گھنٹے روزانہ کے حساب سے تقریباً 192 روپے فی گھنٹہ بنتی ہے۔ اگرچہ اس نوٹیفکیشن کا ہر تدریسی عہدے پر قانونی اطلاق الگ معاملہ ہے، لیکن معاشی فرق بہرحال غور طلب ہے۔ ایک استاد کو بھی بجلی کا بل ادا کرنا ہے، گھر کا راشن لانا ہے، والدین اور بچوں کی ضروریات پوری کرنی ہیں۔ لیکن ہم نے استاد کی عظمت کا تصور کچھ ایسا بنا رکھا ہے کہ اس کی معاشی ضروریات کا ذکر کرنا بھی پیشے کی توہین محسوس ہونے لگتا ہے۔ ایک اور پہلو ٹیوشن کا ہے۔ سکول میں ملازمت بعض اوقات استاد کے لیے ٹیوشن کے مواقع پیدا کرتی ہے، جو یقیناً اضافی آمدن کا ایک اچھا ذریعہ ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ استاد کو ان مواقع کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ اکثر اس لیے کہ سکول کی تنخواہ بنیادی اخراجات پورے نہیں کرتی۔ نتیجتاً صبح سکول، دوپہر یا شام ٹیوشن، رات کو اگلے دن کی تیاری۔ جس اضافی آمدن سے گھر چلتا ہے، ٹیوشن اور خصوصاً ہوم ٹیوشن کا نظام جتنا اساتذہ کے مقام کی تذلیل کا باعث بنا ہے شاید ہو کوئی اور چیز اتنا باعث بنی ہو۔ مگر مجبوراً یہی ایک اضافی ذریعہ نظر آتا ہے۔ اس سب میں توازن پیدا کرنے کی مسلسل بھاگ دوڑ میں ذہنی سکون کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔
خواتین اساتذہ کے لیے سکول سے واپسی پر گھر، بچے، کھانا، بزرگوں کی دیکھ بھال اور دیگر گھریلو ذمہ داریاں منتظر ہوتی ہیں۔ مرد اساتذہ خصوصاً وہ افراد جو گھر کے بنیادی اخراجات اٹھا رہے ہوں، مسلسل معاشی دباؤ کا سامنا کرتے ہیں، ان کے لئے ہر لمحہ معاشرے میں اپنا مقام قائم رکھنا اور جیب میں بیلنس بنائے رکھنے کی ذہنی جنگ سے بھرا ہوتا ہے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ ایک ایسی دوڑ کا حصہ بن جاتے ہیں جس میں منزل ہی یہ ہے کہ اگلے مہینے کی تنخواہ تک کسی طرح پہنچ جانا، اس سے زیادہ ترقی اس شعبے میں سرے سے رکھی ہی نہیں گئی۔ اب ذرا اس سب کے نفسیاتی اثرات دیکھیے۔ عالمی ادارۂ صحت مسلسل اور غیر مؤثر طریقے سے سنبھالے گئے پیشہ ورانہ دباؤ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کیفیت کو برن آؤٹ قرار دیتا ہے، جس کی نمایاں علامات شدید تھکن، کام سے ذہنی دوری اور اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت پر اعتماد میں کمی ہیں۔سادہ الفاظ میں، انسان روزانہ ملازمت پر تو آتا ہے، لیکن آہستہ آہستہ اس کا دل، دلچسپی اور توانائی اس کام سے دور ہونے لگتی ہے جسے کبھی وہ شوق سے کیا کرتا تھا۔
چڑچڑا پن، مایوسی، معمولی بات پر غصہ، نیند میں خلل اور بالخصوص یہ احساس کہ اب زندگی میں شاید کوئی دوسرا راستہ بچا ہی نہیں۔ اپنے الفاظ میں کہوں تو ایسے ماحول میں چند سال گزارنے والے اساتذہ ایک متوازن معاشرتی زندگی کے قابل رہتے نہیں۔اور یاد رہے، نقصان صرف استاد تک محدود نہیں رہتا۔ 2020 میں شائع ہونے والے ایک بین الاقوامی تحقیقی جائزے میں 14 مطالعات، 5,311 اساتذہ اور 50,616 طلبہ کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔ نتائج میں اساتذہ کی ذہنی تھکن اور طلبہ کی کمزور تعلیمی کارکردگی و تعلیمی دلچسپی کے درمیان تعلق کے شواہد ملے ہیں جو کہ کوئی حیرت کی بات نہیں جب ایک گاڑی کا انجن ہی درست نہ ہو تو اس سے منزل کی توقع کیسے کر سکتے ہیں۔ یعنی جس استاد کی ذہنی صحت کو ہم غیر اہم سمجھتے ہیں، اس کے اثرات ان بچوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں جن کے مستقبل کے لیے ہم اتنے فکرمند ہیں۔ یہاں نجی سکولوں کی انتظامیہ کو بھی سوچنا ہوگا کہ کیا ہر رپورٹ، ہر تصویر، ہر اضافی رجسٹر اور ہر غیر تدریسی ذمہ داری واقعی اتنی ضروری ہے کہ اس کے لیے استاد کی ذاتی زندگی قربان کر دی جائے؟
المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اب زیادہ تر نجی سکول کوئی ماہرینِ تعلیم نہیں بلکہ سرمایہ کاروں کے زیرِ انتظام ہیں جن کی سکول پالیسیز نظامِ تعلیم کو مدِنظر رکھ کر نہیں بلکہ منافع، ’’ٹرینڈ‘‘ میں چل رہی دوڑ کو مدِنظر رکھ کر بنائی گئی ہوتی ہیں جو کہ ناصرف اساتذہ کے لئے مشکلات کا باعث بنتی ہیں بلکہ تدریسی نطام کو خراب کرنے کا بھی موجب بنتی ہیں۔ محدود وسائل رکھنے والے اداروں کی مشکلات اپنی جگہ، لیکن ان کا حل انسانی برداشت کو غیر محدود سمجھ لینا نہیں ہو سکتا۔ یاد رہے کہ اساتذہ کے لیے مناسب تنخواہ، واضح اوقاتِ کار، سکول کے اندر پیپر سازی اور چیکنگ کا وقت، ضروری چھٹیاں، عزتِ نفس کا تحفظ اور انتظامیہ کے سامنے بلاخوف اپنی بات رکھنے کا حق کوئی غیر معمولی مراعات نہیں بلکہ یہ ایک صحت مند تعلیمی ماحول کی بنیادی ضروریات ہیں جو کہ ہمارے کافی نجی اداروں میں بالکل عنقا ہیں۔ اداروں کے سربراہان کے ساتھ ساتھ والدین کو بھی سمجھنا ہوگا کہ تعلیم صرف سکول کی ذمہ داری نہیں، بلکہ گھر، استاد اور ادارے کی مشترکہ کوشش ہے۔ بچے کو بنیادی آداب اگر گھر سے مل جائیں تو اساتذہ کا کافی بوجھ کم ہو سکتا ہے۔
ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ استاد بھی انسان ہے۔ اسے بھی تھکن ہوتی ہے، اسے بھی آرام چاہیے، اسے بھی اپنے خاندان کے ساتھ وقت گزارنے کا حق ہے۔ اس کی بھی معاشی ضروریات ہیں اور اس کی برداشت کی بھی ایک حد ہے۔ اگر استاد معاشرے کا معمار ہے تو یاد رہے کہ ایک ذہنی اور جسمانی طور پر صحتمند اور خوشحال معمار ہی ایک اچھی عمارت دے سکتا ہے نہ کہ ذہنی طور پر الجھا ہوا غیر صحتمند معمار۔ ہم بچوں کے لیے خوبصورت عمارتیں، جدید کلاس روم اور بہترین نصاب تیار کر رہے ہیں، لیکن ان کے اندر پڑھانے والے انسانوں کی ذہنی کیفیت پر توجہ دینا بھول گئے ہیں۔ استاد کے ہاتھ میں پوری نسل کا مستقبل تو تھما دیتے ہیں، لیکن اس کے اپنے مستقبل کی ضمانت دینے کو تیار نہیں اور پھر حیران ہوتے ہیں کہ ہماری تعلیم کا معیار بہتر کیوں نہیں ہو رہا۔



تبصرہ لکھیے