ہوم << خطبہ جمعہ مسجد الحرام – فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر بندر بن عبدالعزیز بلیلہ – ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل
600x314

خطبہ جمعہ مسجد الحرام – فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر بندر بن عبدالعزیز بلیلہ – ڈاکٹر شفقت الرحمن مغل

حسنِ ظن: سکونِ قلبی اور رشتوں کی مضبوطی
رشتوں میں محبت برقرار رکھنے کے لیے اعتماد ضروری ہے۔ ہر بات کا منفی مطلب نکالنا، ہر خاموشی کو ناراضی سمجھنا اور ہر رویے کے پیچھے کوئی چھپا ہوا مقصد تلاش کرنا انسان کو اپنوں سے دور کر دیتا ہے۔ بدگمانی دوسروں سے تعلق خراب کرنے سے پہلے خود انسان کا سکون چھین لیتی ہے۔ جب دل میں شکوک جمع ہونے لگیں تو معمولی باتیں بھی بوجھ محسوس ہوتی ہیں۔

اسلام ہمیں دل صاف رکھنے اور دوسروں کے بارے میں اچھا سوچنے کی تعلیم دیتا ہے، تاکہ ہم خود بھی اطمینان سے رہیں اور دوسروں کی زندگی بھی خوش گوار بنائیں۔ امام کعبہ ڈاکٹر بندر بن عبدالعزیز بلیلہ حفظہ اللہ نے اپنے خطبۂ جمعہ میں اسی اہم اخلاقی موضوع کی طرف توجہ دلائی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اللہ تعالیٰ نے دلوں کو پاک رکھنے کا حکم دیا ہے اور لوگوں کے بارے میں بدگمانی کرنے اور انہیں اذیت پہنچانے سے منع فرمایا ہے۔ تقویٰ کا اثر صرف عبادات ہی میں نہیں، ہمارے باہمی معاملات میں بھی دکھائی دینا چاہیے۔ اپنے مسلمان بھائیوں کے بارے میں اچھا گمان رکھنا زندگی کو خوش گوار بناتا اور انسان کو بہت سی برائیوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ جب بدگمانی عادت بن جائے تو انسان دوسروں کی نیتوں کے بارے میں خود ہی فیصلے کرنے لگتا ہے۔ پھر اپنے اندازوں کو درست ثابت کرنے کے لیے ان کی ٹوہ لیتا ہے، ان کے عیب تلاش کرتا ہے اور ان کی غیر موجودگی میں انہیں موضوعِ گفتگو بناتا ہے۔ یوں دل میں پیدا ہونے والا ایک شک آہستہ آہستہ جاسوسی، غیبت اور زیادتی تک پہنچ جاتا ہے۔

قرآن مجید نے ہمیں بدگمانی سے بچنے، لوگوں کے پوشیدہ معاملات نہ کریدنے اور ان کی عزت محفوظ رکھنے کی تاکید کی ہے۔ غیبت کو اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دے کر اس گناہ کی سنگینی واضح کی گئی ہے۔ رسول اللہؐ نے بدگمانی کو جھوٹی باتوں میں سب سے بڑھ کر قرار دیا اور ان تمام رویوں سے روکا جو بھائی چارے کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ دوسروں کی خبریں کریدنا، جاسوسی کرنا، ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی نامناسب دوڑ میں پڑنا، حسد کرنا، دل میں بغض رکھنا اور تعلق توڑنا اسی بگاڑ کی مختلف صورتیں ہیں۔ آپؐ نے مسلمانوں کو بھائی بھائی بن کر رہنے کی تعلیم دی۔ اس تعلیم پر عمل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم بے بنیاد اندیشوں کو حقیقت نہ سمجھیں اور محض قیاس کی بنیاد پر اپنے تعلقات خراب نہ کریں۔ خطیبِ محترم نے بتایا کہ شیطان بدگمانی کے ذریعے انسان کو پریشان کرتا ہے۔ جو شخص اس کے وسوسوں کے پیچھے چل پڑتا ہے، اس کے دل میں غم، بے چینی اور اندیشے بڑھتے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس حسنِ ظن دل کو کدورت سے بچاتا، طبیعت کو مطمئن رکھتا اور جسمانی عافیت کا باعث بنتا ہے۔

