اسبابِ رزق اور برکت کی کنجیاں
رزق کی کشادگی ہر انسان کی خواہش ہے۔ کوئی بہتر روزگار چاہتا ہے، کوئی کاروبار میں ترقی کا آرزو مند ہے اور کوئی اپنی محدود آمدن میں برکت اور آسودگی کا طلب گار۔ انسان انہی خواہشات کی تکمیل کے لیے صبح سے شام تک محنت کرتا، نئے مواقع تلاش کرتا اور طرح طرح کی تدبیریں اختیار کرتا ہے۔ یہ سب ضروری ہے، لیکن رزق کا معاملہ صرف انسانی کوشش اور مادی وسائل تک محدود نہیں۔
محنت کے باوجود بہت سے لوگ بے سکون رہتے ہیں، جب کہ معمولی آمدن رکھنے والے بعض گھرانوں میں اطمینان اور خیر دکھائی دیتی ہے۔ اس فرق کو سمجھنے کے لیے رزق کے بارے میں قرآن و سنت کی تعلیمات سامنے رکھنا ضروری ہیں۔ مسجد الحرام میں امامِ کعبہ فضیلۃ الشیخ ڈاکٹر اسامہ بن عبداللہ خیاط حفظہ اللہ نے اپنے خطبۂ جمعہ میں اسی حقیقت کو موضوع بنایا ہے۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ مال، خوراک، لباس، رہائش، صحت اور زندگی کی دوسری سہولتیں اللہ تعالیٰ کی عطا ہیں۔ انسان اپنی محنت سے ان تک پہنچتا ضرور ہے، مگر انہیں پیدا کرنے اور نصیب فرمانے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ بندہ ہر حال میں اسی کا محتاج ہے، جب کہ وہ تمام جہانوں سے بے نیاز اور حقیقی رازق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو اسباب کے نظام پر قائم کیا ہے۔ منزل تک پہنچنے کے لیے راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے اور فصل حاصل کرنے کے لیے زمین تیار کرکے بیج بونا ہوتا ہے۔ اسی طرح رزق کے حصول کے لیے بھی کوشش ضروری ہے۔ اسلام نہ تو انسان کو دنیا سے کنارہ کش ہوکر بیٹھنے کی تعلیم دیتا ہے اور نہ اسباب ہی کو سب کچھ قرار دیتا ہے۔ درست طرزِ فکر یہ ہے کہ ہاتھ کام میں مصروف ہوں اور دل اللہ تعالیٰ پر بھروسا رکھے۔
رزق کے دروازے کھولنے والا پہلا عمل تقویٰ ہے۔ تقویٰ محض زبان سے نیکی کے اظہار کا نام نہیں؛ اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنا، ممنوع کاموں سے رکنا اور شبہے والی چیزوں سے بچنا بھی اسی کا حصہ ہے۔ قرآن مجید میں وعدہ کیا گیا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، اس کے لیے تنگی سے نکلنے کا راستہ پیدا کردیا جاتا اور اسے وہاں سے رزق ملتا ہے جہاں سے اسے توقع بھی نہیں ہوتی۔یہ اصول صرف ایک فرد تک محدود نہیں۔ اگر کسی معاشرے کے لوگ ایمان، دیانت اور تقویٰ اپنائیں تو آسمان و زمین کی برکتیں ان کے لیے کھول دی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس جب جھوٹ، خیانت، رشوت، دھوکا اور حق تلفی عام ہو جائے تو وسائل کی فراوانی بھی حقیقی آسودگی نہیں دے سکتی۔ اعداد و شمار میں دولت بڑھتی رہتی ہے، مگر دلوں کا اطمینان، باہمی اعتماد اور زندگی کی برکت کم ہوتی جاتی ہے۔
