ہوم << خطبہ جمعہ مسجد الاقصیٰ – الشیخ یوسف ابو سنینہ– ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل
600x314

خطبہ جمعہ مسجد الاقصیٰ – الشیخ یوسف ابو سنینہ– ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل

اللہ سے تعلق، بندوں سے حسنِ خلق
کبھی روزی کی فکر انسان کو بے چین رکھتی ہے اور کبھی گھر کے اختلافات اس کا سکون چھین لیتے ہیں۔ ایک مشکل ٹلتی نہیں کہ دوسری سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔ ایسے میں آدمی اپنے رب سے کیا امید رکھے، اور گھر والوں، رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرے؟ انہی دو سوالوں کے جواب عبادت اور روزمرہ زندگی کے باہمی تعلق کو واضح کرتے ہیں۔

مسجدِ اقصیٰ کے خطیب، الشیخ یوسف ابو سنینہ، نے خطبۂ جمعہ میں پہلے انسان کو اپنے رب کی طرف لوٹنے کی دعوت دی، پھر یاد دلایا کہ اس تعلق کا اثر لوگوں کے ساتھ معاملات میں بھی نظر آنا چاہیے۔ موت کو یاد رکھنے والا شخص اپنی خواہشات کا محاسبہ کرتا ہے۔ اس سے گناہ سرزد ہو تو وہ مایوس ہونے کے بجائے توبہ کرتا ہے، کیونکہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا اور ان کی برائیوں سے درگزر کرتا ہے۔ خطیب محترم نے محبت، معرفت، توحید، ایمان اور اسلام کو اللہ کی عطا کردہ پانچ قیمتی خلعتوں سے تعبیر کیا۔ ان نعمتوں کی قدر ہو تو پریشانی کے دنوں میں بھی بندہ اپنے رب سے امید نہیں توڑتا. اس امید کے ساتھ اپنی ذمہ داری ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ انسان اپنے حصے کی کوشش کرے، جائز تدبیر اختیار کرے اور نتیجہ اللہ کے سپرد کر دے۔ خطیب محترم نے ایک بزرگ کا قول نقل کیا کہ بندگی کا مقام تب نصیب ہوتا ہے جب انسان اپنے معاملے میں اللہ کے فیصلے پر راضی ہو۔ خواہش ہر وقت اپنی مرضی منوانا چاہتی ہے؛ اس کی مخالفت نفس کی اصلاح کا راستہ ہے۔ مشکل آئے تو شکایت لیے ہر دروازے پر جانے سے پہلے اس ہستی سے مانگا جائے جو اسے دور کرنے پر قادر ہے۔

روزی کی فکر میں یہ بات خاص طور پر یاد رہنی چاہیے۔ قرآن کریم اہلِ خانہ کو نماز کا حکم دینے کے ساتھ یقین دلاتا ہے کہ رزق عطا کرنے والا اللہ ہے۔ خطیب محترم نے نماز کو رزق کے دروازے پر دستک قرار دیا۔ آدمی اپنا روزگار جاری رکھے اور عبادت کے لیے بھی وقت نکالے؛ کام کی مصروفیت نماز پر غالب نہ آنے دے۔ کوئی شخص دن بھر محنت کرے، کاروبار بڑھائے اور بچوں کی ضروریات پوری کرے، مگر اس دوڑ میں عبادت اور کمائی کی پاکیزگی نہ کھوئے۔ اصحابِ کہف نے کھانا منگواتے ہوئے پاکیزہ غذا تلاش کرنے کی ہدایت دی تھی۔ اس مثال کے ذریعے خطیب مسجد اقصی نے حلال رزق کی اہمیت اجاگر کی۔ انہوں نے ایک خاتون کا قول نقل کیا جس نے اپنے شوہر سے کہا کہ میرے سبب کسی مشتبہ کمائی میں ہاتھ نہ ڈالنا۔ گھر والوں سے محبت کا تقاضا ہے کہ ان کے لیے پاکیزہ روزی کمائی جائے؛ یہ بھی ان کے حق کی ادائیگی ہے۔ امام محترم نے حاتم اصم سے منسوب ایک حکایت بھی سنائی کہ سفر سے پہلے انہوں نے اہلیہ سے پوچھا کہ بچوں سمیت تمہارے لیے کتنا خرچ چھوڑ جاؤں؟ جواب ملا کہ روزی دینے والا اللہ ہے، آپ جہاں جانا چاہیں جائیں۔