یوں انسان بے وجہ الجھنوں سے محفوظ رہتا ہے، جبکہ یہی پاکیزہ رویہ آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بھی بنتا ہے۔ قرآن کریم مسلمانوں کو سکھاتا ہے کہ کسی بھائی یا بہن کے بارے میں بری بات سنیں تو فوراً بدگمان ہونے کے بجائے اس کے متعلق اچھا خیال رکھیں۔ دوسروں سے اچھے گمان کی توقع رکھنے کے ساتھ ہمیں اپنے طرزِ عمل کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ بلاوجہ ایسی صورت حال پیدا نہ کریں جس سے شک پیدا ہو، اور اگر کوئی غلط فہمی جنم لے تو وضاحت میں دیر نہ کریں۔ رسول اللہؐ کے عمل سے اس بارے میں بہترین رہنمائی ملتی ہے۔ ایک بار آپؐ اعتکاف میں تھے اور ام المؤمنین سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا رات کو آپؐ سے ملنے آئیں۔ واپسی پر آپؐ انہیں گھر تک پہنچانے کے لیے ساتھ چلے۔ دو انصاری صحابہ قریب سے گزرے تو آپؐ کو دیکھ کر تیز چلنے لگے۔ آپؐ نے انہیں روک کر بتایا کہ آپؐ کے ساتھ آپؐ کی اہلیہ صفیہ ہیں۔ صحابہ نے تعجب ظاہر کیا تو آپؐ نے سمجھایا کہ شیطان دل میں وسوسہ ڈال سکتا ہے، اس لیے آپؐ نے وضاحت کر دی۔ اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بروقت وضاحت دلوں کو بہت سی الجھنوں سے بچا سکتی ہے۔

حسنِ ظن محض ایک اضافی خوبی نہیں بلکہ باہمی تعلقات کی بنیادی ضرورت ہے۔ گھر والوں، رشتہ داروں، پڑوسیوں، دوستوں اور کام کی جگہ کے ساتھیوں کے درمیان اعتماد قائم رہنا چاہیے۔ خطیبِ محترم نے ریاست اور قیادت سے تعلق میں بھی اسی رویے کی اہمیت بیان کی۔ باہمی اعتماد لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑتا اور معاشرے کو مضبوط بناتا ہے۔ اسی وجہ سے فتنہ پھیلانے والے لوگ جھوٹے الزامات، بہتان اور افواہوں کے ذریعے اعتماد توڑنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مختلف ذرائع سے پھیلائی جانے والی ایسی باتیں اختلاف اور انتشار کو جنم دیتی ہیں۔ قرآن کریم بھی خبردار کرتا ہے کہ باہمی جھگڑے قوموں کو کمزور کر دیتے ہیں اور آخرکار ان کی قوت ختم ہو جاتی ہے۔حسنِ ظن دل کے ان اعمال میں سے ہے جن کا مرتبہ بلند ہے، جو میزان میں وزن رکھتے ہیں اور اللہ کو محبوب ہیں۔ رسول اللہؐ سے پوچھا گیا کہ سب سے بہتر انسان کون ہے تو آپؐ نے صاف دل اور سچی زبان والے شخص کی فضیلت بیان فرمائی۔ آپؐ نے سمجھایا کہ صاف دل وہ ہے جس میں تقویٰ ہو اور جو گناہ، زیادتی، کینے اور حسد سے پاک ہو۔ انسان کی خوبی اس وقت نمایاں ہوتی ہے جب اس کی زبان سچی ہو اور اس کا دل دوسروں کے لیے میل سے خالی ہو۔

حسنِ ظن سے ایمان سلامت رہتا ہے، عقل بے جا اندیشوں سے بچتی ہے اور دل کو قرار ملتا ہے۔ لیکن کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہم کسی پر اعتماد کرتے ہیں اور وہ ہمارے اعتماد کو ٹھیس پہنچا دیتا ہے۔ کیا اس کے بعد ہمیں اپنی نیک دلی پر پچھتانا چاہیے؟ خطیبِ محترم نے نصیحت کی کہ کسی کی خیانت کو اپنی شرافت چھیننے نہ دیں۔ اگر اچھا گمان درست ثابت ہو تو تعلق بھی محفوظ رہتا ہے اور دل بھی مطمئن رہتا ہے۔ اگر دوسرے کی بدنیتی سامنے آ جائے تو اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیں۔ بندوں کے دل رحمٰن کی دو انگلیوں کے درمیان ہیں؛ وہ جیسے چاہے انہیں پھیر دیتا ہے۔ کوئی شخص صرف اتنا ہی نقصان پہنچا سکتا ہے جتنا اللہ کی مشیت اور پہلے سے لکھی ہوئی تقدیر میں ہو۔ دوسروں کے خلاف بری چال چلنے والا آخرکار اس کا وبال خود اٹھاتا ہے۔اپنی پاکیزہ طبیعت اور اچھا اخلاق برقرار رکھنا اعلیٰ ظرفی ہے۔ کسی ایک شخص کے دھوکے کی وجہ سے اپنے دل کو سب لوگوں کے بارے میں شکوک سے بھر لینا خود اپنے ساتھ زیادتی ہے۔ حسنِ ظن صاف دلی، معاف کرنے کی صلاحیت اور مضبوط کردار کی علامت ہے۔ ہمیں یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ اپنے بندے کے لیے کافی ہے، چاہے سب لوگ اس کے خلاف جمع ہو جائیں۔ اس لیے اپنی پریشانی اسی کے سامنے رکھیں اور اسی سے دنیا و آخرت کی بھلائی مانگیں۔

خطبے کے دوسرے حصے میں امام کعبہ ڈاکٹر بلیلہ نے حوثی جماعت کی جانب سے مقدس مقامات، پُرامن شہروں، مساجد، تعلیمی اداروں اور املاک کو نشانہ بنانے کی مذمت کی۔ انہوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حرمت بیان کرتے ہوئے ایسے حملوں کو دینی اور انسانی اقدار کے خلاف قرار دیا۔ مذہبی نعروں کی آڑ میں فساد پھیلانا اور بے گناہ لوگوں کو خوف زدہ کرنا اسلامی تعلیمات سے متصادم ہے۔ اسلام تو کسی مسلمان کو ڈرانے کی بھی اجازت نہیں دیتا؛ پھر عبادت گزاروں اور پُرامن آبادیوں کو نشانہ بنانا کیسے گوارا کیا جا سکتا ہے؟
خطیبِ محترم نے یاد دلایا کہ مسلمان کے خون کی حرمت کعبے کی حرمت سے بھی بڑھ کر ہے، جبکہ حرم میں ظلم کا ارادہ کرنا بھی سخت وعید کا باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے سعودی قیادت اور عوام کے اتحاد کو مزید مضبوط کریں گے۔ سعودی عرب اللہ کی حفاظت، امت کی بیداری اور باہمی یکجہتی کے باعث دشمنوں کی سازشوں کے سامنے ڈٹا رہے گا۔ مقدس مقامات کا امن تباہ کرنا اور بے گناہوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ آخر میں انہوں نے سعودی عرب اور تمام مسلم ممالک کے امن، سرحدوں کے محافظوں کی حفاظت اور فلسطین سمیت دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لیے دعا کی۔

یہ خطبہ ہمیں اپنے دل اور روزمرہ کے رویوں کا جائزہ لینے کی دعوت دیتا ہے۔ ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم دوسروں کے بارے میں کیسا گمان رکھتے ہیں، سنی سنائی باتوں کو کتنی جلدی مان لیتے ہیں اور غلط فہمی دور کرنے میں کتنی دیر کرتے ہیں۔ اپنے دل کو بے بنیاد شکوک سے بچائیں، لوگوں کی عزت کا خیال رکھیں اور کسی کے برے رویے کی وجہ سے اپنی اچھائی نہ چھوڑیں۔ اللہ سے دل کی پاکیزگی مانگتے رہیں۔ حسنِ ظن کا سکون اسی وقت زندگی میں اترتا ہے جب ہماری سوچ، گفتگو اور برتاؤ میں اس کی جھلک دکھائی دینے لگے۔