تقویٰ کے بعد توکل کی باری آتی ہے۔ توکل کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ انسان ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائے اور رزق خود چل کر اس کے دروازے تک پہنچ جائے۔ توکل دل کی کیفیت ہے اور محنت جسم کا عمل۔ دل اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرے اور جسم پوری ذمہ داری سے جائز کوشش میں مصروف رہے، تب توکل مکمل ہوتا ہے۔رسول اللہؐ نے پرندوں کی مثال دے کر اس حقیقت کو نہایت خوب صورتی سے سمجھایا ہے۔ اگر تم اللہ تعالیٰ پر ایسے بھروسا کرو جیسے بھروسا کرنے کا حق ہے تو تمہیں اسی طرح رزق دیا جائے گا جیسے پرندوں کو دیا جاتا ہے؛ وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو آسودہ ہوکر لوٹتے ہیں۔ غور کیجیے، پرندے اپنے گھونسلوں میں بیٹھے نہیں رہتے، بلکہ صبح سویرے رزق کی تلاش میں نکل جاتے ہیں۔ ان کے پاس نہ ذخیرہ ہوتا ہے، نہ آئندہ دن کی ضمانت، لیکن وہ کوشش بھی کرتے ہیں اور اپنے رب کی عطا پر بھروسا بھی رکھتے ہیں۔
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اسی غلط تصور کی اصلاح کرتے ہوئے فرمایا کہ کوئی شخص محنت کی بجائے بیٹھ کر صرف یہ نہ کہتا رہے:
اے اللہ! مجھے رزق دے؛ کیونکہ اسے معلوم ہے کہ آسمان سے سونا اور چاندی نہیں برستے۔
نبوی طریقہ توکل اور محنت دونوں کو یکجا کرتا ہے۔ چنانچہ رسول اللہؐ کی پیروی کے متلاشی شخص کو اللہ تعالیٰ پر اعتماد کے ساتھ جائز روزگار کے لیے کوشش بھی کرنا ہوگی۔ بعض اوقات انسان بہت محنت کرتا ہے، مگر گناہ اس کی زندگی سے برکت چھین لیتے ہیں۔ ایسے میں استغفار اور سچی توبہ رحمت کے بند دروازے کھول دیتی ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ اپنے رب سے معافی مانگو، وہ بہت بخشنے والا ہے؛ وہ تم پر خوب بارش برسائے گا، مال اور اولاد کے ذریعے تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لیے باغات اور نہریں بنائے گا۔ حضرت ہود علیہ السلام نے بھی استغفار اور توبہ کی دعوت دیتے ہوئے خوش گوار زندگی کی بشارت دی تھی۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر مالی پریشانی لازماً کسی خاص گناہ کی سزا ہے۔ انبیا اور صالحین بھی آزمائشوں سے گزرے ہیں۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ توبہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو متوجہ کرتی، دل کا بوجھ اتارتی اور زندگی میں خیر پیدا کرتی ہے۔ بندہ اپنی خطاؤں پر اصرار چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹ آئے تو حالات بدلنے کی امید بھی روشن ہو جاتی ہے۔
رزق کی کنجیوں میں دعا کو بھی نمایاں مقام حاصل ہے۔ دعا بندے کے عجز اور اپنے رب پر اعتماد کا اظہار ہے۔ رسول اللہؐ دنیا و آخرت کی بھلائی مانگنے والی جامع دعا بکثرت کیا کرتے تھے۔ دنیا کی بھلائی میں صحت، کشادہ رزق، آرام دہ گھر، نیک شریکِ زندگی، مفید علم، صالح عمل اور با عزت زندگی سب کچھ شامل ہے، جب کہ آخرت کی سب سے بڑی بھلائی جنت، روزِ قیامت کی گھبراہٹ سے حفاظت اور آسان حساب ہے۔ یوں بندہ صرف مال نہیں مانگتا، بلکہ ایسا رزق طلب کرتا ہے جو دنیا میں سکون اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بنے۔
رشتے داروں سے حسنِ سلوک بھی رزق میں وسعت اور زندگی میں برکت لاتا ہے۔ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں کشادگی اور اس کی عمر میں برکت ہو، وہ صلہ رحمی کرے۔ والدین کی خدمت، ضرورت مند رشتے دار کی مدد، ناراض عزیز سے تعلق جوڑنا اور خاندان کے کمزور افراد کی خبر گیری محض سماجی خوبیاں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا پانے والے اعمال ہیں۔ جو شخص اپنوں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے خیر کے راستے کھول دیتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کیا جانے والا مال ضائع نہیں ہوتا۔ قرآن مجید میں یقین دلایا گیا ہے کہ تم جو کچھ خرچ کرو گے، اللہ تعالیٰ اس کا بدل عطا فرمائے گا۔ رسول اللہؐ نے بتایا کہ ہر صبح دو فرشتے اترتے ہیں؛ ایک خرچ کرنے والے کے لیے بہتر بدل کی دعا کرتا ہے اور دوسرا مال روک رکھنے والے کے لیے نقصان کی۔ اس لیے انفاق کو مال میں کمی سمجھنا درست نہیں۔ والدین، اہلِ خانہ، محتاج رشتے داروں اور ضرورت مندوں پر خرچ ہونے والا مال اپنے ساتھ اجر اور برکت لاتا ہے۔
معاشرے کے کمزور افراد بھی رزق اور نصرت کا وسیلہ ہیں۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو جب اپنے بعض اوصاف کی بنا پر دوسروں پر فضیلت کا احساس ہوا تو رسول اللہؐ نے فرمایا: تمہیں مدد اور رزق تمہارے کمزور لوگوں ہی کی وجہ سے ملتا ہے۔ اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے کہ یتیم، نادار، بیمار اور بے سہارا لوگ معاشرے پر بوجھ نہیں۔ ان کی دعا، ان کے ساتھ حسنِ سلوک اور ان کی ضروریات پوری کرنا اجتماعی خیر اور اللہ تعالیٰ کی مدد کا ذریعہ ہے۔خطبے میں صبح سویرے کام شروع کرنے کی اہمیت بھی بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہؐ نے اپنی امت کے ابتدائی اوقات میں برکت کی دعا فرمائی۔ صحابیِ رسول صخر غامدی رضی اللہ عنہ تاجر تھے اور اپنا تجارتی سامان دن کے آغاز میں روانہ کیا کرتے تھے۔ اس معمول کی بدولت ان کے کاروبار میں اتنی برکت ہوئی کہ وہ مال دار ہوگئے۔ یہ نبوی رہنمائی ہمیں وقت کی پابندی، مستعدی اور دن کے ابتدائی حصے سے فائدہ اٹھانے کا سبق دیتی ہے۔
طلبِ رزق میں سب سے کڑا امتحان اس وقت آتا ہے جب نتیجہ توقع کے مطابق نہ نکلے۔ بعض لوگ رزق میں تاخیر سے گھبرا کر حرام راستوں کی طرف مڑ جاتے ہیں۔ وہ ناجائز کاروبار، سود، رشوت، دھوکا اور غلط لین دین کو اپنی مجبوری قرار دیتے ہیں، حالانکہ حرام مال بظاہر فائدہ دے تو بھی انجام کے اعتبار سے تباہی ہے۔رسول اللہؐ نے یقین دلایا کہ کوئی جان اس وقت تک دنیا سے نہیں جائے گی جب تک اپنی مقررہ عمر اور پورا رزق حاصل نہ کر لے۔ پھر آپؐ نے حکم دیا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو، رزق کی تلاش میں اچھا اور متوازن طریقہ اختیار کرو اور رزق میں تاخیر تمہیں نافرمانی کے ذریعے حاصل کرنے پر آمادہ نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ کے پاس موجود خیر اس کی اطاعت ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ حلال چیز لے لینا اور حرام کو چھوڑ دینا ہی مومن کے شایانِ شان ہے۔
رزق کی کشادگی مطلوب ہے، لیکن اس سے زیادہ اہم اس کی پاکیزگی اور برکت ہے۔ اس کے لیے محنت کے ساتھ ایمان، تقویٰ، توکل، استغفار، دعا، صلہ رحمی، انفاق، کمزوروں کی دست گیری، صبح سویرے جدوجہد اور حلال و حرام کی تمیز ضروری ہے۔ اصل خوش حالی مال کے ڈھیر کا نام نہیں، بلکہ ایسا پاکیزہ رزق خوش حالی ہے جو دل کو سکون دے، گھر میں خیر لائے، دوسروں کے کام آئے اور انسان کو اپنے رب کا شکر گزار بنادے۔



تبصرہ لکھیے