یہ حکایت یاد دلاتی ہے کہ اسباب اختیار کرتے ہوئے دل کا بھروسا اللہ ہی پر رہنا چاہیے۔ اسی بزرگ نے رزق کی تقسیم کے قرآنی بیان کی روشنی میں حسد اور عداوت چھوڑنے کی بات کی۔ دوسرے کو ملنے والی نعمت ہماری محرومی کا اعلان نہیں ہوتی۔ یہاں سے خطبہ بندوں کے ساتھ تعلقات کی طرف مڑتا ہے۔ خطیب محترم نے سوال اٹھایا کہ میاں بیوی، رشتہ دار اور دوست معمولی باتوں پر ایک دوسرے کے دشمن کیوں بن جاتے ہیں؟ ظاہری دینداری کے ساتھ گفتگو میں تلخی، دل میں حسد اور معاملات میں سختی جمع ہو جائے تو گھر کا سکون باقی نہیں رہتا۔ قرآن کریم دل کے اندھے پن سے خبردار کرتا ہے؛ انسان بہت کچھ دیکھتا ہو، مگر اپنی غلطی اور دوسرے کا حق نہ پہچانے تو اسے اپنی بصیرت کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ اس اصلاح کا آغاز زبان سے ہوتا ہے۔ خطیب نے ایک واقعہ بیان کیا جس میں کسی خاتون کے پست قامت ہونے کا ذکر کیا گیا تو رسول اللہ ؐ نے اسے غیبت قرار دیتے ہوئے اس کی سنگینی واضح فرمائی۔ یہ عذر کافی نہیں کہ ’’میں نے جو کہا، سچ کہا ہے‘‘۔ دوسرے کی وہ بات، جس کا ذکر اسے ناگوار گزرے، ہماری مجلس کا موضوع کیوں بنے؟

اچھا مسلمان نہ صرف خود کسی کی عزت اچھالنے سے بچتا ہے بلکہ موقع آئے تو اس کی آبرو کا دفاع بھی کرتا ہے۔ گھر کے اندر زبان کا استعمال اور بھی زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے نے جھگڑے، قطع تعلقی، ظلم اور سختی سے بچنے کی تلقین کی۔ میاں بیوی میں اختلاف ہو تو ہر ناراضی کو مستقل دشمنی نہ بنایا جائے۔ غصے میں طلاق کا فیصلہ صرف دو افراد کو متاثر نہیں کرتا؛ بچے، خاندان اور معاشرہ بھی اس کے اثرات محسوس کرتے ہیں۔ صبر، ایک دوسرے کی خدمات کا اعتراف اور اصلاح کی مخلصانہ کوشش گھر بچانے میں مدد دیتی ہے۔ دونوں فریق اپنے فرائض ادا کریں اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں۔ خطیب نے دو مختلف شوہروں کی تصویریں پیش کیں۔ ایک خوش دلی سے گھر آتا، ضرورت کے وقت خرچ دیتا، اہلیہ کی محنت کا شکریہ ادا کرتا اور غلطی سے درگزر کرتا ہے۔ دوسرا ہر وقت بازپرس کرتا، سخت لہجے میں بولتا، بخل سے کام لیتا اور اپنے مہمان اور پڑوسی کی خبر تک نہیں رکھتا۔ یہ تصویریں بتاتی ہیں کہ حسنِ خلق کا اصل امتحان گھر کی چار دیواری میں بھی ہوتا ہے۔ باہر کی خوش گفتاری اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب اپنے لوگ بھی اس سے حصہ پائیں۔

دوستوں کے بارے میں خطیب محترم نے ایک دلچسپ جواب نقل کیا۔ ایک شخص کی اہلیہ نے کہا کہ تمہارے دوست خوش حالی میں آتے ہیں اور تنگی میں غائب ہو جاتے ہیں۔ اس نے جواب دیا: خوش حالی میں آکر وہ ہماری محبت قبول کرتے ہیں اور تنگی میں اپنی میزبانی کا بوجھ ہم پر نہیں ڈالتے۔ ہر رویّے کی منفی تعبیر ضروری نہیں۔ حسنِ ظن بعض رشتوں کو اس تلخی سے بچا لیتا ہے جو محض قیاس آرائیوں سے پیدا ہوتی ہے۔ دوسرے خطبے میں الشیخ یوسف ابو سنینہ نے مایوسی کے شکار انسان کو مخاطب کیا۔ انہوں نے اسے ایمان، عقل، جسمانی صلاحیتوں اور ساتھ دینے والے لوگوں جیسی نعمتیں یاد دلائیں، پھر پوچھا کہ وہ کس گناہ کو اللہ کی رحمت سے بڑا سمجھ بیٹھا ہے؟ آدمی اپنی خطا پر نادم ہو، توبہ کرے اور دوسروں کو ان کی لغزشوں پر طعنے نہ دے۔ خطیب نے ایوب، یونس، یوسف اور یعقوب علیہم السلام کے حالات یاد دلا کر دعا اور امید کا دامن تھامنے کی تلقین کی۔ انہوں نے اپنی مبارک سرزمین کے لیے بھی رحمت اور مدد کی دعا مانگی۔

خطبے کا حاصل روزمرہ زندگی میں پرکھا جا سکتا ہے: نماز کے لیے وقت نکالیے، حلال روزی کمائیے، مشکل میں اللہ سے مانگیے، کسی کی نعمت پر حسد نہ کیجیے، اپنی زبان سے دوسروں کی عزت محفوظ رکھیے اور گھر والوں سے خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آئیے۔ اللہ سے تعلق دل کو سہارا دیتا ہے، اور بندوں سے حسنِ خلق اس تعلق کو عمل میں ظاہر کرتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment