ہوم << سیرتِ نبویؐ: محبت، اتباع اور اقتدا -الشیخ عبدالرحمن السدیس – خطبہ مسجد الحرام
600x314

سیرتِ نبویؐ: محبت، اتباع اور اقتدا -الشیخ عبدالرحمن السدیس – خطبہ مسجد الحرام

الشیخ عبدالرحمن السدیس – 8 ربیع الاول 1448 ہجری – 21 اگست 2026

انسان کو زندگی کا راستہ صرف نظری تعلیم سے نہیں ملتا، اسے کسی عملی نمونے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانیت پر یہ عظیم احسان فرمایا کہ رسول اللہؐ کو مبعوث کیا اور آپؐ کی زندگی کو قیامت تک کے لیے بہترین نمونہ قرار دیا۔ اس لیے سیرتِ نبویؐ محض ماضی کے واقعات یا ایک عظیم شخصیت کے حالات کا نام نہیں، بلکہ یہ زندگی گزارنے کا مکمل طریقہ ہے۔

اس سے ہمیں عقیدے کی درستی، عبادت کا ذوق، اخلاق کی پاکیزگی اور معاملات کی صحیح سمت ملتی ہے۔ سیرت سے حقیقی تعلق اسی وقت قائم ہوتا ہے جب اسے پڑھنے کے ساتھ اپنی زندگی میں اپنایا بھی جائے۔ امامِ کعبہ شیخ ڈاکٹر عبد الرحمن السدیس نے مسجد الحرام کے حالیہ خطبۂ جمعہ میں اسی حقیقت کو موضوع بنایا۔ انہوں نے کہا کہ چودہ صدیوں سے زیادہ عرصہ پہلے رسول اکرمؐ کی بعثت سے دنیا کے گوشے معطر ہوگئے۔ آپؐ کی روشن سیرت میں وقار و جمال، خشیت و جلال اور حکیمانہ قول و عمل جمع تھے۔ لوگوں کی تکلیف آپؐ پر گراں گزرتی تھی، آپؐ ان کی ہدایت کے حریص اور اہلِ ایمان پر نہایت شفیق و مہربان تھے۔ آپؐ نے جہالت کے اندھیرے دور کیے، انسانیت کو گمراہی سے نکالا اور دنیا میں حق، عدل، امن، رواداری اور رحمت کی بنیادیں مضبوط کیں۔

یہی وجہ ہے کہ سیرتِ نبویؐ امت کا تاریخی خزانہ ہی نہیں، بلکہ علمی اور عملی رہنما بھی ہے۔ اس میں انسان کی انفرادی زندگی سے لے کر پورے معاشرے تک کے لیے واضح ہدایات موجود ہیں۔ امت جب اس روشنی میں اپنا راستہ طے کرتی ہے تو اسے عزت، استحکام اور کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ اس کے برعکس سیرت اور سنت سے دوری فکری انتشار اور عملی کمزوری کا سبب بنتی ہے۔ موجودہ دور میں سیرت کے تذکرے کی ضرورت ضرور ہے، لیکن اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ اس کے پیغام کو سمجھا اور اسے اپنے کردار، معاملات اور اجتماعی رویوں میں جگہ دی جائے۔ امامِ کعبہ نے کہا کہ سیرت سے تعلق کی بنیاد رسول اللہؐ کی محبت ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ کوئی شخص اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنی اولاد، والدین اور تمام لوگوں سے زیادہ نبیؐ کو محبوب نہ بنا لے۔ تاہم محبت صرف زبانی دعوے، جذباتی وابستگی یا مخصوص مواقع پر عقیدت کے اظہار کا نام نہیں۔

قرآن کریم نے محبت کی سچائی کو اتباع سے منسلک کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو رسولؐ کی پیروی کرو، اللہ تعالیٰ تم سے محبت فرمائے گا۔ لہذا یہ بات واضح ہے کہ محبت کا دعویٰ عمل اور اتباع کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ اتباع کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی خواہش، پسند اور رسم و رواج کے مقابلے میں رسول اللہؐ کی تعلیم کو مقدم رکھے۔ قرآن کریم نے واضح کیا ہے کہ لوگ اس وقت تک کامل مومن نہیں ہوسکتے جب تک اپنے اختلافات میں رسول اللہؐ کو فیصلہ کرنے والا نہ مانیں، پھر آپؐ کے فیصلے پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں اور اسے پوری طرح قبول کرلیں۔ محبت سے اطاعت پیدا ہوتی ہے، اطاعت انسان کو اتباع تک پہنچاتی ہے اور اتباع کا کمال یہ ہے کہ دل بھی طریقۂ نبویؐ کے سامنے مطمئن ہوکر جھک جائے۔ یہی محبت، اطاعت اور تسلیم کا وہ باہمی تعلق ہے جسے سیرت ہماری زندگی میں مضبوط کرتی ہے۔

اتباعِ رسولؐ کا لازمی تقاضا سنت کی پابندی اور دین میں نئی باتیں شامل کرنے سے اجتناب ہے۔ رسول اللہؐ سے امت کا تعلق چند مخصوص دنوں، تقریبات، ظاہری روپ اور رسمی سرگرمیوں تک محدود نہیں۔ یہ زندگی بھر قائم رہنے والا تعلق ہے، جس کی پہچان ہر حال میں سنت کی پیروی ہے۔ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ جس شخص نے دین میں ایسی چیز شامل کی جو پہلے اس میں نہیں تو وہ مسترد ہے۔ ایک دوسری حدیث میں آپؐ نے بتایا کہ جس نے ایسا عمل کیا جس کے متعلق آپؐ کی تعلیم موجود نہیں، اس کا عمل قبول نہیں ہوگا۔ لہٰذا اچھی نیت کے ساتھ عمل کا سنت کے مطابق ہونا بھی ضروری ہے۔ محبت اور اتباع کا یہی صحیح تصور نئی نسل تک پہنچانا والدین اور اساتذہ کی اہم ذمہ داری ہے۔ امامِ کعبہ نے تلقین کی کہ بچوں اور خاندانوں کی تربیت رسول اللہؐ کی محبت پر کی جائے، مگر یہ محبت ایسی ہو جو انہیں آپؐ سے رہنمائی لینے اور آپؐ کے نقشِ قدم پر چلنے کی طرف لے جائے۔ سیرت پڑھانے کا مقصد صرف واقعات اور تاریخیں یاد کروانا نہیں، بلکہ دلوں میں رسول اللہؐ کی عظمت اور زندگی میں سنت کی پیروی کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔ نئی نسل جب آپؐ کو اپنا عملی رہنما سمجھے گی تو اسے عقیدے، اخلاق اور معاملات میں ایک واضح راستہ ملے گا۔

البتہ سیرت نئی نسل تک پہنچاتے ہوئے اس کے معتبر ذرائع کا اہتمام بھی ضروری ہے۔ رسول اللہؐ سے محبت کا تقاضا ہے کہ آپؐ کی طرف صرف وہی بات منسوب کی جائے جو صحیح طور پر ثابت ہو۔ صحیح بخاری، صحیح مسلم اور حدیث کی دوسری مستند کتابیں سیرت کے بنیادی مصادر ہیں۔ غیر مستند حکایات اور بے اصل روایات وقتی طور پر جذبات کو ابھار سکتی ہیں، لیکن وہ سیرت کی حقیقی خدمت نہیں کرتیں۔ اسی طرح ائمہ، اہلِ بیت اور صحابۂ کرام کے مقام کا احترام کیا جائے اور ان کی عزت کا دفاع کیا جائے؛ کیونکہ محبت کے ساتھ تحقیق اور علمی دیانت بھی ضروری ہے۔ معتبر سیرت عام کرنے کی یہ ذمہ داری سوشل میڈیا پر اثر رکھنے والے افراد اور دینی مواد تیار کرنے والوں پر زیادہ عائد ہوتی ہے۔ انہیں صحیح سنت، اس کی درست تشریح، اس کے مقاصد اور تربیتی اقدار لوگوں تک پہنچانی چاہییں۔ سیرت کے واقعات سے عقیدہ توحید کو مضبوط کیا جائے، اعتدال کو فروغ دیا جائے اور موجودہ مسائل میں درست رہنمائی فراہم کی جائے۔ تاہم کسی واقعے سے نتیجہ نکالتے وقت دینی اصولوں اور اہلِ علم کے طریقے کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ ناقص علم یا ادھوری معلومات کے ساتھ سیرت کو موجودہ حالات پر لاگو کیا جائے تو درست واقعے سے بھی غلط نتیجہ نکالا جاسکتا ہے۔

یہی علمی احتیاط انسان کو بدعات اور غلط دینی تصورات سے محفوظ رکھتی ہے۔ علم کی روشنی جہالت اور خود ساختہ رسومات کے اندھیرے دور کرتی ہے۔ اسی مناسبت سے امامِ کعبہ نے نئے تعلیمی سال کی آمد پر علم کے حصول کی طرف بھی توجہ دلائی۔ انہوں نے عام علوم کے ساتھ مستند شرعی علم کی اہمیت واضح کی اور طلبہ کو سنجیدگی کے ساتھ تعلیمی سفر شروع کرنے کی تلقین کی۔ علم حاصل کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے میں امانت و اخلاص ہونا چاہیے۔ علماء اور اساتذہ کا احترام کیا جائے اور علم و اہلِ علم کے حقوق ادا کیے جائیں۔ جب علم کی روشنی، محبت کی حرارت اور اتباع کی سچائی جمع ہوجائے تو مسلمان کا تعلق رسول اللہؐ سے مضبوط ہوجاتا ہے۔ اس تعلق کی ایک علامت آپؐ پر کثرت سے درود و سلام بھیجنا بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو نبیؐ پر درود و سلام بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ امامِ کعبہ نے واضح کیا کہ آپؐ پر درود و سلام ایک سچے محب اور پیروکار کے جذبے کے ساتھ بھیجا جائے، جس میں نہ غلو ہو اور نہ بدعت۔ زبان پر درود اور زندگی میں سنت کی پیروی جمع ہو جائیں تو محبت اپنا حقیقی اثر دکھاتی ہے۔

آج امت کی عزت اور کامیابی اسی میں ہے کہ سیرت و سنت کو اپنا فکری اور عملی رہنما بنائے۔ سیرت کا تذکرہ ہمارے دلوں میں محبت پیدا کرے، محبت ہمیں اطاعت کی طرف لے جائے اور اطاعت ہماری زندگی کو سنت کے مطابق ڈھال دے۔ اس تعلق کو گھروں، تعلیمی اداروں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے نئی نسل تک صحیح اور مستند انداز میں منتقل کرنا ہوگا۔ محبت کا سب سے روشن ثبوت اتباع، عقیدت کا بہترین اظہار اطاعت اور سیرت پڑھنے کا سب سے بڑا حاصل یہ ہے کہ رسول اللہؐ ہمارے عقیدے، عبادت، اخلاق اور معاملات میں حقیقی رہنما بن جائیں۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment