ہوم << خطبہ جمعہ مسجد الاقصیٰ – جسٹس محمد سرندح – ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل
600x314

خطبہ جمعہ مسجد الاقصیٰ – جسٹس محمد سرندح – ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل

عرشِ الٰہی کا سایہ اور تعمیرِ کردار

انسان دنیا میں آسائش کے کتنے ہی سامان جمع کر لے، اپنے لیے مضبوط چھتیں، آرام دہ گھر اور محفوظ پناہ گاہیں بنا لے، مگر ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب یہ تمام سہارے ختم ہو جائیں گے۔ قیامت کا دن اس قدر ہولناک ہوگا کہ آسمان پھٹ جائے گا، ستارے بے نور ہو جائیں گے، سمندر بھڑک اٹھیں گے اور ہر انسان اپنے اعمال کو اپنے سامنے موجود پائے گا۔ اس دن نہ کوئی عمارت سایہ دے گی، نہ درخت اور نہ ہی دنیا کی آسائشیں کام آئیں گی۔ خوش نصیب وہ ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا۔

بیت المقدس مسجد اقصیٰ میں خطبۂ جمعہ ارشاد کرتے ہوئے جسٹس محمد سرندح حفظہ اللہ نے اسی حقیقت کو نہایت مؤثر انداز میں موضوعِ سخن بنایا۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی اس معروف حدیث کو خطبے کی بنیاد بنایا جس میں ان سات خوش نصیب انسانوں کا ذکر ہے جنہیں قیامت کے دن، جب اللہ کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا، خصوصی سایہ نصیب ہوگا۔ خطیب محترم نے ان سات اوصاف کو محض انفرادی نیکیوں کے طور پر بیان نہیں کیا بلکہ ان کی روشنی میں ایک ایسے صالح فرد، مضبوط معاشرے اور عادل اجتماعی نظام کا نقشہ کھینچا جو دنیا میں انسانیت کے لیے رحمت اور آخرت میں نجات کا ذریعہ بنتا ہے۔ان خوش نصیبوں میں سب سے پہلے عادل حکمران کا ذکر آتا ہے۔ عدل محض عدالتوں کا موضوع نہیں بلکہ معاشرے کی بقا اور قوموں کے استحکام کی بنیاد ہے۔ قیادت درست ہو تو ملک اور عوام کے معاملات سنورتے ہیں، لیکن جب کوئی ذمہ دار شخص ظلم کرے، قوم کے وسائل ضائع کرے اور اپنی امانت سے غفلت برتے تو اس کا خمیازہ پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتا ہے۔

قرآن میں حضرت داؤد علیہ السلام کو زمین میں اقتدار ملنے کے ساتھ یہ ہدایت بھی ذکر کی کہ لوگوں کے درمیان حق کے مطابق فیصلہ کریں اور خواہشِ نفس کی پیروی سے بچیں۔ اقتدار دراصل اعزاز سے بڑھ کر ذمہ داری ہے اور قیامت کے دن ہر صاحبِ اختیار کو اپنے اختیارات کے بارے میں جواب دینا ہوگا۔یہ ذمہ داری صرف حکمران تک محدود نہیں۔ ماں اپنے گھر اور اولاد کی تربیت کی ذمہ دار ہے، باپ اپنی اولاد کے اخلاق و کردار کا جواب دہ ہے، ادارے کا سربراہ اپنے ماتحتوں کے حقوق کا امین ہے، اور جس کے سپرد اجتماعی وسائل یا مقدسات کی حفاظت ہو اسے بھی اپنی امانت کا حساب دینا ہے۔ یوں عدل کا آغاز صرف ایوانِ اقتدار سے نہیں، بلکہ گھر، درس گاہ، دفتر اور معاشرے کی چھوٹی چھوٹی ذمہ داریوں سے ہوتا ہے۔ لیکن عادل قیادت اچانک پیدا نہیں ہوتی۔ خطیبِ مسجد اقصیٰ نے نہایت اہم سوال اٹھایا کہ اگر ہم عادل حکمران چاہتے ہیں تو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ وہ کس ماحول میں پروان چڑھیں گے۔ اسی تناظر میں عرشِ الٰہی کے سائے کے مستحق دوسرے خوش نصیب کا ذکر سامنے آتا ہے: وہ نوجوان جس کی جوانی اللہ کی عبادت میں گزری۔

نوجوانی خواہشات، قوت اور کچھ بھی کر گزرنے کا زمانہ ہے۔ اس عمر میں برائی کے مواقع میسر ہونے کے باوجود خود کو اللہ کی اطاعت کا پابند رکھنا غیر معمولی کردار کی علامت ہے۔ایسے نوجوانوں کی تیاری پورے معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ اچھی صحبت، بلند مقاصد، بے فائدہ مشاغل سے اجتناب، قناعت اور پاک دامنی نوجوان کی شخصیت سنوارتے ہیں۔ جو نوجوان دوسروں کے مال و منصب پر نظر رکھنے، خوشامد سے مفاد حاصل کرنے اور ہر قیمت پر آگے بڑھنے کے بجائے محنت، قناعت اور خودداری کی راہ اپناتا ہے، وہی مستقبل میں امانت دار قیادت فراہم کرسکتا ہے۔ صالح قیادت کی بنیاد دراصل صالح نوجوانی ہی میں رکھی جاتی ہے۔تیسرا خوش نصیب وہ شخص ہے جس کا دل مسجد سے وابستہ ہو۔ مسجد سے تعلق صرف پانچ نمازوں تک محدود نہیں، بلکہ یہ اللہ سے تعلق، اجتماعیت، عبادت اور کردار سازی کا عنوان ہے۔ مسجد اقصیٰ کے منبر سے یہ بات کہیں زیادہ معنی خیز ہو جاتی ہے۔ خطیب محترم نے اہلِ بیت المقدس کو خوش خبری دیتے ہوئے کہا کہ مبارک باد ہے ہر اس دل کو جو مسجد اقصیٰ سے وابستہ ہے؛ جو وہاں آتا ہے، نماز، عبادت، تہجد اور تلاوتِ قرآن کا اہتمام کرتا ہے اور مسجد اقصیٰ کی حفاظت کے لیے فکرمند رہتا ہے۔

اہلِ بیت المقدس کے لیے خطیب کا پیغام امید اور توکل کا تھا۔ حالات کتنے ہی دشوار کیوں نہ ہوں، حقیقی قدرت صرف اللہ کے پاس ہے۔ مخلوق سے مایوس ہوکر بے عملی اختیار کرنے کے بجائے اپنے رب کی طرف رجوع کیا جائے، اسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے جائیں اور اسی سے مدد مانگی جائے۔ مسجد اقصیٰ سے تعلق محض جذباتی وابستگی نہیں بلکہ ایمان، عبادت، استقامت اور ذمہ داری کا تعلق ہے۔عرش کے سائے کے مستحق لوگوں میں وہ دو افراد بھی شامل ہیں جو اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ یہ وصف ہمیں ایسے معاشرے کی طرف لے جاتا ہے جس کے تعلقات ذاتی مفادات کے بجائے ایمان، خیر خواہی اور تعاون پر قائم ہوں۔ آج معاشروں کو سب سے زیادہ اسی باہمی محبت اور احساسِ ذمہ داری کی ضرورت ہے۔ بھوکے کو کھانا کھلانا، تنگ دست مقروض کو مہلت دینا، یتیم اور بیوہ کی کفالت کرنا اور ضرورت مند کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنا اسلامی معاشرے کی شناخت ہے۔ اسلام انسان کو خود غرضی کے خول میں بند نہیں ہونے دیتا، بلکہ چاہتا ہے کہ مسلمان اپنے معاشرے، اپنی امت اور اس کے مسائل سے جڑا رہے۔ معاف کرنا بھی کمزوری نہیں بلکہ مضبوط ایمان اور بڑے ظرف کی علامت ہے۔

پانچواں کردار عفت اور خوفِ الٰہی کا ہے: وہ شخص جسے گناہ کی دعوت ملے اور حالات بھی سازگار ہوں، مگر وہ کہہ دے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ اصل تقویٰ اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب انسان گناہ کرسکتا ہو، مگر اللہ کی خاطر رک جائے۔ موجودہ دور میں یہ تربیت مزید اہم ہو گئی ہے، کیونکہ فتنہ اب صرف انسان کے دروازے تک نہیں آتا بلکہ موبائل فون اور اسکرین کے ذریعے اس کی تنہائی میں بھی داخل ہو چکا ہے۔ باشعور مومن اپنے زمانے سے بے خبر نہیں رہتا۔ وہ ان راستوں، منصوبوں اور ورغلانے والی چیزوں کو پہچانتا ہے جو اسے اور پورے خاندان کے اخلاق کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اور اپنی دنیا سنوارنے کے ساتھ اپنے ایمان اور اہلِ خانہ کی حفاظت بھی کرتا ہے۔
چھٹا خوش نصیب خاموشی سے صدقہ کرنے والا ہے۔ ایسا صدقہ جس میں نمائش نہ ہو، تعریف حاصل کرنے کی خواہش نہ ہو اور دینے والے اور لینے والے کے درمیان اللہ کے سوا کوئی تیسرا واقف نہ ہو۔ یہ عمل صرف ضرورت مند کی مدد نہیں کرتا بلکہ دینے والے کے دل کو بھی ریا، خود نمائی اور خود پسندی سے پاک کرتا ہے۔ نیکی کی اصل خوب صورتی اس اخلاص میں ہے جو لوگوں کی نگاہوں سے بے نیاز ہو۔

ساتواں خوش نصیب وہ شخص ہے جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہہ پڑیں۔ آج انسان تنہائی میں بھی تنہا نہیں رہتا؛ اس کا فون، سوشل میڈیا اور تفریح کے بے شمار ذرائع اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔ ایسے ماحول میں وہ شخص کتنا خوش نصیب ہے جو اپنی تنہائی کو اپنے رب کے ساتھ تعلق کا ذریعہ بنا لے۔ ذکرِ الٰہی دل کی زندگی، روح کا سکون اور فتنوں کے مقابلے میں مضبوط حصار ہے۔ آنکھ سے نکلنے والا وہ آنسو جسے دنیا نہ دیکھے، اللہ کے ہاں انسان کی نجات کا سبب بن سکتا ہے۔ خطبے کے دوسرے حصے میں جسٹس محمد سرندح نے ان سات اوصاف کو عہدِ نبوی ﷺ کی اجتماعی تربیت سے جوڑتے ہوئے ایک نہایت اہم حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ رسول اللہ ﷺ نے ایسا معاشرہ تیار کیا جس میں اللہ کے ذکر سے رونے والی آنکھیں بھی تھیں، چھپ کر صدقہ کرنے والے ہاتھ بھی، پاک دامن نوجوان بھی، مسجدوں سے وابستہ دل بھی اور اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے انسان بھی۔ اسی تربیت یافتہ معاشرے سے بعد میں عادل خلفاء اور ایسی قیادت سامنے آئی جس نے دین، امت، اور مقدسات کی حفاظت کی۔

یہی اس خطبے کا سب سے اہم اجتماعی سبق ہے۔ ہم عادل قیادت، مضبوط معاشرے اور محفوظ مقدسات کی آرزو تو رکھتے ہیں، مگر ان سب کی بنیاد کردار سازی پر ہے۔ عادل حکمران صالح معاشرے سے نکلتا ہے، صالح معاشرہ تربیت یافتہ خاندانوں سے بنتا ہے، اور خاندان ایسے افراد سے تشکیل پاتے ہیں جن کے دلوں میں خوفِ خدا، مسجد سے تعلق، عفت، سخاوت، اخوت اور ذکرِ الٰہی زندہ ہو۔ اگر ہم مستقبل بدلنا چاہتے ہیں تو ہمیں آج ہی سے انہی اوصاف کی آبیاری کرنا ہوگی۔ یہی اوصاف دنیا میں معاشرے کو سایہ دیتے ہیں اور قیامت کے ہولناک دن انسان کو عرشِ الٰہی کے سائے تک پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